مجلسِ عامہ
خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


10:41

خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے

خُدا کو اپنے مقاصد پُورے کرنے اور ہمیں وہ بنانے کے لیے جو وہ چاہتا ہے کہ ہم نبیں صرف اِتنا چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا دِل پُوری طرح سے اُس کی طرف موڑ لے۔

جب یہ حُکم دِیا گیا کہ یسی کے بیٹوں میں سے اسرائیل کا نیا بادشاہ مُنتخب کریں، تو یسی کے سب سے بڑے بیٹے اِلیاب کو دیکھ کر سموئیل نے جوش و خروش سے کہا: ”یقیناً خُداوند کا ممسُوح اُس کے آگے ہے۔“ مگر اِلیاب خُداوند کا برگزیدہ خادم نہیں تھا۔ خُداوند نے سموئیل کو تنبیہ کی: ”تُو اُس کے چہرہ اور اُس کے قد کی بلندی کو نہ دیکھ، اِسلئِے کہ مَیں نے اُسے ناپسند کِیا ہے: کیونکہ خُداوند اِنسان کی مانِند نظر نہیں کرتا، اِسلئے کہ اِنسان ظاہری صُورت کو دیکھتا ہے، پر خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے۔“

اگرچہ داؤد جسمانی طور پر اپنے بھائیوں میں سب سے مضبُوط یا ماہر نہ تھا، لیکن خُدا کی نظر میں اُس کا دِل مضبُوط تھا۔ اُس نے اپنے پُورے دِل سے خُدا سے محبّت رکھی اور اُس کی فرماں برداری کرنے کی گہری خواہش رکھتا تھا۔ خُدا کی محبّت، قدرت، اور وعدہ کی گئی برکات پر اُس کا غیر متزلزل ایمان تھا، جس کا مظاہرہ اُس نے بے خوفی سے جاتی جولیت سے خُداوند کی مدد سے لڑ کر اور شکست دے کر کِیا۔

یہ کہانی ہمیں سِکھاتی ہے کہ خُدا کو اپنے مقاصد پُورے کرنے اور ہمیں وہ بنانے کے لیے جو وہ چاہتا ہے کہ ہم بنیں، صرف اِتنا چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا دِل پُوری طرح اُس کی طرف موڑ لے۔ عالمِ شرع کو، اُس نے حُکم دیا، ”خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل سے محبّت رکھ۔“ اُس نے نبی جوزف سمِتھ سے فرمایا، ”دیکھو، خُداوند دِل اور نیت کا طالب ہے۔“ اور نیفیوں کو جی اُٹھے مسِیح نے یہ دعوت دِی: ”اور تُم مُجھے شِکستہ دِل اور پشیمان رُوح کی قُربانی پیش کرنا۔“

ایسا کیوں ہے؟ نجات دہندہ نے سِکھایا کہ اگر ہمارے دِل مُکمل طور پر اُس کی طرف مائل ہوں، تو اُس کی کفّارہ بخش قربانی کی بدولت ہمیں اپنی فانی مُشکلات پر غالب آنے، آزمایش کا مقابلہ کرنے، ہدایت اور فہم پانے، اور اپنی زندگیوں میں خُوشی اور اطمینان محسُوس کرنے کے لیے ضروری مضبُوطی اور رُوحانی نعمتوں کی برکت حاصل ہو سکتی ہے۔ ”معمُولی باتوں کے وسِیلے سے وہ رُونُما ہوتی ہے جو اَفضل ہے۔“ اُس نے فرمایا کہ وہ ”کمزوریوں کو اُن کے واسطے قُوّت بنا دے گا“ اور ہمیں اِس فانی زندگی میں کامیاب ہونے اور اَبَدی زندگی پانے کے لیے ہر ضروری برکت دے سکتا ہے۔ ”مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کِیُونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔“

