لوقا 24: 1–12، 36–49؛ یُوحنّا 20
وہ جی اُٹھا ہے
یِسُوع مسِیح سب کے لیے موت پر غالب آیا
یِسُوع کے شاگردوں نے اُس کا جسم قبر میں رکھا۔ وہ اُس کے بدن کی دیکھ بھال کے لیے مزید کام کرنا چاہتے تھے، مگر یہ تقریباً سبت کا دن تھا۔ اُنھوں نے سبت کے اختتام پر واپس آنے کا منصُوبہ بنایا۔
لوقا 23: 52–56
یِسُوع کی موت کے تیسرے دن صُبح سویرے ہی مریم مگدلینی اور دیگر قبر پر گئے۔
لوقا 24: 1؛ یُوحنّا 20: 1
جب وہ پہنچے، اُنھوں نے دیکھا کہ قبر کو ڈھانپنے والے پتھر کو ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ قبر میں گئے، اور یِسُوع کی لاش وہاں نہ تھی۔
لوقا 24: 2–3؛ یُوحنّا 20: 1
مریم پطرس اور یُوحنّا کو بتانے کے لیے دوڑی کہ کسی نے یِسُوع کی لاش چُرا لی ہے۔ پطرس اور یُوحنّا قبر کی طرف دوڑے۔
یُوحنّا 20: 2–4
جب وہ قبر پر آئے، تو پطرس اور یُوحنّا اندر گئے۔ اُنھوں نے دیکھا کہ یِسُوع کی لاش غائب تھی۔ وہ کپڑا جس میں اُسے لپیٹا گیا تھا وہ ابھی تک وہاں موجود تھا۔
یُوحنّا 20: 5–7
پطرس اور یُوحنّا گھر گئے، مگر مریم روتے ہُوئے قبر کے پاس ہی رُکی رہی۔ اُس نے قبر میں جھانکا اور دو فرشتوں کو دیکھا۔ اُنھوں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ اُس نے کہا کہ کسی نے یِسُوع کی لاش چُرا لی ہے، اور وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کہاں تھی۔
یُوحنّا 20: 11–13
پھر یِسُوع آیا، مگر مریم نہیں جانتی تھی کہ یہ وہ ہی ہے۔ یِسُوع نے اُس سے پوچھا، ”عورت تو کیوں روتی ہے؟“ مریم نے سوچا کہ وہ باغبان تھا۔ اُس نے اُس سے پوچھا کیا وہ جانتا ہے کہ یِسُوع کی لاش کہاں تھی۔
یُوحنّا 20: 14–15
یِسُوع نے کہا، ”مریم۔“ اُس نے مڑ کر دیکھا۔ اب وہ جان گئی تھی کہ یہ یِسُوع تھا! اُس نے اُس سے کہا، ”اے استاد۔“ یِسُوع نے اُسے دُوسرے شاگردوں کو بتانے کو کہا کہ اُسے اپنے آسمانی باپ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ مریم نے دُوسرے شاگردوں کو ڈھونڈا اور اُنھیں بتایا کہ اُس نے یِسُوع کو دیکھا ہے اور وہ پھر سے زندہ ہو گیا ہے!
یُوحنّا 20: 16–18
اُس شام، بہت سے رسُول اکٹھے تھے۔ اُنھوں نے دروازے بند کر دیے، خوفزدہ کہ یہودیوں کے رہنما اُنھیں ڈھونڈنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اچانک، اُنھوں نے یِسُوع کو اپنے درمیان کھڑے دیکھا۔ پہلے تو وہ ڈر گئے۔ اُنھوں نے سوچا کہ وہ رُوح ہے۔ یِسُوع نے کہا، ”تم پر سلامتی ہو۔“
لوقا 24: 33–38؛ یُوحنّا 20: 19
یِسُوع نے رسُولوں کو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو چھونے کی دعوت دی۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ جانیں کہ اُس کے پاس ایک جسم ہے، نہ صرف رُوح۔ یہاں تک کہ اُس نے اُن کے ساتھ مچھلیاں اور شہد کا چھتہ کھایا۔ شاگرد اُسے دیکھ کر بہت خوش ہُوئے!
لوقا 24: 39–44؛ یُوحنّا 20:20
پھر یِسُوع نے اپنے رسُولوں کی اُن صحائف کو سمجھنے میں مدد کی جو اُس کی موت اور قیامت کے بارے میں سِکھاتے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ ہر ایک کو سِکھائیں کہ اُس کی بدولت، وہ توبہ کر سکتے اور معاف کیے جا سکتے ہیں۔ رسُول اُس کے گواہ ہوں گے۔
لوقا 24: 44–48
جب یِسُوع آیا تب توما رَسُول وہاں موجود نہیں تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ یقین نہیں کرے گا کہ یِسُوع زندہ تھا جب تک کہ وہ خود اُس کے ہاتھوں میں کِیلوں کے نشان نہ دیکھ سکے۔
یُوحنّا 20: 24–25
آٹھ دن بعد، شاگرد باہم اکٹھے ہُوئے تھے۔ یِسُوع پھر سے ظاہر ہوا۔ اُس بار توما وہاں موجود تھا۔
یُوحنّا 20: 26
یِسُوع نے توما کو اپنے ہاتھوں اور پسلی کے زخموں کو چھونے کی دعوت دی۔ اُس نے توما کو بتایا، ”بےاعتقاد نہ ہو، بلکہ اعتقاد رکھ۔“ توما نے کہا، ”اے میرے خُداوند اے میرے خُدا۔“ اب توما یقین رکھتا تھا کہ یِسُوع دوبارہ جی اُٹھا ہے۔ یِسُوع نے کہا کہ مُبارک وہ لوگ ہیں، جو بغَیر دیکھے اِیمان لاتے ہیں۔
یُوحنّا 20: 27–29