صَحائِف کی کَہانیاں
لوگ گناہ کرنے والی عورت کو سزا دینا چاہتے ہیں—”جا، پھر گناہ نہ کرنا“


یُوحنّا 8:‏1–11

لوگ گناہ کرنے والی عورت کو سزا دینا چاہتے ہیں

”جا، پھر گناہ نہ کرنا“

یِسُوع ہَیکل میں تعلیم دیتے ہُوئے

ایک صُبح سویرے، یِسُوع مسِیح یروشلیم میں ہیکل میں گیا۔ بہت سے لوگ اُس کو تعلیم دیتے ہوئے سُننے کے لیے اُس کے گرد جمع ہوئے۔

یُوحنّا 8:‏1–2

یہودی راہ نُما ایک عورت کو یِسُوع کے پاس لاتے ہیں۔

جب یِسُوع سِکھا رہا تھا، تو کچھ یہودی راہ نُما ایک عورت کو یِسُوع کے پاس لائے۔ وہ خُدا کے حکموں میں سے ایک کو توڑتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔ شریعت کے مطابق، لوگوں کو عورت کو پتھر مار کر جان سے مار دینا چاہیے تھا۔

یُوحنّا 8:‏3–5

آدمی یِسُوع سے پوچھتے ہیں کہ اِس عورت کو کیسے سزا دی جانی چاہیے۔

آدمیوں نے یِسُوع سے پوچھا کہ اُس کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔ وہ یِسُوع کو پھنسانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ نہیں چاہے گا کہ عورت کو تکلیف پہنچے۔ لیکن اگر یِسُوع نے کہا کہ اِس عورت کو سزا نہیں دینی چاہیے، تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ شریعت کی فرماں برداری نہیں کر رہا تھا۔

یُوحنّا 8:‏6

یِسُوع زمین پر لکھتا ہے۔

لیکن یِسُوع نے اُنہیں جواب نہ دیا۔ وہ نیچے جھکا اور زمین پر لکھا۔ آدمیوں نے پھر اُس سے پوچھا کہ اُنہیں کیا کرنا چاہیے۔

یُوحنّا 8:‏6–7

یِسُوع راہ نُماؤں کو جواب دیتا ہے۔

آخرکار، یِسُوع کھڑا ہوا اور آدمیوں کی طرف دیکھا۔ اُس نے کہا کہ اگر اُن میں سے کسی نے کبھی گناہ نہیں کیا ہو، وہ اُن میں سے اُس پر پتھر پھینکنے والا پہلے شخص ہو سکتا ہے۔

یُوحنّا 8:‏7

یِسُوع زمین پر لکھنا جاری رکھتا ہے۔

پھر یِسُوع دوبارہ جھکا اور زمین پر لکھنا جاری رہا۔ سب آدمی جانتے تھے کہ اُنہوں نے بھی گناہ کیے تھے۔ ایک ایک کر کے، وہ وہاں سے چلے گئے۔

یُوحنّا 8:‏8–9

یِسُوع عورت کو بتاتا ہے کہ اُسے معاف کیا گیا ہے۔

یِسُوع نے ارد گرد نظر دوڑائی اور وہاں صرف عورت کو کھڑے دیکھا۔ اُس نے اُس سے پوچھا کہ وہ تمام لوگ جو اُسے سزا دینا چاہتے تھے وہ کہاں گئے۔ اُس نے اُسے بتایا کہ وہ سب جا چکے ہیں۔ یِسُوع نے اُس عورت سے کہا، ”جا، پھر گناہ نہ کرنا۔“ اُس وقت سے، وہ عورت یِسُوع پر ایمان لے آئی تھی۔

یوحنّا 8:‏9–11 ؛ ترجمہ از جوزف سمتھ، یوحنّا 8:‏11؛ یوحنّا 8:‏11، میں ذیلی نوٹ سی۔