مجلسِ عامہ
نام جِس سے آپ پُکارے جاتے ہیں
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


11:1

نام جِس سے آپ پُکارے جاتے ہیں

مسِیح کے نام سے پُکارے جانے سے کیا مُراد ہے؟

صدر رسل ایم نیلس نے سِکھایا کہ اگر خُداوند ہم سے براہ راست مُخاطب ہو وہ سب سے پہلے اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہم سمجھیں کہ ہماری حقیقی شناخت کیا ہے: ہم خُدا کی اُمّت، عہد کے فرزند، اور یِسُوع مسِیح کے شاگِرد ہیں۔ کوئی اور نام بُنیادی طور پر ہمیں نااُمِّید کر دے گا۔

مَیں نے یہ بات بَذاتِ خُود جانی جب میرے سب سے بڑے بیٹے نے اپنا پہلا سیل فُون حاصل کِیا۔ اُس نے بڑے جوش و خروش سے، اپنے روابط میں اپنے خاندان اور احباب کے ناموں کا اندراج کرنا شروع کِیا۔ ایک روز، مَیں نے غور کِیا اُس کی والدہ کال کر رہی تھی۔ سکرین پر نام ظاہرا ہُوا ”اَمّی۔“ یہ ایک مَعقُول و متین انتخاب تھا—اور، مَیں یہ تَسلِیم کروں گا، ہمارے گھر میں والدہ کے لیے عزت کی بہترین علامت ہے۔ فطری طور پر، مَیں مُتجسس تھا کہ اُس نے مُجھے کِس نام سے محفوظ کِیا ہے؟

مَیں نے اُس کے روابط کی جانچ کی، یہ فرض کرتے ہُوئے کہ اگر وینڈی کے لیے ”اَمّی،“ تھا مُجھے لازماً ”اَبّو“ لکھا ہو گا۔ یہ نام وہاں موجود نہیں تھا۔ مَیں نے ”ابا“ تلاش کیا۔ پھر بھی کچھ نہ مِلا۔ میرا تَجَسُّس خَفِیف تَشوِیش میں بدل گیا۔ ”کیا اُس نے مُجھے ’کوری‘ لکھا ہے؟“ نہیں۔ آخری کوشش کرتے ہوئے، مَیں نے سوچا، ”ہم فٹ بال کے کھلاڑی ہیں—شاید اُس نے میرا نام ’پیلے‘ لکھا ہو۔“ اِس تمنا کے ساتھ سوچتے ہوئے۔ آخرکار، مَیں نے خُود اُس کے نمبر پر کال کی، اور اُس کی سکرین پر دو لفظ نُمودار ہوئے: ”اَمّی نہیں“!

بھائیو اور بہنو، آپ کس نام سے کہلائے جاتے ہیں؟

یِسُوع نے اپنے پیروکاروں کو کئی ناموں سے پُکارا ہے: شاگرد۔ بیٹے اور بیٹیاں۔ نبیوں کی اَولاد۔ بھیڑیں۔ دوست۔ دُنیا کا نور۔ مُقدِّسِین۔ ہر ایک اَبَدی اہمیت رکھتا اور مُنجّی کے ساتھ ذاتی تَعَلُّق کو نُمایاں کرتا ہے۔

مگر اِن ناموں کے بِیچ میں، باقی سب سے ایک مُمتاز—مسِیح کا نام ہے۔ مورمن کی کتاب میں، بنیامین بادشاہ نے نہایت پُرجوش طریقے سے تعلیم دی:

”کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے نجات آئے، پَس، مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم سب اپنے تئیِں مسِیح کا نام اپنا لو۔ …

”اور اَیسا ہو گا جو کوئی اَیسا کرے گا خُدا کی داہنی طرف پایا جائے گا، پَس وہ جانے گا کہ وہ کس نام سے پُکارا گیا ہے؛ کیوں کہ وہ مسِیح کے نام سے کہلائے گا۔“

