مجلسِ عامہ
پرہیزگاری کی صِفت سے آراستہ
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


15:8

پرہیزگاری کی صِفت سے آراستہ

مَیں ہم سب کو پُرخُلوص دعوت دیتا ہُوں کہ ہم اپنے دِل و دِماغ کو مِثلِ مسِیح صِفت یعنی پرہیزگاری سے آراستہ کریں۔

مئی 2021 میں، سالٹ لیک ہَیکل کی تزئین و آرایش کے کام کا مُعائنہ کرتے ہُوئے، صدر رسل ایم نیلسن پیش روؤں کی کاوِشوں پر دنگ رہ گئے جنھوں نے، محدُود وسائل اور غیر مُتزلزل اِیمان کے ساتھ، اِس مُقدّس عِمارت کی تعمیر کی، ایک جِسمانی اور رُوحانی شاہکار جو عرصہِ دراز سے مضبُوطی کے ساتھ کھڑی رہی۔ تاہم، اُنھوں نے زمینی کٹاؤ کے اَثرات کا بھی مُشاہدہ کِیا، جو وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ ہَیکل کی اَصل بُنیاد کے پتھروں میں دراڑیں اور چُنائی میں عدم اِستحکام کا سبب بنا، جو اِس کے ڈھانچے کو دوبارہ سے مضبُوط بنانے کی ضرُورت کے واضح نِشان تھے۔

صدر نیلسن سالٹ لیک ہَیکل کے باہر

پھر ہمارے ہر دِل عزیز نبی نے ہمیں سِکھایا کہ جس طرح قُدرتی آفات کا مُقابلہ کرنے کے لیے ہَیکل کی بُنیاد کو مضبُوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اِقدامات کرنا ضرُوری تھے، اُسی طرح ہمیں یِسُوع مسِیح میں اپنی رُوحانی بُنیاد کو مضبُوط کرنے کے واسطے—غیر معمُولی اِقدامات کرنے کی بھی ضرُورت ہے—شاید اَیسے اِقدام جو ہم نے پہلے کبھی نہ کِیے ہوں۔ اپنے یادگار پیغام میں، اُنھوں نے ذاتی غور و خوض کے لیے ہمارے واسطے دو گہرے سوال چھوڑے: ”آپ کی بُنیاد کِتنی پُختہ ہے؟ اور اِنجِیل کی بابت آپ کی گواہی اور فہم و فِراست کو کیسی اِضافی تقویت دَرکار ہے؟“

یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل ہمیں ہماری جانوں میں رُوحانی زوال کو روکنے، ہماری بُنیاد کو قوّی طور پر تقویت بخشنے اور ہماری گواہی اور اِنجِیل کی مُقدّس سچّائیوں کی بابت ہمارے فہم دونوں میں ہمارے اِیمان اور عدم اِستحکام کے خلاء سے بچنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے اِلہامی اور مؤثر وسائل فراہم کرتی ہے۔ اِس مقصد کو حاصِل کرنے کے لیے ایک خاص مُتعلقہ اُصُول عقائد اور عہُود کی فصل 12 میں پایا جاتا ہے، جب نبی جوزف سمِتھ کے ذریعے جوزف نائٹ کو بطور مُکاشفہ دِیا گیا، جو کہ راست باز شخص تھا جس نے سنجیدگی سے خُداوند کی منشا کو سمجھنے کی کوشِش کی، محض ظاہری تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ اپنی شاگِردی میں ثابت قدم رہنے کے لیے—”آسمان کے سُتونوں کی مانِند مضبُوط۔“ خُداوند نے اِعلان فرمایا:

”دیکھ، مَیں تُجھ سے کلام کرتا ہُوں، اور اُن سب سے بھی جو اِس کام کو آگے بڑھانا اور قائم کرنا چاہتے ہیں؛

”اور اِس کام میں کوئی مدد نہیں کر سکتا سِوا اِس کے کہ وہ حلیم ہو اور محبّت سے بھرپُور ہو، اِیمان، اُمید، اور محبّت رکھتے ہُوئے، تمام کاموں میں جو بھی اُسے سونپا جائے، پرہیزگار ہو۔“

