کوئی اَکیلا نہیں بیٹھتا
یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل پر عمل کرنے میں اُس کی بحال شُدہ کلِیسیا میں سب کے لِیے جگہ تیار کرنا شامِل ہے۔
I۔
50 برسوں تک، مَیں نے ثقافت کا مُطالعہ کِیا ہے، بشمُول اِنجِیلی ثقافت۔ مَیں نے فارچُون کُوکیز سے شرُوع کِیا تھا۔
سان فرانسسکو کے چائنا ٹاؤن میں، گانگ فیملی کے ڈنر کا اِختتام فارچُون کُوکیز اور قولِ زریں کے ساتھ ہُوتا تھا مثلاً ”ہزار مِیل کے سفر کا آغاز پہلا قدم اُٹھانے سے ہوتا ہے۔“
اپنی نوعُمری میں، مَیں فارچُون کُوکیز بناتا تھا۔ کاٹن کے سفید دستانے پہن کر، تندُور سے نِکلے گرم گرم بِسکٹس کو تہہ کر کے گول شکل بناتا تھا۔
مُجھے حیرت ہُوئی، جب مَیں نے جانا کہ فارچُون کُوکیز اَصل میں چِینی ثقافت نہیں ہیں۔ چِینی، اَمریکی، اور یورپی فارچُون کُوکیز کی ثقافت میں فرق معلُوم کرنے کے لِیے، مَیں نے مُتعدد براعظموں میں فارچُون کُوکیز کو تلاش کِیا—بالکل اُسی طرح جیسے کوئی جنگل کی آگ کو مثلث کرنے کے لیے مُتعدد مقامات کا اِستعمال کرے۔ سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور نیویارک میں چِینی ریستوران فارچُون کُوکیز پیش کرتے ہیں، لیکن بیجنگ، لندن یا سڈنی میں نہیں۔ صرف امریکی قَومی فارچُون کُوکیز کا دِن مناتے ہیں۔ صِرف چینی اِشتہارات ”اَصلی امریکی فارچُون کُوکیز“ بیچتے ہیں۔
فارچُون کُوکیز سادہ، خُوش گوار مثال ہیں۔ لیکن مُختلف عِلاقوں میں ثقافتی رِیت و رواج کا موازنہ کرنے کے اُسی ایک اُصُول سے ہمیں اِنجِیلی ثقافت میں فرق کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اور اب خُداوند اِنجِیلی ثقافت کو سِیکھنے کے نئے نئے مواقع پیش کر رہا ہے مثلاً مورمن کی کِتاب کی تمثیل اور عہدنامہِ جدِید کی تمثیل کی نبُّوتیں پُوری ہو رہی ہیں۔
II۔
ہر طرف لوگ ہِجرت کر رہے ہیں۔ اَقوامِ مُتحدہ کی رپورٹ کے مطابق 281 ملین بین الاقوامی مہاجرین ہیں۔ یہ 1990 کے مُقابلہ میں 128 ملین زیادہ افراد اور 1970 کے تخمینہ سے تین گُنا زیادہ ہے۔ ہر جگہ، اِیمان لانے والوں کی بُہت بڑی تعداد کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کی پناہ میں آ رہی ہے۔ ہر سبت کے دِن، 195 مُمالک اور عِلاقوں کے اَرکان اور دوست 31,916 گِرجا گھروں میں باجماعت عِبادت کرتے ہیں۔ ہم 125 زبانیں بولتے ہیں۔
