مجلسِ عامہ
اپنی شفقت سے محرُوم نہ ہوں
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


10:43

اپنی شفقت سے محرُوم نہ ہوں

اپنی اِنسانی خامیوں کے باوجُود آپ کو اِلہٰی مُعاونت اور شِفایابی تک فوری رسائی مُیسر ہے۔

سکُول کی ایک اُستانی نے ایک دفعہ سِکھایا کہ ایک وہیل مچھلی—اگرچہ بُہت بڑی ہوتی ہے—مگر اِنسان کو نِگل نہیں سکتی کیوں کہ اُس کا حلق تنگ ہوتا ہے۔ ایک لڑکی نے اِعتراض اُٹھایا، ”مگر یُوناہ کو تو ایک بڑی مچھلی نے نِگل لِیا تھا۔“ اُستانی نے جواب دِیا، ”یہ نامُمکن ہے۔“ پھر بھی قائل نہ ہُوئی، لڑکی نے کہا، ”خیر، جب مَیں فِردوس میں جاؤں گی، تو اُن سے پُوچھ لُوں گی۔“ اُستانی نے طنزِیہ اَنداز میں کہا، ”اگر یُوناہ گُنہگار ہُوا اور فِردوس میں نہ پُہنچا تو کیا ہوگا؟“ لڑکی نے جواب دِیا، ”تو پھر آپ اُن سے پُوچھ لیجیے گا۔“

ہم اِس کہانی پر ہنس سکتے ہیں، مگر ہمیں یُوناہ کی کہانی میں پِنہاں اُس قُوت کو ہرگز نظر اَنداز نہیں کرنا چاہیے جو ہر ”اِقبال مندی کے فروتن مُشتاق،“ کو عطا ہوتی ہے، بالخصُوص اُنھیں جو مُشکلات کا شِکار ہیں۔

خُدا نے یُوناہ کو حُکم صادِر فرمایا کہ ”نینوہ شہر جائے“ اور توبہ کی مُنادی کرے۔ لیکن نینوہ قدِیم اِسرائیل کا سفّاک دُشمن تھا—چُناں چہ یُوناہ فوراً جہاز پر سوار ہو کر، بالکل اُلٹ سِمت، یعنی ترسیس کی طرف بھاگ گیا۔ جب وہ اپنی بُلاہٹ سے مُںہ موڑ کر سفر پر نِکلا، تو ایک تباہ کُن طُوفان برپا ہُوا۔ اپنی نافرمانی کو اِس کا سبب جانتے ہُوئے، یُوناہ نے اَزخُود کہا کہ مُجھ کو اُٹھا کر سمُندر میں پھینک دو۔ یُوں سمُندر کا تلاطُم مَوقُوف ہو گیا، جس کے باعث جہاز پر موجُود باقی اَفراد بچ گئے۔

مُعجزانہ طور پر، یُوناہ ہلاکت سے بچ گیا جب ایک ”بڑی مچھلی“ جو خُداوند نے ”مُقرر کر رکھی تھی“ کہ اُسے نِگل جائے۔ لیکن وہ اُس ناقابلِ یقین اَندھیری اور بدبُودار جگہ میں تین دِن تک اَفسُردہ پڑا رہا، جب تک کہ بالآخِر اُسے خُشکی پر اُگل دِیا گیا۔ پھر وہ نینوہ کے لیے اپنی بُلاہٹ کو قبُول کرتا ہے۔ تاہم، جب شہر توبہ کرتا اور عذاب سے بچ جاتا ہے، تو یُوناہ اپنے دُشمنوں پر اِس رحم سے نہایت ناخُوش اور ناراض ہُوا۔ خُدا صبروتحمُل سے یُوناہ کو سِکھاتا ہے کہ وہ اپنی ساری اولاد سے محبّت رکھتا اور اُن سب کو بچانے کا مُشتاق ہے۔

