صَحائِف کی کَہانیاں
یِسُوع ہمارے واسطے اپنی جان دیتا ہے—ایک ایسی قُربانی جو گُناہ اور مَوت سے بچانے کے لیے تھی


متّی 27؛ لُوقا 23؛ یُوحنّا 19

یِسُوع ہمارے واسطے اپنی جان دیتا ہے

ایک ایسی قُربانی جو گُناہ اور مَوت سے بچانے کے لیے تھی

سپاہیوں نے یِسُوع کے سَر پر کانٹوں کا تاج رکھا۔

جب پیلاطُس نے یِسُوع کو مصلُوب کرنے کا فیصلہ کِیا، تو اُس نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دِیا کہ وہ اُسے وہاں سے لے جائیں۔ اُنھوں نے اُس پر کوڑے برسائے، اُس پر تھُوکا، اُس کے سَر پر کانٹوں کا تاج رکھا، اور اُس کا مزاق اُڑایا۔

مرقس 15:‏15–20

یِسُوع لکڑی کی بھاری صلیب اُٹھائے ہُوئے جا رہا ہے۔

سپاہیوں نے یِسُوع کو لکڑی کی بھاری صلیب اُٹھانے پر مجبُور کِیا۔ وہ اُسے یرُوشلیم کے باہر ایک مقام پر لے گئے جسے گُلگتُا کہا جاتا ہے۔

یُوحنّا 19:‏17

سپاہیوں نے یِسُوع کو صلیب پر کِیلوں سے جَڑ دِیا۔

سپاہیوں نے یِسُوع کے ہاتھوں اور پاؤں کو صلیب پر کِیلوں سے جَڑ دِیا۔ یِسُوع نے اپنے آسمانی باپ سے کہا کہ وہ سپاہیوں کو مُعاف فرمائے، کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خُدا کے بیٹے کو مصلُوب کر رہے ہیں۔

لُوقا 23:‏33–34؛ مزید دیکھیں ترجمہ اَز جوزف سمِتھ کے حاشیہ 34سی میں

ہجُوم یِسُوع اور اُن دو بدکاروں کو دیکھ رہا ہے جنھیں مصلُوب کِیا جا رہا ہے۔

اُس روز دو بدکاروں کو یِسُوع کے ساتھ مصلُوب کِیا گیا تھا۔ اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا، ”کیا تُو مسِیح نہیں، تُو اپنے آپ کو اور ہمیں بچا۔“

لُوقا 23:‏39

یِسُوع اُن بدکاروں میں سے ایک سے بات کرتا ہے۔

دُوسرے بدکار نے کہا کہ ہم تو اپنی سزا کے مُستحق تھے، لیکن یِسُوع نے کُچھ غلط نہیں کِیا تھا۔ اُس نے یِسُوع سے اِلتجا کی کہ جب وہ اپنی بادشاہی میں آئے تو اُسے یاد رکھے۔ یِسُوع نے اُسے بتایا کہ جلد ہی وہ دونوں عالمِ اَرواح میں ہوں گے۔

لُوقا 23:‏40–43

یِسُوع نے یُوحنّا کو کہا وہ اُس کی ماں کی دیکھ بھال کرے۔

بُہت سی خواتین جو یِسُوع مسِیح کی پیروی کرتی تھیں اُس کے ساتھ ہونے کے لیے صلیب کے پاس آئی تھیں۔ اُن خواتین میں سے ایک یِسُوع کی ماں، مریم تھی۔ یِسُوع نے اُسے دیکھا اور اپنے رَسُولوں میں سے ایک، یُوحنّا کو، اُس کی دیکھ بھال کرنے کا کہا۔

یُوحنّا 19:‏25–27؛ مزید دیکھیں لُوقا 8:‏1–3؛ مرقس 15:‏40–41

زمین پر اندھیرا چھا گیا۔

تین گھنٹوں تک، پُوری زمین پر اندھیرا چھا گیا۔ یِسُوع نے شدید تنہائی محسُوس کی۔ اُس نے محسُوس کِیا جیسے اُس کے آسمانی باپ نے اُسے تنہا چھوڑ دِیا ہو۔

متّی 27:‏45–46

یِسُوع نے اپنی جان دے دی۔

آخرکار، یِسُوع جانتا تھا کہ اُس نے اپنے دُکھ اُٹھا لِیے ہیں۔ اُس نے کہا، ”اَے باپ، تمام ہُوا، تیری مرضی پُوری ہُوئی ہے۔“ پھر یِسُوع نے اپنا سَر جھُکایا اور اپنی جان دے دی۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا وہ واقعی مَر چُکا ہے، ایک سپاہی نے نیزے سے اُس کی پسلی کو چھیدا۔

ترجمہ اَز جوزف سمِتھ، متّی 27:‏54، متّی 27:‏50 میں، (زیریں حاشیہ الفیُوحنّا 19:‏28–30، 34

ہَیکل کا پردہ پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔

جب یِسُوع مُوا، تو زمین لرز اُٹھی۔ چٹانیں ریزہ ریزہ ہو گئیں۔ مَقدِس کا پردہ، جو پاک ترین مقام کو ڈھانپے ہُوئے تھا، پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔

متّی 27:‏51

وہ سپاہی جو یِسُوع کی نگہبانی کرتے تھے بُہت ہی ڈر گئے۔

سپاہی خوفزدہ ہو گئے۔ ”بیشک یہ خُدا کا بیٹا تھا،“ اُنھوں نے کہا۔

متّی 27:‏54

یِسُوع کی ماں اور اُس کے شاگِردوں نے اُس کی لاش کو قبر میں رکھا۔

یِسُوع کے شاگِردوں نے اُس کی لاش کو سُوتی کپڑے میں لپیٹا اور اُس باغ میں واقع قبر میں رکھا۔ بعد میں، اُنھوں نے قبر کے دروازے کے سامنے ایک بڑا پتھر رکھ دِیا۔

متّی 27:‏57–61؛ یُوحنّا 19:‏38–41