میرا ایمان ہے کہ یہی وجہ ہے کہ، کم از کم جزوی طور پر، یِسُوع مسِیح نے اکثر فقیہوں اور فریسیوں کی اپنی فانی خدمت کے دوران تصحیح کی۔ اگرچہ وہ اُس کی شریعت کو جاں فشانی سے مانتے تھے، مگر اُنھوں نے غلط وجوہات کی بنا پر ایسا کِیا۔ اُس نے اُن کی یہ کہتے ہُوئے ملامت کی ”یہ اُمّت زبان سے تو میری عِزّت کرتی ہے مگر اِن کا دِل مُجھ سے دُور ہے۔“

یہ اُس کے تمام شاگردوں کے لیے ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ بات صرف اِس بارے میں نہیں ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں—ہمارے الفاظ اور اعمال—بلکہ اِس بارے میں بھی ہے کہ ہم وہ کیوں کرتے ہیں جو یِسُوع مسِیح نے ہم سے کرنے کو کہا ہے—یعنی ہمارے ارادے اور مقاصد۔ اُس نے کہا، ”پَس مَیں خُداوند، ہر اِنسان کی عدالت اُس کے کاموں کے مُطابق کرُوں گا، اُس کے دِل کی نیت کے مُطابق۔“ ہمارا آسمانی باپ اپنی اولاد کو محض رسمی اطاعت اور خدمت کے کاموں سے بڑھ کر چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُن کاموں کو سچّی نیت سے کریں کیوں کہ ہم اُسے اپنے پُورے دِل سے پیار کرتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی مانند بننے کی خواہش کریں۔

اب اگر ہمارے دِلوں کی رُوحانی حالت ہمارے نجات دہندہ کے لیے ایک اہم بُنیادی عنصر ہے—جو وہ ایک سچّے شاگرد میں دیکھتا ہے—تو ہم اپنے دِل کا جائزہ کیسے لے سکتے اور یہ جان سکتے ہیں کہ آیا وہ خُدا کے نزدیک درست ہے یا نہیں؟

حال ہی میں، جب میری بیوی اور مَیں پُرتگال کے مشن سے واپس آئے، تو ہم نے اپنی جسمانی حالت کا جائزہ لینے کے لیے کئی ٹیسٹ کروائے۔ اُن میں سے کُچھ ٹیسٹ جو ہمارے دِلوں کی صحت پر مرکُوز تھے—جیسا کہ خون کے ٹیسٹ، ایکوکارڈیوگرامز، اور سٹریس کے ٹیسٹ۔ میرا ایمان ہے کہ نجات دہندہ نے ہمیں رُوحانی اِمتحانات کا ایک سِلسِلہ بھی فراہم کِیا ہے جس کی مدد سے ہم اپنے دِلوں کی رُوحانی حالت کو پرکھ سکتے ہیں۔ مَیں آپ کے ساتھ چند ایک کا اِشتراک کرُوں گا۔

رُوحانی آزمائشوں کے ذریعے اپنے دِل کا جائزہ لینا

پہلا، ہماری توجہ، ترجیحات، اور مقاصد

”جہاں تیرا مال ہے، وہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا،“ یِسُوع نے سِکھایا۔ مال وہ چیز ہے جو ہمارے لیے قیمتی ہوتی ہے، جس پر ہم اپنی محنت اور توجہ لگاتے ہیں۔ ہم اپنا وقت کہاں گُزارتے ہیں اور اپنی توجہ کِس چیز پر مرکُوز کرتے ہیں، اِس کے ساتھ ساتھ جس چیز سے ہم کُچھ کرنے کی ترغیب پاتے ہیں، یہ سب کُچھ ہمارے دِلوں کے بارے میں بُہت کُچھ بتاتا ہے۔ نجات دہندہ نے تنبیہ کی کہ جبکہ بُہت سے بُلائے گئے ہیں، مگر چند ایک برگزیدہ ہیں ”کیوں کہ اُن کے دِل نہایت زیادہ اِس دُنیا کی چیزوں پر لگے ہُوئے ہیں، اور وہ آدمیوں سے تعظیم چاہتے ہیں۔“ کیا مَیں نجات دہندہ کو اپنی زندگی میں اَولین ترجیح دیتا ہُوں؟ کیا جو کُچھ مَیں کرتا ہُوں، اِس میں میری نظر صرف اُس کے جلال پر ہے؟

