لُوقا 2؛ متّی 2:1–15
نجات دہندہ پَیدا ہُوا ہے
خُدا کا وعدہ پُورا ہوگیا ہے
یُوسُف اور مریم ناصرت میں رہتے تھے۔ مریم کے وضعِ حمل کا وقت قریب تھا۔ ہر کسی کو ٹیکس دینے کے لیے اپنے آبائی شہر جانا تھا۔ اِس کا مطلب تھا کہ یُوسُف اور مریم کو یوسف کے آبائی شہر بَیت لحم جانا تھا۔ اُنھیں وہاں جانے کے لیے طویل سفر کرنا تھا۔
لُوقا 2:1–5
مریم کے لیے سفر آسان نہیں تھا۔ چُوں کہ بُہت سے لوگ بَیت لحم آ گئے تھے، مریم اور یُوسُف کو مریم کے لیے اپنے بچّہ کو جنم دینے کے لیے جگہ نہ مِل سکی تھی۔
لُوقا 2:6–7
اُنھیں اَیسی جگہ مِلی جہاں جانوروں کو عموماً رکھا جاتا تھا۔ اِس معمولی سی جگہ پر، یِسُوع پَیدا ہُوا۔ مریم اور یُوسُف نے محبّت اور شفقت کے ساتھ بچّہ یِسُوع پرورش کی تھی۔ اُنھوں نے اُس کو کپڑے سے لپیٹا اور آرام دہ اور پُرسکون ہونے میں اُس کی مدد کی۔ اُنھوں نے اُس کو چرنی میں سونے کے لیے لِٹا دِیا، جو عام طور پر جانوروں کو چارا ڈالنے کے لیے اِستعمال کی جاتی تھی۔
لُوقا 2:6–7
قریب ہی، چرواہے رات کے وقت اپنی بھیڑوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اچانک، نُور کا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا، اور فرشتہ ظاہر ہُوا۔ چرواہے نہایت ڈر گئے تھے۔
فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مت، کیوں کہ وہ اُنھیں بڑی خُوشی کی بشارت دینے آیا تھا! نجات دہندہ بَیت لحم میں پَیدا ہُوا تھا، اور وہ اُس کو چرنی میں پڑا ہُوا پائیں گے۔ پِھر مزید فرِشتے آسمان سے اُترے، اُنھوں نے گِیت گایا، ”عالمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو اور زمِین پر اُن آدمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح۔“
لُوقا 2:10–15
چرواہے جلدی سے بیت لحم گئے اور بچّہ یِسُوع کو اُسی طرح پایا، جَیسا فرِشتہ نے کہا تھا۔ اُنھوں نے لوگوں کو اُن حیرت انگیز باتوں کی بابت بتایا جو اُنھوں نے دیکھی اور سُنی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ یِسُوع نرالا بچّہ تھا۔
لُوقا 2:16–17
مریم اور یُوسُف بچّہ یِسُوع کو خُدا کے حُضُور پیش کرنے کے لیے ہَیکل میں لے گئے۔ وہاں پر وہ شمعون نامی ایک شخص سے مِلے۔ رُوحُ القُدس نے شمعون کو بتایا تھا کہ وہ اپنی وفات سے پہلے نجات دہندہ سے مُلاقات کرے گا۔ اُس نے بچّہ کو اُٹھایا اور کہا یِسُوع خُدا کی سب اُمّتوں کو بچائے گا۔ یُوسُف اور مریم اُس کی باتوں سے حیران تھے۔
لُوقا 2:22–35
ہَیکل میں حنّاہ نامی ایک اور ہستی تھی۔ اُس کا خاوند کئی برس پہلے وفات پا چُکا تھا۔ اب حنّاہ اپنا سارا وقت خُدا کی ہَیکل میں عِبادت کرنے میں مشغُول رہتی تھی۔ اُس نے نجات دہندہ کو دیکھنے کے موقع کے لیے خُدا کا شُکر ادا کیا۔ جب بھی وہ کسی اَیسے شخص سے مُلاقات کرتی جو نجات دہندہ کا مُنتظر ہوتا، تو وہ اَیسوں کو یِسُوع کے بارے میں بتاتی تھی۔
لُوقا 2:36–38
جب یِسُوع پَیدا ہُوا، تو کسی اور مُلک میں مجُوسیوں نے نیا ستارہ دیکھا۔ وہ جانتے تھے اِس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی خاص بچّہ پَیدا ہُوا جو خُدا کا بیٹا اور دُنیا کا نجات دہندہ ہو گا۔ اُنھوں نے اُس بچّہ سے مُلاقات کرنے اور اُس کو سجِدہ کرنے کی خاطر طویل سفر کا آغاز کِیا۔ اُس کے لیے اپنی محبّت کے اِظہار کی خاطر وہ اُس کو نذرانے پیش کرنا چاہتے تھے۔
متّی 2:1–7؛ ترجمہ از جوزف سمتھ کے حاشیہ میں دیکھیے، 2اے
بڑے طویل سفر کے بعد، مجُوسی یروشلیم میں آئے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہُودیوں کا نیا بادِشاہ، نجات دہندہ، پَیدا ہُوا تھا، اور وہ اُس کو سجِدہ کرنے آئے تھے۔ اُنھوں نے پُوچھا کہ وہ اُس نئے بادِشاہ کو کہاں ڈُھونڈ سکتے ہیں۔
متّی 2:1–2
ہیرودیس نامی بادِشاہ نے سُنا کہ مجُوسی نئے بادِشاہ کی تلاش میں تھے۔ وہ خَوف زدہ تھا۔ اُس کے کاہنوں اور فقیہوں نے اُس کو بتایا کہ صحائف بتاتے ہیں کہ نیا بادشاہ بَیت لحم میں پَیدا ہو گا۔ ہیرودیس نے مجُوسیوں کو بَیت لحم میں تلاش کرنے کو کہا اور جب نئے بادِشاہ کو ڈُھونڈ لیں تب وہ واپس آ کر اُس کو بتائیں۔
متّی 2:3–8
مجُوسی بَیت لحم پُہنچ گئے۔ وہ اُس ستارے کے پِیچھے پِیچھے چلتے رہے، جِس نے اُنھیں یِسُوع تک پُہنچایا تھا۔ جب اُنھوں نے اُس کو اور مریم اور یُوسُف کو دیکھا، تو اُنھوں نے یِسُوع کو تین خاص نذرانے پیش کیے اور اُس کو سجِدہ کِیا۔ خُدا نے اُنھیں ہیرودیس کے پاس واپس نہ جانے کی ہدایت دی تھی، پس وہ دُوسرے راستے سے اپنے مُلک چلے گئے۔
متّی 2:9–12
مجُوسیوں کے روانہ ہو جانے کے بعد، یُوسُف نے خواب دیکھا۔ خواب میں، فرِشتہ نے یوسف کو بتایا کہ ہیرودیس ناراض تھا۔ یُوسُف کو مریم اور یِسُوع کو مصر لے جانا پڑنا تھا تاکہ وہ محفُوظ رہیں۔
متّی 2:13
یُوسُف فوراً اُٹھ گیا۔ وہ مریم اور یِسُوع کے ساتھ مصر کے لیے نِکل پڑا جب کہ ابھی رات ہی تھی۔
متّی 2:14
مریم، یُوسُف، اور یِسُوع مصر میں اُس وقت تک رہے جب تک فرِشتہ نے اُنھیں نہ بتایا کہ ہیرودیس وفات پا چُکا تھا اور واپس جانا محفُوظ تھا۔ پھر وہ ناصرت میں رہنے کے لیے واپس گئے۔
متّی 2:15، 19–23