جو کوئی اپنے تئیِں مسِیح کا نام اپناتے ہیں اُس کے شاگرد اور گواہ بن جاتے ہیں۔ اعمال کی کِتاب میں، ہم پڑھتے ہیں کہ یِسُوع مسِیح کی قیامت کے بعد، چُنیدہ گواہوں کو مُنادی کرنے اور گواہی دینے کا فرمان مِلا کہ جو کوئی یِسُوع پر ایمان لائے، بپتسما پائے، اور رُوحُ القُدس پائے، اپنے گُناہوں کی معافی پائے گا۔ وہ جنھوں نے اِن مُقدّس رسُوم کو حاصل کِیا کلِیسیا کے ساتھ، شاگرد بنے، اور مسِیحی کہلائے۔ مورمن کی کِتاب نے بھی مسِیح پر ایمان لانے والوں کو بطور مسِیحی بیان کِیا ہے اور عہُود باندھنے والے لوگوں کو ”مسِیح کے بچّے، اُس کے بیٹے اور اُس کی بیٹیاں۔“

مسِیح کے نام سے کہلائے جانے سے کیا مُراد ہے؟ اِس کا مطلب عہد باندھنا اور پورا کرنا، ہمیشہ اُسے یاد رکھنا، اُس کے احکام ماننا، اور ”ہر وقت اور ہر بات میں اور ہر جگہ خُدا کے گواہ ٹھہرنے کے لِیے … تیار“ ہونا ہے۔ اِس سے مُراد انبیا اور رسُولوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونا ہے جب وہ دُنیا بھر میں—مسِیح کا پیغام—اِس کے عقیدہ، عہُود اور رسُوم کو ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ اِس سے مُراد تکلیف دُور کرنے کے لیے دُوسروں کی خدمت کرنا ہے، مسِیح میں تمام لوگوں کے لیے اُمِّید اور روشنی لانا ہے۔ یقیناً، یہ تا زیست رہنے والا عمل ہے۔ نبی جوزف سمتھ نے سِکھایا کہ ”یہ ایک اَیسا مُقام ہے جہاں کوئی بھی شخص کبھی ایک لمحے میں نہیں پہنچتا۔“

کیوں کہ شاگردی کے سفر کے لیے وقت اور کوشش درکار ہے جو کہ ”سطر بہ سطر، حُکم پر حُکم“ پر استوار ہوتی ہے، دُنیاوی القابات سے بھٹک جانا آسان ہے۔ یہ محض عارضی قدر پیدا کرتے ہیں اور ذاتی طور پر سدا ناکافی رہیں گے۔ مُخلصی اور اَبَدیت کی باتیں صرف اور صرف ”پاک مَمسُوح میں اور اُس کے وسِیلہ سے آتی ہے۔“ اِس لیے، شاگِردی کو ترجیح دینے کی نبیانہ ہدایت کو ماننا دُونوں بروقت اور حکمت ہیں، خصوصاً ایک اَیسے زمانہ میں جہاں بہت سی حریف اور اَثَر و رسُوخ رکھنے والی آوازیں ہیں۔ یہ بِنیامِین بادِشاہ کی نَصیِحَت کی مرکزی بات تھی جب اُس نے کہا، ”مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم اپنے دِلوں پر لِکھا یہ [مسِیح کا] نام ہمیشہ کے لِیے قائم رکھنا یاد رکھو، … بلکہ تُم اُس آواز کو سُنو اور پہچانو جو تُمھیں بُلائے گی اور اُس نام کو بھی جِس سے وہ تُمھیں پُکارے گا۔“

مارٹن گیسنر

مَیں نے اِسے اپنے ہی خاندان میں دیکھا ہے۔ میرا پردادا مارٹن گیسنر ایک فروتن صدر برانچ کی بدولت سدا کے لیے تبدیل ہو گیا کیوں کہ اُس نے مُنجّی کی بُلاہٹ کا جواب دیا۔ 1909 میں جرمنی میں، کڑا وقت تھا اور روپے پیسے کی بڑی قِلَّت تھی۔ مارٹن ایک پائپ ساز پلانٹ میں بطور ویلڈر کام کرتا تھا۔ وہ خُود قبول کرتا ہے، زیادہ تر تنخواہ کے روز شراب پینے، تمباکو نوشی کرنے، اور پب میں سب کو مشروب پلانے پر ختم ہوتے تھے۔ آخرکار اُس کی زَوجَہ نے اُسے خبردار کیا کہ اگر وہ نہ بدلا، تو وہ اُسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔

