مجلسِ عامہ
بھیڑوں کو یاد رکھیں
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


12:14

بھیڑوں کو یاد رکھیں

شُمار کرنے اور حِساب کِتاب رکھنے کا اُصُول کارآمد ہے۔ یہی طرِیقِ خُداوند ہے۔

مسِیح ہی اچھّا چَراوہا ہے۔ گلّہ کی ایک ایک بھیڑ اُس کو بڑی عزیز ہے۔ اُس نے شبانی کا نمونہ بنایا اور ہمیں قول و فعل سے اچھے چوپان کی خُوبیاں سِکھائیں، بشمُول اپنی بھیڑوں کو نام سے جاننا، اُن سے پیار کرنا، کھوئی ہُوئی بھیڑوں کو ڈُھونڈنا، کھانا کِھلانا، اور بالآخِر، اُنھیں دوبارہ بھیڑخانہ لے جانا۔ وہ ہم سے توقع رکھتا ہے ہم اُس کے زیرِ سایہ چوپانوں جَیسا عمل کریں۔

ہم خِدمت گُزاری کے طریقِ خُداوند کی بابت اُس قدیم نبی—اور بےمثال چوپان—یعنی مرُونی سے بُہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اُس نے اِنتہائی مُشکل دَور میں زِندگی گُزاری، اُس کے پاس سیل فون، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی۔ لیکن وہ بھیڑوں کا حِساب کِتاب لگانے میں کام یاب رہا۔ یہ کس طرح انجام پایا؟ ہمیں مرُونی 6 میں اِس کے طریقہ کار کی جھلک مِلتی ہے۔ ہم پڑھتے ہیں کہ اَرکان ”کا شُمار مسِیح کی کلِیسیا میں ہو جاتا تھا؛ اور اُن کے نام درج کِیے جاتے تھے، تاکہ اُنھیں یاد رکھا جا سکے اور خُدا کے خُوش کُن کلام سے تقویت پا سکیں، کہ اُنھیں راہِ راست پر رکھا جائے۔ … کلِیسیا روزہ رکھنے، اور دُعا کرنے، اور اپنی جانوں کی بھلائی کے لِیے ایک دُوسرے سے کلام کرنے کے واسطے اکثر باجماعت مِلتی تھی“ (مرونی 6:‏4–5؛ تاکید اِضافی ہے)۔

مرُونی کے نزدِیک، یہ سب کُچھ لوگوں کی خاطِر تھا—یعنی ناموں کا اندراج! اُس نے شُمار کرنے اور حِساب کِتاب رکھنے کے اُصُول پر عمل کِیا تاکہ سب کو یاد رکھا جائے۔ جو کوئی بھی مزاحمت کرتا تھا یا بھٹک جاتا تھا اُس کی دیکھ بھال کی جاتی تھی، جِس سے مُقدّسِین کو کونسلوں میں اپنی فلاح و بہبود پر بات کرنے کی اِجازت دی جاتی تھی۔ اُس چرواہے کی طرح جو ننانوے کو (باندھ کر اور محفُوظ کر کے، مُجھے یقین ہے) چھوڑ کر ایک کھوئی ہُوئی کو ڈُھونڈنے چلا گیا (دیکھیے لُوقا 15:‏4–7)، ہمیں اپنے گلّوں کے بارے میں بالکُل اِسی طرح چوکس رہنے کے لیے کہا گیا ہے—دیکھ بھال کریں اور یاد رکھیں اور جائیں اور اِسی طرح کریں۔

اِنڈیا میں مشن لیڈر کی حیثیت سے، مُجھے یاد پڑتا ہے کہ مَیں نے نوجوان برانچ کے صدر سے اگلے سال کے لیے اُس کے چند اہداف کے بارے میں پُوچھا: ”آپ کتنے مردوں کو ملکِ صِدق کہانت کے حامِل تیار کریں گے؟“ اُس کا فوری جواب تھا ”سات!“

