یعقُوب 1–3
یعقُوب کی طرف سے خط
خُدا کے کلام کو محض سُننے، کی بجائے، عمل کرنے کی دعوت
یعقُوب مریم کا بیٹا اور یِسُوع مسِیح کے بھائیوں میں سے ایک تھا۔ یعقُوب یرُوشلیم میں کلِیسیا کا ایک راہ نُما بھی تھا۔ اُس نے دُنیا بھر میں خُدا کے لوگوں کو خط لکھا تاکہ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کے مُوافق زِندگی گُزارنے میں اُن کی مدد کی جا سکے۔
یعقُوب 1:1
یعقُوب نے لکھا، ”اگر تُم میں سے کسی میں حِکمت کی کمی ہو تو خُدا سے مانگے۔“ کئی برسوں بعد، جوزف سمِتھ نامی ایک لڑکے نے یہ الفاظ پڑھے اور اپنے سوالوں کے بارے میں دُعا کرنے کا فیصلہ کِیا۔ جوزف سمِتھ نے بعد میں کہا، ”مَیں نے یعقُوب کی گواہی کو سچّا پایا تھا۔“ خُدا نے جوزف کی دُعا کا جواب دِیا، اور وہ ہماری دُعاؤں کا بھی جواب دے گا۔
یعقُوب 1:5؛ جوزف سمِتھ—تاریخ 1:11–17، 26
یعقُوب نے یہ بھی لکھا کہ ہمیں دُوسروں کی باتوں کو غور سے سُننا چاہیے اور اُن پر غُصّہ نہ کرنے کی کوشِش کرنی چاہیے۔ جب ہم غُصّے میں ہوتے ہیں، تو ہم خُدا کی خِدمت نہیں کر سکتے۔
یعقُوب 1:19–20
یعقُوب نے کہا کہ خُدا کے کلام کو محض سُننا کافی نہیں ہے؛ ہمیں اُس کے مُطابق زِندگی بسر کرنے کی بھی ضرُورت ہے۔ اُس نے لکھا، ”کلام پر عمل کرنے والے بنو، نہ محض سُننے والے۔“
یعقُوب 1:22
یعقُوب نے وضاحت کی کہ، یِسُوع مسِیح کا پیروکار ہونا محض خُدا پر اِیمان رکھنے سے کہیں زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ اِبلِیس بھی جانتا ہے کہ خُدا حقیقی ہے۔ جب ہم ایسے لوگوں کو دیکھیں جو سردی سے ٹھِٹھر رہے ہوں یا بھُوکے ہوں، تو ہمیں اُنھیں کپڑے اور کھانا دینا چاہیے۔ ہمیں بیواؤں اور یتیموں کی عیادت کرنی چاہیے۔ یعقُوب نے لکھا، ”اِیمان بغیر اَعمال کے مُردہ ہے۔“
یعقُوب 1:27؛ 2:14–20
یعقُوب مُقدّسِین کو یہ بھی سِکھانا چاہتا تھا کہ لوگوں سے شفقت سے بات کریں۔ اُس نے کہا کہ اپنے الفاظ میں احتیاط برتنا ایک گھوڑے کو قابُو کرنے جیسا ہے۔ ہم ایک بڑے گھوڑے کو لگام کے ذریعے قابُو میں کر سکتے ہیں، جو گھوڑے کے مُنہ میں دھات کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے جُڑی ہوتی ہے۔ ہمارے الفاظ بھی چھوٹے لگ سکتے ہیں، لیکن وہ نہایت قوّی ہو سکتے ہیں۔
یعقُوب 3:2–3
یعقُوب نے کہا کہ اپنے الفاظ پر قابُو پانا ایک جہاز کو قابُو میں کرنے جیسا ہے۔ اگرچہ جہاز بُہت بڑا ہو اور ہوائیں تیز ہوں، پھر بھی ہم ایک چھوٹی سی پتوار کے ذریعے جہاز کو قابُو میں کر سکتے ہیں۔ پتوار ہمارے الفاظ کی مانند ہے۔ اگر ہم اپنی بات چیت پر قابو پا سکیں، تو ہم بُہت بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں!
یعقُوب 3:4–5
یعقُوب نے وضاحت کی کہ کڑوے الفاظ چھوٹے سے شُعلے کی مانند ہو سکتے ہیں جو ایک بڑی آگ بھڑکا دیتا ہے۔ وہ تیزی سے پھیل سکتے ہیں اور بُہت زیادہ تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے الفاظ کے ساتھ مُحتاط رہنا ضرُوری ہے۔
یعقُوب 3:5–6
یعقُوب نے لکھا کہ ہم آسمانی باپ سے دُعا کرنے کے لیے اپنے مُنہ کا اِستعمال کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہم اپنے مُنہ سے دُوسرے لوگوں کے بارے میں نازیبا باتیں بھی کرتے ہیں، جو کہ آسمانی باپ کے بچّے ہیں۔ یعقُوب نے کہا کہ اِس طرح نہیں ہونا چاہیے۔
یعقُوب 3:9–10
مُقدّسِین کو شفیق الفاظ بولنا سِکھانے کے لیے، یعقُوب نے سِکھایا کہ ایک چشمہ بیک وقت میٹھا اور کڑوا پانی نہیں دے سکتا۔ اِنجِیر کا درخت زیتون پیدا نہیں کر سکتا، اور انگور کی بیل اِنجِیر پیدا نہیں کر سکتی۔ اِسی طرح، اگر ہمارے دِلوں میں نیکی اور محبّت ہے، تو ہمارے الفاظ بھی نیک اور محبّت بھرے ہونے چاہئیں!
یعقُوب 3:11–18