ایک دِن، مارٹن کا ساتھی مَیخانے کے راستے پر اپنے ہاتھ میں ایک مذہبی کِتابچَہ تھامے اُسے مِلا۔ اُسے یہ سڑک پر مِلا تھا اور اُس نے مارٹن سے کہا کہ کِتابچَہ پڑھنے کے بعد اُسے کُچھ مُختلف محسُوس ہُوا ویس ویسن سی وون ڈین مورمونین؟، یا آپ مورمنوں کے مُتَعَلّق کیا جانتے ہیں؟ مُجھے یقین ہے کہ وہ لقب بدل چُکا ہے۔

پشت پر پتے کی ایک مہر ثبت کی گئی تھی جو کہ صرف اتنی واضح تھی کہ جانا جا سکے کہ گرجا گھر کہاں پر تھا۔ یہ کافی فاصلے پر تھا، مگر اُنھوں نے جو پڑھا تھا وہ اُس سے متاثر تھے اور جانچ کرنے کے لیے اُس اتوار ٹرین سے جانے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ پُہنچے، اُنھیں معلوم ہوا کہ اُس پتہ پر گرجا گھر نہیں تھا جس کی اُنہیں توقع تھی بلکہ ایک جنازہ گاہ تھی۔ مارٹن کُچھ تذبذب کا شکار ہوا—کیوں کہ، واقعی، جنازہ گاہ میں ایک گرجا گھر کُچھ زیادہ ہی عجیب لگا جیسے مذہب اور موت کا انوکھا پیکج ہو۔

مگر، اُوپری منزل پر، ایک کرایہ کے ہال میں، اُنھوں نے وہاں مُقدّسِین کے ایک گروہ کو پایا۔ ایک آدمی نے اُنہیں گواہی کی عبادت میں دعوت دی۔ مارٹن رُوح سے متأثّر ہوا اور سادہ، پرجُوش گواہیوں سے اِتنا راغب ہوا کہ اُس نے اپنی گواہی دی۔ اور وہاں، اُس غیر متوقع جگہ پر، اُس نے کہا کہ وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ لازماً سچّی ہے۔

بعد میں ایک شخص نے اپنا تعارف صدرِ برانچ کے طور پر کرایا اور پُوچھا کہ کیا وہ واپس آئیں گے۔ مارٹن نے واضح کیا کہ وہ بہت دُور رہتا ہے اور ہر ہفتے سفر کرنے کی اِستِعداد نہیں رکھتا ہے۔ صدر برانچ نے کہا، ”میرے پیچھے آئیں۔“

وہ چند بلاک دُور پیدل ایک قریبی کار خانے میں گئے جہاں صدر برانچ کا ایک دوست کام کرتا تھا۔ مُخَتصَر گُفت گُو کے بعد، مارٹِن اور اُس کے دوست کو نوکری دے دی گئی۔ پھر صدر برانچ اُنھیں ایک رہائشی عمارت میں لے گیا اور اُن کے خاندانوں کے لیے رہائش کا بندوبست کِیا۔

یہ سب کُچھ صرف دو گھنٹوں میں ہو گیا۔ مارٹن اور اُس کا کُنبہ اگلے ہفتے وہاں مُنتَقِل ہو گیا۔ چھ ماہ بعد اُنھوں نے بپتِسما پایا۔ وہ شخص جسے کبھی ناکارہ بادَہ نوش کے طور پر جانا جاتا تھا وہ اپنے نئے ایمان کا سرگرم ایلچی بن گیا تھا کہ شہر کے لوگوں نے اُسے ”پادری“ کہنا شروع کر دیا، شاید اتنی محبّت سے نہیں۔

جہاں تک صدر برانچ سے سروکار ہے، مَیں آپ کو اُس کا نام نہیں بتا سکتا—اُس کی پہچان وقت کے جھروکوں میں معدوم پڑ چُکی ہے۔ مگر مَیں اُسے ایک شاگرد، ایلچی، مسِیحی، نیک سامری، اور دُوست کہتا ہُوں۔ 116 برس بعد بھی اُس کے اَثَر کو محسُوس کیا جاتا ہے، اور مَیں اُس کی شاگردی کے کندھوں پر کھڑا ہُوں۔