حال ہی میں، البانیا، شِمالی مقدُونیہ، کوسوو، جرمنی، اور سوئٹزرلینڈ میں، مَیں نے مورمن کی کِتاب میں زیتون کے درخت کی تمثیل کو پُورا کرتے ہُوئے نئے اَرکان کو دیکھا۔ بمُطابق یعقُوب 5، تاکستان کا مالِک اور اُس کے خادِم زیتون کے درختوں کی جڑوں اور شاخوں کو مُختلف جگہوں سے جمع کی ہُوئی جڑوں اور شاخوں کی پیوند کاری کے ذریعہ سے مضبُوط بناتے ہیں۔ آج خُدا کے بچّے یِسُوع مسِیح میں ایک جان ہو کر اِکٹھے ہوتے ہیں؛ خُداوند اپنی بحال شُدہ اِنجِیل کی معمُوری کے مُطابق ہماری بسر کرنے والی زِندگی کو وُسعت دینے کے لِیے قابلِ ذِکر قُدرتی وسائل عطا کرتا ہے۔
ہمیں آسمان کی بادِشاہی کے لِیے تیار کرتے ہُوئے، یِسُوع عظِیم اُلشان ضیافت اور شادی کی دعوت کی تمثیلیں بتاتا ہے۔ اِن تمثیلوں میں بُلائے ہُوئے مہمان عُذر پیش کرتے ہیں تاکہ دعوت میں نہ آئیں۔ مالِک اپنے نوکروں کو حُکم دیتا ہے کہ ”جلد شہر کے بازاروں اور کُوچوں میں جا“ اور ”سڑکوں اور کھیت کی باڑوں کی طرف جا“ اور غرِیبوں، لُنجوں، اندھوں اور لنگڑوں کو ”یہاں لے آ۔“ رُوحانی معنوں میں، یہ ہم سب ہیں۔
صحائف بیان کرتے ہیں:
”خُداوند کے گھر کی فصح، عُمدہ تیار کی ہُوئی،“ جِس پہ ”تمام قَوموں کو دعوت دی جائے گی۔“
”خُداوند کی راہ تیار کرو … تاکہ اُس کی بادِشاہی زمِین پر پھیلے، تاکہ باشِندے اُسے قَبُول کریں، اور آنے والے دِنوں کے لیے تیار ہوں۔“
آج، خُداوند کی فصح میں جِنھیں بُلایا گیا ہے وہ ہر عِلاقہ اور ثقافت سے آتے ہیں۔ بُوڑھے اور جوان، اَمیر اور غرِیب، مقامی اور بین الاقَوامی، ہم اپنی کلِیسیائی جماعتوں کو اپنی برادریوں کی طرح بناتے ہیں۔
بڑے رسُول کی حیثیت سے، پطرس نے آسمان سے رویا دیکھی کہ ”چاروں کونوں پر ایک بڑی چادر بُنی ہوئی ہے … جس میں ہر طرح کے … جانور تھے۔“ پطرس نے سِیکھا: ”مُجھے پُورا یقِین ہو گیا کہ خُدا کسی کا طرف دار نہِیں ہے۔ … بلکہ ہر قَوم میں جو [خُداوند] سے ڈرتا اور راست بازی کرتا ہے، وہ اُس کو پسند آتا ہے۔“
نیک سامری کی تمثیل میں، یِسُوع ہمیں اپنی سرائے—یعنی اپنی کلِیسیا میں اُس کے پاس اور ایک دُوسرے کے پاس آنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ ہمیں نیک پڑوسی بننے کی دعوت دیتا ہے۔ نیک سامری واپس آنے کا وعدہ کرتا ہے اور اپنے سرائے میں موجُود لوگوں کی دیکھ بھال کا اجر دیتا ہے۔ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل پر عمل کرنے میں اُس کی بحال شُدہ کلِیسیا میں سب کے لِیے جگہ تیار کرنا شامِل ہے۔
”سرائے میں جگہ“ سے مُراد ”کوئی اَکیلا نہیں بیٹھتا۔“ جب آپ چرچ آتے ہیں، اگر آپ کسی کو اکیلا دیکھتے ہیں، تو کیا آپ براہِ کرم اُس کا حال پُوچھیں گے اور اُس کے ساتھ بیٹھیں گے؟ شاید آپ کے ہاں یہ رواج نہ ہو۔ وہ شخص ہو سکتا ہے دیکھنے یا بول چال میں آپ سے مُختلف ہو۔ اور، بےشک، فارچُون کُوکیز کی طرح کہے، ”اِنجِیلی محبّت اور دوستی کا سفر پہلے سلام کرنے اور کوئی اَکیلا نہ بیٹھے سے شرُوع ہوتا ہے۔“
