صَحائِف کی کَہانیاں
یِسُوع کو گرفتار کر لیا گیا—خُدا کے بیٹے کی عدالت کرنا


مرقس 14–15؛ لوقا 22–23؛ یُوحنّا 18–19

یِسُوع کو گرفتار کر لیا گیا

خُدا کے بیٹے کی عدالت کرنا

یہوداہ اور کُچھ محافظ گتسمنی میں پہنچتے ہیں۔

یِسُوع کے گتسمنی میں دُعا کرنے اور تکلیف سہنے کے بعد، یہوداہ یہودی محافظوں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ پہنچا۔ یہوداہ رسُولوں میں سے ایک تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یِسُوع اکثر اِس باغ میں جاتا تھا۔ یہودی راہ نُماؤں نے یِسُوع کو ڈھونڈنے میں مدد کے لیے یہوداہ کو پیسے ادا کیے تھے تاکہ وہ اُسے پکڑ سکیں۔

یُوحنّا 18: 2–3

پطرس سردار کاہن کے نوکر پر حملہ کرتا ہے۔

جب محافظوں نے یِسُوع کو پکڑنے کی کوشش کی، پطرس نے تلوار نکالی۔ اُس نے سردار کاہن کے نوکر کا کان کاٹ دیا۔

یُوحنّا 18: 10

یِسُوع پطرس کو اپنی تلوار پھینک دینے کو کہتا ہے۔

یِسُوع پطرس کو اپنی تلوار پھینک دینے کو کہتا ہے۔ یِسُوع نے کہا کہ اُسے وہ کرنے کی ضرورت تھی جو اُس کا باپ چاہتا تھا۔

یُوحنّا 18: 11

یِسُوع نوکر کے کان کو شِفا بخشتا ہے۔

یِسُوع نے نوکر کے کان کو چھوا اور اُسے شِفا دی۔

لُوقا 22: 51

یِسُوع کو سردار کاہن کے گھر لے جایا جاتا ہے۔

محافظ یِسُوع کو سردار کاہن کے گھر لے گئے۔ دُوسرے یہودی راہ نُما بھی وہاں موجود تھے۔ وہ یِسُوع کو ہلاک کرنے کی ایک وجہ ڈھونڈنا چاہتے تھے۔ وہ اُس کے بارے میں جھوٹ بتانے کے لِئے لوگوں کو لائے تھے۔

مرقس  14: 53–61

سردار کاہن یِسُوع سے پوچھتا ہے کیا وہ خُدا کا بیٹا ہے۔

آخر کار، سردار کاہن نے یِسُوع سے پوچھا کیا وہ خُدا کا بیٹا ہے۔ یِسُوع نے فرمایا، ”مَیں ہُوں۔“

مرقس 14: 61–62

سردار کاہن اور دیگر راہ نُما یِسُوع پر غصہ تھے۔

اِس بات نے سردار کاہن اور دُوسرے راہ نُماؤں کو غصہ دِلایا۔ اُنھوں نے یِسُوع کو مارا، اُس پر تھوکا، اور اُس کا مذاق اڑایا۔ وہ متفق تھے کہ اُسے قتل کیا جانا چاہیے۔

مرقس 14: 63–65

پطرس لوگوں کو بتاتا ہے کہ وہ یِسُوع کو نہیں جانتا۔

جب یِسُوع سردار کاہن کے گھر میں تھا، پطرس باہر انتظار کر رہا تھا۔ وہ آگ سینکنے کے لیے آگ کے نزدیک بیٹھا۔ تین بار، لوگوں نے کہا کہ وہ پطرس کو یِسُوع کے شاگرد کے طور پر پہچانتے ہیں۔ لیکن ہر بار، پطرس نے کہا کہ وہ یِسُوع کو نہیں جانتا تھا۔

مرقس  14: 54، 66–71

پطرس روتا ہُوا چلا جاتا ہے۔

پھر مرغ بانگ دیتا ہے، اور یِسُوع نے جو کہا تھا پطرس کو یاد آیا: کہ پطرس تین بار اُس کا انکار کرے گا۔ پطرس روتا ہُوا چلا جاتا ہے۔

مرقس 14: 72

یہودی راہ نُما یِسُوع کو پیلاطُس کے پاس لے کر گئے۔

یہودی راہ نُما یِسُوع کو رومی گورنر پیلاطُس کے پاس لے گئے۔ لوگوں کا ہجوم بھی آیا۔ راہ نُما چاہتے تھے کہ پیلاطُس یِسُوع کو ہلاک کر دے۔ اُنھوں نے پیلاطُس کو بتایا کہ یِسُوع خود کو یہودیوں کا بادشاہ کہتا ہے۔

مرقس 15: 1–3؛ لوقا 23: 2؛ یُوحنّا 18: 28–31

یِسُوع پیلاطُس سے بات کرتا ہے۔

پیلاطُس نے یِسُوع سے پوچھا کہ کیا وہ یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یِسُوع نے جواب دیا: ”میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں۔ “ اُس نے وضاحت کی کہ وہ لوگوں کو سچائی سِکھانے کے لیے دُنیا میں آیا تھا۔

یُوحنّا 18: 33–37

یِسُوع اور پیلاطُس ہجوم کے سامنے کھڑے ہیں۔

پیلاطُس نے کہا کہ وہ نہیں مانتا کہ یِسُوع نے کچھ غلط کِیا ہے۔ مگر بہت سے لوگ چلائے، ”اُسے صلیب دو۔“ پیلاطُس نے وہ کرنے کا فیصلہ کیا جو وہ چاہتے تھے اور یِسُوع کو ہلاک کروا دیا۔

مرقس 15: 12–14؛ لوقا 23: 14–24