یِسُوع مسِیح کا نام اوڑھنا
جس قدر ہم یِسُوع مسِیح کو یاد رکھتے اور اپنی شناخت اُس کے ساتھ جوڑتے ہیں، اُسی قدر ہم مزید اُس کی مانِند بننا چاہتے ہیں۔
2018 میں، یُونیورسٹی آف یُوٹاہ میں، ایک خصُوصی پروفیسری کا ایوارڈ قائم کِیا گیا جو ”ڈاکٹر رسل ایم نیلسن اور ڈینزل ڈبلیو نیلسن پریزیڈینشل چیئر اِن کارڈِیو تھوریسِک سرجری“ کہلاتا ہے—کارڈِیو، کا مطلب ”دِل،“ اور تھوریسِک، کا معنی ہے ”چھاتی۔“ یہ ایوارڈ صدر نیلسن کے بطور دِل کے سرجن کے اَہم کام اور اُن کی مرحُومہ اَہلیہ ڈینزل، کی طرف سے مِلنے والی مُعاونت کو خِراجِ تحسِین پیش کرتا ہے۔ پروفیسری کا یہ ایوارڈ ایک اَیسے فنڈ سے قائم کِیا گیا جسے مُستقبل میں قائم رہنے کے لیے ترتیب دِیا گیا تھا۔ اَیسے باوقار پروفیسری کے ایوارڈ کے لیے مُنتخب ہونے والے اَفراد کو شناخت، تنخواہ، اور تحقیقی فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔
اِس پروفیسری کے ایوارڈ کے لیے مُنتخب کِیے جانے والا پہلا ڈاکٹر کریگ ایچ سیلزمین، جو دِل کا ماہر سرجن تھا جو کہ ہماری کلِیسیا کا رُکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر سیلزمین کو پروفیسری کے اِس ایوارڈ سے نوازنے کی تقریب میں، بُہت سے اَہم مہمان شریک تھے، جن میں صدر نیلسن اور اُن کی اَہلیہ بہن وینڈی ڈبلیو نیلسن بھی شامِل تھیں۔ اِس تقریب کے دوران، صدر نیلسن نے اپنے سرجیکل کیریئر کے اِبتدائی دِنوں کے مُتعلق بات کی کہ اُنھوں نے کوئی بڑا کارنامہ اَنجام نہیں دِیا تھا۔
پھر ڈاکٹر سیلزمین نے بیان کِیا کہ اِس پروفیسری کے ایوارڈ میں تقرر ہونا اُس کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ اُس نے بتایا کہ چار دِن پہلے، کمرہِ آپریشن میں ایک طویل دِن گُزارنے کے بعد، اُسے پتہ چلا کہ اُس کے ایک مریض کو دوبارہ سرجری کروانے کی ضرُورت پڑ گئی ہے۔ وہ تھکا ہُوا اور مایُوس تھا، وہ جانتا تھا کہ اُسے ہسپتال میں ایک اور رات گُزارنی پڑے گی۔
اُس شام، ڈاکٹر سیلزمین نے اپنے آپ سے زِندگی بدل دینے والی گُفت گُو کی۔ عین اُسی لمحے، اُس نے سوچا: ”جُمعہ کو، مَیں ڈاکٹر نیلسن کے نام سے منسُوب پروفیسری کے ایوارڈ پر تقرری پاؤں گا۔ وہ ہمیشہ ایک اَیسے شخص کے طور پر جانے جاتے تھے جو اپنے جذبات کو قابُو میں رکھتے، ہر ایک کے ساتھ عِزّت سے پیش آتے، اور کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔ اَب جب کہ میرا نام اُن کے ساتھ مُنسلک کِیا جائے گا، تو مُجھے مزید اُن کی مانِند بننے کی کوشِش کرنے کی ضرُورت ہے۔“ ڈاکٹر سیلزمین پہلے ہی سے ایک نہایت شفِیق سرجن تھا۔ لیکن وہ اور بھی بہتر بننا چاہتا تھا۔