اپنے فرائض میں ایک سے زائد بار ٹھوکر کھانے کے باوجُود، یُوناہ ایک واضح گواہی دیتا ہے کہ حیاتِ فانی میں، ”سب زوال پذیر ہیں۔“ ہم اَکثر زوال پذیر ہونے کی گواہی کی بات نہیں کرتے ہیں۔ لیکن عقائدی سمجھ بُوجھ اور رُوحانی گواہی پانا کہ ہم میں سے ہر ایک اَخلاقی، جِسمانی، اور اپنے حالات کی مُشکلات سے کیوں دوچار ہوتا ہے ایک عظیم برکت ہے۔ یہاں زمین پر، منفی اور ناخُوش گوار، واقعات رُونُما ہوتے ہیں، اور سب ”خُدا کے جلال سے محرُوم ہیں۔“ لیکن یہ فانی حالت—آدم اور حوّا کے اِنتخابات کا نتیجہ ہے—جو ہمارے وجُود کی حقیقی وجہ کے لیے نہایت ضرُوری ہے: ”تاکہ [ہم] شادمانی پائیں“! جیسا کہ ہمارے پہلے والدین آدم اور حوّا نے سیکھا، کہ فقط زوال پذیر جہان کی کڑواہٹ چکھ لینے اور دَرد محسُوس کِیے بغیر نہ تو حقیقی شادمانی کا تصور مُمکن ہے، اور نہ اِس سے لُطف اَندوز ہونا۔

زوال پذیری کی گواہی گُناہ یا زِندگی کے فرائض میں کوتاہی برتنے کی اِجازت نہیں دیتی، کیوں کہ یہ ہمیشہ جاں فِشانی، نیکی، اور جواب دہی کا تقاضا کرتے ہیں۔ مگر اِسے ہماری مایُوسیوں کو کم کر دینا چاہیے جب حالاتِ زِندگی بِگڑ جائیں یا ہم کسی اَہلِ خانہ، دوست، یا راہ نُما میں کوئی اَخلاقی خامی دیکھیں۔ اَکثر اَیسی چیزیں ہمیں شدید فسادی تنقید یا رَنجِش میں ڈال دیتی ہیں جو ہمارے اِیمان کو کمزور کرتی ہیں۔ زوال پذیری کی گواہی ہماری دَست گِیری کر سکتی ہے کہ ہم مزید خُدا کی مانِند بنیں جیسا یُوناہ نے بیان کِیا، کہ ”رحیم و کریم، قہر کرنے میں دھیما، اور شفقت میں غنی“ بنیں ہر ایک کے واسطے—بشمُول خُود اپنے واسطے—اپنی ناگُزیر ناکامِل حالت میں بھی۔

زوال پذیری کے اَثرات کو ظاہر کرنے سے بھی بڑھ کر، یُوناہ کی کہانی بڑی قُدرت سے ہماری توجہ اُس کی طرف مبذُول کرتی ہے جو ہمیں اُن اَثرات سے چھُٹکارا دِلا سکتا ہے۔ یُوناہ کا جہاز میں موجُود اَفراد کو بچانے کے لیے اپنی جان قُربان کر دینا واقعی مِثلِ مسِیح عمل ہے۔ اور جب تین بار یِسُوع سے اُس کی اُلُوہیت کا نِشان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تو اُس نے گرج کر فرمایا ”مگر یُوناہ [یُوناہ] کے نِشان کے سِوا … کوئی اور نِشان اُن کو نہ دِیا جائے گا،“ یہ اِعلان فرماتے ہُوئے کہ جیسے یُوناہ ”تین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا؛ ویسے ہی اِبنِ آدم تین رات دِن زمین کے اَندر رہے گا۔“ اگر نجات دہندہ کی قُربانی والی مَوت اور جلالی جی اُٹھنے کے نِشان کے طور پر دیکھا جائے، تو یُوناہ میں کئی خامیاں تھیں۔ مگر یہی بات اُس کی یِسُوع مسِیح کی شخصی گواہی اور وابستگی کو، جو وہیل کے پیٹ میں پیش کی، اِتنی اَثر اَنگیز اور مُتاثر کُن بناتی ہے۔

