یُوحنّا 10: 1–18
یِسُوع اچّھا چرواہا ہے
”میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں، اور مَیں اُنھیں جانتا ہُوں“
یِسُوع نے یروشلیم کے لوگوں کو بتایا کہ وہ اچھے چرواہے کی مانند ہے۔ اُس کے شاگرد، یا پیروکار، اُس کی بھیڑوں کی مانند ہیں۔ اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں سے پیارا کرتا ہے۔ وہ ہر ایک کو نام سے جانتا ہے۔
یُوحنّا 10: 3، 14؛ مزید دیکھیں ہیلیمن 15 :13
بھیڑیں اچھے چرواہے کی آواز کو جانتی ہیں۔ اور جب وہ اُن کو بلاتا ہے وہ توجہ سے سُنتی اور اطاعت کرتی ہیں۔
یُوحنّا 10: 4، 27
اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ وہ اُن کی راہ نُمائی ہری ہری چرا گاہوں کی طرف کرتا ہے، بالکل ویسے جیسے یِسُوع مسِیح ہمیں ابدی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
یُوحنّا 10: 9–10، 28
جب کسی اور کو بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے اجرت پر رکھا جاتا ہے، تو وہ اُس کی پیروی نہیں کرتیں، کیوں کہ وہ اُس کی آواز کو نہیں جانتی ہیں۔ جب خطرہ آتا ہے، مزدور بھاگ جاتا ہے۔ وہ اچھے چرواہے کی مانند بھیڑوں کی دیکھ بھال نہیں کرتا ہے۔
یُوحنّا 10: 5، 12–13
اچھا چرواہا دور نہیں بھاگتا جب خطرہ ہو۔ وہ اپنی بھیڑوں کی حفاظت کے لیے رُکا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اُن کے لیے اپنی جان دینے کے لیے بھی رضامند ہوتا ہے، بالکل ویسے جیسے یِسُوع مسِیح نے ہمارے لیے اپنی جان دی تاکہ ہم ابدی زندگی پا سکیں۔
یُوحنّا 10: 11، 17–18
یِسُوع نے یروشلیم کے لوگوں کو بتایا کہ اُس کے پاس دُوسری بھیڑیں بھی ہیں جو دُوسری جگہوں پر رہتی ہیں۔ یِسُوع نے کہا کہ وہ اُن سے بھی ملاقات کرے گا، اور وہ اُس کی تعلیمات سُنیں گی۔ مورمن کی کتاب یِسُوع کی امریکہ میں اپنی بعض دُوسری بھیڑوں سے ملاقات کے متعلق بتاتی ہے۔
یُوحنّا 10: 16؛ 3 نِیفی 15: 11–24