ماضی میں، اُس کی سرجیکل ٹیم اُس کی تھکاوٹ اور مایُوسی کو بھانپ سکتی تھی کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ اِسے اپنے رویے اور لہجے میں ظاہر کر دیتا ہو۔ مگر اُس رات کمرہِ آپریشن میں، ڈاکٹر سیلزمین نے اپنی ٹیم کے ساتھ خصُوصی طور پر ہم درد اور سمجھ دار بننے کی شعُوری کوشِش کی۔ اُس نے محسُوس کِیا کہ اِس سے بڑا فرق پڑا اور تہیہ کِیا کہ وہ مزید ڈاکٹر نیلسن کی مانِند بننے کی کوشِش جاری رکھے گا۔
پانچ سال بعد، صدر نیلسن نے اپنے پیشہ ورانہ کاغذات یُونیورسٹی آف یُوٹاہ کو عطیہ کر دِیے۔ یُونیورسٹی کے مُعززین باضابطہ طور پر صدر نیلسن کا شُکریہ اَدا کرنے کو آئے۔ اُس تقریب کے دوران، ڈاکٹر سیلزمین نے دوبارہ خِطاب کِیا۔ صدر نیلسن کے نام کے اِبتدائی حُرُوف، آر ایم این کا حوالہ دیتے ہُوئے، اُس نے کہا، ”یُونیورسٹی آف یُوٹاہ کے شُعبہِ کارڈِیوتھوریسِک سرجری میں اَب ’آر ایم این‘ کا طرزِ عمل سرایت کرتا ہے۔“
ڈاکٹر سیلزمین نے وضاحت کی کہ: مایُوس کُن حالات میں، ”مَیں وہی کرتا ہُوں جو ہم اَب اپنے زیرِ تربیت لوگوں کو کرنا سِکھاتے ہیں—توجہ دیں، جو ہُوا اُسے بھُلا دیں، اور اپنی بہترین کاوِش کریں۔ یہ طرزِ عمل ہر روز ہم میں چلتا بستا ہے۔ ہم شُعبہ کے ہر رُکن اور زیرِ تربیت شخص کو لیپل پِن دیتے ہیں۔ پِن کے نِچلے حِصّے پر ’آر ایم این‘ کے حُرُوف درج ہیں۔ آر ایم این کا طرزِ عمل ہماری تربیت کی بُنیاد ہے؛ ہم اِسے ہر کسی کو سِکھاتے ہیں۔“ ڈاکٹر سیلزمین اِرادتاً اپنے سابقہ رویے اور عزائم میں بہتری لے کر آیا کیوں کہ اَب اُس کا نام صدر نیلسن کے ساتھ منسُوب ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر سیلزمین سے مُتعلق واقعات کے اِس سِلسِلے نے مُجھے خُود سے یہ پُوچھنے پر مجبُور کِیا: ”جب سے مَیں نے اپنا نام یِسُوع مسِیح کے ساتھ مُنسلک کِیا ہے تو مَیں کیا بدلاؤ لے کر آیا ہُوں؟ کیا مَیں نے اِس کے نتیجے میں مِثلِ مسِیح طرزِ عمل کو اپنایا ہے؟ کیا مَیں نے واقعی بہتر بننے اور مزید اُس کی مانِند بننے کی کوشِش کی ہے؟
ڈاکٹر سیلزمین کے تجربے سے، ہم کم اَز کم پانچ مُماثلتیں اخذ کر سکتے ہیں جو اُس عمل سے مُطابقت رکھتی ہیں جس کے وسیلے ہم اپنے اُوپر یِسُوع مسِیح کا نام اوڑھتے ہیں۔ اگرچہ اِس عمل کا آغاز بپتِسما کے ساتھ ہوتا ہے، مگر یہ اُس وقت تک مُکمل نہیں ہوتا جب تک ہم زیادہ پاک پوِتر اور مُقدّس اور مزید اُس کی مانِند نہ بن جائیں۔
