صَحائِف کی کَہانیاں
نیویل اور این وِٹنی نبی جوزف سے مِلتے ہیں


”نیویل اور این وِٹنی نبی جوزف سے مِلتے ہیں،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں (2024)

”نیویل اور این وِٹنی نبی جوزف سے مِلتے ہیں،“ عقائد اور عہُود کی کہانیاں

اکتوبر 1830–فروری 1831

2:25

نیویل اور این وِٹنی نبی جوزف سے مِلتے ہیں

خُداوند اِیمان سے کی گئی دُعاؤں کا جواب دیتا ہے

این اور نیویل وِٹنی دُعا کرتے ہُوئے۔

این اور نیویل وِٹنی کرٹ لینڈ، اوہائیو میں ایک سٹور کے مالِک تھے۔ این کسی کلِیسیا میں جانے یا خُدا کے بارے میں سیکھے بغیر جوان ہُوئی تھی، لیکن وہ اُسے جاننا چاہتی تھی۔ این اور نیویل کی شادی کے بعد، اُںھوں نے کئی بار دُعا کی اور خُدا سے راہ نُمائی مانگی۔

مُقدّسِین، 1:‏111–12

این اور نیویل رویا دیکھتے ہُوئے۔

ایک رات اپنی دُعا کے دوران، این اور نیویل نے ایک رویا دیکھی۔ رویا میں، اُن کے گھر پر ایک بادل چھا گیا۔ خُدا کے رُوح نے اُنھیں بھر دِیا۔ بادل نے اُنھیں گھیر رکھا تھا۔ پھر اُنھوں نے آسمان سے ایک آواز سُنی۔ اُس نے اُنھیں بتایا، ”خُداوند کا کلام پانے کے لیے تیاری کرو، کیوں کہ یہ آنے والا ہے۔“

ُمُقدّسِین، 1:‏111

این پارلے پریٹ سے اِنجِیل کے بارے میں سیکھتے ہُوئے۔

کُچھ عرصے بعد، پارلے پریٹ کرٹ لینڈ آیا۔ اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی تعلیم دی۔ جیسے ہی این نے اُن کا کلام سُنا، وہ جانتی تھی کہ یہ سچّا تھا۔ وہ نیویل کو خبر سُنانے کے لیے گھر چلی گئی۔ جلد ہی اُنھوں نے بپتِسما لِیا۔

ُمُقدّسِین، 1:‏112

جوزف اور ایما سمِتھ این اور نیویل سے مُلاقات کرتے ہیں۔

دو ماہ بعد، ایک مَرد اور عورت نیویل کے سٹور پر آئے۔ نیویل اُنھیں نہیں جانتا تھا، مگر اُس شخص نے نیویل کے ساتھ ہاتھ مِلایا اور نیویل کو اُس کے نام سے پُکارا۔ اُس شخص نے کہا، ”مَیں نبی جوزف ہُوں۔“ اُس نے وضاحت کی کہ خُداوند نیویل کی دُعاؤں کا جواب دے رہا ہے۔ اُس نے ایما اور جوزف کو این اور نیویل سے مِلنے کے لیے بھیجا تھا۔

ُمُقدّسِین، 1:‏113

این اور نیویل نے جوزف اور ایما سمِتھ کو اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔

نیویل اور این جانتے تھے کہ اُن کی رویا سچ ہو رہی ہے۔ اُنھوں نے جوزف اور ایما کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں رہنے کو کہا۔ این اور نیویل یِسُوع اور اُس کی اِنجِیل سے محبّت رکھتے تھے۔ اُنھوں نے اپنی ہر چیز مُقدّسِین اور نجات دہندہ کی کلِیسیا کو دے دی۔

عقائد اور عہُود 38:‏23–27، 34–42؛ مُقدّسِین، 1:‏114