مَیں حیران تھا کہ کہاں سے وہ یہ خاص نمبر لے آیا تھا! اِس سے پہلے کہ مَیں جواب دیتا، اُس نے صفحہ نِکالا جِس پر نمبر ایک سے سات تک لکھا تھا۔ پہلی پانچ سطروں پر اُن کے نام تھے—حقیقی لوگ جِنھیں وہ اور اُس کے ایلڈرز کی جماعت دعوت دینے اور اُنھیں کہانت کی برکت پانے کی ترغیب دینے والے تھے۔ اَلبتہ مُجھے چھے اور سات کی خالی سطروں کے حوالے سے پُوچھنا تھا۔ ”اوہ، پریذیڈنٹ،“ اُس نے تائید کے انداز میں سر ہِلاتے ہُوئے کہا، ”یقیناً ہم سال کے آغاز میں کم از کم دو آدمیوں کو بپتِسما دیں گے جو سال کے آخِر تک کہانت کے لائق بن سکتے ہیں۔“ اُس نفِیس لیڈر نے شُمار اور حِساب کِتاب کے اُصُول کو سمجھ لِیا۔

مسِیح نے اپنی کلِیسیا کو اِس طرح مُنظم کِیا ہے کہ کسی بھی جان کو نظر انداز کرنا مُشکل ہوگا، کیوں کہ اُس کو ہر کوئی عزیز ہے۔ وارڈ میں ہر فرد کے لِیے، عُمر یا جِنس سے قطع نظر، بُہت سے نگران—چوپان—ہیں جِنھیں یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ اُن کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک نوجوان نے اپنی فلاح و بہبُود کے لیے بشپ، خِدمت گُزار بھائی، بالغ نوجوانوں کے مُشِیر، سیمینری کے اُساتذہ، کورم کی صدارتیں، اور پھر کئی، سب مُشکل حالات کے لِیے حِفاظتی جال بَنے، جو کسی بھی نوجوان کو گِرنے سے بچانے کے لِیے مُستَعِدی کے ساتھ نیچے کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی اگر صرف ایک جال صحیح طریقے سے لگا ہے، تو وہ نوجوان محفُوظ رہے گا، دیکھ بھال ہوگی، یاد رہے گا۔ اور اِس کے باوجُود، ہمیں کوئی بھی جال اپنی جگہ پر دِکھائی نہیں دیتا۔ لوگ اکثر حسبِ معمُول کُہر میں بھٹکتے رہتے ہیں—اور کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ ہم کیسے بہتر چوپان بن سکتے ہیں؟ ہم شُمار کرنا اور حِساب کِتاب رکھنا سِیکھ سکتے ہیں۔

کلِیسیا ہمیں یہی کُچھ کرنے کے لِیے تو رپورٹس اور وسائل فراہم کرتی ہے—تاکہ یاد رکھیں۔ سہ ماہی رپورٹ بڑی عُمدہ مثال ہے۔ یہ ہمیں ہر رُکن کو مُتعدد بار شُمار کرنے اور حِساب کِتاب رکھنے کے قابِل بناتی ہے اور یہ بھی کہ اُن کی دیکھ بھال کریں جو لاپتا ہیں یا جِنھیں ہماری مدد اور ہماری محبّت کی ضرُورت ہے۔ عمل داری اور انٹرویو کی فہرست اُن لوگوں کی شناخت کرتی ہے جِنھیں اِس وقت ہماری توجہ کی ضرُورت ہوتی ہے، جَیسا کہ اِجازت نامہِ ہَیکل کی سٹیٹس رپورٹ اور دُوسری ہیں۔ شُمار کرنے اور حِساب کِتاب رکھنے کے یہی وسائل لوگوں پر ہماری توجہ مبذُول کراتے ہیں۔ کس کو بُلاہٹ، کہانت میں بڑھوتی یا ہَیکل میں کسی خاندان کا نام لے کر جانے میں مدد کی ضرُورت ہے؟ کُل وقتی مشن کی تیاری میں ہم کِس کی مدد کر سکتے ہیں؟ اِس ماہ کون کون غیر حاضر تھا؟ یہ وسائل لوگوں کو یاد رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

