لُوقا 1:5–25، 57–80
یُوحنّا بپتِسما دینے والا پَیدا ہُوا ہے
خُدا اِلیشبع اور زکریاہ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے
زکریاہ اور اِلیشبع بااِیمان لوگ تھے جو خُدا سے محبّت کرتے تھے۔ اُنھوں نے اولاد کے واسطے دُعا کی تھی۔ اب وہ بُہت بُوڑھے تھے، اور اُن کے کوئی اولاد نہ تھی۔
لُوقا 1:5–7
زکریاہ کاہن تھا جو یروشلیم میں ہَیکل میں خِدمت کرتا تھا۔ ایک روز، اُسے ہَیکل کے مُقدّس کمرے میں بخور جلانے کے لیے چُنا گیا۔
لُوقا 1:8–10
اچانک، ایک فرِشتہ ظاہر ہُوا۔ زکریاہ ڈر گیا۔ فرِشتہ نے کہا، ”اَے زکریاہ: خَوف نہ کر، کیوں کہ تیری دُعا سُن لی گئی ہے۔“ اُس نے کہا زکریاہ اور اِلیشبع کا بیٹا ہو گا۔ اُنھیں اُس کا یُوحنّا نام رکھنا چاہیے۔ فرِشتے نے کہا کہ یُوحنّا کے پاس اہم کام ہے۔ وہ نجات دہندہ کی آمد پر اُس کو پانے کے لیے تیار ہونے میں لوگوں کی مدد کرے گا۔
لُوقا 1:12–17
زکریاہ نے یقین نہ کیا جو فرِشتہ نے اُس سے کہا تھا۔ وہ اور اِلیشبع بُہت زیادہ عُمر رسِیدہ تھے کہ اُن کے ہاں اَولاد ہوتی۔ فرِشتے نے کہا چوں کہ زکریاہ نے اُس کے پیغام پر یقین نہیں کِیا تھا، اِس لیے وہ یُوحنّا کی پَیدایش تک بول نہیں پائے گا۔
لُوقا 1:18–20
لوگ حیران تھے کہ زکریاہ ہَیکل کے اندر اتنا زیادہ وقت کیوں لگا رہا تھا۔ جُوں ہی وہ باہر آیا، تو وہ بول نہ سکتا تھا۔ وہ بتا سکتے تھے کہ کُچھ اَنوکھی بات ہُوئی تھی۔
لُوقا 1:21–23
مہینوں بعد، اِلیشبع کے بچّہ پَیدا ہُوا، جیسا فرِشتہ نے وعدہ کیا تھا۔ اُن کے خاندان اور دوست بُہت خُوش تھے! وہ بچّہ کو دیکھنے آئے تھے۔
لُوقا 1:57–59
اُنھوں نے سوچا کہ بچّہ کا نام زکریاہ ہونا چاہیے، جیسے اُس کے باپ کا تھا۔ اِلیشبع نے کہا، ”اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائے۔“ اُنھوں نے زکریاہ سے پوچھا، جو ابھی تک بات نہیں کر سکتا تھا۔ اُس نے لِکھا، ”اُس کا نام یُوحنّا ہے۔“ ہر کوئی حیران ہوگیا۔
لُوقا 1:59–63
زکریاہ دوبارہ بول سکتا تھا۔ اُس نے خُدا کا شکر ادا کیا اور وہ رُوحُ القُدس سے معمُور ہو گیا تھا۔ اُس نے سب کو بتایا کہ خُدا نے اپنے لوگوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو یاد کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ یُوحنّا نبی ہوگا۔ یُوحنّا لوگوں کو توبہ کرنے اور بپتِسما لینے کی تعلیم دے گا۔ وہ اُن کی مدد کرے گا کہ وہ یِسُوع مسِیح سے سیکھنے کی تیاری کریں۔
لُوقا 1:64–80