گیسنر ہیکل میں

”کہاوت ہے کہ آپ ایک سیب میں بیج شمار کر سکتے ہیں، مگر آپ وہ سیب شمار نہیں کر سکتے جو ایک بیج سے ملتے ہیں۔“ صدرِ برانچ کے کاشت کردہ بیج نے بے شمار پَھل پیدا کیے ہیں۔ اُس کے گمان میں بھی نہ ہوگا کہ 48 برس بعد، مارٹن کے خاندان کی کئی نسلیں پردے کے دُونوں اطراف برن سوئٹزر لینڈ ہَیکَل میں مہر بند ہو چُکی ہُوں گی۔

شاید عظیم ترین وعظ وہ ہیں جو ہمارے گوش گزار نہیں ہوئے بلکہ وہ جو ہم نے چُپ چاپ اور سیدھے سادے اعمال میں دیکھے ہیں اور عام لوگوں کی زِندگیوں میں کاموں کا مشاہدہ کیا ہے جو، مانندِ مسِیح بننے کی کاوش میں، بھلائی کرتے پھرتے ہیں۔ اُس مہربان صدرِ برانچ نے جو کیا وہ کسی خانہ پُری کا حصہ نہیں تھا۔ وہ محض اِنجِیل پر عمل پیرا تھا جیسے ایلما کی کِتاب میں بیان کی گئی ہے: ”وہ اُن کو نہ دُھتکارتے، … یا وہ جو بُھوکے تھے، یا وہ جو پیاسے تھے، یا وہ جو بِیمار تھے، … وہ سب کے ساتھ فیاض تھے، جوان اور بُوڑھے دونوں، … مرد اور عورت دونوں۔“ اور ہمیں اِس نقطہ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اُنھوں نے کسی کو نہ دھتکارا ”خواہ کلِیسیا کے یا غیر کلِیسیا کے۔“

وہ جو اپنے تئیں مسِیح کا نام لیتے ہیں تَسلِیم کرتے ہیں، جیسے نبی جوزف سمِتھ نے فرمایا، ”خُدا کی محبّت سے معمُور شخص، فقط اپنے خاندان کو برکت دینے پر اِکتِفا نہیں کرتا، بلکہ پُوری دُنیا میں جاتا ہے، اور پُوری نسلِ اِنسانی کو فیض یاب کرنے کے لِیے بےقرار رہتا ہے۔“

مسِیح نے اَیسی ہی محبّت کی ہے۔ در حقیقت، اُس نے اتنا کُچھ کِیا کہ اُس کے شاگرد وہ سب کُچھ تحریر نہ کر سکے۔ یُوحنّا رسُول نے قلم بند کیا، ”اور بھی بہت سے کام ہیں جو یِسُوع نے کِیے اگر وہ جُدا جُدا لکِھے جاتے، تو مَیں سمجھتا ہُوں کہ جو کِتابیں لِکھی جاتیں اُن کے لیے دُنیا میں گُنجائش نہ ہوتی۔“

آئیں سِیرتِ مسِیح کی تَقلِید کرنے کی کوشش کریں، بھلائی کرتے اور شاگردی کو جیون بھر کی ترجیح بناتے ہوئے تاکہ ہر بار جب ہم کسی دُوسرے سے ملیں، وہ خُدا کی محبّت اور رُوحُ القُدس کی تقویت دینے والی قدرت کو محسُوس کر سکیں۔ تب ہم میرے پردادا اور کروڑوں دُوسروں کے ساتھ شامل ہو سکیں گے جنھوں نے، اندریاس شاگِرد کی مانند اعلان کیا ہے، ”مسِیح مل گیا۔“

آخر میں، دُنیا ہمیں پہچان نہیں دیتی ہے۔ بلکہ ہماری شاگردی کو پہچان اُن رسُوم سے ملتی ہے جو ہم پاتے ہیں، عہُود جو ہم پورے کرتے ہیں، اور صرف بھلائی کرنے سے۔ جیسا کہ صدر نیلسن نے سِکھایا، ہم درحقیقت طفلِ خدا ہیں، عہد کے فرزند، یِسُوع مسِیح کے شاگرد۔

مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح زِندّہ ہے اور اُس نے ہمارا فدیہ دیا ہے۔ وہ ہی ہے جس نے فرمایا، ”مَیں نے تُجھے تیرا نام لے کر … بلایا ہے؛ تو میرا ہے۔“ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