یُوناہ کی فریاد اَیسے بھلے شخص کی طرح ہے جو ایک اَیسی مُصیبت میں گرِفتار ہے، جو زیادہ تر اُس کے اپنے اَعمال کا نتیجہ ہے۔ کسی مُقدّس کے لیے، جب کوئی بڑی قُدرتی آفت اُس کی قابلِ اَفسوس عادت، تبصرے، یا فیصلے کے باعث نازل ہوتی ہے، اِس کے باوجُود کہ اُس نے نیک اِرادے اور راست بازی کی بُہت سی دیگر مُخلصانہ کاوِشیں کیں، تو یہ خصُوصاً دِل شِکن ہو سکتا ہے کہ اُسے تنہا چھوڑ دِیا گیا ہے۔ مگر ہم کسی بھی وجہ سے یا کسی بھی سطح کی آفت کا سامنا کر رہے ہوں، اُمید، شِفا، اور خُوشی کے لیے خُشک زمین ہمیشہ موجُود رہتی ہے۔ یُوناہ کو سُنیں:

”مَیں نے اپنی مُصیبت میں خُداوند سے دُعا کی … ، مَیں نے پاتال کی تہ سے دُہائی دی۔ …

”تُو نے مُجھے گہرے سمُندر کی تہ میں پھینک دِیا، اور سیلاب نے مُجھے گھر لِیا، …

”[اور] مَیں نے سمجھا کہ تیرے حُضُور سے دُور ہو گیا ہُوں؛ لیکن مَیں پھر تیری مُقدّس ہَیکل کو دیکھُوں گا۔

”سیلاب نے میری جان کا، مُحاصرہ کِیا: سمُںدر میرے چاروں طرف تھا، بحری نبات میرے سر پر لیٹ گئی۔

”مَیں پہاڑوں کی تہ تک غرق ہو گیا، … تو بھی تُو نے میری جان پاتال سے بچائی۔ …

”جب میرا دِل بے تاب ہُوا … تو مَیں نے خُداوند کو یاد کِیا: اور میری دُعا تیری مُقدّس ہَیکل میں … تیرے حُضُور پُہنچی۔

”جو لوگ جھوٹے معبُودوں کو مانتے ہیں وہ شفقت سے محرُوم ہو جاتے ہیں۔

”مَیں حمد کرتا ہُوا تیرے حُضُور قُربانی گُزرانوں گا؛ مَیں اپنی نذریں اَدا کرُوں گا۔ نجات خُداوند کی طرف سے ہے۔“

تاہم یہ بُہت سال پہلے کی بات ہے، مَیں آپ کو بالکل ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہُوں کہ مَیں کہاں بیٹھا تھا اور کیا محسُوس کر رہا تھا جب، اپنی ذاتی مُصیبتوں کی گہری تہ میں، مَیں نے اِس صحیفے کو دریافت کِیا۔ آج ہر کسی کے لیے جو اِس وقت میری طرح محسُوس کر رہا ہے جیسا مَیں نے کِیا—کہ آپ الگ تھلگ ہو چُکے ہیں، گہرے پانیوں میں مایُوس پڑے ہیں، رُوحانی اور جذباتی مُصیبتوں یا آزمایشوں کے بوجھ تلے دبے ہیں اور سمُندر کی پہاڑ جیسی موجیں آپ پر ٹُوٹ رہی ہیں—یُوناہ سے مُتاثر ہو کر، میری اِلتجا یہ ہے کہ: اپنی شفقت سے محرُوم نہ ہوں۔ اپنی اِنسانی خامیوں کے باوجُود آپ کو اِلہٰی مُعاونت اور شِفایابی تک فوری رسائی مُیسر ہے۔ یہ حیرت اَنگیز شفقت ہمیں یسُوع مسِیح میں اور اُسی کے وسِیلہ سے حاصِل ہوتی ہے۔ چُوں کہ وہ آپ کو کامِل طور پر جانتا اور پیار کرتا ہے، اِس لیے وہ یہ آپ کو ”اپنی“ بنا کر پیش کرتا ہے، یعنی یہ آپ کے لیے بالکل موزُوں ہے، تاکہ آپ کی اِنفرادی جذباتی اور رُوحانی مخصُوص مصائب و مُشکلات کو شِفا بخشے۔ اِس لیے خُدا کے واسطے اور اپنی بہتری کے لیے، مسِیح کی اِس شفقت سے مُنہ مت موڑیں۔ اِسے قبُول کریں۔ دُشمن کے ”جھُوٹے معبُودوں“ کو سُننے سے اِنکار کرنے سے آغاز کریں، جو آپ کو یہ سوچنے پر آزماتا ہے کہ اپنی رُوحانی ذِمہ داریوں سے دُور بھاگنے میں راحت مِلے گی۔ اِس کی بجائے، تائب یُوناہ کے نقشِ قدم پر چلیں۔ خُدا کے حُضُور مُخلصانہ دُعا کریں۔ ہَیکل کی طرف راغِب ہوں۔ اپنے عہُود کے ساتھ جُڑے رہیں۔ قُربانی اور شُکر گُزاری کے ساتھ، خُداوند کی، اُس کی کلِیسیا کی، اور دُوسروں کی خِدمت کریں۔

