صَحائِف کی کَہانیاں
یِسُوع بیت حسدا کے حوض کے کِنارے—اَیسے شخص کو شِفا دیتا ہے جو کافی عرصہ سے بِیمار تھا


یُوحنّا 5:‏1–17

یِسُوع بیت حسدا کے حوض کے کِنارے

اَیسے شخص کو شِفا دیتا ہے جو کافی عرصہ سے بِیمار تھا

بیت حسدا کے حوض کے کِنارے پر لوگ جمع ہوتے ہیں۔

یروشلیم میں، ایک جگہ تھی جو بیت حسدا کا حوض کہلاتی تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اِس حوض میں شِفا بخش قوتیں ہیں۔ بُہت سے لوگ جو بِیمار، اندھے، یا چلنے کے قابل نہ تھے وہ سب اِس حوض پر آتے تھے۔

یُوحنّا 5:‏2–3

لوگ شِفا پانے کے لیے پانی میں اُترتے ہیں۔

لوگوں کا اِیمان تھا کہ، خاص موقعوں پر، فرِشتہ نیچے اُترتا تھا اور حوض کے پانیوں کو ہلایا کرتا تھا۔ پانی کے ہِلتے ہی جو بھی پہلا شخص پانی میں اُترتا وہ اپنی کسی بھی بِیماری سے شِفا پا جاتا تھا۔ بُہت سے لوگ حوض میں سب سے پہلے اُترنے کی کوشش کرتے تھے۔

یُوحنّا 5:‏4

ایک بِیمار آدمی حوض کے قریب پڑا ہُوا تھا۔

حوض کے کِنارے پر ایک آدمی پڑا ہُوا تھا جو چل نہیں سکتا تھا۔ وہ 38 سال سے بِیمار تھا۔ وہ شِفا پانے کے لیے حوض میں اُترنا چاہتا تھا، لیکن جب بھی وہ کوشش کرتا، کوئی اور پہلے اُتر جاتا تھا۔

یُوحنّا 5:‏5–7

یِسُوع بِیمار شخص کو دیکھتا ہے۔

ایک سبت کے دِن، یِسُوع یروشلیم میں تھا۔ جب وہ شہر میں سے گُزر رہا تھا، تو وہ بیت حسدا کے حوض پر آیا اور اُس شخص کو وہاں پڑا ہُوا دیکھا۔

یُوحنّا 5:‏6

یِسُوع اُس شخص سے پُوچھتا ہے کہ کیا وہ شِفا یاب ہونا چاہتا ہے۔

یِسُوع جانتا تھا کہ وہ شخص بُہت عرصہ سے بِیمار تھا اور چل نہیں سکتا تھا۔ یِسُوع نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ شِفا یاب ہونا چاہتا ہے۔

یُوحنّا 5:‏6

آدمی یِسُوع کو بتاتا ہے کہ اُس کی مدد کے لیے کوئی نہیں ہے۔

اُس شخص نے یِسُوع کو بتایا کہ حوض میں جانے میں اُس کی مدد کے لیے کوئی نہیں تھا، اور جب پانی کو ہِلایا جاتا تھا، تو دُوسرے ہمیشہ اُس سے پہلے اُتر جاتے تھے۔

یُوحنّا 5:‏7

یِسُوع اُس شخص کو شِفا دیتا ہے۔

یِسُوع نے اُس شخص سے کہا، ”اُٹھ، اپنی چارپائی اُٹھا، اور چل پِھر۔“ فوراً، اُس شخص نے شِفا پائی! اِس کے بعد وہ اُٹھا اور اپنی چارپائی اُٹھائی۔ 38 برسوں میں پہلی بار، وہ چل سکتا تھا!

یُوحنّا 5:‏8–9

قائدین اُس شخص سے پوچھتے ہیں کہ وہ سبت کے دِن کیوں کام کر رہا ہے۔

یہُودیوں کے قائدین نے اُس شخص کو اپنی چارپائی اُٹھا کر جاتے دیکھا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سبت کے دِن کا احترام نہیں کر رہا تھا، کیوں کہ اُن کے خیال میں اُس کا چارپائی اُٹھانا کام کرنے کے مُترادف تھا۔ اُس شخص نے وضاحت دی کہ اُس نے ابھی ابھی شِفا پائی ہے، اور وہ شخص جِس نے اُس کو شِفا دی تھی اُسی نے اُس سے کہا تھا کہ وہ اپنی چارپائی اُٹھا کر چلا جائے۔

یُوحنّا 5:‏10–11

قائدین سبت کے دِن شِفا دینے کے سبب سے یِسُوع سے ناراض ہیں۔

قائدین کو عِلم ہوگیا کہ یہ یِسُوع تھا جِس نے اُس شخص کو شِفا دی تھی اور اُس سے کہا کہ وہ سبت کے دِن اپنی چارپائی اُٹھا کر چلتا پھِرے۔ وہ یِسُوع سے ناراض تھے اور اُسے ہلاک کرنا چاہتے تھے۔ یِسُوع نے اُنھیں بتایا کہ وہ صِرف وہی کام کر رہا تھا جو آسمانی باپ نے اُسے کرنا سِکھائے تھے۔

یُوحنّا 5:‏15–17