مجلسِ عامہ
وہ اپنے مُنصِف آپ ہیں
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


14:26

وہ اپنے مُنصِف آپ ہیں

(ایلما 41:‏7)

اگر ہم نے یِسُوع مسِیح پر اِیمان کی مشق کی ہے، خُدا کے ساتھ عہُود باندھے اور نِبھائے ہیں، اور اپنے گُناہوں سے توبہ کی ہے، تو عدالت کی بارگاہ پسندِیدہ ہوگی۔

مورمن کی کِتاب کا اِختتام مرونی کی اِلہامی دعوتوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ ”مسِیح کی طرف رُجُوع لاؤ،“ ”اُس میں کامِل بنو،“ ”[اپنی] تمام بے دینی کا اِنکار کرو،“ اور ”خُدا کو [اپنی] ساری جان، ساری عقل، اور قُوت سے پیار کرو۔“ دِلچسپ بات یہ ہے، کہ اُس کی ہدایت کا آخِری فِقرہ قیامت اور آخِری عدالت دونوں کی پیش بِینی ہے۔

اُس نے کہا، ”مَیں جلد خُدا کے فِردوس میں آرام کے لیے جاتا ہُوں، جب تک میرے جِسم اور رُوح کا دوبارہ مِلاپ نہیں ہو جاتا، اور مَیں فاتح بن کر بادِلوں پر آتا ہُوں، تاکہ عظیم و قدِیر یہواہ کی بارگاہِ پسندِیدہ میں تُم سے مُلاقات کے لیے پیش کِیا جاؤں، جو زِندوں اور مُردوں کا اَبَدی مُنصِف ہے۔“

آخِری عدالت کی وضاحت کرنے کے لیے مرونی نے لفظ ”پسندِیدہ“ کا اِستعمال کِیا جس نے مُجھے تجسُس میں ڈال دِیا۔ مورمن کی کِتاب کے دیگر نبی عدالت کو ”جلالی دِن“ کے طور پر بیان کرتے ہیں اور ایک اَیسا دِن ”[جس کا] ہمیں اِیمانی نِگاہ کے ساتھ آگے بڑھ کر مُنتظر“ ہونا چاہیے۔ پھر بھی اَکثر جب ہم روزِ عدالت کے مُنتظر ہوتے ہیں، تو دیگر نبُوتی وضاحتیں ذہن میں آتی ہیں، جیسے کہ ”شرمندگی اور شدید پشیمانی،“ ”خوف اور دہشت،“ اور ”نہ ختم ہونے والی بدحالی۔“

میرا اِیمان ہے کہ زُبان میں یہ واضح تضاد نِشان دہی کرتا ہے کہ مسِیح کی تعلیم نے مرونی اور دیگر نبیوں کو اُس عظیم دِن کا بےچینی اور بھرپُور اُمید کے ساتھ اِنتظار کرنے کے قابل بنایا بجائے اُس خوف کے جس کے مُتعلق اُنھوں نے رُوحانی طور پر تیار نہ ہونے والوں کو خبردار کِیا تھا۔ مرونی نے کیا سیکھا جو آپ کو اور مُجھے سیکھنے کی ضرُورت ہے؟

مَیں رُوحُ القُدس کی دَست گِیری کے لیے دُعا گو ہُوں جب ہم آسمانی باپ کے خُوشی اور رحم کے منصوبے، باپ کے منصُوبے میں شافی کے کفّارہ بخش کِردار پر غور کرتے ہیں، اور ہم کیسے ”روزِ عدالت [اپنے] گُناہوں کے جواب دہ ہوں گے۔“

باپ کا خُوشی کا منصُوبہ

باپ کے منصُوبے کے بُنیادی مقاصِد یہ ہیں کہ وہ اپنی رُوحانی اولاد کو جِسمانی بدن حاصِل کرنے، فانی زِندگی کے تجربے کے ذریعے ”نیک و بَد“ کا فرق سیکھنے، رُوحانی طور پر بڑھنے، اور اَبَدی طور پر ترقی کرنے کے مواقع فراہم کریں۔