اَیسا کرنے سے آپ اپنے لیے خُدا کی خصُوصی موعُودہ محبّت کی رویا کی وضاحت پاتے ہیں—جسے عِبرانی بائبل میں حیسیڈ کہا جاتا ہے۔ آپ خُدا کی وفادارانہ، نہ تھکنے والی، بے پایاں، ”شفِیق رحمتوں“ کی قُدرت کو دیکھیں اور محسُوس کریں گے جو آپ کو ہر گُناہ یا ہر ناکامی سے ”بچنے … کے لیے … قوّی “ بنا سکتی ہے۔ اِبتدائی شِدت اور گہرا کرب اِس رویا کو پہلے پہل ماند کر سکتا ہے۔ مگر جُوں جُوں آپ وہ ”مَنت جو [آپ] نے مانی اُس کو اَدا کرنا“ جاری رکھیں گے، ویسے ویسے یہ رویا آپ کی رُوح میں درخشاں اور تاباں ہوتی جائے گی۔ اور اُس رویا کے ساتھ نہ صِرف آپ کو اُمید اور شِفا مِلے گی، بلکہ، حیرت اَنگیز طور پر، آپ اپنی دُشوار گُزار آزمایشوں میں بھی، شادمانی پائیں گے۔ صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں بخُوبی سِکھایا ہے کہ: ”جب ہماری زندگی کا نَصبُ العَین خُدا کی نجات کا منصُوبہ … اور یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجِیل ہوتا ہے، تب ہماری زِندگی میں کیا ہو رہا ہے—یا کیا نہیں ہو رہا—اِس سے قطعِ نظر ہم خُوشی محسُوس کر سکتے ہیں۔ خُوشی اُسی کے سبب سے اور اُسی کے وسیلے سے مُیّسر ہوتی ہے۔“

چاہے ہم یُوناہ کی طرح کسی گہری و غضب ناک، آفت کا سامنا کر رہے ہوں یا اِس ناقص دُنیا کی روزمرّہ مُشکلات سے نبرد آزما ہوں، دعوت ایک ہی ہے: اپنی شفقت سے محرُوم نہ ہوں۔ یُوناہ کے نِشان، یعنی زِندہ مسِیح پر نظر کریں، وہ جو آپ کی خاطرہر چیز پر فاتح ہُوا اور تین دِن بعد مَوت اور قبر پر غالِب آ کر جی اُٹھا۔ اُس کی طرف مائل ہوں۔ اُس پر اِیمان رکھیں۔ اُس کی خِدمت کریں۔ ہنستے مُسکراتے رہیں۔ کیوں کہ اُسی میں، فقط اُسی میں، زوال پذیری سے وہ مُکمل اور خُوش گوار شِفا مِلتی ہے، وہ شِفا جس کی ہم سب کو اَشد ضرُورت ہے اور جس کے ہم فروتنی سے طلب گار ہیں۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یہ سچّ ہے۔ یِسُوع مسِیح کے پاک و پوِتر نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. ایلما 27:‏18۔ محض 48 آیات پر مُشتمل، یُوناہ کی کِتاب عقائدی سچّائیوں اور رُوحانی اَسباق کی مُختصر، شاعرانہ کلاسِک کِتاب ہے۔ دیکھیے ایلِس ٹی رسمُوزن، پُرانے عہد نامے پر مُقدّسِینِ آخِری ایّام کا تبصرہ (1993)، 653–57؛ ڈی کیلی اوگڈن اور اینڈریو سی سکِنر، آیت بہ آیت: پُرانا عہد نامہ، جِلد 2، 1 سلاطین سے ملاکی تک (2013)، 133–38۔ اوگڈن اور سکِنر نِشان دہی کرتے ہیں کہ یُوناہ کے سفر میں توبہ کی تعلیمات کی قُدرت کے سبب، یہ کِتاب یہُودی لوگوں کے لیے سال کے مُقدّس ترین دِن–یومِ کفّارہ، یا یومِ کِپُور–کو عِبادت خانوں میں پڑھی جاتی ہے جو توبہ اور مُعافی پر مرکُوز ہوتی ہے۔

