صَحائِف کی کَہانیاں
پَولُس کلِیسیا کا موازنہ مسِیح کے بَدن سے کرتا ہے—رُوحانی نعمتوں، اِتحاد، اور محبّت کے بارے میں تعلیم دیتے ہُوئے


1 کُرنتھِیوں 12–13

پَولُس کلِیسیا کا موازنہ مسِیح کے بَدن سے کرتا ہے

رُوحانی نعمتوں، اِتحاد، اور محبّت کے بارے میں تعلیم دیتے ہُوئے

پَولُس خط لکھتے ہُوئے، جب کہ پسِ منظر میں کُرنتھس کے لوگ دِکھائی دے رہے ہیں۔

کُرنتھس بُہت بڑا، مصرُوف شہر تھا۔ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کے بُہت سے اَرکان وہاں رہتے تھے۔ مگر وہ سب مُختلف جگہوں سے آئے تھے اور ایک دُوسرے سے بُہت الگ تھے۔ پَولُس اُن کی مدد کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ مُتحد ہو جائیں اور ایک دُوسرے میں اچھائی دیکھیں۔ اِس لیے اُس نے اُنھیں ایک خط لکھا۔

1 کُرنتھیوں 1:‏11–13

کُرنتھس کے لوگ خُدا کی طرف سے مُختلف نعمتوں کے ساتھ۔

اپنے خط میں، پَولُس نے مُقدّسِین کو بتایا کہ اُن سب کو خُدا کی طرف سے خاص نعمتیں حاصِل ہیں۔ کُچھ لوگوں کے پاس اِیمان کی نعمت تھی۔ دیگر کے پاس مُعجزات دِکھانے کی نعمت تھی۔ بعض عقل مند تھے، اور کُچھ دُوسروں کو شِفا دے سکتے تھے۔ کُچھ لوگ دُوسری زُبانیں بول سکتے تھے۔ تمام مُقدّسِین کے پاس مُختلف نعمتیں تھیں، مگر وہ سب خُدا ہی کی طرف سے تھیں۔

1 کُرنتھِیوں 12:‏3–11، 29–30

کُرنتھس میں لوگ بپتِسما پاتے ہُوئے۔

پَولُس نے سِکھایا کہ اگرچہ مُقدّسِین ایک دُوسرے سے مُختلف تھے، لیکن یِسُوع پر اُن کے اِیمان نے اُنھیں ایک کر دِیا۔ جب اُنھوں نے یِسُوع کی تعلیمات پر عمل کرنے، بپتِسما لینے، اور اُس کی کلِیسیا میں شمُولیت اِختیار کرنے کا فیصلہ کِیا، تو وہ یِسُوع مسِیح میں مُتحد ہو کر، ایک گروہ بن گئے۔

1 کُرنتھِیوں 12:‏27

دو لوگ آپس میں روٹی بانٹ رہے ہیں؛ دو لوگ اِکٹھے چل رہے ہیں؛ ایک ماں اور اُس کے بچّے۔

پَولُس نے کہا کہ کلِیسیا ایک بَدن کی طرح ہے، جس میں سَر، بازُو، ٹانگیں، اور پاؤں ہوتے ہیں۔ بَدن کا ہر عُضو الگ الگ کام کرتا ہے۔ کان کو اِس لیے بُرا محسُوس نہیں کرنا چاہیے کہ وہ آنکھ سے مُختلف ہے۔ اور سَر پاؤں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ، ”مُجھے تُمھاری ضرُورت نہیں ہے۔“ ہر حِصّہ اہم ہے، اور وہ سب باہم مِل کر کام کرتے ہیں۔

1 کُرنتھِیوں 12:‏12–14

کُرنتھس کے لوگ ایک جگہ جمع ہُوئے۔

پَولُس نے کُرنتھس کے مُقدّسِین کو ”مسِیح کا بَدن“ کہا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ بَدن کے مُختلف اعضا کی طرح مِل کر کام کریں، اور اپنی مُختلف نعمتوں کو ایک دُوسرے کی مدد اور برکت کے لیے اِستعمال کریں۔

1 کُرنتھِیوں 12:‏15–27

پَولُس خط لکھتے ہُوئے؛ یِسُوع ایک شخص کو روٹی دیتے ہُوئے۔

ایسا کرنے کے لیے، لوگوں کو ایک خاص قِسم کی محبّت کی ضرُورت تھی، جسے مسِیح کا سچّا عِشق کہا جاتا ہے۔ یہ وہ محبّت ہے جو یِسُوع مسِیح ہر ایک سے رکھتا ہے۔ پَولُس نے کہا کہ محبّت رکھنے کا مطلب دُوسروں کے ساتھ تحمل سے پیش آنا ہے، چاہے وہ آپ کے ساتھ بُرے طریقے سے پیش آئیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم بدتمیز، خُود غرض یا حاسد نہ بنیں۔ اِس کا مطلب سچّائی سے محبّت کرنا اور اُمِّید رکھنا ہے۔

1 کُرنتھیوں 13:‏1–7؛ مرونی 7:‏47

ایک آدمی عورت کو روٹی دیتے ہُوئے۔

پَولُس نے کُرنتھس کے مُقدّسِین کو بتایا کہ محبّت ہمیشہ تک قائم رہتی ہے۔ اِس سے قطعِ نظر کہ ہمارے پاس اور کون سی نعمتیں ہیں، ہم سب کو محبّت کی ضرُورت ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی محبّت رکھ سکتا ہے اگر ہم آسمانی باپ سے اپنے سارے دِل سے مانگیں اور یِسُوع مسِیح کے سچّے پیروکار بننے کی کوشِش کریں۔

1 کُرنتھیوں 13:‏1–3، 8؛ مرونی 7:‏48