مُنّجی کی ہدایت، جو اِس مُقدّس مُکاشفہ میں درج ہے، ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ یِسُوع مسِیح میں پُختہ بُنیاد کے لیے پرہیزگاری ایک لازمی کُمک ہے۔ یہ اُن اَہم ترین صِفات میں سے ایک ہے، جو فقط خِدمت کی بُلاہٹ پانے والوں کے واسطے ہی نہیں بلکہ اُن سب کے لیے بھی ہے جو خُداوند کے ساتھ مُقدّس عہُود باندھتے اور وفاداری سے اُس کی پیروی کرنے کو قبُول کرتے ہیں۔ پرہیزگاری اِس مُکاشفہ میں بیان کردہ دیگر مِثلِ مسِیح صِفات کو ہم آہنگ کرتی اور مضبُوطی بخشتی ہے: یعنی فروتنی، اِیمان، اُمید، محبّت، اور سچّا عِشق جو اُسی سے بہتا ہے۔ مزید برآں، پرہیزگاری کو پروان چڑھانا ہماری جانوں کو دُنیاوی اَثرات کی وجہ سے پیدا ہونے والے بارِیک مگر لگاتار رُوحانی کٹاؤ سے محفُوظ رکھنے کا بامقصد طریقہ ہے جو یِسُوع مسِیح میں ہماری بُنیاد کو کم زور کر سکتا ہے۔

مسِیح کے حقیقی شاگِرد اِن صِفات سے آراستہ ہیں، پرہیزگاری بذاتِ خُود نجات دہندہ کا عکس بن کر نُمایاں ہوتی ہے، جو رُوح کا اَنمول پھل ہے، اور اُن سب کے واسطے دَستیاب ہے جو اپنے آپ کو اِلہٰی اَثر کے لیے آمادہ رکھتے ہیں۔ یہ وہ صِفت ہے جو دِل میں ہم آہنگی لاتی ہے، خواہشات اور جذبات کو حِکمت اور اِطمینان کے ساتھ اَثر اَنداز کرتی ہے۔ صحائف میں، پرہیز گاری کو ہمارے رُوحانی سفر میں پیش رفت کے اَہم حِصّہ کے طور پر پیش کِیا گیا ہے، جو ہمارے جذبات، ہمارے اَلفاظ، اور ہمارے اَعمال کو سنوارتے ہُوئے ہمیں صبر، دِینداری اور دَردمندی کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہے۔

مسِیح کے شاگِرد جو اِس مِثلِ مسِیح صِفت کو فروغ دینے کی کوشِش کرتے ہیں وہ زیادہ فروتن اور محبّت سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ اُن میں پُرسُکون طاقت پیدا ہو جاتی ہے، اور وہ غُصّے پر قابُو پانے، صبر کو پروان چڑھانے، اور دُوسروں کے ساتھ رواداری، احترام، اور وقار کے ساتھ پیش آنے کے زیادہ قابل بن جاتے ہیں، حتیٰ کہ جب مُصیبت کی آندھیاں کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں۔ وہ جذبات سے عمل کرنے کی بجائے رُوحانی حِکمت کے ساتھ عمل کرنے کا چُناؤ کرتے ہیں، کیوں کہ وہ اِنکساری اور رُوحُ القُدس کے لطیف اَثر سے راہ نُمائی پاتے ہیں۔ اِس طرح، اُنھیں رُوحانی زوال کا خطرہ کم ہو جاتا ہے کیوں کہ، جیسا پولُس رَسُول نے سِکھایا کہ، وہ جانتے ہیں کہ جو اُنھیں طاقت بخشتا ہے، مسِیح کے وسیلہ سے وہ سب کر سکتے ہیں حتیٰ کہ آزمایشوں کا سامنا کرتے ہُوئے بھی جو اُن کی گواہی کو کم زور کر سکتی ہیں۔

طِطُس کے نام اپنے خط میں، پَولُس نے اُن لوگوں کی اَہلیت کے بارے میں مُقدّس مشورت دی جو شافی کی نُمایندگی کرنا اور اِیمان اور لگن کے ساتھ اُس کی مرضی بجا لانے کی آرزُو رکھتے ہیں۔ اُس نے فرمایا کہ اُنھیں مُسافِر پرور، مُتّقی مُنصِف مِزاج، اور پاک ہونا چاہیے—جو کہ اَیسی صِفات ہیں جو واضح طور پر پرہیزگاری کے اَثر کی عکاسی کرتی ہیں۔

