مجلسِ عامہ
تَرکِیبِ خوش خَبَری
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


10:39

تَرکِیبِ خوش خَبَری

مسِیح کو اپنی زندگی میں مزید شامل کرنا کیسا لگتا ہے؟

اگر آپ کبھی میری آبائی ریاست لُویزِیانا گئے ہیں، تو آپ شاید ہمارے بہت سے لَذِیذ پَکوانوں سے آشنا ہوں گے—گومبُو، جمبلِایا، ایٹوفی، اور یہ فہرست نہایت طَوِیل ہے۔

وقتاً فوقتاً، مَیں اِن میں سے چند ایک مزیدار تراکیب کو پکانے کے لیے خُود کو بڑا دِلیر محسُوس کرتا ہُوں۔ تمام اجزاء کو مِلانے اور تفصیلی ہدایات پر عمل کرنے کے بعد غیر دستاویزی آخری مرحلہ یہ ہے کہ ذائقہ چکھیں اور دیکھیں کہ کس چیز کی کمی ہے۔ اِس موقع پر، مَیں کیرول کے مشہور باورچیوں کو اپنے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے سُن سکتا ہُوں، ”تھوڑی اور ٹونیز ڈالو۔“ ٹونیز میرے آبائی شہر اوپیلوساس، لُوزِیانا، کا بنانا ہوا کیرولی مسالا ہے۔ اِسے اکثر تَرکِیب کی پَیرَوی کرنے کے دوران کی گئی خامیوں کی تَلافی کرنے کی خاطر بَطَور ”جُزوِ مخفی“ اِستعمال کیا جاتا ہے۔

مُجھے اور میری بیوی مِشیل کو لُوزِیانا میں مشن راہ نُما کی حیثیَت میں خدمت کرنے کا اِعزاز حاصل ہے۔ مُنادوں کے اپنے خاندانوں کے پاس لوٹنے سے قبل اُنھیں مشن ہوم میں اُن کی آخری رات کو اُس کی جمبِیلا کی خاص تَرکِیب کو پکانا سِکھانا ہماری رِوایَت تھی۔ ہمارے مُناد اپنے مشن کو یِسُوع مسِیح کی بحال شُدہ اِنجیل کی اپنی گواہیوں کے علاوہ، اُن تَراکِیب کے لیے قدر دانی کے ساتھ چھوڑتے تھے۔

چند ماہ قبل، مَیں کلِیسیا کی میڈیا لائبریری پر براؤزنگ کر رہا تھا اور مُخَتَصر ویڈیوز کے مجموعہ کا لنک بنام Restoration Conversations with President Russell M. Nelson دیکھا۔ مُخَتَصر ویڈیوز میں سے ایک کے عُنوان نے میری توَجّہ حاصل کی اور مُیں مُسکرا اُٹھا۔ اِس کا نام ہے ”صحائف خُوش و خرم جینے کے لیے خُدا کی تَرکِیب ہیں۔“ مَیں نے فوراً اُس دو منٹ کی ویڈیو پر کلک کیا اور صدر نیلسن کو پرائمری بچوں کے ایک گروپ کو خوش رہنے کے بارے میں ایک سادہ اور طاقتور پیغام سِکھاتے ہوئے دیکھا۔ اُنہوں نے سِکھایا: ”اگر آپ کیک بنا رہے ہوں، آپ ہدایات کی پَیرَوی کرو گے، کیا نہیں کرو گے؟ اور آپ ہر بار اچھا نتیجہ پاؤ گے، پاؤ گے نا؟“

اُنہوں نے بولنا جاری رکھا، جلد ہی 95 برس کے ہونے سے مُتَعَلّق بات کرتے ہوئے: ”لوگ پوچھتے ہیں، ’آپ کیا کھاتے ہیں؟ آپ کا راز کیا ہے؟‘“ اُنہوں نے جواب دیا، ”اُس راز کا نام صحائف ہے۔ آپ اُن کو پڑھ اور آزما سکتے ہیں۔“

خیر، اب یہ ہمارے پاس ہے۔ خُوش و خرم جینے کے لیے بالکُل عام راز محض خُدا کی تَرکِیب کی پَیرَوی کرنا ہے جیسے صحائف میں مُفصَّل بیان کی گئی ہے۔ میں اِسے ”تَرکِیبِ خوش خَبَری“ کہتا ہُوں۔

آپ کیا کرتے ہیں اگر تَرکِیب کی پَیرَوی کرتے ہوئے کچھ غلَط ہو جائے؟ خیر، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ آخر میں ہمیشہ اِسے ٹھیک کریں گے خُوش خَبَری کی تَرکِیب میں ”جُزِ مخفی“ پنہاں ہے۔ جواب سدا یِسُوع مسِیح ہے۔

میرا خیال ہے کہ ہم سب پر ایسے لمحات آتے ہیں جب ہم محسُوس کرتے ہیں کہ ہمارے اجزاء اتنے اچھے نہیں ہیں، یا ہم ہدایت کی پَیَروی کرنے میں اتنے بہتر نہیں ہوتے، یا شاید ہم خِلافِ تَرتِیب کچھ کر بیٹھتے ہیں، یا کچھ ایسا رونُما ہوتا ہے جو ہمارے بَس میں نہیں ہوتا ہے، اور وغیرہ وغیرہ۔

