صَحائِف کی کَہانیاں
کون ہم کو مسِیح کی محبّت سے جُدا کرے گا—زِندگی کے مُشکل اوقات کے لیے ایک وعدہ


رُومیوں 8:‏18–39

کون ہم کو مسِیح کی محبّت سے جُدا کرے گا

زِندگی کے مُشکل اوقات کے لیے ایک وعدہ

پَولُس رُومیوں کے نام خط لکھتے ہُوئے۔ کلِیسیا کے ایک رُکن کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔

روم بُہت سے لوگوں کے ساتھ ایک بہت بڑا شہر تھا۔ بعض لوگ یِسُوع مسِیح کے پیروکار تھے، لیکن زیادہ تر ایسے نہیں تھے۔ روم میں بُہت سے لوگ ایسی باتوں پر یقین رکھتے تھے جو یِسُوع کی تعلیمات سے بالکل مُختلف تھیں۔ بعض اوقات روم میں لوگ کلِیسیا کے اَرکان کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔

کلِیسیا کی ایک رُکن دُعا کر رہی ہے اور اِلہام پا رہی ہے۔

پَولُس رَسُول نے روم میں مُقدّسِین کو خط لکھا۔ وہ اُنھیں بتانا چاہتا تھا کہ اگرچہ زِندگی کبھی کبھی مُشکل ہوتی ہے، لیکن خُدا کے پاس اُنھیں دینے کے لیے عظیم برکتیں ہیں۔ اگر ہم خُدا سے محبّت رکھیں، تو وہ ہماری زِندگی کی مُشکل چیزوں کو بھی کسی نہ کسی اچھائی میں بدل سکتا ہے۔

رُومیوں 8:‏18، 28

کلِیسیا کی رُکن اُس عورت کی مدد کر رہی ہے جس نے اُس کے ساتھ ناروا سلوک رکھا تھا۔

پَولُس نے لکھا کہ کون ہم کو مسِیح کی محبّت سے جُدا کرے گا۔ چاہے ہماری چنوتیاں کتنی ہی مُشکل کیوں نہ ہوں، وہ اُن سے نکلنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔

رُومِیوں 8:‏31، 35–39