تاہم، پَولُس نے خبردار کِیا کہ وہ ”نہ خُودرای ہو، نہ غُصّہ ور، … [اور] نہ ہی مار پِیٹ کرنے والے۔“ اَیسی صِفات نجات دہندہ کی سوچ کے منافی ہیں اور حقیقی رُوحانی ترقی میں رُکاوٹ بنتی ہیں۔ صحیفائی تناظر میں، ”نہ خُودرای“ وہ ہے جو غرُور اور تکبر کے ساتھ عمل کرنے سے اِنکار کرتا ہے؛ ”نہ غُصّہ ور“ وہ ہے جو بے صبری اور چِڑچِڑے پن کی فِطری خواہش سے بچتا ہے؛ اور ”مار پِیٹ نہ کرنے والے“ سے مُراد وہ جو زُبانی، جِسمانی، اور جذباتی طور پر جھگڑالُو، جارحانہ، اور سخت رویے کو مُسترد کرتا ہے۔ جب ہم اپنے رویے کو اِیمان اور فروتنی کے ساتھ بدلنے کی مُشتاق ہوتے ہیں، تو ہم اُس کے فضل کی مضبُوط چٹان کے ساتھ مضبُوطی سے لنگر اَنداز ہو سکتے ہیں اور اُس کے مُقدّس ہاتھوں میں خالص اور عُمدہ وسِیلہ بن سکتے ہیں۔

حنّہ اور سموئیل

پرہیزگاری کی صِفت کو پروان چڑھانے کی ضرُورت پر غور کرتے ہُوئے، مُجھے حنّہ کے الفاظ یاد آ رہے ہیں، نبی سموئیل کی ماں—قابل ذِکر اِیمان دار خاتُون جس نے، بڑی آزمایشوں کے بعد بھی، خُداوند کو تشکر کا گیت پیش کِیا۔ اُس نے کہا، ”اِس قدر غرُور سے اَور باتیں نہ کرو؛ اور بڑا بَول تُمھارے مُنہ سے نہ نِکلے: کیوں کہ خُداوند خُدایِ علیم ہے، اور اَعمال کا تولنے والا۔“ اُس کا گیت محض ایک دُعا سے بڑھ کر ہے—یہ اپنے آپ کو فروتنی، ضبطِ نفس، اور اِعتدال پسندی کے ساتھ عمل کرنے کا دعوت نامہ ہے۔ حنّہ ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ حقیقی رُوحانی مضبُوطی اَثر انگیز جذباتی ردِ عمل یا مُتکبرانہ اَلفاظ میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ پرہیزگاری، ایسے پُرفِکر رویوں میں جھلکتی ہے جو حِکمتِ خُداوندی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

اَکثر و بیشتر، دُنیا اُن رویوں کو سراہتی ہے جو جارحیت، تکبُر، بے صبری، اور کثرت سے جنم لیتے ہیں، جو اَکثر روزمرّہ کی زِندگی کے دباؤ اور شُہرت و مقبُولیت کو جواز بنا کر اِس طرح کے رویوں کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ جب ہم اپنی نظریں پرہیزگاری کی صِفت سے پھیر لیتے ہیں اور اپنے اَعمال اور بول چال کے طور طریقے میں رُوحُ القُدس کے شفیق اور مُعتدل اَثر کو نظر اَنداز کرتے ہیں، تو ہم آسانی سے دُشمن کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہم اَیسے اَلفاظ بولنے اور اَیسے رویوں کو اپنانے پر مجبُور ہو جاتے ہیں جن پر ہمیں پچھتاوا ہو گا خواہ ہمارے سماجی، خاندانی، یا حتیٰ کہ کلِیسیائی رِشتے ہوں۔ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل بالخصُوص ہمیں کٹھن اوقات میں پرہیزگاری کی صِفت کی مشق کرنے کی دعوت دیتی ہے، کیوں کہ اِنھیں لمحوں میں کسی شخص کا حقیقی کِردار آشکار ہوتا ہے۔ جیسا کہ مارٹن لُوتھر کِنگ جُونیئر نے ایک بار کہا، ”کسی بھی اِنسان کی اَصل پہچان یہ نہیں کہ وہ آرام اور آسُودگی کے لمحات میں کہاں کھڑا ہوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دُشوار گُزار اور تنازعات کے اوقات میں کہاں کھڑا ہوتا ہے۔“

