”پارلے مُعافی مانگتا ہے،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں (2024)
پارلے مُعافی مانگتا ہے،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں
جنوری–جُولائی 1837
پارلے مُعافی مانگتا ہے
ایک دوست کی گواہی اُس کے اِیمان کو مضبُوط کرتی ہے
جب تھینک فُل اور پارلے پراٹ کے ہاں بچّے کی پیدایش کا وقت آیا، تو وہ کینیڈا میں اپنے مِشن سے گھر واپس آ گئے۔ اُن کے ہاں ایک صحت مند بیٹا پیدا ہُوا بالکل ویسے ہی جیسے خُداوند نے وعدہ کِیا تھا۔
مُقدّسِین، 1:270
بَد قِسمتی سے، تھینک فُل بچّے کی پیدایش کے چند گھنٹوں کے بعد وفات پا گئی۔ پارلے جانتا تھا کہ وہ اِس بچّے کی دیکھ بھال اُس کے بغیر نہیں کر سکے گا۔ اُس نے کرٹ لینڈ میں ایک عورت کو بچّے کی دیکھ بھال کرنے کو کہا جب کہ وہ اپنے مِشن کو ختم کرنے کے لیے کینیڈا واپس چلا گیا۔
مُقدّسِین، 1:270
کرٹ لینڈ میں، جوزف سمِتھ نے خُدا کے کام کے لیے پیسے جمع کرنے کے لیے ایک بینک قائم کِیا۔ اُس نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنا پیسہ بینک میں رکھیں تاکہ دُوسرے اِس سے قرض لے سکیں۔ لیکن، کئی وجُوہات کی بِنا پر، بینک کے پاس کافی رقم نہیں تھی اور اِسے بند کرنا پڑا۔ اَمریکہ میں دُوسرے بینک بھی ناکام ہو رہے تھے۔
مُقدّسِین، 1:260–61، 264–68
مُقدّسِین کے لیے زِندگی مُشکل ہو گئی تھی۔ کُچھ لوگوں نے اپنی نوکریاں کھو دِیں اور اَب اُن کے پاس کھانے یا کپڑے خریدنے کے لیے بھی کافی پیسے نہیں تھے۔ بعض لوگ جوزف سے ناراض ہو گئے، یہاں تک کہ اُس کے کُچھ قریبی دوست بھی۔ اُنھوں نے سوچا کہ جوزف سچّا نبی نہیں تھا کیوں کہ بینک ناکام ہو گیا۔
مُقدّسِین، 1:264–68، 272–275
اِسی دوران، پارلے اپنے مِشن سے گھر واپس آیا۔ بینک کے مسائل نے پارلے کی زِندگی بھی مُشکل بنا دی۔ اُس کے پاس اپنے گھر کی ادائیگی کے لیے اتنے پیسے نہ تھے، اور اُس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔
مُقدّسِین، 1:270–71
اَب پارلے بھی جوزف سے ناراض تھا۔ اُس نے جوزف کو ایک خط لِکھا۔ اُس نے جوزف کو بتایا کہ وہ اَب بھی مورمن کی کِتاب پر اِیمان رکھتا ہے۔ مگر اُس نے نبی کے بارے میں کرخت باتیں بھی کہیں۔ اُس نے جوزف سے کہا کہ بینک قائم کرنا ایک غلطی تھی۔
مُقدّسِین، 1:271
بعد میں، کینیڈا سے پارلے کے کُچھ دوست کرٹ لینڈ آئے۔ پارلے نے اُنھیں اِنجِیل کی تعلیم دی تھی، اور وہ اُسے دوبارہ دیکھ کر خُوش ہُوئے۔
مُقدّسِین، 1:279–80
لیکن وہ بھی یہ دیکھ کر حیران تھے کہ پارلے اور بُہت سے دُوسرے اپنا اِیمان کھو چُکے تھے کہ جوزف سمِتھ نبی ہے۔
مُقدّسِین، 1:279–80
کینیڈا سے پارلے کے دوستوں میں سے ایک جان ٹیلر تھا۔ جب پارلے نے اُسے دیکھا تو اُس نے جان کو بتایا کہ اُسے جوزف سمِتھ پر کِتنا غُصّہ تھا۔ اُس نے جان سے کہا کہ وہ مزید جوزف کی پیروی نہ کرے۔
مُقدّسِین، 1:280
جان نے پارلے کو یاد دِلایا کہ جب وہ کینیڈا میں تھے، تو پارلے نے گواہی دی تھی کہ جوزف سمِتھ ایک سچّا نبی ہے۔ ”اَب میرے پاس وہی گواہی ہے،“ جان نے کہا۔ ”اگر یہ کام چھ ماہ پہلے سچّا تھا، تو یہ آج بھی سچّا ہے۔ اگر جوزف سمِتھ اُس وقت نبی تھا، تو وہ اَب بھی نبی ہے۔“
مُقدّسِین، 1:280
پارلے جانتا تھا کہ اُس کا دوست جان صحیح تھا۔ اُسے جوزف کو لِکھے گئے اپنے غُصّے سے بھرے خط پر اَفسوس ہُوا۔ وہ جانتا تھا کہ جوزف خُدا کا کام کرنے کی پُوری کوشِش کر رہا تھا۔ بینک کے مسائل کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جوزف یِسُوع مسِیح کا سچّا نبی نہیں تھا۔
مُقدّسِین، 1:283
پارلے جوزف کے گھر گیا۔ اُس نے جوزف سے کہا کہ وہ اپنی کہی گئی کرخت باتوں پر معذرت خواہ ہے۔ جوزف نے پارلے کو مُعاف کِیا، اُس کے لیے دُعا کی، اور اُسے برکت دی۔ پارلے نے مزید کئی مِشنوں میں خِدمت کی اور دُنیا بھر میں لوگوں کو بتایا کہ جوزف سمِتھ خُداوند کا نبی تھا۔
عقائد اور عہُود 64:7–11؛ مُقدّسِین، 1:283