”اَخلاقی خُود مُختاری“ جسے عقائد اور عہُود میں بیان کِیا گیا ہے خُدا کے منصُوبے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے جو اُس کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے لافانیت اور اَبَدی زِندگی کا سبب پیدا کرتی ہے۔ اِس لازمی اُصُول کو صحائف میں اَخلاقی خُود مُختاری اور چُناؤ کرنے اور عمل کرنے کی آزادی کے طور پر بھی بیان کِیا گیا ہے۔

”اَخلاقی خُود مُختاری“ کی اِصطلاح سبق آموز ہے۔ لفظ ”اَخلاقی“ کے مُترادفات میں ”بھلا،“ ”اِیمان دار،“ ”پاک باز“ جیسے اَلفاظ شامِل ہیں۔ لفظ ”خُود مُختاری“ کے مُترادفات میں ”عمل،“ ”سرگرمی،“ اور ”کام“ جیسے اَلفاظ شامِل ہیں۔ پس، ”اَخلاقی خُود مُختاری“ کو اِس صلاحیت اور حق کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم بھلے، اِیمان دار، پاک باز، اور حقیقی طریقوں سے اپنے لیے اِنتخاب کریں اور پھر اُن پر عمل کریں۔

خُدا کی تخلیقات میں ہر دو”اَشیا فاعل اور مفعُول“ شامِل ہیں۔ اور اَخلاقی خُود مُختاری اِلہٰی طور پر تشکیل دِیے گئے ”آزادانہ عمل کا اِختیار“ ہے جو ہمیں طِفلِ خُدا کے طور پر اِس قابل بناتا ہے کہ ہم فاعل بنیں، نہ کہ صِرف مفعُول بنیں۔

زمین کو ایسی جگہ کے طور پر تخلیق کِیا گیا جہاں آسمانی باپ کی اولاد کو آزمایا جا سکے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا وہ ”سب باتوں پر عمل کریں گے جن کا خُداوند اُن کا خُدا اُنھیں حُکم دے گا۔“ تخلیق اور ہمارے فانی وجُود کا بُنیادی مقصد ہمیں عمل کرنے اور وہ بننے کا موقع فراہم کرنا ہے جو خُداوند ہمیں بننے کی دعوت دیتا ہے۔

خُداوند نے حنُوک سے فرمایا:

”دیکھ یہ تیرے بھائی؛ وہ میرے اپنے ہاتھوں کی کاری گری ہیں، اور مَیں نے اُن کا عِلم اُنھیں دِیا، جس روز مَیں نے اُنھیں خلق کِیا؛ اور باغِ عدن میں، اِنسان کو اُس کی مرضی مَیں نے عطا کی؛

”اور تیرے بھائیوں کو مَیں نے فرمایا ہے، اور حُکم بھی دِیا ہے، کہ وہ ایک دُوسرے سے پیار کریں، اور کہ وہ مُجھے اپنا باپ مانیں۔“

خُود مُختاری کے اِستعمال کا بُنیادی مقصد ایک دُوسرے سے محبّت کرنا اور خُدا کو چُننا ہے۔ اور یہ دو مقاصِد خاص طور پر پہلے اور دُوسرے بڑے حُکموں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل، اپنی ساری جان، اور اپنی ساری عقل سے محبّت رکھیں، اور کہ اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھیں۔

غور کریں کہ ہمیں حُکم دِیا گیا ہے—محض نصیحت یا مشورت نہیں بلکہ حُکم دِیا گیا ہے—کہ ہم اپنی خُود مُختاری کو ایک دُوسرے سے محبّت کرنے اور خُدا کو چُننے کے لیے اِستعمال کریں۔ کیا مَیں تجویز کر سکتا ہُوں کہ صحائف میں، لفظ ”اَخلاقی“ صِرف ایک صِفت نہیں بلکہ شاید اِلہٰی ہدایت بھی ہے کہ ہماری خُود مُختاری کو کیسے اِستعمال کِیا جانا چاہیے۔