اِس کا حل کیا ہے؟ یہ مَحض اپنی زندگی میں اُس کا اِضافَہ کرنا ہے جو یِسُوع مسِیح کو دَعوَت دے۔

تو، مسِیح کو اپنی زندگی میں مزید شامل کرنا کیسا لگتا ہے؟

صدرِ مشن کی حَیثِیَت سے خدمت کرنے کے دُوران میں، مُجھے ہر چھ ہفتے بعد ہمارے ہر ایک نوجوان مُناد سے مُلاقات کرنے کا شَرَف حاصل ہوتا تھا۔ اِن رُو بہ رُو مُلاقاتوں کے دُوران، مُنادوں کے لیے اپنی رَفَاقَتوں کو بہتر بنانے کی خاطر راہ نُمائی کے طالِب ہونا عام بات تھی۔

ایک موقع پر، ایک مُناد اپنے ذاتی انٹرویو کے لیے آیا اور نیچے بیٹھ گیا۔ مَیں اُس کی حَرکات و سکنات سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ اُس کے ذہن پر کافی بوجھ تھا۔ مَیں نے پُوچھا، ”ایلڈر، آج کیا بات کرنا چاہتے ہو؟“ اُس نے چند مسائل کی بَابَت بتانا شروع کیا جو اُس کو اپنے ساتھی سے متعلق تھے اور کیسے یہ اُن کے کارِ مُنادی کو سر انجام دینے کی اَہلِیَت کو متاثر کر رہے تھے۔ آشک بار آنکھوں سے، اُس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا، ”صدر صاحب، مُجھے کیا کرنا چاہیے؟“

اُس لَمحے، سَچ کہوں تو مَیں نہیں جانتا تھا کہ کیا جواب دُوں۔ کچھ دیر بعد، مَیں نے اُس سے پوچھا کیا ہمارے لیے رُوح سے ہدایِت کے واسطے اکٹھے دُعا کے لیے گُھٹنے ہونا ٹھیک ہو گا۔ وہ مُتَّفِق ہوا، اور ہم گُھٹنے ہوئے اور اِلہام کے لیے دُعا کی۔

دُعا کے بعد، ہم کُچھ دیر کے لیے گُھٹنے رہے اور پھر اپنی کُرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ مَیں نے پُوچھا کیا ہم صحائف میں سے حَوالَہ پڑھ سکتے ہیں۔ جیسے ہم نے اپنے صحائف کھولے، مَیں نے توَقّف کیا اور اُسے بتایا، ”ایلڈر، جیسے ہم یہ حَوالَہ پڑھتے ہیں، براہِ کرم خُود سے ذیل میں دِیے گیے یہ سوال پوچھو: کیا یہ اَوصاف مُجھ میں ہیں، کیا یہ ہماری رَفَاقَت اور ہمارے کارِ مُنادی کو بہتر بنائیں گی؟“

پھر ہم نے مرونی 7:‏45 کھولا اور بُلند آواز سے پڑھا: ”اور محبّت صابر اور مہربان ہے، اور حسد نہیں کرتی، اور شیخی نہیں بِگھارتی، اپنی بہتری نہیں چاہتی، جُھنجھلاتی نہیں، بدگُمانی نہیں کرتی، اور بدکاری سے خُوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خُوش ہوتی ہے، سب کُچھ سہہ لیتی ہے، سب باتوں کا یقِین کرتی ہے، سب باتوں کی اُمِّید رکھتی ہے، سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔“

تب ایلڈر نے اپنی پُر نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور کہا، ”جی ہاں، صدر صاحب، مگر ایسا کرنا بہت مُشکل ہے۔ مَیں نے اِتفاق کیا اور اُسے یاد دِلایا کہ وہ فرزندِ خُدا ہے اور خُداوند کے ہم راہ ایسا کرنے کی اِلہٰی صلاحیت رکھتا ہے۔

پھر ہم نے ایلڈر کلارک جی گلبرٹ کی سِکھائی ہوئی ڈَھلان کی تَمثِیل پر مُختَصَراً گُفت گُو کی، جو ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ ہم جہاں ہیں ہمیں وہیں سے آغاز کرنا چاہیے، خُداوند کے ہم راہ، آگے اور اُوپر کی جانِب مُثبَت سَمت میں بڑھیں۔ مَیں بتا سکتا تھا کہ وہ اگلےمرحلہ کے بارے میں اب بھی تھوڑا مَغلُوب محسُؤس کر رہا تھا، لہٰذا مَیں نے اُسے اُس حَوالَہ کے مُتَعَلّق اپنے فہم کی وضاحت کرنے کو کہا ”معمُولی اور سادہ چِیزوں سے افضل کام انجام پاتے ہیں۔“ اُس نے اِس تَصُور کو بیان کیا کہ معمُولی اور سادہ کام کرنے سے عالی شان کام رونُما ہوتے ہیں۔ مَیں نے اُسے ایک منٹ تَوَقُّف کرنے اور دو سادہ اور معمولی کاموں کی نشان دہی کرنے کو کہا جو وہ اپنے ساتھی کے ساتھ شَفِیق ہونے کے لیے کر سکتا تھا۔