مَیں امریکہ میں اَیسے خاندان کو جانتا ہُوں جِس کو افریقہ میں ذِمہ داری سونپی گئی تھی۔ پہلے اِتوار کو ہی وہ مُلک کی واحد کلِیسیائی برانچ میں پُہنچے، جہاں اُن کا پُرجوش اِستقبال کِیا گیا۔ دوپہر سے پہلے پہلے، آدمی کی اَہلیہ کو اَنجُمنِ خواتین کی صدر اور اُس کو اَنجُمنِ فرزندان کے راہ نُما کی حیثیت سے بُلاہٹ عطا ہُوئی! اُس نے تھکے ماندے نظر آنے والے برانچ کے صدر سے پُوچھا کہ یہاں کتنے نوجوان ہیں۔ اِس بااِیمان، پہلی نسل کے راہ نُما نے عِبادت والے ہال کے آخِری حِصّہ کی طرف اِشارہ کِیا اور کہا، ”وہ دونوں وہِیں ہیں۔“ اُس شخص کو برمحل شک گُزرا، اِس لیے وہ برانچ کی فہرست گھر لے گیا، فوری طور پر نظر پڑی کہ فہرست میں دراصل 20 نوجوان تھے۔ وہ برانچ کے صدر کے پاس واپس آیا اور دو زبانیں جاننے والے دو جوشِیلے نوجوان بالغوں کو اپنے مُشِیروں کے طور پر خِدمت کرنے کے لِیے کہا اور پھر اِن دونوں لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر ناموں کا جائزہ لیا۔

پھر یہ محنتی نوجوان اپنا فرض نِبھانے چل پڑے۔ اَگلے چند مہینوں میں، اُنھوں نے فہرست میں موجُود ہر لڑکے کو ڈُھونڈ نِکالا۔ نام بنام، اُن کھوئی ہُوئی بھیڑوں کا اُن کے ساتھیوں نے اِستقبال کِیا اور رُوحانی اور جسمانی روٹی کِھلائی! ایک برس کے دوران میں، تقریبا 21 نوجوان ہر اِتوار کو حاضر ہوتے تھے۔ اُن جوانوں کے لِیے خُدا کا شُکر ہے جِنھوں نے شُمار کِیا اور حِساب کِتاب رکھا۔

میرا عزیز دوست، جب نوجوان گریجویٹ طالب علم تھا، اپنی اعلیٰ تعلِیم جاری رکھنے کے لِیے اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ کے کسی بڑے شہر میں چلا گیا۔ اُس کو فوری ایلڈرز کورم کی صدارت کے لیے بُلاہٹ عطا ہُوئی۔ سٹیک کے صدر کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو کے مُتعلق تھوڑا سا گھبرایا، وہ تیار رہنے کے لیے پُرعزم تھا۔ اُس نے سٹیک کے صدر کو بتایا کہ آیندہ برس کے لیِے اُس کے تین اہداف ہیں: (1) 90 فیصد خِدمت گُزاری، (2) ہر ہفتہ اِنجِیل کا بامقصد سبق، اور (3) ہر ماہ کورم کی موثّر سرگرمی۔

اِس دانش مند صدر نے میرے دوست کی طرف مُسکرا کر، پُوچھا، ”کیا آپ کسی ایک کم فعال کورم رُکن کا نام بتا سکتے ہیں جِس کی آپ اِس سال اُس کے خاندان کے ساتھ ہَیکل جانے میں مدد کر سکے؟“ اِس بات نے میرے دوست کو حیرت میں ڈال دِیا۔ بڑی سوچ بچار کے بعد ایک نام اُس نے بتایا۔ ”اِس کو لِکھ لو،“ سٹیک کے صدر نے ہدایت دی۔ پھر اِس تجربہ کار قائد نے یہی سوال مزید تین بار پُوچھا اور—انٹرویو ختم ہو گیا۔ یہ نوجوان قیادت اور خِدمت کے مُتعلق اپنا سب سے بڑا سبق سیکھ کر اِس انٹرویو سے باہر نِکلا تھا۔ وہ اپنے ساتھ پروگرام، اسباق اور سرگرمیاں لے کر اِنٹرویو میں گیا۔ وہ چند نام لے کر باہر نِکلا! یہ چار نام بعد میں اُس کی خِدمت گُزاری اور اُس کے کورم کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

