”کیا تُو مُجھ سے محبّت رکھتا ہے؟“
اگر ہم خُدا کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ہماری محبّت کو کس طرح پہچانتا ہے۔
مُسرف بیٹے کی تَمثِیل میں، بڑے بھائی کے لِیے شرُوع میں جشن منانا مُشکل تھا جب اُس کا چھوٹا بھائی ناقص انتخابات کے بعد گھر واپس آیا اور ”اپنا مال بدچلنی میں اُڑا دِیا “ بڑے بھائی کے غُرُور اور خُود پرستی نے اُسے اپنے پشیمان بھائی کے لوٹ آنے کی خُوشی کو قبول کرنے سے روکا۔ ہم بھی اپنے پیاروں کو اپنے قول و فعل کے ذریعے اُن کے لِیے اپنی مُخلصانہ محبّت کے بارے میں بتائے بغیر مواقع ضائع کر سکتے ہیں۔
صحائف میں مُخلصانہ محبّت پانے اور باٹنے کی بُہت سی پُر اَثر مثالیں موجود ہیں: نعومی اور رُوت، عمّون اور لمونی بادِشاہ، مُسرف بیٹا اور اُس کا باپ، نجات دہندہ اور اُس کے شاگرد۔
جب بےغرض محبّت نچھاور کی جاتی ہے اور خلُوصِ دِل سے قبول کی جاتی ہے تو، نچھاور اور قبُول کرنے والے دونوں کے درمیان محبّت کی فراوانی کے صالح دَور کا آغاز ہوتا ہے۔
خُدا کی محبّت کامل، لازوال، صابر، اور ”سب سے زیادہ شیریں ہے۔“ یہ جان کو ”اِنتہائی بڑی شادمانی“ سے معمُور کرتی ہے۔ پھِر بھی، بعض اوقات اپنی زِندگیوں میں خُدا کی محبّت کو پہچاننا ہمارے لِیے مُشکل ہو سکتا ہے۔ بہرحال، ہمارا کامل پیارا آسمانی باپ اِس قدر شدت سے چاہتا ہے کہ ہم اُس کی محبّت کا تجربہ کریں کہ وہ ”[ہم] سے … [ہماری] زبان میں بات کرتا ہے۔“ وہ ہم سے اپنی محبّت کا اِظہار اُن طریقوں سے کرے گا جِن كو ہم، انفرادی طور، پر پہچان سکتے ہیں۔ ہم اپنے لِیے خُدا کی محبّت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ جب ہم فطرت کے خُوب صُورت نظاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا دُعاؤں کے جوابات پاتے ہیں، یا ضرُورت کے عین وقت پر خیالات پاتے ہیں، یا خُوشی کے شِیریں لمحات کا تجربہ کرتے ہیں۔ ہمارے لِیے آسمانی باپ کی محبّت کا سب سے بڑا اِظہار جو دماغ اور دِل دونوں میں گونجتا ہے تب ہُوا جب اُس نے اپنے پیارے بیٹے کو خُود قُربانیِ کفارہ بننے کی اِجازت دی۔
مُسرف بیٹے کے بڑے بھائی کی طرح، ہماری توجہ اکثر خُود پر مرکوز رہتی ہے۔ ہم اپنے لِیے خُدا کی محبّت کا ثبوت تلاش کرنے میں اِتنے مصروف ہیں اور جب ہم اُسے نہیں دیکھتے ہیں تو مایُوس ہو جاتے ہیں۔ لیکن خُوب صُورت خِلافِ عقل بات یہ ہے کہ ہم جِتنا زیادہ خُدا کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کرنے پر توجہ دیتے ہیں، اتنی ہی آسانی سے ہم اپنے لِیے اُس کی محبّت کو پہچانتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نجات دہندہ نے اس سوال ”سب سے بڑا حُکم کون سا ہے؟“ کا اِس سادہ اور اہم دعوت سے جواب دیا: ”خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبّت رکھ۔“