  2. دیکھیے اوگڈن اور سکِنر، آیت بہ آیت: پُرانا عہد نامہ، 134۔

  3. دیکھیے یُوناہ 1–4۔

  4. ایلما 34:‏9۔

  5. رومیوں 3:‏23۔

  6. دیکھیے 2 نِیفی 2:‏17–25۔

  7. یُوناہ 4:‏2۔

  8. دیکھیے لُوقا 11:‏29–30؛ مزید دیکھیے متّی 12:‏39–41؛ 16:‏1–4۔

  9. یُوناہ 2 گواہی اور شُکر گُزاری کا زبُور ہے، جس کا زیادہ حِصّہ اُس دُعا کو بیان کرتا ہے جو یُوناہ نے وہیل مچھلی کے پیٹ سے کی تھی۔

  10. اِس طرح، یُوناہ کا موازنہ ایُوب سے بالکل مُختلف ہے، جو اُس پر آنے والی مُصیبتوں کے مُقابلے میں بظاہر بے گُناہ دِکھائی دیتا ہے۔ دونوں کہانیاں بڑی قُدرتی آفت کے دوران اِیمان اور ثابت قدمی کی داستانیں ہیں، مگر یُوناہ کی کہانی اُن لوگوں کے ساتھ زیادہ مُطابقت رکھتی ہے جو یہ محسُوس کرتے ہیں کہ اُن کے اپنے اَعمال ہی تکلیفوں اور مایُوسیوں کا قابلِ جواز سبب ہیں۔

  11. جوزف سمِتھ کے ساتھ بھی یہی ہُوا تھا جب اُس کی اپنے مُحسِن مارٹن ہیرس کے لیے ہمدردی اور قدردانی کی وجہ سے اُس نے مورمن کی کِتاب کے ترجمے کے پہلے 116 صفحات ہیرس کو سونپ دِیے جو بعد میں گُم ہو گئے، اور جس کے نتیجے میں جوزف نے آہ بھری اور کہا، ”سب کُچھ ختم ہوگیا“ (دیکھیے مُقدّسِین: آخِری ایّام میں کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کی کہانی، جِلد 1، سچّائی کا میعار، 1815–1846 [2018]، 43–53)۔

  12. یُوناہ 2:‏2–9؛ تاکید اِضافی ہے۔

  13. 1 نِیفی 1:‏20؛ دیکھیے رسل ایم نیلسن، ”لازوال عہد،“ لیحونا، اکتوبر 2022، 6، 10۔ یُوناہ 2 میں ”شفقت“ کے لیے اِستعمال ہونے والا اَصل عِبرانی لفظ ”حیسیڈ“ ہے، جسے صدر نیلسن نے ”خاص قِسم کی محبّت اور شفقت“ قراد دِیا ہے جو اُن لوگوں کے لیے ہے جو خُدا کے ساتھ مُقدّس عہُود باندھ چُکے ہیں—جو اُنھوں نے وضاحت کی کہ اَیسی شفقت جو وفادار، نہ تھکنے والی، اور بے پایاں ہے۔

  14. رسل ایم نیلسن، ”خُوشی اور رُوحانی بقا،“ لیحونا، نومبر 2016، 82۔