صَحائِف کی کَہانیاں
لِبرٹی جیل


”لِبرٹی جیل،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں (2024)

”لِبرٹی جیل،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں

اکتوبر 1838–مارچ 1839

2:36

لِبرٹی جیل

مُشکل اوقات میں خُداوند کو ڈھُونڈنا

سپاہی میزوری میں مُقدّسِین کو اُن کے گھروں سے باہر نِکالتے ہُوئے۔

بُہت سے لوگ جو میزوری میں رہتے تھے مُقدّسِین کو پسند نہیں کرتے تھے۔ گورنر نے سپاہیوں کو بھیجا کہ وہ اُنھیں نِکالیں۔ سپاہیوں نے مُقدّسِین کو اُن کے گھروں سے نِکالا، اُن کے گھروں سے چیزیں چوری کِیں، اور اُن میں سے بُہتیروں کو زخمی کر دِیا۔

مُقدّسِین، 1:‏355–56، 362، 364

سپاہی جوزف سمِتھ اور دیگر کلِیسیائی راہ نُماؤں کو گِرفتار کرتے ہُوئے۔

سپاہیوں نے نبی جوزف سمِتھ اور دیگر کلِیسیائی راہ نُماؤں کو گِرفتار کر لِیا۔

مُقدّسِین، 1:‏357–58

جوزف سمِتھ کا بیٹا روتے ہُوئے جب جوزف کو قیدی کی طرح لے جایا جاتا ہے۔

جوزف نے پُوچھا کہ کیا وہ اپنے خاندان کے ساتھ کُچھ وقت تنہا گُزار سکتا ہے۔ سپاہیوں نے کہا نہیں۔ وہ جوزف اور دُوسرے قیدیوں کو لے گئے۔

مُقدّسِین، 1:‏366

جوزف نے پہرے داروں کو خاموش رہنے کا کہا۔

ایک رات، جوزف اور دیگر قیدیوں نے سُنا جب اُن کے پہرے دار مُقدّسِین کے ساتھ کی گئی اپنی بُری حرکتوں پر ہنس رہے تھے۔ جوزف اَب اِسے مزید برداشت نہ کر سکا۔ وہ کھڑا ہُوا اور زور سے چِلایا، ”خاموش!“ اُس نے خُدا کی قُدرت سے کلام کِیا۔ پہرے دار ڈر گئے۔ اُنھوں نے مُعافی مانگی اور بات کرنا بند کر دِی۔

مُقدّسِین، 1:‏367–68

جوزف اور اُس کے دوست لِبرٹی جیل میں۔

بعد میں، جوزف اور اُس کے دوستوں کو لِبرٹی نامی شہر کی جیل میں ڈال دِیا گیا۔ جیل بُہت سرد، چھوٹی، اور تاریک تھی۔ اُن کے پاس سونے کے لیے صِرف کُچھ گندا بھُوسا تھا۔ صِرف تھوڑا سا کھانا دِیا جاتا تھا، اور اِس سے وہ بیمار پڑ گئے۔

مُقدّسِین، 1:‏369–70، 374، 384–85

جوزف مُقدّسِین کے بارے فِکر مند تھا۔

جوزف نے مُقدّسِین کے بارے میں بُہت سوچا۔ وہ اُن سے محبّت رکھتا تھا۔ وہ اُن کے بارے فِکر مند تھا۔ مگر وہ اُن کی مدد کے لیے کُچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔

مُقدّسِین، 1:‏385–86

جوزف لِبرٹی جیل میں دُعا کرتے ہُوئے۔

جوزف نے بُہت زیادہ دُعا کی۔ اُس نے خُدا سے پُوچھا کہ وہ کہاں ہے اور وہ مُقدّسِین کی مدد کیوں نہیں کر رہا تھا۔ کیا خُدا اُس کو اور کلِیسیا کو بھُول گیا تھا؟

عقائد اور عہُود 121:‏1–6

جوزف اپنی دُعا کا جواب پاتے ہُوئے۔

خُدا نے جوزف کی دُعا کا جواب دِیا۔ اُس نے فرمایا، ”میرے بیٹے، تیری جان پر سلامتی ہو۔“ اُس نے جوزف کو بتایا کہ اُس کی مُصیبتیں ہمیشہ کے لیے نہیں رہیں گی، اور وہ اُس کی بھلائی کے لیے ہوں گی۔ خُدا نے جوزف کو یاد دِلایا کہ یِسُوع مسِیح اِس سے بھی مُشکل چیزوں سے گُزرا تھا۔ اُس نے وعدہ فرمایا کہ وہ ”ہمیشہ سے ہمیشہ تک“ جوزف کے ساتھ ہو گا۔

عقائد اور عہُود 121:‏7؛ 122:‏5–9