ایک معرُوف گیت کا عُنوان ”دُرست کرو اِنتخاب“ کسی وجہ سے ہے۔ ہمیں اَخلاقی خُود مُختاری کی یہ برکت اِس لیے نہیں دی گئی کہ ہم جو چاہیں جب چاہیں کریں۔ بلکہ، باپ کے منصُوبے کے مُطابق، ہمیں اَخلاقی خُود مُختاری اِس واسطے مِلی ہے کہ ہم اَبَدی سچّائی کی جُستجُو کریں اور اِس کے مُوافق عمل کریں۔ ”[اپنے] اَعمال میں آزاد ہوتے ہُوئے،“ ہم بےتابی کے ساتھ کارِ خیر میں مشغُول رہیں، ”بُہتیرے کام [اپنی] آزاد مرضی سے کریں، اور نہایت نیکی کا باعث بنیں۔“

اَخلاقی خُود مُختاری کی اَبَدی اہمیت کو قبل اَز فانی مجلِس کے صحیفائی بیان میں نُمایاں طور پر اُجاگر کِیا گیا ہے۔ لُوسیفر باپ کے بچّوں کے لیے اُس کے منصُوبے کے خِلاف سرکش ہُوا اور آزادانہ عمل کے اِختیار کو تباہ کرنے کی کوشِش کی۔ نُمایاں طور پر، شیطان کی سرکشی براہِ راست اَخلاقی خُود مُختاری کے اُصُول پر مرکُوز تھی۔

خُدا نے واضح کِیا ”پَس، اِسی سبب سے … شیطان میرے خِلاف سرکش ہُوا، اور اِنسان کی اِرادت کو برباد کرنا چاہا، … مَیں نے اَیسا کِیا کہ وہ نیچے پھینکا جائے۔“

دُشمن کی خُودغرض ترکیب یہ تھی کہ خُدا کے بچّوں سے وہ صلاحیت چھین لی جائے جو اُنھیں ”اپنے اَعمال میں آزاد“ ہونے کے قابل بنا سکتی تھی تاکہ وہ راست بازی سے عمل کر سکیں۔ اُس کا مقصد آسمانی باپ کے تمام بچّوں کو محض ایسی مخلُوق بنانا تھا جو صِرف اور صِرف مفعُول ہوں۔

عمل کرنا اور بننا

صدر ڈیلن ایچ اوکس نے زور دِیا ہے کہ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل ہمیں کُچھ جاننے اور اَخلاقی خُود مُختاری کے راست اِستعمال کے وسیلے سے کُچھ بننے کا دعوت نامہ دیتی ہے۔ اُنھوں نے فرمایا:

”بائبل اور جدید صحائف میں بُہت سے حوالے آخِری عدالت کی بابت بات کرتے ہیں جس میں تمام لوگوں کو اُن کے اَعمال یا کاموں یا اپنے دِلوں کی خواہشوں کے مُوافق اَجر دِیا جائے گا۔ لیکن کُچھ صحائف یہ وضاحت کرتے ہیں کہ ہماری عدالت اُس حیثیت کے تناظر میں ہو گی جو ہم حاصِل کر چُکے ہیں۔

”نِیفی نبی آخِری عدالت کو اُس لحاظ سے بیان کرتا ہے کہ ہم کیا بن چُکے ہیں: ’اور اگر اُن کے اَعمال نجس ہوں گے تو یقیناً وہ بھی نجس ہوں گے؛ اور اگر وہ نجس ہوں گے تو وہ خُدا کی بادشاہی میں قیام نہ پا سکیں گے‘ [1 نِیفی 15:‏33؛ تاکِید شامِل ہے]۔ مرونی اِعلان فرماتا ہے، ’وہ جو نجس ہے وہ نجس ہی رہے گا؛ اور جو راست باز ہے وہ راست باز ہی رہے گا‘ [مورمن 9:‏14؛ تاکِید شامِل ہے]۔“

صدر اوکس جاری رکھتے ہیں: ”آخِری عدالت محض نیکی اور بَدی کے اَعمال کی کُل تعداد کا حساب کِتاب نہیں ہے—جِن کے ہم مُرتِکب ہو چُکے ہیں۔ یہ ہماری نیّتوں اور عملوں کے حتمی اَثر کا اِعتراف ہے—ہم کیا بن چُکے ہیں۔“

نجات دہندہ کا کفّارہ

ہمارے کام اور خواہشات اکیلے نہ تو ہمیں بچاتے ہیں اور نہ ہی بچا سکتے ہیں۔ ”بالاخِر سب کُچھ کرنے کے بعد بھی،“ ہم صِرف مُنّجی کی لامحدُود اور کفّارہ بخش قُربانی کے وسِیلے دَستیاب رحم اور فضل سے ہی خُدا کے ساتھ مِلاپ کرتے ہیں۔