مشن لیڈر کی حیثیت سے، مَیں نے اِتوار کی صُبح اپنی ایک برانچ کا دَورہ کِیا۔ مَیں نے دیکھا کہ برانچ کا صدر اپنی جیب سے کاغذی کارڈ نِکالتا اور اُس پر لکھتا رہا تھا۔ اِختتامی دُعا کے بعد مَیں نے اُس سے اِس کے مُتعلق پُوچھنے کا فیصلہ کِیا۔ عِبادت ختم ہونے کے فوری بعد، اور اِس سے پہلے کہ مَیں کارڈ کے بارے میں پُوچھ سکتا، برانچ کا مشن لیڈر پوڈیم کی طرف لپکا، جہاں اُس کو کاغذ دِیا گیا تھا۔ میں تیزی سے اُس جوشِیلے راہ نُما کے پیچھے اُس کی ہفتہ وار برانچ مشنری کوآرڈینیشن میٹنگ میں گیا۔ اِس سے پہلے کہ وہ شرُوع کرتے، اُس نے جیب سے کاغذ نِکالا۔ یہ اُن اَرکان کے ناموں سے بھرا ہُوا تھا جو عِشائے ربانی کی عِبادت میں شرِیک نہیں ہو رہے تھے۔ چند لمحوں کے دوران میں، کونسل کے ہر رُکن نے ایک یا دو ناموں کو چُن لِیا، اُسی دن اُن سے ملنے کا عہد کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ٹھیک ہیں اور اُنھیں یہ بتانے کے لیے کہ اُن کی کمی محسُوس ہو رہی تھی۔ اب یہی شُمار کرنا اور حِساب کِتاب رکھنا ہے۔

مُجھے وہ ڈسٹرکٹ یاد ہے، جہاں سے قریب ترین ہَیکل میں جانے کے لِیے ہوائی جہاز سے کئی گھنٹے لگتے ہیں، وہاں فعال اِجازت نامہِ ہَیکل کو برقرار رکھنا اَوّلین ترجیح تھی، اِس حقیقت کے باوجُود کہ اِس کو شاید اِستعمال نہ کر پائیں۔ ہر مہینے کے پہلے اِتوار کو، قائدین اپنے شُمار کرنے کے وسائل کو اِستعمال میں لاتے تاکہ اُن کے ودِیعت یافتہ اَرکان کا حِساب کِتاب رکھا جا سکے۔ اگر اُنھیں عِلم ہوتا کہ اِجازت نامہ کی میعاد جلد ختم ہونے والی ہے، تو ایگزیکٹو سیکرٹری تجدیدی انٹرویو کا شیڈول بناتا۔ جِن لوگوں کے اِجازت ناموں کی میعاد ختم ہو چُکی ہوتی اُن کو ہدایت دی جاتی کہ، اُن کی عہد کی راہ پر واپس آنے میں اُن کی مدد کرنے کے مواقع تلاش کِیے جاتے۔ مَیں نے پُوچھا کہ اُن کے کتنے ودِیعت یافتہ اَرکان کے پاس حالیہ فعال اِجازت نامہ ہے۔ جواب حیران کُن 98.6 فیصد تھا۔ جب اُن چھے کے مُتعلق پُوچھا گیا جن کے اِجازت ناموں کی میعاد ختم ہو چکی تھی، تو قائدین اُن کو نام سے پہچاننے میں کام یاب ہو گئے اور مُجھے اُن کی واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا!