موعُودہ اُمّت ہونے کے ناطے، ہمیں اپنے دِلوں کو اُن مُقدّس وعدوں کے ساتھ مضبُوطی سے پیوست کرکے جینے کی دعوت دی جاتی ہے جو ہم نے خُداوند سے کِیے ہیں، بڑے دھیان سے اُس نمُونے کی پیروی کرتے ہُوئے جو اُس نے اپنی کامِل مِثال کے ذریعے قائم کِیا تھا۔ بدلے میں، اُس نے وعدہ فرمایا ہے، ”مَیں تُم سے سچّ، سچّ کہتا ہُوں، کہ یہ میری تعلِیم ہے، اور جِنھوں نے اِس پر بُنیاد رکھی اُنھوں نے میری چٹان پر بُنیاد رکھی، اور دوزخ کے پھاٹک اُن پر غالِب نہ آئیں گے۔“

نجات دہندہ

تُمھارا دِل نہ گھبرائے، از ہاورڈ لیون، بشُکریہ ہیون لائٹ

زمین پر مُنّجی کی خِدمت اُس کے کِردار کے تمام پہلوؤں میں پرہیزگاری کی صِفت سے آراستہ تھی۔ اپنی کامِل مِثال کے وسیلے سے، اُس نے ہمیں سِکھایا کہ ”مُصیبتوں میں صابر رہ، اُنھیں لعن طعن نہ کر جو تُجھے لعن طعن کرتے ہیں۔“ جیسا کہ اُس نے سِکھایا کہ جھگڑوں اور فِتنہ و فساد کی وجہ سے ہمیں غُصّے میں نہیں آنا چاہیے، اُس نے اِعلان فرمایا، ”ضرُور ہے کہ تُم توبہ کرو، اور چھوٹے بچّے کی مانِند بنو۔“ اُس نے یہ بھی سِکھایا کہ وہ سب جو پُورے دِل سے میرے پاس آنے کے خواہش مند ہیں اُن سے صُلح کریں جن کے ساتھ وہ ناراض ہیں یا اُن کے ساتھ جن کے لیے وہ نفرت رکھتے ہیں۔ پرہیزگار رویے اور شفیق دِل کے ساتھ، اُس نے ہمیں تسلی دی ہے کہ جب ہمارے ساتھ کرختگی، بے رحمی، بے حُرمتی، یا نظراَندازی کے ساتھ پیش آیا جائے، تو اُس کی شفقت کبھی ہم سے جاتی نہ رہے گی، اور نہ اُس کا صُلح کا عہد ہماری زِندگیوں سے جُنبش کھائے گا۔

چند سال پہلے، مُجھے اور میری اہلیہ کو میکسیکو شہر میں کلِیسیا کے کُچھ وفادار اَرکان سے مُلاقات کرنے کا مُقدّس اِعزاز نصیب ہُوا۔ اُن میں سے بُہتیرے، شخصی طور پر یا اپنے پیاروں کے ذریعے، ناقابلِ بیان آزمایشیں برداشت کر چُکے تھے، جن میں اَغوا، قتل و غارت، اور دیگر دِل دہلا دینے والے حادثات شامِل تھے۔

جب ہم نے اُن مُقدّسِین کے چہروں پر نظر ڈالی، تو ہمیں غُصّہ، خفگی، یا اِنتقام لینے کی خواہش کی کوئی جھلک نظر نہ آئی۔ اِس کی بجائے، ہمیں ایک پُرسُکون فروتنی نظر آئی۔ اُن کے چہروں پر، اگرچہ غم کے نقُوش موجُود تھے، مگر شِفا اور تسلّی کی مُخلص آرزُو جھلک رہی تھی۔ اگرچہ رنج و الم سے اُن کے دِل چُور تھے، لیکن یہ مُقدّسِین یِسُوع مسِیح پر اِیمان کے ساتھ آگے بڑھتے رہے، یہ فیصلہ کرتے ہُوئے کہ وہ اپنے مصائب کو اپنے اِیمان میں خلاء نہ بننے یا اِنجِیل کی گواہی میں عدم اِستحکام پیدا کرنے نہیں دیں گے۔