”کوئی اَکیلا نہیں بیٹھتا“ سے یہ بھی مُراد ہے کہ کوئی جذباتی یا رُوحانی لحاظ سے بھی اَکیلا نہ بیٹھا ہو۔ مَیں شکستہ دِل باپ کے ساتھ اُس کے بیٹے سے ملنے گیا۔ برسوں پہلے، بیٹا نیا ڈیکن بننے کے لیے پُرجوش تھا۔ اِس موقع پر اُس کے خاندان نے اُسے نئے جوتے خرید کر دِیے۔
لیکن چرچ میں، ڈیکن اُس پر ہنستے تھے۔ اُس کے جوتے تو نئے تھے، مگر فیشن ایبل نہیں۔ شرم سار اور دُکھی، نوجوان ڈیکن نے کہا کہ وہ دوبارہ کبھی چرچ نہیں جائے گا۔ میرا دِل اب تک اُس کے اور اُس کے خاندان کے لیے دُکھی ہے۔
یریحُو کے دھُول بھرے راستوں پر، ہم میں سے ہر ایک کا مُذاق اُڑایا گیا، شرمندگی اور دُکھ دِیا گیا، شاید لعن طعن یا مارا پِیٹا گیا۔ اور، نِیّت جیسی بھی تھی، ہم میں سے ہر ایک نے نظریں چُرائی ہیں، نہ دیکھ پائے، نہ سُن پائے، شاید جان بُوجھ کر دُوسروں کو دُکھ دِیا۔ بالخصُوص چُوں کہ ہمیں دُکھ پہنچا ہے اور ہم نے دُوسروں کو دُکھ دِیا ہے اِس لِیے یِسُوع مسِیح ہمیں اپنے سرائے میں لاتا ہے۔ اُس کی کلِیسیا میں اور اُس کی رُسُوم اور عہُود کے وسِیلہ سے، ہم یِسُوع مسِیح اور ایک دُوسرے کے پاس آتے ہیں۔ ہم پیار کرتے اور پیار پاتے ہیں، خِدمت دیتے اور خِدمت پاتے ہیں، مُعاف کرتے اور مُعاف کِیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم یاد رکھیں، ”دُنیا میں کوئی اَیسا غم نہیں جِس کا عِلاج فلک نہ کر سکے“؛ دُنیا کے بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں—ہمارے نجات دہندہ کی شادمانی حقیقی ہے۔
بمُطابق 1 نِیفی 19، ہم پڑھتے ہیں: ”یعنی اِسرائیل کے خُدا کو [وہ] اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں؛ … وہ اُسے حقیر جانتے ہیں۔ … پَس وہ اُسے کوڑے مارتے ہیں، اور وہ اُسے برداشت کرتا ہے؛ اور وہ اُسے زدوکوب کرتے ہیں، اور وہ برداشت کرتا ہے۔ ہاں، وہ اُس پر تھُوکتے ہیں، اور وہ برداشت کرتا ہے۔“
میرا دوست پروفیسر ٹیری وارنر کہتا ہے کہ ملامت کرنا، کوڑے مارنا، پِیٹنا، اور تھوکنا شاذونادر واقعات نہ تھے جو صِرف مسِیح کی فانی زِندگی کے دوران میں پیش آئے تھے۔ ہم ایک دُوسرے کے ساتھ جَیسا برتاؤ کرتے ہیں—خاص طور پر بھوکے، پیاسے، بےیار و مددگار لوگوں کے ساتھ—ہم اُس کے ساتھ وَیسا ہی برتاؤ کرتے ہیں۔
اُس کی بحال شُدہ کلِیسیا میں، ہم اُس وقت زیادہ سُودمند ہوتے ہیں جب کوئی اَکیلا نہیں بیٹھتا۔ آئیں اِس بات کو ہم نہ برداشت کریں نہ سمجھوتہ کریں۔ آئیے ہم خلُوصِ نِیّت کے ساتھ خیرمقدم کریں، تسلیم کریں، خِدمت کریں، پیار دِکھائیں۔ ہر دوست، بہن، بھائی خُود کو پردیسی یا اجنبی نہ سمجھے بلکہ گھر کا بچّہ سمجھے۔