ایلما نے اِعلان فرمایا، ”خُدا کے بیٹے پر اِیمان لے آؤ، چُوں کہ وہ اپنے لوگوں کو مُخلصی دینے آئے گا، اور کہ وہ اُن کے گُناہوں کے کَفارے کے واسطے دُکھ اُٹھائے گا اور موت برداشت کرے گا؛ اور کہ وہ مُردوں میں سے پِھر جی اُٹھے گا، جِس کے سبب سے مُردوں کی قیامت ہو گی، تاکہ کُل بنی نوع اِنسان یومِ آخِر کو اور یومِ عدالت پر اپنے کاموں کے مُطابق اِنصاف کے لیے اُس کے حُضُور کھڑے ہوں۔“

”ہم اِیمان رکھتے ہیں کہ مسِیح کے کفّارے کے وسِیلے سے، تمام بنی نوع اِنسان، اِنجِیل کے قوانین اور رُسُوم کی فرماں برداری کی بدولت بچائے جا سکتے ہیں۔“ ہمیں کِتنا مشکُور ہونا چاہیے کہ ہمارے گُناہ اور کام ہمارے خِلاف گواہی کے طور پر کھڑے نہ ہوں گے اگر ہم حقیقی طور پر ”نئے سِرے سے پیدا ہوں،“ مُنّجی پر اِیمان کی مشق کریں، ”خُلوصِ دِل“ اور ”کامِل اِرادے،“ سے توبہ کریں اور ”آخِر تک برداشت کریں۔“

خوفِ خُدا

ہم میں سے بُہتیرے توقع کر سکتے ہیں کہ اَبَدی مُنصِف کی بارگاہ میں ہماری حاضری دُنیاوی عدالت میں ہونے والے مُقدمے کی کاروائی جیسی ہو گی۔ ایک مُنصِف صدارت کرے گا۔ شواہد پیش کِیے جائیں گے۔ فیصلہ سُنایا جائے گا۔ اور ہم مُمکنہ طور پر غیر یقینی اور خوف میں مُبتلا ہوں گے جب تک کہ ہم حتمی نتیجہ نہیں جان لیتے۔ مگر مَیں سمجھتا ہُوں کہ یہ تصوِیر کشی دُرست نہیں ہے۔

دُنیاوی خوف کے برعکس جس کا اَکثر ہم تجربہ کرتے ہیں صحائف اُسے ”خوفِ خُدا“ یا ”خُداوند کا خوف“ قرار دیتے ہیں۔ دُنیاوی خوف کے برخِلاف جو گھبراہٹ اور اِضطراب کا سبب بنتا ہے، خوفِ خُدا ہماری زِندگیوں میں اِطمینان، تسلّی، اور اِعتماد کو دعوت دیتا ہے۔

راست خوف میں خُداوند یِسُوع مسِیح کے لیے تعظیم اور تکرِیم، اُس کے حُکموں کی فرماں برداری، آخِری عدالت کی توقع، اور اُس کے ہاتھ سے اِنصاف کا گہرا احساس شامِل ہے۔ خوفِ خُدا نجات دہندہ کی اِلہٰی فِطرت اور مقصد کے دُرست فہم، اپنی مرضی کو اُس کی مرضی کے تابع کرنے کی آمادگی، اور اِس عِلم سے پروان چڑھتا ہے کہ ہر مَرد اور عَورت یومِ عدالت میں اپنی فانی خواہشات، خیالات، اَلفاظ، اور اَعمال کا جواب دہ ہو گا۔

خُداوند کا خوف اُس کی حُضُوری میں عدالت کے لیے پیش ہونے پر ڈر یا ہچکچاہٹ کا نام نہیں ہے۔ بلکہ، یہ اپنی بابت اُن باتوں کو بالآخِر تسلیم کرنے کا اِمکان ہے جیسے وہ اَصل میں ہیں اور جیسے وہ اَصل میں ہوں گی۔

