1 کُرنتھیوں 15
مسِیح میں سب زِندہ کِیے جائیں گے
پَولُس قیامت کی بابت سِکھاتا ہے
کُرنتھس نامی شہر میں کلِیسیا کے کُچھ اَرکان کے ذہنوں میں یہ سوالات تھے کہ مرنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اُنھیں اِس بات کا یقین نہیں تھا کہ یِسُوع واقعی جی اُٹھا تھا۔ کُچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ کوئی قیامت نہیں ہے۔ پَولُس نے اِس بارے میں سُنا تو کُرنتھس کے مُقدّسِین کو ایک خط لکھا۔
1 کُرنتھیوں 15:12–14
پَولُس نے لکھا کہ یِسُوع مسِیح کا جی اُٹھنا اُس کی اِنجِیل کا اہم حِصّہ تھا۔ ”مسِیح ہمارے گُناہوں کے لیے مُوا،“ پَولُس نے کہا، اور ”وہ تیسرے دِن جی اُٹھا۔“ اُس کے جی اُٹھنے کے بعد پَولُس اور دیگر رَسُولوں سمیت، 500 سے زائد لوگوں نے اُسے دیکھا تھا۔
1 کُرنتھِیوں 15:1–8
پَولُس نے سِکھایا کہ اگر مسِیح جی نہ اُٹھتا، تو ہم سب غمگین ہوتے اور ہماری کوئی اُمید نہ ہوتی۔ آدم کے گِرنے کی وجہ سے، ہم سب مر جائیں گے، مگر یِسُوع مسِیح کی بدولت، ہم سب بھی دوبارہ جی اُٹھیں گے!
1 کُرنتھیوں 15:17–22
پَولُس نے کُرنتھس کے مُقدّسِین کو یاد دِلایا کہ لوگ مُردوں کے لیے بپتِسما پا رہے تھے۔ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت کیوں ہو گی اگر مرنے والے کبھی دوبارہ جی اُٹھنے والے ہی نہیں ہیں؟ ہم مُردوں کے لیے بپتِسما لیتے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر کوئی پھر سے جی اُٹھے گا۔ یہ اُنھیں خُداوند کی برکات پانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
1 کُرنتھِیوں 15:29
کُرنتھس کے کُچھ مُقدّسین یہ سوچتے تھے کہ جب ہم جی اُٹھیں گے تو ہمارے بَدن کیسے ہوں گے۔ پَولُس نے کہا ہمارے بَدن جلالی ہوں گے۔ وہ کمزور بیمار یا نہ ہی کبھی بُوڑھے ہوں گے۔ بعض لوگوں کے بَدن سیلیسٹیئل ہوں گے، جو آفتاب کی طرح روشن ہوں گے۔ کُچھ لوگوں کا جلال ماہتاب کی طرح روشن ہوگا، اور کُچھ سِتاروں کی طرح چمکیں گے۔
1 کُرنتھیوں 15:35، 40–43؛ عقائد اور عہُود 76:96–98؛ 88:20–23