دُوسرا، خُدا کے حُکموں کی فرماں برداری کرنے کے لیے ہماری آمادگی

تمام صحیفوں میں، خُداوند اور اُس کے نبیوں نے غرور اور نافرمانی کو سخت دِل ہونے جیسا کہا ہے۔ نیفی نے اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتے ہُوئے، کہا: ”تُم خُداوند کے حُکموں کو کیوں نہیں مانتے؟ تُم کیوں اپنے دِلوں کی سنگینی کے سبب سے ہلاک ہوتے ہو؟ میزوری کے مُقدّسِین کو، خُداوند نے خبردار کِیا، ”لیکن وہ جو کوئی کام نہیں کرتا جب تک اُسے حُکم نہ دیا جائے، اور حُکم کو شکی دِل سے قَبُول کرتا ہے، اور اِس پر کاہلی سے عمل کرتا ہے، وہ شخص ملعُون ہے۔“ نجات دہندہ ہم سے یہ توقع نہیں کرتا کہ ہم اُس کے احکام کو کامل طور پر پُورا کریں، لیکن وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ ہم اپنے پُورے دِل سے اُن کو ماننے کی خواہش اور کوشِش کریں۔

تیسرا، صحائف کا مُطالعہ کرنے اور مکاشفہ کے مُتلاشی ہونے میں ہماری جانفشانی

خُداوند نے اولیور کاؤڈری کو تاکید کی ”پَس اِن باتوں کو اپنے دِل میں محفُوظ رکھ۔“ ہمیں دعوت دی گئی ہے کہ جاں فشانی کے ساتھ صحیفوں میں سے تلاش کریں اور رُوحُ القُدس کی قوت کے وسیلہ سے اِنجِیل کی سچّائی کو سمجھنے اور اُس کی گواہی اپنے دِلوں میں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

ابینادی نبی نے شریر نُوح بادشاہ کے کاہنوں کو ایسا نہ کرنے پر ڈانٹا، یہ کہتے ہُوئے کہ، ”تُمھارے دِلوں نے اُنھیں سمجھنے کی کوشِش ہی نہیں کی؛ چنُاں چہ تُمھاری عقل جاتی رہی۔“ کیا مَیں روزانہ صحیفوں کا مُخلصانہ مُطالعہ کرنے اور دُعا کے وسیلہ سے اُنھیں دِل سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہُوں؟

چوتھا، ہمارے خیالات اور الفاظ

نجات دہندہ نے سِکھایا کہ ”بُرے خیال دِل سے ہی نکلتے ہیں“ اور کہ ”جو دِل میں بھرا ہے وُہی مُنہ پر آتا ہے۔“ ہمارے خیالات اور الفاظ کا معیار ہمارے دِلوں کی پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا مَیں دُوسروں کے اعمال یا نیتوں کے بارے میں، یا حتیٰ کہ اپنے بارے میں بھی، ضرورت سے زیادہ منفی خیالات رکھتا ہُوں؟ کیا مَیں دُوسروں کو جانچنے اور سزا دینے میں بُہت جلدی کرتا ہُوں؟ کیا مَیں اپنی غلطیوں کے بہانے یا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہُوں؟ اور میرے الفاظ کا کیا؟ کیا وہ میرے آس پاس کے لوگوں کو تقویت بخشتے اور مُتاثر کرتے ہیں؟ یا کیا وہ اکثر فتنہ اور فساد پیدا کرتے ہیں؟