ہر وہ شخص جو کبھی زمین پر رہا، جو اَبھی زمین پر ہے، اور جو آنے والے وقت میں زمین پر رہے گا ”اُنھیں [اُن کے] اَعمال کے مُطابق خواہ وہ اچھے تھے یا بُرے، عدالت کے لیے خُدا کی بارگاہ میں لایا جائے گا۔“

اگر ہماری خواہشات راست باز اور ہمارے اَعمال اچھے رہے ہیں—یعنی ہم نے یِسُوع مسِیح پر اِیمان کی مشق کی ہے، خُدا کے ساتھ عہُود باندھے اور نبھائے ہیں، اور اپنے گُناہوں سے توبہ کی ہے—تو عدالت کی بارگاہ پسندِیدہ ہو گی۔ جیسا کہ انوس نے اِعلان کِیا، ہم ”[مُنّجی] کے حُضُور کھڑے ہوں گے؛ اور تب [ہم] اُس کا دِیدار خُوشی و خُرمی کے ساتھ کریں گے۔“ اور یومِ آخِر ہم ”اپنا اَجر راست بازی میں پائیں گے۔“

اِس کے برعکس، اگر ہماری خواہشات بُری اور ہمارے اَعمال بَدکار رہے ہیں، تو عدالت کی بارگاہ ہیبت و وحشت کا سبب ہو گی۔ ہم ”صحیح طور پر واقِف“ ہوں گے ”واضح یادآوری“ ہوگی اور ”احساسِ جُرم کے باعث بیدار“ کِیے جائیں گے۔ ”ہم خُدا کی جانب نظر اُٹھانے کی بھی جُرات نہ کریں گے؛ اور ہمیں خُوشی ہو گی اگر ہم چٹانوں اور پہاڑوں کو حُکم دیں کہ وہ ہمیں اُس کی حُضُوری سے چھُپانے کے لیے ہم پر آ گِریں۔“ اور یومِ آخِر ہم ”[اپنی] بُرائی کا اَجر پائیں گے۔“

آخِرکار، ہم اپنے مُنصِف آپ ہیں۔ کسی کو بھی ہمیں یہ بتانے کی ضرُورت نہیں پڑے گی کہ کہاں جانا ہے۔ خُداوند کی حُضُوری میں، ہم اِعتراف کریں گے کہ ہم نے فانی زِندگی میں کیا بننے کا چُناؤ کِیا ہے اور خُود سے جان لیں گے کہ ہمیں اَبَدیت میں کہاں ہونا چاہیے۔

وعدہ اور گواہی

اِس بات کا اِدراک کہ آخِری عدالت پسندِیدہ ہو سکتی ہے فقط مرونی کے لیے مخصُوص برکت نہیں ہے۔

ایلما نے مُنّجی کے ہر ایک سرشار شاگِرد کے لیے دَستیاب وعدہ کی گئی برکات کو بیان کِیا۔ اُس نے فرمایا:

”لفظ بحالی سے مُراد بُرے کے لیے بُرائی، یعنی شہوانی کے لیے شہوانیت، یا اِبلِیسی کے لیے اِبلِیسیت کو دوبارہ واپس لانا ہے—نیکی اُس کے لیے جو نیک ہے؛ راستی اُس کے لیے جو راست ہے؛ اِنصاف اُس کے لیے جو مُنصِف ہے؛ رحم دِلی اُس کے لیے جو رحم دِل ہے۔

”… مُنصفانہ برتاؤ کرتا ہے، راستی سے عدالت کرتا ہے، اور پیہم نیکی کرتا ہے؛ اور اگر تُو اِن سب باتوں پر عمل کرتا ہے تب تُو اپنا اَجر پائے گا؛ ہاں، دوبارہ تیرے لیے رحم بحال کِیا جائے گا؛ دوبارہ تیرے لیے اِنصاف بحال کِیا جائے گا؛ دوبارہ تیرے لیے راست عدالت بحال کی جائے گی؛ اور دوبارہ تیرے لیے تیرا اَجر نیکی ہو گا۔“

مَیں بڑی خُوشی سے گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح ہمارا زِندہ و جاوید شافی ہے۔ ایلما کا وعدہ آپ کے اور میرے واسطے—آج، کل، اور کُل اَبَدیت کے لیے برحق اور قابلِ اِطلاق ہے۔ مَیں یہ گواہی خُداوند یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام میں دیتا ہُوں، آمین۔