آج، بُہت سے لوگ تنہائی اور اَکیلے پن کا شِکار ہیں۔ سوشل میڈیا اور مُصنوعی ذہانت ہمیں اِنسانی قُربت اور اِنسانی لمس کے لیے پیاسا چھوڑ دیتی ہے۔ ہم ایک دُوسرے کی آوازیں سُننا چاہتے ہیں۔ ہم شفِیق اور قابلِ بھروسا تعلقات کے آرزُومند ہیں۔
بُہت سے اسباب ہوتے ہیں جِن کی وجہ سے ہم محسُوس کرتے ہوں کہ ہم کلِیسیا میں آنے کے لائق نہیں ہیں—اِسی لِیے، علامتی طور پر کہتا ہُوں، ہم اَکیلے بیٹھتے ہیں۔ شاید ہم اپنی بول چال، لِباس، خاندانی حالات کے بارے میں فکر کرتے ہیں۔ شاید ہمیں کم تری کا اِحساس؛ تمباکو نوشی کی بُو؛ اَخلاقی پاکیزگی کی تمنا؛ کسی کے ساتھ تعلُق کا ٹُوٹ جانا اور دُکھ اور ندامت کا اِحساس ہو؛ کلِیسیا کی اِس یا اُس پالیسی کے بارے میں ہم فکر مند ہیں۔ شاید ہم طلاق یافتہ، رنڈوہ، یا اَکیلے ہیں۔ ہمارے بچّے شور مچاتے ہیں؛ ہمارے بچّے نہیں ہیں. ہم مشن پر نہیں گئے یا جلدی گھر آ گئے۔ فہرست جاری رہتی ہے۔
مُضایاہ 18:21 ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم محبّت میں ایک دُوسرے کے ساتھ اپنے دِلوں کو جوڑیں۔ مَیں ہم سب کو دعوت دیتا ہُوں کہ کم فکر کریں، کم عیب جوئی کریں، دُوسروں سے کم تقاضے کریں—اور، ضرُورت پڑنے پر، اپنے آپ پر کم سختی کریں۔ ہم صِیُّون کو ایک روز میں نہیں بناتے۔ بلکہ ہر ”سلام،“ ہر پُرجوش اَمر، صِیُّون کو قرِیب لاتا ہے۔ آئیے ہم خُداوند پر زیادہ توکل کریں اور خُوشی سے اُس کے سارے حُکموں کی تعمیل کرنے کا فیصلہ کریں۔
III.
اُصُولی طور پر، بااِیمان گھرانے اور مُقدّسِین کی رفاقت میں، یِسُوع مسِیح میں عہد کی وابستگی کی وجہ سے کوئی اَکیلا نہیں بیٹھتا۔
جوزف سمتھ نبی نے سِکھایا: ”یہ ہمارے واسطے رکھا گیا ہے کہ ہم آخِری ایّام کے جلال کو آگے بڑھانے میں حِصّہ لیں اور مدد کریں، ’زمانوں کی معمُوری کی فراہمی … ،‘ جب خُدا کے مُقدّسِین ہر قَوم، قبِیلہ، اور اُمّت میں سے مجمُوعہ کیے جائیں گے۔“
خُدا ”دُنیا کی بھلائی کے سِوا کوئی اَمر انجام نہیں دیتا؛ … تاکہ سب اِنسان [مرد و زن] اُس کی طرف رُجُوع لائیں۔ …
”وہ اُن سب کو اپنے پاس آنے اور اپنی فضِیلت میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے؛ … اور خُدا کی نظر میں سب ایک جَیسے ہیں۔“
یِسُوع مسِیح میں تبدیلی ہم سے نفسانی آدمی اور دُنیاوی ثقافت کو ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ مثلاً صدر ڈیلن ایچ اوکس سِکھاتے ہیں، کہ ہمیں کسی بھی ایسی روایت اور ثقافتی عمل کو ترک کرنا ہے جو خُدا کے حُکموں کے خِلاف ہو اور ہمیں آخِری ایّام کے مُقدّسِین بننا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ”یہاں مُنفرد اِنجِیلی ثقافت ہے، اِقدار اور توقعات اور طرزِ عمل کا ضابطہ موجُود ہے جو کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسینِ آخِری ایّام کے تمام اَرکان کے لیے عام ہے۔