بعض اوقات جِس طرح ہم اُن لوگوں سے جِنھیں ہم سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اپنی محبّت کا اِظہار کرتے ہیں تو ضرُوری نہیں ہے کہ وہ اُس محبّت کو ویسے ہی پہچانیں۔ یہ نچھاور اور قبُول کرنے والوں دونوں کے لِیے مایوس کُن ہوسکتا ہے۔ جِن لوگوں سے ہم محبّت کرتے ہیں اُن سے پوچھنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ اِظہارِ محبّت کو کس طرح پہچانتے ہیں۔ اِسی طرح، اگر ہم خُدا کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ہماری محبّت کو کس طرح پہچانتا ہے۔ خُوش قسمتی سے، اُس نے صحائف میں واضح طور پر کئی طریقوں کا خاکہ پیش کیا ہے کہ ہم کیسے اُس کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کر سکتے ہیں۔
کیا تُو اِن سے زِیادہ مُجھ سے محبّت رکھتا ہے؟
تِبریاس کی جِھیل کِنارے پطرس اور جی اُٹھے خُداوند کے درمیان سبق آموز تبادلے میں، ہم ان طریقوں کے بارے میں سیکھتے ہیں جن سے ہم خُداوند کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کر سکتے ہیں۔
”یِسُوعؔ نے شمعُوؔن پطرس سے کہا اَے شمعُوؔن یُوحنّا کے بیٹے کیا تُو اِن سے زِیادہ مُجھ سے محبّت رکھتا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا، ہاں، خُداوند؛ تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھے عزِیز رکھتا ہُوں۔“
خُداوند کی طرف سے اِس جانچ میں کلیدی سوال یہ ہے ”کیا تُو مُجھ سے اِن سے زیادہ محبّت رکھتا ہے؟“ ہم خُداوند سے اپنی محبّت کا اِظہار کرتے ہیں جب ہم اُسے ”اِن“ سے بالا رکھتے ہیں، اور ”یہ“ کوئی شخص ہوسکتا ہے، کوئی بھی سرگرمی، یا کوئی بھی چیز جو اُسے ہماری زِندگیوں میں سب سے اہم اثر و رسوخ رکھنے سے روکتی ہے۔
ایک دِن، ایک ہفتہ، ایک مہینہ، یا ایک سال میں کبھی بھی اِتنا وقت نہیں ہوگا کہ ہم وہ سب کُچھ حاصل کر لیں جِس کی ہمیں چاہ ہے۔ فانی زِندگی کے امتحان کا ایک حِصّہ یہ ہے کہ وقت کے قیمتی وسائل کو ہماری اَبَدی بھلائی کی سب سے اہم چیزوں کے لِیے اِستعمال کیا جائے اور اُن چیزوں کو چھوڑ دیا جائے جو کم اہم ہیں۔
صدر رسل ایم نیلسن نے فرمایا کہ: ”ہم میں سے ہر ایک کے لِیے سوال … ایک ہی ہے۔ … کیا آپ خُدا کو اپنی زِندگی پر سب سے زیادہ اثر پذیر ہونے دینے کے لِیے رضامند ہیں؟ کیا آپ اُس کے کلام، اُس کے اَحکام، اور اُس کے عہُود کو اپنے روزمرّہ کاموں پر اثر پذیر ہونے دیں گے؟ کیا آپ اُس کی آواز کو ہر کسی سے زیادہ ترجیح دیں گے؟ کیا آپ تمام دُوسرے عزائم سے بالاتر ہو کر وہ سب کُچھ کرنے کے مُشتاق ہیں جو وہ چاہتا ہے؟ کیا آپ اپنی مرضی کو اُس کی مرضی میں ضَم کرنے کے مُشتاق ہیں؟“ ہم خُدا سے اپنی شاگردی اور محبّت کا مظاہرہ تب کرتے ہیں جب ہم اُسے اپنی اوّلین ترجیح بناتے ہیں۔
مَیری بھیڑیں چَرا
پطرس اور نجات دہندہ کے درمیان اِسی گُفت گُو کی اگلی آیت میں، ہم ایک اور طریقہ کے بارے میں سیکھتے ہیں جِس سے خُداوند ہماری محبّت کے اِظہار کو پہچانتا ہے: ”[خُداوند] نے دُوسری بار پھر اُس سے کہا، شمعون، یُوحنّا كے بیٹے، کیا تُو مُجھ سے محبّت رکھتا ہے؟ اُس نے اُسے جواب دیا، ”ہاں خُداوند؛ تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھے عزیز رکھتا ہُوں۔ اُس نے اُسے کہا، تو مَیری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر۔“
