صَحائِف کی کَہانیاں
اُس نوکر کی تمثیل جو معاف نہیں کرتا—یِسُوع معافی کے بارے میں سِکھاتا ہے


متّی 18:‏21–34

نوکر کی تمثیل جو معاف نہیں کرتا

یِسُوع معافی کے بارے میں سِکھاتا ہے

پطرس یِسُوع سے ایک سوال پوچھتا ہے۔

ایک دن، پطرس نے یِسُوع سے ایک اہم سوال پوچھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اُسے کتنی بار لوگوں کو معاف کرنا چاہیے جب وہ گناہ کرتے ہیں۔ ”سات بار؟“ پطرس نے پوچھا۔ یِسُوع نے پطرس کے سوال کا جواب اُسے کہانی یا تمثیل بتا کر دیا۔

متّی 18:‏15–21

ایک نوکر نے بادشاہ کے پیسے دینے تھے۔

کہانی میں، ایک بادشاہ تھا جس کے بہت سے خادم تھے۔ اُن خادموں میں سے ایک نے اپنے بادشاہ کے دس ہزار توڑے دینے تھے۔ یہ بہت سارا پیسہ تھا!

متّی 18:‏23–24

نوکر قرض ادا کرنے سے قاصر تھا۔

نوکر بادشاہ کو کبھی واپس ادا نہیں کر سکتا تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ قرض وصول کرنے کے لیے اُس کے خاندان کو بیچ دے گا۔

متّی 18:‏25

نوکر معافی مانگتا ہے۔

جب نوکر نے یہ سُنا، تو وہ اُس کے پاؤں پر گِر پڑا۔ اُس نے بادشاہ سے التجا کی کہ وہ اُسے کچھ اور مُہلت دے۔ ”مُجھے مُہلت دے،“ اُس نے کہا، ”مَیں تیرا سارا قرض ادا کروں گا۔“

متّی 18:‏26

بادشاہ نوکر کو معاف کرتا ہے۔

بادشاہ نے نوکر پر ترس کھایا۔ اُس نے اُسے معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ نوکر کو پیسے ادا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ جانے کے لئے آزاد تھا!

متّی 18:‏27

نوکر دوسرے آدمی سے پیسے کا تقاضا کرتا ہے۔

پھر نوکر نے جا کر ایک شخص کو ڈھونڈا جس نے اُس کی تھوڑی سی رقم ادا کرنی تھی۔ اُس نے اُس شخص کو پکڑا اور کہا، ”مُجھے ادا کر۔“

متّی 18:‏28

آدمی نوکر سے معافی مانگتا ہے۔

وہ شخص اُس کے پاؤں پر گِر گیا۔ ”مُجھے مُہلت دے،“ اُس نے کہا، ”مَیں تیرا سارا قرض ادا کروں گا۔“ مگر نوکر نے اُسے معاف نہیں کیا۔ اُس نے اُسے قید خانہ میں ڈلوا دیا۔

متّی 18:‏29–30

بادشاہ نوکر کو معافی کے بارے میں بتاتا ہے۔

جب بادشاہ کو پتہ چلا کہ کیا ہوا ہے، تو اُس نے نوکر سے ملنے کو کہا۔ بادشاہ نے اپنے نوکر کو یاد دِلایا کہ اُسے بہت بڑا قرضہ معاف کر دیا گیا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر کو بتایا کہ اُسے بھی اُس شخص کو معاف کر دینا چاہیے تھا جس نے اُس کے پیسے دینے ہیں۔

متّی 18:‏31–33

یِسُوع معافی کے متعلق پطرس سے بات کرتے ہوئے۔

ہم سب قرض دار ہیں جو ہم خود ادا نہیں کر سکتے۔ یِسُوع نے پطرس کو وضاحت کی کہ خُدا ہمیں معاف کرتا ہے، پس ہمیں دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اور ہمیں سات بار کے بعد رُک نہیں جانا چاہیے بلکہ ہمیشہ معاف کرنے کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔

متّی 18:‏22، 34–35؛ مزید دیکھیں متی 6:‏14؛ عقائد اور عہُود 64:‏9–10