صَحائِف کی کَہانیاں
یِسُوع پہاڑی پر وعظ سِکھاتا ہے—ہمارے آسمانی باپ کی مانِند بننے میں ہماری مدد کرتا ہے


متّی 5–7

یِسُوع پہاڑی پر وعظ سِکھاتا ہے

ہمارے آسمانی باپ کی مانِند بننے میں ہماری مدد کرتا ہے

یِسُوع گلیل کی جھیل کے قریب تعلیم دیتا ہے۔

یِسُوع اور اُس کے شاگرد گلیل کی جھیل کے قریب پہاڑی پر گئے۔ وہاں یِسُوع نے اُنھیں سِکھایا کہ ہم کیسے خُوش رہ سکتے ہیں اور مزید اپنے آسمانی باپ کی مانِند بن سکتے ہیں۔

متّی 5:‏1–2

یِسُوع اِس بابت سِکھاتا ہے کہ دُوسروں کے ساتھ صُلح کیسے کرنی ہے۔

یِسُوع نے سِکھایا کہ جب لوگ فروتن ہوتے ہیں تو لوگ برکت پاتے اور خُوش ہوتے ہیں، دِل کے پاک ہوتے ہیں، اور راست کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ دُوسروں کو معاف کرتے ہیں وہ مُعافی پا سکتے ہیں۔ جو لوگ صُلح کراتے ہیں وہ خُدا کے بچّے کہلائیں گے۔

متّی 5:‏3–9

ہمیں دُنیا کے لیے نُور کی مانِند ہونا چاہیے۔

یِسُوع نے فرمایا کہ اُس کے شاگرد دُنیا کے لیے نُور ہیں—اُس شہر کی مانِند جو پہاڑ پر ہے جِس کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ ہمیں اپنی رَوشنی نہیں چُھپانی چاہیے۔

متّی 5:‏14

ہمارے نیک کام دوسروں کے لیے نُور کی مانند ہو سکتے ہیں۔

جب ہم یِسُوع کی پیروی کرتے ہیں، تو ہم اُس شمع کی مانند بن جاتے ہیں جو کمرے میں ہر ایک کو رَوشنی بخشتی ہے۔ ہمارے نیک کام آسمانی باپ پر اِیمان لانے میں لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

متّی 5:‏15–16

یِسُوع سِکھاتا ہے کہ ہمیں ہر ایک سے محبّت رکھنی چاہیے۔

یِسُوع نے کہا کہ ہمیں ہر ایک سے محبّت رکھنی چاہیے—یعنی اُن لوگوں سے بھی جو ہم سے پیار نہیں کرتے۔ ہمیں اُن کے لیے دُعا کرنی چاہیے۔ یِسُوع نے سِکھایا کہ ہمیں اپنے آسمانی باپ کی مانند بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اُس نے سِکھایا کہ جب ہم لوگوں کی مدد کرتے ہیں، تو ہمیں سب کو بتانے کی ضرُورت نہیں ہے کہ ہم نے کیا کیا کِیا۔ خُدا ہمارے نیک کاموں کو دیکھتا ہے، اور وہ ہمیں برکت دے گا۔

متّی 5:‏38–48؛ متّی 6:‏1–4۔

ہمیں اپنے دِل سے دُعا کرنی چاہیے۔

جب ہم دُعا کرتے ہیں، تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ دُوسرے لوگ ہمارے بارے کیا سوچتے ہیں۔ اگر ہم واقعی دِل سے نہ کہیں تو ہمیں بے فائدہ ہر بار ایک ہی بات نہیں دہرانی چاہیے۔ ہمیں اپنے دِل سے بات کرنی چاہیے۔ آسمانی باپ ہماری دُعائیں سُنتا ہے اور جانتا ہے کہ ہمیں کِس کِس چیز کی ضرُورت ہے۔ یعنی جب کوئی اور ہماری دُعا سُن نہیں سکتا، وہ سُنے گا۔

متّی 6:‏5–8

ہمیں دُوسروں کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کرنا چاہیے جَیسا کہ ہم چاہتے ہیں۔

یِسُوع نے سِکھایا کہ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم دُوسرے لوگوں سے بہتر ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ دُوسروں کی عیب جوئی کرنے کی بجائے، ہمیں اِس بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہم کیسے بہتری لا سکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کرنا چاہیے جَیسا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دُوسرے ہمارے ساتھ کریں۔

متّی 7:‏1–5، 12

یِسُوع چٹان پر تعمیر ہونے والے گھر کے بارے میں تعلیم دیتا ہے۔

یِسُوع نے پھر اُس احمق آدمی کے بارے میں کہانی بتائی جِس نے اپنا گھر ریت پر تعمیر کیا اور عقل مند شخص نے چٹان پر اپنا گھر تعمیر کیا۔ جب بارش کا طوفان آیا، تو ریت پر بنا گھر نیچے گِر گیا، اور چٹان پر بنا گھر قائم رہا۔ یِسُوع نے کہا اگر ہم اُس کی تعلیمات سُنیں اور اُن پر عمل کریں، تو ہم عقل مند آدمی کی مانند بن جاتے ہیں۔

متّی 7:‏24–28