جب ہم اُس کے بچّوں کی خِدمت کرتے، سُنتے، پیار کرتے، حوصلہ بڑھاتے یا خِدمت گُزاری کرتے ہیں تو ہم اپنے آسمانی باپ سے محبّت کا اِظہار کرتے ہیں۔ وہ خِدمت دُوسروں كو واقعی بے عیب دیکھنے جیسی سادہ ہو سکتی ہے۔ عقائد اور عہُود کی 76ویں فَصل میں ہمیں اُن لوگوں کے کردار کی ایک جَھلک ملتی ہے جو سیلیسٹیئل جلال کے وارث ہُوں گے: ”وہ اَیسے دیکھتے ہیں جیسے اُن کو دیکھا گیا، اور اَیسے جانتے ہیں جیسے اُن کو جانا گیا۔“ وہ دُوسروں کو اَیسے دیکھتے ہیں جیسے خُدا اُنھیں دیکھتا ہے، اور وہ اُنھیں اُس جلالی الہٰی صلاحیت کے ساتھ دیکھتا ہے جو وہ بن سکتے ہیں۔
اپنے مِشن سے گھر واپسی پر، مَیں نے مالیوں کے کاروبار کو سنبھالا جو مَیں نے اور میرے بھائی نے نوجوانی میں شرُوع کیا تھا۔ مَیں اپنی یونیورسٹی کی تعلیم میں بھی مصروف تھا۔ موسمِ بہار کے ایک ہفتے، بھاری بارشوں اور سر چَڑھتے ہُوئے سالانہ امتحانات نے مُجھے مغلوب کر دیا اور مَیں لان کے کام میں پیچھے رہ گیا۔
ہفتے کے دوران میں آسمان صاف ہو گیا، اور مَیں نے اپنی کلاسوں کے بعد کام مُکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ مگر جب مَیں گھر پُہنچا، تو میرا ٹرک اور سازو سامان غائب تھے۔ مُتجسس، مَیں نے طے شُدہ باغیچوں کا دورہ کِیا؛ ہر ایک کو پہلے ہی خوبصورتی سے تَراش دیا گیا تھا۔ طے شُدہ آخری باغیچے میں، مَیں نے اپنے چھوٹے بھائی کو گھاس کاٹنے کی مشین کے پیچھے چلتے ہُوئے دیکھا۔ اُس نے مُجھے دیکھا، مُسکرایا اور ہاتھ ہِلایا۔ شُکرگُزاری سے مغلوب، میَں نے اُسے گلے لگایا اور اُس کا شُکریہ ادا کِیا۔ اُس کے پُرمعنی خِدمتی عمل نے اُس کے ساتھ میرے پیار اور وفاداری کو گہرا کر دِیا۔ ایک دوسرے کی خِدمت خُدا اور اُس کے محبوب بیٹے کے لِیے ہماری محبّت کا واضح اِظہار ہے۔
ہر کام میں اُس کے ہاتھ کا اعتراف کریں
ہم خُدا کے لِیے اپنی محبّت کا اِظہار شُکر گزار دل رکھتے ہُوئے بھی کرتے ہیں۔ خُداوند نے فرمایا ”اِنسان خُدا کو کسی بات پر غُصّہ نہیں دِلاتا، … سوائے اُن کے جو ہر کام میں اُس کے ہاتھ کا اِعتراف نہیں کرتے۔“ ہم اُسے اپنی زِندگی میں ہر اچھی چیز کا ذریعہ تسلیم کرتے ہُوئے خُدا سے اپنی محبّت کا اِظہار کرتے ہیں۔
کمپنی شرُوع کرنے کے ابتدائی دِنوں میں، مَیں اور میرا کاروباری ساتھی اہم ملاقاتوں سے پہلے، آسمانی باپ کی مدد کے طالب ہوتے ہُوئے، خلوصِ دِل سے دُعا مانگتے تھے۔ بار بار خُدا ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا، اور ہماری میٹنگز اچھی جاتی رہیں۔ ایک میٹنگ کے بعد، مَیرے کاروباری ساتھی نے بتایا کہ ہم مدد طلب کرنے میں تیز مگر شُکرگزاری کرنے میں سُست تھے۔ اُس کے بعد سے، ہم نے اپنی کامیابی میں خُداوند کے ہاتھ کو پہچانتے ہُوئے شُکر گزاری کی مُخلصانہ دُعائیں کرنے کی عادت بنا لی۔ ہم خُدا کے لِیے اپنی محبّت کا اِظہار ”تشکرانہ رویے“ کے ساتھ کرتے ہیں۔
