لوقا 24: 13–25
یِسُوع دو شاگردوں کو تسلی دیتا ہے
اماؤس کی راہ پر اکٹھے چلنا
جس روز یِسُوع جی اٹھا، دو شاگرد یروشلیم سے اماؤس نامی ایک قصبہ کو جا رہے تھے۔ وہ یِسُوع کے پیروکار تھے، اور وہ اُداس تھے۔ وہ یِسُوع کی موت اور دیگر چیزوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے جو پچھلے چند دنوں میں رونُما ہُوئی تھیں۔
لوقا 24: 13–14
جب وہ چل رہے تھے، یِسُوع آیا اور اُن کے ساتھ چلا، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ یِسُوع تھا۔ اُس نے پوچھا کہ وہ کیا باتیں کر رہے تھے اور وہ کیوں اداس تھے۔
لوقا 24: 15–17
وہ حیران تھے کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ کیا ہُوا تھا۔ اُنھوں نے اُسے یِسُوع کے بارے بتایا۔ اُنھوں نے سوچا تھا وہ اُن کا نجات دہندہ ہو گا، مگر وہ فوت ہو چکا تھا۔
لوقا 24: 18–21
اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ کُچھ خواتین اُس کی قبر پر جا چکی تھیں، لیکن یِسُوع کی لاش وہاں نہیں تھی۔ فرشتوں نے خواتین کو بتایا تھا کہ یِسُوع زندہ ہے۔
لوقا 24: 21–24
پھر یِسُوع نے اُنھیں وہ سِکھایا جو صحائف نجات دہندہ کے بارے میں کہتے تھے۔ اُس نے کہا کہ نبیوں نے سِکھایا تھا کہ نجات دہندہ ہلاک ہو گا اور دُوبارہ جی اٹھے گا۔
لوقا 24: 25–27
جب وہ اماؤس کے پہنچے، تو اندھیرا ہو رہا تھا۔ دونوں شاگردوں نے یِسُوع کو اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔ یِسُوع اُن کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھ گیا۔ اُس نے روٹی لی، برکت دی، اور شاگردوں کو دی۔ اُس لمحے، وہ جان گئے کہ وہ یِسُوع تھا۔ اچانک وہ غائب ہو گیا۔
لوقا 24: 29–31
دونوں شاگردوں نے اِس بارے بات کی کہ جب یِسُوع اُنھیں صحائف میں سے تعلیم دے رہا تھا تو اُنھوں نے اپنے دلوں میں کتنی حرارت محسُوس کی تھی۔ دُوسرے شاگردوں کو بتانے کے لیے کہ اُنھوں نے یِسُوع کو دیکھا تھا وہ جلدی سے یروشلیم کو لوٹے۔
لُوقا 24: 32–35