پہلی مُماثلت شناخت ہے۔ ڈاکٹر سیلزمین کی نیلسن پروفیسری کے ایوارڈ پر تقرری نے اُس کے نام کو صدر نیلسن سے مُنسلک کر دِیا، اور ڈاکٹر سیلزمین نے صدر نیلسن کے ساتھ اپنی شناخت جوڑنی شُروع کر دی۔ جب ہم اپنے اُوپر یِسُوع مسِیح کا نام اوڑھتے ہیں، تو ہم اپنا نام اُس کے نام سے جوڑتے ہیں۔ ہم اپنی شناخت اُس کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ہم شادمانی سے مسِیحی کہلائے جاتے ہیں۔ ہم مُنّجی کو تسلیم کرتے ہیں اور بڑی دلیری کے ساتھ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہم یِسُوع مسِیح کی کلِیسیا کا حِصّہ ہیں۔
شناخت کے ساتھ گہرائی سے جُڑی دُوسری مُماثلت—یادگاری ہے۔ جب ڈاکٹر سیلزمین اپنے دفتر میں جاتا ہے، تو اُس کی نظر اُس تمغے کی طرف مبذُول ہو جاتی ہے جو اُسے نیلسن پروفیسری پر تقرری پانے کے وقت مِلا تھا۔ یہ تمغہ اُسے ہر روز ایم آر این طرزِ عمل کی یاد دِلاتا ہے۔ ہمارے واسطے، ہر ہفتے عِشائے ربّانی لینا ہمیں پُورا ہفتہ یِسُوع مسِیح کو یاد رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ جب ہم عِشائے ربّانی لیتے ہیں، تو ہم اَیسا اُس قِیمت کی یادگاری میں کرتے ہیں جو اُس نے ہمیں مُخلصی دینے کے واسطے چُکائی تھی۔ ہم اُس کو یاد رکھنے، اُس کی عظمت کا اِعتراف کرنے، اور اُس کی بھلائی کو سراہنے کے لیے تجدیدِ عہد کرتے ہیں۔ ہم بار بار تسلیم کرتے ہیں کہ یہ فقط اُسی کے فضل میں اور اُسی کے فضل کے وسیلہ سے ہے کہ ہم جِسمانی اور رُوحانی مَوت سے بچائے گئے ہیں۔
یادگاری کا مطلب ہے کہ ہم مورمن کی کِتاب کے نبی ایلما کی دی گئی نصیحت پر عمل کرتے ہیں۔ ”[ہمارے] سب کام خُداوند کے لیے ہوں، اور [ہم جہاں کہیں بھی جائیں، ہم] خُداوند میں جائیں؛ … [ہمارے] [سب] خیال خُداوند کی طرف لگے رہیں؛ … [اور ہمارے] [دِل] کی محبّتیں ہمیشہ تک خُداوند کی طرف لگی رہیں۔“ حتیٰ کہ جب ہم دُوسرے مُعاملات میں مصرُوف ہوتے ہیں، پھر بھی ہم اُس کو یاد رکھتے ہیں، بالکل اُسی طرح جس طرح ہم اپنے نام یاد رکھتے ہیں، اِس بات سے قطعِ نظر کہ ہم اور کس بات پر توجہ مرکُوز کر رہے ہیں۔
نجات دہندہ نے ہمارے واسطے جو کُچھ کِیا ہے اُس کو یاد رکھنے کا نتیجہ تیسری مُماثلت ہے—تقلید۔ ڈاکٹر سیلزمین نے صدر نیلسن اور آر ایم این طرزِ عمل کی تقلید کرنا شُروع کر دی۔ میرا اِیمان ہے کہ صدر نیلسن کا یہ طرزِ عمل اُن کی زِندگی بھر یِسُوع مسِیح کی شاگِردی کا مظہر رہا ہے۔ ہمارے واسطے، جس قدر ہم یِسُوع مسِیح کو یاد رکھتے اور اپنی شناخت اُس کے ساتھ جوڑتے ہیں، اُسی قدر ہم مزید اُس کی مانِند بننا چاہتے ہیں۔ اُس کے شاگِردوں کی حیثیت سے، جب ہم اُس پر توجہ مرکُوز کرتے ہیں تو ہم بہتری کے لیے تبدیل ہوتے ہیں، یہ اِس سے کہیں زیادہ مؤثر ہے جب ہم خُود پر توجہ مرکُوز کرتے ہیں۔ ہم اُس کی مانِند بننے اور اُس کی صِفات سے فیض یاب ہونے کی کوشِش کرتے ہیں۔ ہم محبّت یعنی مسِیح کے سچّے عِشق، سے معمُور ہونے کے لیے دِلجمعی سے دُعا کرتے ہیں۔