میرے جسمانی ٹیسٹ مُکمل ہونے کے بعد، میرے ڈاکٹر نے مُجھے بتایا کہ، مجمُوعی طور پر، میرا دل صحت مند ہے—لیکن چند خدشات ہیں جنھیں ابھی دُور کرنے کی ضرورت ہے، اِس سے پہلے کہ وہ سنگین ہو جائیں۔ پھر اُس نے طرزِ زندگی میں کُچھ تبدیلیاں تجویز کیں۔ اِسی طرح، جب آپ اپنے دِل کا یہ رُوحانی معائنہ کرتے اور دیکھتے ہیں کہ کُچھ منفی علامات سر اُٹھا رہی ہیں، تو براہِ کرم گھبرائیں نہیں! نجات دہندہ نے آپ کی مدد کے لیے بہترین رُوحانی ادویات اور علاج مُہیا کیے ہیں۔ حتیٰ کہ اُس نے آپ کو نیا دِل دینے کا وعدہ بھی کِیا ہے! یہاں کُچھ اعمال ہیں جو آپ کے دِل کی رُوحانی مضبُوطی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اپنے دِل کی رُوحانی صحت کو بہتر بنانا

پہلا، مسِیح کے ساتھ اپنے تعلُقات کو مضبُوط کریں

جب ہم روزانہ مسِیح کے قریب آنے کے لیے وقت وقف کرتے ہیں، تو ہمارے دِل تبدیل ہو جاتے ہیں۔ روزانہ صحائف کے مُطالعہ کے ساتھ، مُخلص دُعا اور باقاعدگی سے روزہ رکھنا، نجات دہندہ کے لیے آپ کی محبّت میں اضافہ کرے گا اور آپ کے ایمان اور توبہ کی خواہش کو تقویت بخشے گا اور فروتنی سے آپ کا دل خدا کی طرف مائل کرے گا۔ نیفی کی اِس مثال پر غور کریں: ”پَس مَیں نے خُداوند سے فریاد کی؛ اور دیکھو وہ میرے پاس آیا اور میرے دِل کو نرم کِیا اور مَیں اپنے باپ کی ساری باتوں پر اِیمان لے آیا جو اُس نے فرمائی تھیں۔“

جب ہم اپنی نیک خواہشات اور اعمال سے اِیمان کے بیج کی پرورش کرتے رہیں گے، تو ہم بھی اپنے دِلوں کی ایسی ہی تقدیس کا تجربہ کریں گے جیسے نیفیوں نے کِیا: ”اِس کے باوجُود وہ اکثر روزہ رکھتے اور دُعا کرتے، اور اپنی فروتنی میں مضبُوط سے مضبُوط تر ہونے لگے، اور اپنی جانوں کے لِیے خُوشی اور تسلّی پانے کے لِیے، مسِیح پر اِیمان میں قوی سے قوی تر ہونے لگے، ہاں، اُنھوں نے اپنے دِلوں کو اِس قدر پاکیزہ اور پاک صاف کر لِیا، اَیسی پاکیزگی جو خُدا کی حُضُوری میں اپنے دِلوں کو رُجُوع لانے کے باعث مِلتی ہے۔“

دُوسرا، اپنی مرضی کو اُس کے ساتھ ہم آہنگ کریں

نجات دہندہ نے سِکھایا، ”اگر تُم مُجھ سے محبّت رکھتے ہو تو میرے حُکموں پر عمل کرو۔“ وہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ عہُود باندھنے اور اُن پر قائم رہنے سے اپنی محبّت کا مظاہرہ کریں۔ جب ہم روزانہ اُس کے حُکموں پر عمل کرنے کی کوشِش کرتے ہیں، مُخلصانہ طور پر اپنے گُناہوں سے توبہ کرتے ہیں، اور اُس کے نام کو اپنے تئیں اپنانے اور اپنی مرضی کو اُس کی مرضی سے ہم آہنگ کرنے میں اِستقامت پاتے ہیں، تو ہم رُوحُ القُدس کی مُستقل رفاقت کی برکت پا سکتے ہیں۔