اُس مُقدّس اِجتماع کے اِختتام پر، ہم نے اُن میں سے ہر ایک سے سلام دُعا کی۔ ہر مُصافحہ، ہر بار گلے مِلنا پُرسُکون گواہی بن گیا کہ مددِ خُداوندی سے، ہم زِندگی کی مایُوسیوں اور مُشکلات کو پرہیزگاری کے ساتھ جواب دینے کا اِنتخاب کر سکتے ہیں۔ اُن کی پُرسُکون اور ناقابلِ بیان مِثال مُنّجی کی تعلیمات پر ہر بات میں پرہیزگاری کے ساتھ چلنے کی شفیق دعوت تھی۔ ہمیں یُوں لگا جیسے ہم فرِشتوں کے درمیان موجُود ہوں۔

یِسُوع مسِیح، خُدائے عظیم و برتر، نے ہمارے واسطے دُکھ سہے جب تک کہ اُس کے ہر مسام سے خُون بہا، پھر بھی اُس نے کبھی بھی غُصّے کو اپنے دِل میں بھڑکنے کی اِجازت نہ دی، نہ ہی جارحانہ، نامعقُول، یا توہین آمیز اَلفاظ اُس کے ہونٹوں سے نِکلے، حتیٰ کہ اَیسی اَذیت و کرب کے دوران میں بھی۔ کامِل پرہیزگاری اور بے نظیر اِنکساری کے ساتھ، اُس نے اپنی بابت نہیں بلکہ خُدا کی—ماضی، حال، اور مُستقبل کی اُمّت کے بارے میں سوچا۔ پطرس رَسُول نے مسِیح کے بُلند و بالا رویے کی گواہی دیتے ہُوئے اِعلان کِیا، ”نہ، وہ گالیاں کھا کر، گالی دیتا تھا؛ اور نہ دُکھ پاکر، کِسی کو دھمکاتا تھا؛ بلکہ اپنے آپ کو سچّے اِنصاف کرنے والے کے سُپرد کرتا تھا۔“ اپنے شدید ترین اذیت و کرب کے درمیان میں بھی، مُنّجی نے کامِل اور اِلہٰی پرہیزگاری کا مُظاہرہ کِیا۔ اُس نے اِعلان فرمایا، ”تاہم، باپ پُر جلال ہو، اور مَیں نے پیالہ پیا اور بنی آدم کے لیے اپنی تیاری مُکمل کی۔“

میرے عزیز بھائیو اور بہنو، مَیں ہم سب کو خُلوصِ دِل سے دعوت دیتا ہُوں کہ ہم اپنے ذہنوں اور دِلوں کو پرہیزگاری کی مِثلِ مسِیح صِفت سے آراستہ کریں، یہ ہمارے ہر دِل عزیز صدر رسل ایم نیلسن کی پیغمبرانہ بُلاہٹ کا مُقدّس جواب ہے۔ جب ہم اِیمان اور جاں فِشانی کے ساتھ اپنے گُفتار و کِردار میں پرہیزگاری کو پِرونے کی کوشِش کرتے ہیں، تو مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ ہم اپنی زِندگیاں اپنے مُخلصی بخشنے والے کی مُحکم بُنیاد پر مزید پُختگی کے ساتھ لنگر اَنداز کریں گے۔

مَیں نہایت سنجیدگی سے گواہی دیتا ہُوں کہ پرہیزگاری کی مُستقل جُستجُو ہماری جان کو پاک صاف کرتی اور ہمارے دِل کو شافی کے سامنے مُقدّس بناتی ہے، شفقت سے ہمیں اُس کے قریب لے جاتی ہے اور ہمیں تیار کرتی ہے، اُمید اور اِطمینان کے ساتھ، اُس جلالی دِن کے لیے جب ہم اُس کی آمدِ ثانی پر اُس سے مِلیں گے۔ یہ مُقدّس کلمات مَیں اپنے شافی، یِسُوع مسِیح کے نام میں بیان کرتا ہُوں، آمین۔