”کثرتِ اَزدواج،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں (2024)
”کثرتِ اَزدواج،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں
1831–1890
کثرتِ اَزدواج
مخصُوص وقت کے لیے حُکم
جب نبی جوزف بائبل کا مُطالعہ کر رہا تھا، تو اُس نے اَبرہام اور مُوسیٰ جیسے نبیوں کے بارے میں پڑھا جو ایک سے زیادہ بیویوں سے شادی شُدہ تھے۔ جوزف کے بُہت سے سوالات تھے۔ پَس اُس نے دُعا کرنے اور خُداوند سے پُوچھنے کا فیصلہ کِیا۔
عقائد اور عہُود 132:1؛ مُقدّسِین، 1:121، 503
خُداوند نے فرمایا کہ عام طور پر ایک مَرد کی صِرف ایک ہی بیوی ہونی چاہیے۔ لیکن بعض اوقات خُداوند نے ایک مَرد کو ایک سے زیادہ بیویوں سے شادی کرنے کا حُکم دِیا۔ یہ کثرتِ اَزدواج کہلاتا تھا۔ خُداوند نے جوزف کو بتایا کہ اُس کے لوگوں کو صِرف اُسی صُورت میں کثرتِ اَزدواج میں ہونا چاہیے جب وہ حُکم دے۔
یعقُوب 2:27–30؛ عقائد اور عہُود 132:34–39؛ مُقدّسِین، 1:121، 290–91، 489–90، 503
برسوں بعد، خُداوند نے جوزف اور کُچھ دُوسرے مُقدّسِین کو کثرتِ اَزدواج میں ہونے کا حُکم دِیا۔ اِس حُکم پر عمل کرنا آسان نہیں تھا۔
مُقدّسِین، 1:290–91، 444–46
حُکومت نے کثرتِ اَزدواج کے خلاف قوانین نافذ کِیے۔ کُچھ مُقدّسِین، بشمُول کلِیسیائی راہ نُماؤں، کو قید خانہ میں ڈال دِیا گیا۔
مُقدّسِین، 2:501–4
1890 میں، خُداوند نے وِلفورڈ وُڈرف، کلِیسیا کے صدر، کو حُکم دِیا کہ مَردوں کو اَب ایک سے زیادہ بیویوں سے شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کلِیسیائی راہ نُماؤں نے مُقدّسِین کے ساتھ اِس حُکم کا اِشتراک کِیا۔ آج بھی خُداوند کا یہی حُکم ہے—مَرد کا صِرف ایک بیوی سے نِکاح ہونا چاہیے۔
سرکاری اِعلامیہ 1؛ مُقدّسِین، 2:598–601، 607–9