نیفی نے گواہی دی، ”مَیں جانتا ہُوں کہ اگر تُم خُدا کے حُضُور ریا کاری اور فریب کاری کِیے بغیر، دِل کے کامِل اِرادے کے ساتھ، بیٹے کی تقلید کرو، بلکہ خلُوصِ نیت کے ساتھ اپنے گُناہوں سے تَوبہ کر کے، باپ کو گواہ ٹھہراتے ہُوئے کہ تُم بپتسما کے وسِیلہ سے اپنے تئیں مسِیح کا نام اپنانے کے مُشتاق ہوتے ہو … ، تو دیکھو تُم رُوحُ القُدس پاؤ گے۔“ رُوحُ القُدس آپ کی راہ نُمائی فرمائے گا اور خُداوند کی مرضی جاننے اور اچھے اِنتخابات کرنے میں آپ کی مدد کرے گا۔

آخر میں، اپنے پُورے دِل سے خُدا اور دُوسروں کی خِدمت کریں

نجات دہندہ سب کو دعوت دیتا ہے کہ ”اپنے پُورے دِل سے اُس کی خِدمت کریں۔“ جب ہم ہر وہ کام کرنے کا اِنتخاب کرتے ہیں جو خُداوند نے ہمیں کرنے کو کہا ہے—جیسا کہ احکامات پر عمل کرنا، عِشائے ربانی میں شریک ہونا، ہَیکل میں عِبادت کرنا، اور دُوسروں کی خِدمت کرنا—سچّے دِل اور نیک خواہش کے ساتھ، خِدمت اور عِبادت کا ہر عمل ایک قوّی رُوحانی تجربہ بن جاتا ہے جو ہمارے اِیمان اور گواہی کو تقویت بخشتا ہے اور ہمارے دِلوں کو خُدا اور اپنے ساتھی انسانوں کے لیے محبّت اور خُوشی سے معمُور کرتا ہے۔

ایلما نبی کا سوال آج بھی گُونجتا ہے: ”کیا تُم رُوحانی طور پر خُدا سے پیدا ہُوئے ہو؟ کیا تُم نے اُس کی شبِیہ کو اپنی صُورت میں پایا ہے؟ کیا تُمھیں اپنے دِلوں میں اِس بُہت بڑی تبدیلی کا تجربہ ہُوا ہے؟“

بھائیو اور بہنو، مَیں آپ کو دعوت دیتا ہُوں کہ آج اپنا سارا دِل نجات دہندہ کو دیں۔ ہر عِبادت اور خِدمت کا عمل مُخلص اور با مقصد ہو۔ دُنیا کے ہنگاموں کو ایک طرف رکھیں اور اپنی زندگیوں میں ہر روز خُداوند کے لیے بامقصد وقت گُزارنے کی کوشِش کریں۔ توبہ کرو اور اپنے سارے دِل سے اُس کی طرف لوٹو، اور وہ تُمھیں مُعاف کرے گا اور تُمھیں اپنی محبّت کے بازوؤں میں لے لے گا۔ پَس اِس دُنیا کی چِیزوں کی فِکر نہ کرو بلکہ تُم پہلے خُدا کے جلال کے طلب گار ہو، اور بہتر چیزوں کی تلاش کرنے کا اِنتخاب کرو۔ وہ آپ کے خیالات اور آپ کے دِل کی خواہشات کو جانتا ہے، اور جب آپ اُس کے پاس آتے ہیں، تو وہ آپ کو اِس زندگی میں مضبُوطی، اعتماد، اِطمینان، اور خُوشی بخشے گا اور اَبَدیت کے لیے اپنی سیلیسٹیئل بادشاہی میں مقام عطا کرے گا۔

مَیں جانتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح زِندہ ہے۔ وہ ہمارا مُخلصی دینے والا ہے۔ اور وہ آپ سے اور مُجھ سے پُورے دِل سے محبّت کرتا ہے۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