جیسا کہ صدر نیلسن نے اپریل میں سِکھایا: ”جب محبّت ہماری فِطرت کا حِصّہ بن جاتی ہے، تو ہم میں دُوسروں کو نِیچا دِکھانے کا ہَیجان ختم ہو جائے گا۔ ہم دُوسروں کی عیب جوئی کرنا چھوڑ دیں گے۔ ہم زِندگی کے تمام شُعبوں سے تعلُق رکھنے والوں سے محبّت رکھیں گے۔ ہر کسی سے محبّت … ہماری ترقی کے لیے ضرُوری ہے۔ محبّت سِیرتِ اِلہٰی کی بُنیاد ہے۔“ محبّت کے ساتھ ساتھ، ہم خواہاں ہوتے ہیں اور شافی کی دیگر نعمتوں بشمُول، نیکی، دیانت داری، صبر، فروتنی، اور جاں فِشانی، کو ”پروان چڑھانے، اِستعمال کرنے، اور وُسعت دینے“کی کوشِش کرتے ہیں۔
یِسُوع مسِیح کی تقلید ہمیں چوتھی مُماثلت کی طرف لے جاتی ہے—اُس کے مقاصِد کے ساتھ ہم آہنگی۔ ہم اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامِل ہو جاتے ہیں۔ بطور سرجن، ڈاکٹر نیلسن ایک مُعلم، شافی، اور مُحقق کے طور جانے جاتے تھے۔ ڈاکٹر سیلزمین کے شُعبہ میں اِستعمال ہونے والی لیپل پِن اِن کاوِشوں کو نُمایاں کرتی ہیں، اُن پر سِکھانا، شِفا دینا، اور دریافت کرنا کے اَلفاظ درج ہیں۔ ہمارے واسطے، یِسُوع مسِیح کا نام اپنے اُوپر اوڑھنے کے حِصّہ کے طور پر ہمارا رضامندی، دانِستہ، اور پُرجوش اَنداز میں اپنے مقاصِد کو اُس کے مقاصِد کے ساتھ ہم آہنگ کرنا شامِل ہے۔ ہم اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامِل ہو جاتے ہیں جب ہم ”محبّت، اِشتراک، اور دعوت“ دیتے ہیں۔ ہم اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامِل ہو جاتے ہیں جب ہم دُوسروں کی خِدمت کرتے ہیں، خصُوصاً اُن کی جو کمزور ہیں یا جو اپنے زمینی تجربات سے گھائل، ٹوٹے، اور کُچلے ہوئے ہیں۔
گویا ہم شناخت، یادگاری، تقلید، اور ہم آہنگی کے ذریعے یِسُوع مسِیح کا نام اپنے اُوپر زیادہ مُکمل طور پر اوڑھتے ہیں۔ اِن چاروں پر عمل کرنا ہمیں پانچویں مُماثلت کی طرف لے جاتا ہے—خُود مُختاری۔ ہم اپنی زِندگیوں میں خُدا کی قُدرت اور برکات تک رسائی پاتے ہیں۔ نیلسن پروفیسری کا ایوارڈ ڈاکٹر سیلزمین کو شناخت اور فنڈز فراہم کرتا ہے جو وہ اپنے شُعبہ میں تہذیب کو بدلنے کے لیے اِستعمال کر رہا ہے۔ وہ اِس ”عطا کردہ اختیار“ کو دُوسروں کی مدد کے لیے اِستعمال کرتا ہے۔ اِسی طرح، جب ہم نجات دہندہ کا نام اپنے اُوپر اوڑھ لیتے ہیں، تو ہمارا آسمانی باپ فانیت میں ہمارے مقصد کو پُورا کرنے میں ہماری مُعاونت کے لیے ہمیں اپنی قُدرت سے نوازتا ہے۔