چَند لمحوں کے بعد، اُس نے اپنے خَیالات کا اِظہار کیا۔ پھر مَیں نے اُسے ایک منٹ لینے اور دو سادہ اور معمولی کاموں کی نشان دہی کرنے کو کہا جو وہ اپنے ساتھی کے ساتھ صابر ہونے کے لیے کر سکتا تھا۔ اُس نے تقریباً فوراً اپنے دو خَیالات بتا دیے۔ یہ واضِح تھا کہ وہ ہماری مُلاقات سے پہلے ہی اِن پر غُور و خوض کر رہا تھا۔ مَیں نے اُسے وہ چند چیزیں خُدا کے پاس لے جانے کی دعوت دی اور تَصدِیق، ہدایِت، اور اِلہام مانگنے کو کہا کہ کیسے اپنے منصُوبے پر نیک نیتی سے عمل پیرا ہونا ہے۔ وہ رضامند ہو گیا۔ جیسے ہی ہم نے ختم کیا، مَیں نے اُسے اپنے ہفتہ وار خَط میں مختصر اپ ڈیٹ مہیا کرنے کو کہا۔

چَند ہفتے گُزرنے کے بعد، مَیں اُس کے ہفتہ وار خَطوط میں دیکھ سکتا تھا کہ چیزیں بہتر ہو رہی تھیں۔ مَیں نہ صرف اُس کے ہفتہ وار خَطوط میں بہتری دیکھ سکتا تھا، بلکہ مَیں اِسے اُس کے ساتھی کے خَطوط میں بھی دیکھ سکتا تھا۔ ہمارے آیندہ ذاتی انٹرویو میں، مَیں نے اُس کے چہرے اور رُوح میں دِن اور رات جِتنا فرق دیکھا۔ مَیں نے اُس سے پوچھا، ”تو، ایلڈر، کیا یہ سچ ہے کہ ’محبّت کو زوال نہیں؟‘“ اُس نے بڑی مُسکراہٹ کے ساتھ جواب دِیا، ”جی ہاں، معمُولی اور سادہ چیزوں سے اَفضل کام ہوتے ہیں۔“

جیسے ہی آپ خُوش و خرم جینے کے لیے خوش خَبَری کی تَرکِیب پر عمل کرتے ہیں، صدر نیلسن کی تَعلیِمات یاد رکھیں: ”آپ کے جو بھی سوالات یا مسائل ہیں، اِس کا جواب سَدا یِسُوع مسِیح کی حیاتِ صالح اور تَعلیِمات میں پایا جاتا ہے۔ اُس کے کَفّارہ، اُس کی محبّت، اُس کے رحم، اُس کی تَعلیِم، اور اُس کی شِفا بخش، اور ترقی بخش بحال شُدّہ اِنجِیل کے مُتَعَلّق مزید سیکھیں۔ اُس کی طرف مائل ہوں! اُس کی پَیرَوی کریں!“

جب آپ کو ”اُسے سُننے“ کی ضرورت ہو اور یہ جاننا ہو کہ یِسُوع مسِیح کو اپنی زندگی میں کیسے مَدعُو کرنا ہے تو، اُن اِقدام کی پیروی کرنے پر غور کریں جو صدر نیلسن نے ذاتی مُکاشفہ کے مُتَعَلّق سِکھائے ہیں۔

”کسی گوشۂ تنہائی کو تلاش کریں جہاں آپ باقاعدگی سے جا سکیں۔ اپنے آپ کو خُدا کے حضور فروتن کریں۔ آسمانی باپ کے سامنے اپنا دِل کھول کر رکھ دیں۔ جوابات اور تَسَلّی کے لیے اُس کی طرف رُجُوع کریں۔

”یِسُوع مسِیح کے نام پر اپنے اندیشوں، اپنے وسوَسوں، اپنی کمزوریوں—ہاں، اپنی دِلی آرزوؤں کے بارے میں دُعا کریں۔ اور پھر غور سے سُنیں! آپ کے ذہن میں جو خیالات آتے ہیں اُنہیں قلم بند کریں۔ اپنے احساسات کو لکھیں اور پھر اُن اقدامات پر عمل پیرا ہوں جنھیں کرنے کے لیے آپ نے تحریک پائی تھی۔ جیسے آپ اس طریقہ کار کو روز بہ روز، ماہ بہ ماہ، سال ہا سال دہرائیں گے، تو آپ ’اصولِ مکاشفہ میں ترقی پاتے جائیں گے۔‘“

مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح ہمارا نجات دہندہ اور فِدیہ دینے والا ہے۔ اُس نے ”ہر اُس کام کی تَکمِیل کی ہے جس کی [ہمیں] آسمانی باپ کے پاس لوٹنے کے لیے ضرورت ہے۔“ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