چند برس پہلے، میرا خاندان اَمریکہ واپس آیا۔ ہم چھوٹی چھوٹی، زیادہ الگ تھلگ کلِیسیاؤں میں 26 دِل چسپ سال گُزرانے کے بعد، یہاں کلِیسیا میں شرکت کے لیے بڑے خُوش تھے۔ مُجھے وارڈ مشنری کی بُلاہٹ عطا ہُوئی۔ ہمارے پاس بڑا زبردست وارڈ مشن لیڈر تھا اور وہ دِل چسپ چیزیں کر رہے تھے اور دِل کش لوگوں کو سِکھا رہے تھے۔ مَیں نے وارڈ کونسل کی میٹنگ میں شرکت کے لیے اِجازت مانگی تاکہ مُشاہدہ کِیا جا سکے اور جِن دوستوں کے ساتھ ہم کام کر رہے تھے اُن کی مدد حاصل کریں۔ مَیں حیران رہ گیا جب صِرف اُن اُمُور پر بات کی گئی جو آنے والی وارڈ کی سرگرمی کے مُتعلق تھے۔ مَیں نے بعد میں وارڈ مشن لیڈر سے رابطہ کِیا اور رائے دی کہ اُنھیں واپس آ کر اور اپنے لوگوں کے بارے میں رپورٹ دینے کا موقع نہیں ملا۔ اُس کا جواب؟ ”اوہ، مَیں کبھی رپورٹ نہیں مانگتا۔“

مَیں نے اِس کا موازنہ لاہور، پاکستان میں برانچ کونسل کی میٹنگ سے کِیا، جہاں مَیں نے چند ہفتے پہلے شرکت کی تھی۔ یہ چھوٹا سا گروپ چھوٹی سی میز کے گِرد اکٹھے بیٹھا تھا، اور وہ صِرف لوگوں کے مُتعلق بات کر رہے تھے۔ نام بنام۔ ہر لیڈر نے اپنی ذِمہ داری اور اُن اَفراد اور خاندانوں کے بارے میں بتایا جِن کے لِیے وہ فکر مند تھے۔ سب کو موثّر طریقوں پر اپنے خیالات کا اِظہار کرنے کا موقع مِلا جِن سے وہ زیرِ بحث لوگوں کو برکت دے سکیں۔ لائحہ عمل تیار ہُوا اور ذِمہ داریاں سونپی گئیں۔ ہماری پہلی نسل کے بھائیوں اور بہنوں سے ناموں کو شُمار کرنے اور حِساب کِتاب رکھنے کا کس قدر عُمدہ سبق ہے۔

یِسُوع مسِیح کی کلِیسیا میں، ہمیں ماضی کے نبیوں اور موجودہ نبیوں کے وسِیلہ سے ہدایت دی گئی ہے—اور ہمارے نجات دہندہ کی طرف سے قائم کردہ نمونہ کی بدولت کہ—خِدمت گُزاری کیسے کی جائے۔ ہم نام لِکھتے ہیں، ہم یاد رکھتے ہیں، اور ہم جانوں کی بھلائی کے لِیے باہم مشاورت کرتے ہیں۔ جو قائدین اَیسا کرتے ہیں اُن کی کونسل میٹنگز میں شیڈول کے اُمُور کبھی ختم نہیں ہوں گے! شُمار کرنے اور حِساب کِتاب رکھنے کا اُصُول کارآمد ہے۔ یہی طرِیقِ خُداوند ہے۔ ہم زیادہ بہتر کر سکتے ہیں! خُدا کے لیے، جِس نے کائنات کو خلق کِیا اور سب پر حُکومت کرتا ہے، یہ کارِ اِلہٰی—اُس کا اَمر اور جلال—بُہت ذاتی ہے۔ اور اَیسا ہی ہمارے لیے ہونا چاہیے، نجات اور سرفرازی کے اُس کے حیرت انگیز اَمر میں اُس کے ہاتھ میں وسِیلے بن کر۔ حقیقی لوگوں کی زِندگیوں میں مُعجزے رونُما ہوں گے۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