جب ہم خُدا کے ساتھ اِضافی عہُود باندھتے ہیں، تو ہم مزید مُکمل طور پر یِسُوع مسِیح کا نام اپنے اُوپر اوڑھ لیتے ہیں۔ نتیجتاً، خُدا ہمیں اپنی اور زیادہ قُدرت سے نوازتا ہے۔ جیسا کہ صدر نیلسن نے سِکھایا: ”ہر وہ شخص جو بپتِسما کے حوض میں اور ہَیکلوں میں عہُود باندھتا ہے—اور اُن کو برقرار رکھتا ہے—اُسے یِسُوع مسِیح کی قُدرت تک زیادہ رسائی حاصِل ہوتی ہے۔ … خُدا کے ساتھ عہُود کو نِبھانے کا اَجر اِلہٰی قُدرت ہے—جو ہمیں اپنی آزمایشوں، اِمتحانوں اور دِلی صدموں کا بہتر طور پر مُقابلہ کرنے کے لیے مضبُوط بناتی ہے۔“
ہم رُوحانی طور پر زیادہ قابلِ قبُول بن جاتے ہیں۔ ہمیں بظاہر نامُمکن حالات کا مُقابلہ کرنے کی زیادہ ہمت مِلتی ہے۔ ہم یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے کے اپنے عزّم میں زیادہ تقویت پاتے ہیں۔ جب ہم خطا کرتے ہیں تو ہم فوری توبہ کرتے اور اُس کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ ہم اُس کی قُدرت اور اِختیار کے ساتھ اُس کی اِنجِیل کو پھیلانے میں بہتر بن جاتے ہیں۔ ہم کم بِلاغرض، بُہت کم بِلاغرض ہوتے ہُوئے ضرُورت مندوں کی دَست گِیری کرتے ہیں۔ ہم اپنے گُناہوں کی مُعافی کو قائم رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس زیادہ اِطمینان ہے، اور ہم زیادہ شادمان رہتے ہیں کیوں کہ ہم ہر وقت مَسرُور ہو سکتے ہیں۔ اُس کا جلال ہمارے چوگِرد ہو، اور اُس کے فرِشتوں کی نِگہبانی ہم پر ہو۔
نجات دہندہ ہمیں دعوت دیتا ہے، ”باپ کے پاس میرے نام سے آؤ، اور مُقررہ وقت میں اُس کی معمُوری پاؤ۔“ مَیں آپ کو اَیسا کرنے کی تاکِید کرتا ہُوں۔ ہمارے آسمانی باپ کے پاس آئیں۔ یِسُوع مسِیح کا نام اپنے اُوپر اوڑھ لیں۔ اپنی شناخت اُس کے ساتھ جوڑ لیں۔ ہمیشہ اُسے یاد رکھیں۔ اُس کی مانِند بننے کے مُشتاق ہوں۔ اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامِل ہوں۔ اپنی زِندگی میں اُس کی قُدرت اور برکات کو پائیں۔ رضامندی اور شعُوری طور پر، اپنے دِل پر اُس کے نام کی مُہر لگا لیں۔ یہ آپ کو خُدا کے حُضُور ”اعلیٰ مقام“ عطا کرتا ہے اور آپ کو شافی کی وکالت حاصِل کرنے کے لائق بناتا ہے۔ آپ ہمارے آسمانی باپ کی بادشاہی میں سرفراز وارِث بن جائیں گے، یعنی اُس کے پہلوٹھے، ہمارے محبُوب مُنّجی اور مُخلصی بخشنے والے کے ہم مِیراث۔
وہ زِندہ ہے۔ مَیں یقیناً یہ جانتا ہُوں۔ وہ آپ سے پیار کرتا ہے۔ اُس نے آپ کے واسطے اپنی جان قُربان کر دی۔ وہ آپ سے اِلتجا کرتا ہے کہ اُس کے وسیلہ سے باپ کے پاس آئیں۔ یِسُوع مسِیح کے نام میں، آمین۔