صَحائِف کی کَہانیاں
آخری کھانا—یِسُوع عِشائے ربّانی متعارف کراتا ہے


متّی 26؛ لوقا 22؛ یُوحنّا 13–14

آخِری کھانا

یِسُوع عِشائے ربّانی معارف کراتا ہے

یِسُوع اور اُس کے رسُول یروشلیم میں۔

یِسُوع اور اُس کے رسُول عید فسح منانے کے لیے یروشلیم میں تھے۔ یہودی لوگ ہر سال عید فسح مناتے تھے۔ یہ اُنھیں یاد رکھنے میں مدد دیتی تھی کہ، برسوں پہلے، اُن کے خاندان مصر میں غلام تھے، اور خُدا نے اُن کی رہائی میں مدد کی تھی۔

خروج 12: 27

یِسُوع اور اُس کے رسُول ایک میز کے گرد اکٹھے ہوئے۔

جب وہ یروشلیم میں تھے، یِسُوع اور اُس کے رسُولوں نے ایک خاص ضیافت کی۔ یِسُوع اُن کے ساتھ یہ کھانا کھانے کا منتظر تھا۔

لوقا 22: 7–15

یِسُوع اپنے رسُولوں میں سے ایک کے پاؤں دھوتے ہُوئے۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد، یِسُوع نے ایک پیالے کو پانی سے بھر دیا۔ اس نے اپنے رسُولوں کے پاؤں دھونے شروع کیے۔

یُوحنّا 13: 4–5

پطرس پوچھتے ہُوئے کہ یِسُوع کیوں اُن کے پاؤں دھو رہا ہے۔

جب پطرس کی باری آئی، تو اُس نے پوچھا کہ یِسُوع ایسا کیوں کر رہا تھا۔ پاؤں دھونا ایک ایسا کام تھا جو عام طور پر صرف خادم ہی کرتے تھے۔

یُوحنّا 13: 6

یِسُوع اپنے رسُولوں کو سکھاتے ہُوئے کہ ایک دُوسرے سے کیسے محبّت رکھی جائے۔

یِسُوع نے کہا وہ اُن کے پاؤں دھو رہا تھا تاکہ وہ اُن کے لیے نمونہ قائم کرے۔ وہ چاہتا تھا وہ ایک دُوسرے کی خدمت کریں اور ایک دُوسرے سے محبّت رکھیں جیسے اُس نے اُن سے محبّت رکھی تھی۔ اگر وہ ایسا کرتے، تو لوگ جان لیں گے کہ وہ اُس کے شاگرد ہیں۔

یُوحنّا 13: 14–16، 34–35

پطرس یِسُوع سے بات کرتے ہُوئے۔

یِسُوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ وہ جلد ہی مر جائے گا۔ پطرس نے کہا کہ وہ یِسُوع کے لیے مرنے کو تیار ہے۔

یُوحنّا 13: 36–38

یِسُوع پطرس کو جواب دیتے ہُوئے۔

لیکن یِسُوع جانتا تھا کہ مشکل وقت آ رہا تھا۔ اُس نے پطرس کو بتایا کہ اگلی صُبح مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے، پطرس تین بار کہے گا کہ وہ یِسُوع کو نہیں جانتا تھا۔

یُوحنّا 13: 38

یِسُوع اپنے رسُولوں کو رُوحُ القُدس کے بارے سکھاتے ہُوئے۔

یِسُوع جانتا تھا کہ اُس کے رسُول پریشان اور خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔ اُس نے وعدہ کیا کہ خُدا اُن کے لیے رُوحُ القُدس بھیجے گا۔ رُوحُ القُدس اُنھیں تسلی دے گا، اُنھیں سِکھائے گا، اوراُنھیں یاد دلائے گا کہ یِسُوع نے اُنھیں کیا سِکھایا تھا۔ اُس نے اُنھیں کہا کہ وہ پریشان یا خوفزدہ نہ ہوں۔ اُس نے فرمایا ، ”اگر تُم مُجھ سے محبّت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو۔“

یُوحنّا 14: 1، 15–16، 26–27

یِسُوع عِشائے ربّانی کے لیے روٹی توڑتے ہُوئے۔

پھر یِسُوع نے اپنے رسُولوں کو اُسے ہمیشہ یاد رکھنے میں مدد دینے کے واسطے کُچھ خاص کِیا۔ اُس نے اُنھیں عِشائے ربّانی دی۔ پہلے، اُس نے روٹی پر برکت دی، اُسے ٹکڑوں میں توڑا، اور اپنے رسُولوں کو دی۔ یِسُوع نے اُنھیں بتایا کہ جب وہ روٹی کھاتے ہیں تو اُس کے بدن کے بارے میں سوچیں۔ اُس نے اُن سے کہا کہ وہ یاد رکھیں کہ وہ اُن کے لیے مرے گا۔

متی 26: 26؛ لوقا 22: 19

یِسُوع عِشائے ربّانی کے لیے مے پر برکت دیتے ہُوئے۔

یِسُوع نے پھر پیالے میں مے اُنڈیلی۔ اُس نے مے کو برکت دی اور رسُولوں کو اِسے پینے کو کہا۔ یِسُوع نے اُنھیں کہا کہ جب وہ مے پیتے ہیں تو اُس کے خون کا سوچیں۔ اُس نے اُنھیں یاد رکھنے کو کہا کہ وہ تمام لوگوں کے دکھوں اور گناہوں کے لیے دکھ سہے گا، خون بہائے گا اور مرے گا تاکہ ہم توبہ کر سکیں اور معاف کیے جا سکیں۔

متی 26: 27–28؛ لوقا 22: 20

یِسُوع اپنے رسُولوں کو اپنے حکموں پر عمل کرنے کی تعلیم دیتے ہُوئے۔

پھر یِسُوع نے وضاحت کی کہ وہ انگور کی بیل کی مانند ہے، اور اُس کے شاگرد شاخوں کی مانند ہیں۔ اگر ایک شاخ بیل سے جڑی رہتی ہے، تو یہ پھل لاتی ہے۔ ایک شاخ جو بیل کے ساتھ جڑی نہیں رہتی وہ مُرجھا جاتی ہے اور پھل نہیں لا سکتی۔ یِسُوع چاہتا تھا کہ اُس کے شاگرد ہمیشہ ایک دُوسرے سے محبّت رکھیں اور اُس کے حکموں پر عمل کر کے اُس کے قریب رہیں۔

یُوحنّا 15: 4–12

یِسُوع اور اُس کے رسُول گتسمنی کی طرف جاتے ہُوئے۔

یہ باتیں سِکھانے کے بعد، یِسُوع اور اُس کے رسُولوں نے گیت گایا۔ وہ گتسمنی نامی باغ کی طرف گئے۔

متّی 26: 30۔