صَحائِف کی کَہانیاں
تاکستان کے مزدُوروں کی تمثیل—اُمِّید کا پیغام


متّی 20:‏1–16

تاکستان کے مزدُوروں کی تمثیل

اُمِّید کا پیغام

یِسُوع ایک آدمی کے بارے میں تمثیل بتاتے ہوئے جو اپنی مدد کے لیے کچھ مزدُوروں کو اُجرت پر رکھتا ہے۔

یِسُوع نے اپنے شاگردوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینے کے لیے کہ آسمان کی بادشاہی کیسی ہے تمثیل یا کہانی سنائی۔ تمثیل میں، ایک شخص کو اپنے تاکستان میں کام کرنے کے لیے لوگوں کی ضرورت تھی۔ لہذا، ایک روز صُبح سویرے، اس نے کچھ مزدُوروں کو دیکھا جو ایک دینار کے لئے سارا دن کام کرنے پر رضامند تھے. اُنھوں نے کام کرنا شروع کیا۔

متّی 20:‏1–2

آدمی مزید مزدُوروں کو کام پر رکھتا ہے۔

تین گھنٹے بعد، اُس شخص نے مزید مزدُوروں کو کام پر رکھا۔ اُس نے اُنہیں باقی ماندہ دن کے لیے اپنے تاکستان میں کام کرنے کو کہا۔ اُس نے انہیں واجب اُجرت دینے کا وعدہ کیا۔

متّی 20:‏3–4

آدمی اُس سے بھی زیادہ مزدُوروں کو کام پر رکھتا ہے۔

اِس کے تین گھنٹے بعد، اُس شخص نے مزید لوگوں کو دیکھا جن کو کام کی ضرورت تھی۔ اُس نے اُنہیں بھی اپنے تاکستان میں کام کرنے کو کہا۔

متّی 20‏:5

آدمی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈھونڈتا ہے اور اُنہیں اپنی مدد کے لیے کام پر رکھتا ہے۔

آخر کار، دِن کے اختتام پر، اُس شخص نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ سارا دن کسی نے بھی اُنہیں کوئی کام نہیں دیا۔ آدمی نے کہا کہ وہ دن کے آخری گھنٹے میں اُس کے تاکستان میں کام کر سکتے ہیں۔

متّی 20:‏6–7

آدمی مزدُوروں کو اجرت دیتا ہے، اور کچھ اُس سے ناراض ہوتے ہیں۔

دِن کے اختتام پر، آدمی مزدُوروں کو اُجرت دیتا ہے۔ اُس نے اُن لوگوں کو ایک دینار دیا جنہوں نے ایک گھنٹہ کام کیا تھا۔ اُس نے دوسرے سب مزدُوروں کو بھی ایک دینار دیا۔ وہ لوگ جو سارا دن کام کرتے رہے تھے ناراض ہو گئے۔ اُنہوں نے سوچا کہ اُنہیں دُوسروں سے زیادہ پیسے ملنے چاہئیں۔

متّی 20:‏8–12

یِسُوع شفیق اور منصفانہ ہونے کے بارے میں سِکھاتا ہے۔

اُس شخص نے اُن مزدُوروں کو یاد دِلا دیا کہ وہ سارا دن ایک دینار کے لیے کام کرنے پر رضامند ہوئے تھے۔ اُس نے کہا اگر وہ دُوسروں پر مہربان ہونا مُنتخب کرتا ہے جنہوں نے اُس کے تاکستان میں کام کیا ہے تو اُنہیں غصہ نہیں ہونا چاہیے۔

متّی 20:‏13–16