“ اِنجِیلی ثقافت میں پاک دامنی، کلِیسیا میں ہفتہ وار عِبادت، شراب، تمباکو، چائے اور کافی سے پرہیز کرنا شامِل ہیں۔ اِس میں دیانت داری اور جاں نِثاری شامِل ہے؛ کلِیسیائی بُلاہٹوں میں ہم اُوپر کی طرف یا نِیچے کی طرف نہیں ہم آگے کی طرف بڑھتے ہیں۔
مَیں ہر مُلک اور ثقافت کے بااِیمان اَرکان اور احباب سے سِیکھتا ہُوں۔ کئی زبانوں میں صحائف کا مُطالعہ اور ثقافتی تناظر اِنجِیلی تفہیم کو گہرا کرتے ہیں۔ مسِیح جیسی صفات کے مُختلف تاثُرات اپنے نجات دہندہ کے لیے میری محبّت اور اِدراک کو گہرا کرتے ہیں۔ سب مُبارک ہیں جب ہم اپنی ثقافتی شناخت کی وضاحت خُدا کے فرزند، عہد کے فرزند، مسِیح کے شاگِرد کی حیثیت سے کرتے ہیں، جَیسے صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا تھا۔
یِسُوع مسِیح کا اِطمِینان فرداً فرداً ہم سب کے واسطے ہے۔ حال ہی میں، کسی نوجوان نے بڑے خلُوص سے پُوچھا، ”ایلڈر گانگ، کیا مَیں اب بھی جنت میں جا سکتا ہُوں؟“ وہ سوچتا تھا کہ آیا وہ کبھی مُعاف کِیا جا سکتا ہے۔ مَیں نے اُس کا نام پُوچھا، غَور سے اُس کی باتیں سُنیں، اُسے تاکید کی کہ اپنے بشپ سے بات کرے، پِھر اُسے اپنے گلے لگایا۔ وہ یِسُوع مسِیح پر آس لگائے چلا گیا۔
مَیں نے کسی اور جگہ بھی اِس نوجوان کا ذِکر کِیا تھا۔ مُدت بعد، مُجھے بِنا دستخط کے ایک خط موصُول ہُوا جس کا آغاز یُوں تھا، ”ایلڈر گانگ، میری اَہلیہ اور مَیں نے نو بچّوں کی پرورش کی ہے … اور دو مشن پر گئے تھے۔“ لیکن ”مُجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ مُجھے سیلیسٹیئل بادِشاہی میں جانے کی اِجازت نہ ہوگی … کیوں کہ جوانی میں میرے گُناہ بڑے گھناونے تھے!“
مزید لِکھا تھا، ”ایلڈر گانگ، جب آپ نے اُس نوجوان کو مُعافی کی اُمِّید پانے کے بارے میں بتایا، تو مَیں خُوشی سے بھر گیا، مُجھے یہ احساس ہونے لگا کہ شاید مُجھے بھی [مُعافی مِل جائے]۔“ خط کا اِختتام یُوں تھا، ”اب مُجھے اپنا آپ اچھّا لگتا ہے!“
جب ہم خُداوند اور ایک دُوسرے کے پاس اُس کے سرائے میں آتے ہیں تو عہد کا تعلُق گہرا ہوتا جاتا ہے۔ جب کوئی بھی اَکیلا نہیں بیٹھتا، تو خُداوند ہم سب کو برکت دیتا ہے۔ کون جانتا ہے؟ جِس شخص کے ساتھ ہم بیٹھتے ہیں شاید وہ ہمارا بہترین فارچُون کُوکی دوست بن جائے۔ کاش ہم عجز و اِنکسار کے ساتھ برّہ کی ضیافت میں اُس کے لِیے اور ایک دُوسرے کے لیے جگہ بنائیں، مَیں خلُوصِ دِل سے دُعا کرتا ہُوں، یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام پر، آمین۔