اگر تُم مُجھ سے محبّت رکھتے ہو، تو میرے حُکموں پر عمل کرو
ایک اور طریقہ جِس سے ہم آسمانی باپ اور اُس کے پیارے بیٹے کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اُن کی اطاعت کرنے کا فیصلہ کریں۔ نجات دہندہ نے فرمایا، ”اگر تُم مُجھ سے محبّت رکھتے ہو، تو میرے حُکموں پر عمل کرو۔“ اِس قسم کی اطاعت نہ تو اندھی ہے اور نہ ہی جبری بلکہ محبّت کا مُخلصانہ اور رضامندانہ اِظہار ہے۔ آسمانی باپ چاہتا ہے کہ ہم چاہیں کہ فرماں بردار بنیں۔ سسٹر ٹیمرا ڈبلیو رُونیا نے اِسے ”پیار بھری اِطاعت“ کہا۔ اُس نے کہا، ”اگرچہ ہماری فرماں برداری ابھی تک کامِل نہیں ہے پھر بھی، ہم نے محبّت سے فرماں برداری کی اب، بار بار کوشش کو چُنتے ہیں، کیوں کہ ہم اُسے محبّت کرتے ہیں۔“
ہمارے دِل میں احساس پَیدا کرنے کے لِیے آسمانی باپ نے ہمیں اِرادت عطا کی ہے تاکہ ہمیں اُس کو چُننے کی خواہش ہو۔ اُس کا کام اور جلال نہ صرف ہماری اَبَدی زِندگی کا سبب پَیدا كرنا ہے بلکہ اِس میں یہ اُمید بھی شامل ہے کہ ہماری سب سے بڑی خواہش اُس کی طرف لوٹنا ہے۔ تاہم، وہ ہمیں کبھی بھی اطاعت کے لِیے مجبور نہیں کرے گا۔ گیت ”یہ جان لو، کہ ہر جان آزاد ہے“ میں ہم گاتے ہیں:
مِشن کے راہ نماؤں کی حیثیت سے، میری بیوی، کرسٹینا، اور مَیں بہت سے مِشنریوں سے مُتاثر ہُوئے جِنھوں نے فرمان بردار ہونے کا اِنتخاب کِیا، نہ صرف اس لِیے کہ یہ ایک مشنری معیار تھا بلکہ اس لِیے کہ وہ عاجزی کے ساتھ اُس کی نمایندگی کرنے کا اِنتخاب کرکے خُداوند کے لِیے اپنی محبّت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
ایلڈر ڈیل جی رینلنڈ نے کہا: ”ہمارے آسمانی باپ کے مقصد میں والدین ہونے کا مطلب اُس کے بچّوں سے راست کام کرانا نہیں؛ بلکہ اِس کا مطلب اُس کے بچّوں کو راست کام کا انتخاب کرنا سِکھانا اور آخرکار اُس کی مانند بننا ہے۔ اگر وہ محض ہمیں تابع فرمان بنانا چاہتا تو ہمارے رویوں پر اثر انداز ہونے کے لِیے وہ فوری جزائیں اور سزائیں نازِل کرتا۔“ جب ہم اُس کی اطاعت کرنے کا اِنتخاب کرتے ہیں تو ہم خُدا کے لِیے اپنی محبّت کا اِظہار کرتے ہیں۔
ہمارا آسمانی باپ اور ہمارا نجات دہندہ خُود کے لِیے ہماری محبّت کے اِظہار کو پہچانتے ہیں جب ہم اُنھیں اپنی زِندگی میں سب سے پہلے رکھتے ہیں، ایک دُوسرے کی خِدمت کرتے ہیں، شُکر گزاری کے ساتھ اُن کی ہر نعمت کا اعتراف کرتے ہیں، اور اُن کی اطاعت اور پیروی کرنے کا اِنتخاب کرتے ہیں۔
مَیں گواہی دیتا ہُوں، کہ ہم میں سے ہر ایک واقعی خُدا کی اولاد ہے، اور وہ ہم سے کامِل محبّت رکھتا ہے۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ وہ ہمارے لِیے شدید خواہش کرتا ہے کہ ہم اُس کی محبّت کا تجربہ ان طریقوں سے کریں جن کو ہم پہچانتے اور سمجھتے ہیں۔ اور خوبصورت خِلافِ عقل بات یہ ہے کہ ہم اپنے لیے اُس کی محبّت کا مزید گہرائی سے تجربہ کریں گے جب ہم اس سے اپنی محبّت کا اظہار کرتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