لوقا 15
کھوئی ہوئی بھیڑ، کھویا ہوا سِكہ، اور کھویا ہوا بیٹا
خُدا کی محبّت کے بارے میں تین تمثیلیں
کچھ یہودی راہ نُماؤں نے یِسُوع کو اُن لوگوں کے ساتھ بات کرتے اور کھانا کھاتے دیکھا جن کے متعلق اُن کا خیال تھا کہ وہ گناہ گار ہیں۔ راہ نُماؤں نے سوچا کہ یِسُوع کا گناہ گاروں کے ساتھ کھانا کھانا غلط ہے۔ یِسُوع نے راہ نُماؤں کو تین کہانیاں یا تمثیلیں سُنائیں اُن کی سمجھنے میں مدد کرنے کے لیے کہ وہ ہر ایک کی توبہ کرنے میں مدد کرنا چاہتا ہے اور وہ کتنا خُوش ہوتا ہے جب وہ ایسا کرتے ہیں۔
لُوقا 1:15–3
پہلی تمثیل اُس شخص کے بارے میں تھی جس کے پاس 100 بھیڑیں تھی۔ اُس کی ایک بھیڑ کھو گئی۔
لُوقا 15:4
وہ شخص دوسری 99 بھیڑوں کو چھوڑ کر کھوئی ہوئی کو ڈھونڈنے چلا گیا۔ وہ اُس وقت تک ڈھونڈتا رہا جب تک اُسے مل نہ گئی۔
لُوقا 15:4
آخر کار جب اُس نے اپنی کھوئی ہوئی بھیڑ کو پا لیا، تو وہ بہت خوش ہوتا ہے! وہ بھیڑ کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر گھر لے گیا اور اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سے کہا کہ وہ اُس کے ساتھ شادمان ہوں۔ یِسُوع نے کہا کہ آسمانی باپ بھی ایسا ہی محسُوس کرتا ہے جب کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرتا اور اُس کی طرف واپس لوٹتا ہے۔
لُوقا 15:5–7
دوسری تمثیل ایک عورت کی بابت تھی جس کے پاس 10 چاندی کے سکے تھے۔ جب اُس نے ایک کھو دیا، تو اُس نے کھویا ہوا سِكہ تلاش کرنے کے لیے شمع جلائی اور اپنے گھر میں جھاڑو لگایا۔ وہ ڈھونڈتی رہی جب تک کہ وہ اُسے مل نہ گیا۔
لُوقا 15:8
آخر کار جب اُس نے اپنا کھویا ہوا سِكہ پا لیا، تو وہ بہت خُوش ہوئی! اُس نے اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو اپنے ساتھ خُوشی منانے کو کہا۔ یِسُوع نے کہا کہ جب کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو آسمان پر فرشتے ایسا ہی محسُوس کرتے ہیں۔
لُوقا 15:9–10
تیسری تمثیل ایک ایسے شخص کی بابت تھی جس کے دو بیٹے تھے۔ چھوٹا بیٹا اب اپنے والد کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ اب اُسے اپنے خاندان کے پیسے کا حصہ دے۔ پھر بیٹا گھر چھوڑ کر ایک دور دراز ملک میں چلا گیا۔
لُوقا 15:11–13
بیٹے نے کچھ نہایت بُرے انتخابات کیے۔ اُس نے وہ پیسے ضائع کر دیے جو اُس کے والد نے اُسے دیے تھے۔
لُوقا 15:13
اُس کے تمام پیسے خرچ ہونے کے بعد، وہ بہت بھوکا تھا۔ کوئی بھی اُسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیتا۔ آخر کاراُسے سورؤں کو کھانا کھلانے کی نوکری مل گئی۔ بیٹا اتنا بھوکا تھا، وہ سورؤں کی خوراک کھانا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُسے اپنے باپ کے پاس واپس جانے کی ضرورت تھی۔
لُوقا 15:14–18
لیکن بیٹے کو یقین نہیں تھا کہ اُس کا باپ اُسے واپس خُوش آمدید کہے گا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد سے پوچھے گا کہ کیا وہ اُس کے خادموں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
لُوقا 15:17–19
جب بیٹا گھر جا رہا تھا، تو اُس کے باپ نے اُسے دور سے آتے دیکھا۔ باپ بہت خُوش تھا، وہ اپنے بیٹے کی طرف دوڑا!
لوقا 15:20
باپ نے بیٹے کو اپنی بانہوں میں لیا اور اُس کو چُوما۔ اُس نے اپنے خادموں سے کہا کہ اُس کے بیٹے کے لیے بہترین کپڑے لاؤ اور ضیافت تیار کرو۔ وہ چاہتا تھا کہ ہر کوئی خُوشی منائے اور خُوش ہو کیونکہ اُس کا بیٹا گھر آ چکا تھا۔
لُوقا 15:20–24
اِس سارے وقت میں، بڑا بیٹا کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ جب وہ گھر واپس آیا، تو اُس نے موسیقی اور رقص سُنا۔ اُس نے ایک نوکر سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ نوکر نے اُسے بتایا کہ اُس کا چھوٹا بھائی گھر آیا ہے، پس وہ جشن منانے کے لیے ضیافت کر رہے ہیں۔
لُوقا 15:25–27
بڑا بھائی ناراض تھا۔ اُس کے باپ نے اُسے ضیافت میں جانے کی دعوت دی، مگر اندر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ اُس نے برسوں اُس کی خِدمت کی ہے، مگر کسی نے کبھی اُس کی ضیافت نہیں کی تھی۔ باپ نے اُسے بتایا، ”جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے،“ مگر خُوشی منانا اچھا ہوتا ہے جب کوئی توبہ کرتا اور گھر واپس آتا ہے!
لُوقا 15:28–32