اپنی اَصل پہچان کو جانیں
اِس سے قطعِ نظر کہ ہم اپنی شاگردی کے راستے پر کہاں ہیں، ہماری زندگیاں بُنیادی طور پر بدل جائیں گی اگر ہم بہتر طور پر سمجھیں کہ ہم اصل میں کون ہیں۔
کئی برس پہلے ہماری بیٹی کو اپنے مشن پر گہرا تجربہ ہُوا۔ اُس کی اِجازت سے، مَیں اُس خط کا ایک اِقتباس بیان کرتا ہُوں جو اُس نے اُس ہفتے ہمیں لکھا:
”کل ایک واپس لوٹنے والی رُکن نے ہمیں کہا کہ جتنی جلدی مُمکن ہو میرے گھر آؤ۔ جب ہم وہاں پُہنچے تو ہم نے دیکھا کہ وہ فرش پر پڑی، بے قابو سِسکیاں لے رہی تھی۔ اُس کے آنسوؤں سے ہمیں پتا چلا کہ، اُس کی نوکری ختم ہو گئی تھی، وہ اپارٹمنٹ سے نکالی جانے والی تھی، اور ایک بار پھر وہ بے گھر ہونے والی تھی۔“
ہماری بیٹی نے آگے لکھا: ”مَیں نے گھبراہٹ میں اپنے صحیفے کھولے اور کُچھ ڈھونڈنے لگی—کُچھ بھی—جو اُس کی مدد کر سکے۔ جب مَیں اِس مناسبت سے ایک کامل آیت تلاش کر رہی تھی، تو مَیں نے سوچا ’مَیں یہ کیا کر رہی ہُوں؟ مسِیح ایسا نہیں کرے گا۔ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے مَیں حل کر سکوں، لیکن یہ خُدا کی ایک حقیقی بیٹی ہے جسے میری مدد کی ضرورت ہے۔‘ پس مَیں نے اپنے صحیفے بند کر دیے، اُس کے پہلو میں گھٹنے ٹیکے، اور اُسے تھام کر روتی رہی، جب تک کہ وہ کھڑی ہو کر اِس آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو گئی۔“
جب اُس عورت کو تسلی مِل گئی، تو ہماری بیٹی نے پھر صحیفوں کا اِستعمال کِیا تاکہ اُسے اُس کی الٰہی قدر کے بارے میں سمجھا سکے اور اُسے ہماری موجودگی کی ایک بُنیادی سچّائی سِکھا سکے—کہ ہم خُدا کے پیارے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، ایک ایسا خُدا جو ہماری تکالیف کے لیے کامِل ہمدردی رکھتا ہے اور جب ہم دوبارہ کھڑے ہونے لگتے ہیں تو ہماری مدد کے لیے تیار رہتا ہے۔
یہ بات غور طلب ہے کہ ہمارے مِشنریوں کی تعلیم کا اولین نُقطہ یہ ہے کہ خُدا ہمارا پیارا آسمانی باپ ہے۔ اِس کے بعد کی ہر سچّائی اِس بُنیاد کی تفہیم پر اُستوار ہے کہ درحقیقت ہم کون ہیں۔
پرائمری کی جنرل صدر، سُوزن ایچ پورٹر نے سِکھایا: ”جب آپ یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ طفلِ خُدا کے طور پر آپ کو کِس قدر مُکمل طور پر پیار کِیا جاتا ہے، تو یہ ہر چیز کو بدل دیتا ہے۔ یہ آپ کے اپنے بارے میں محسُوس کرنے کے انداز کو بدل دیتا ہے جب آپ غلطیاں کرتے ہیں۔ یہ آپ کے اَندازِ فکر کو بدل دیتا ہے جب آپ کو کٹھن حالات پیش آتے ہیں۔ یہ خُدا کے احکامات کے بارے میں آپ کے نُقطہِ نظر کو تبدیل کرتا ہے۔ یہ دُوسروں کے بارے میں آپ کے نُقطہِ نظر، اور آپ کی تبدیلی لانے کی صلاحیت کو بدل دیتا ہے۔“
جب ہم خُدا کے ساتھ رُوبرُو بات کرتے ہُوئے مُوسیٰ کے تجربے کے بارے میں پڑھتے ہیں تو یہ تبدیلی نظر آتی ہے۔ اُس گُفتگُو کے دوران میں، خُدا نے بار بار مُوسیٰ کو اپنی اِلہٰی میراث کے بارے میں یہ کہتے ہُوئے تعلیم دی، ”مُوسیٰ، … تُو میرا بیٹا ہے۔“ خُدا نے وضاحت کی کہ مُوسیٰ، اُس کے اِکلوتے کی شبیہ ہے۔ مُوسیٰ کو واضح طور پر سمجھ آ گیا کہ وہ کون تھا، کہ اُسے ایک کام کرنا تھا، اور اُس کا ایک پیار کرنے والا آسمانی باپ تھا۔
اِس تجربے کے بعد، دُشمن اُس کو آزمانے آیا اور فوری طور پر یہ کہہ کر اُس سے مُخاطب ہُوا، ”مُوسیٰ اِبنِ آدم۔“ یہ دُشمن کے ہتھیاروں میں ایک عام اور خطرناک آلہ ہے۔ اگرچہ ہمارا آسمانی باپ مُستقل اور بڑی محبّت سے ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ہم اُس کے بچّے ہیں، دُشمن ہمیشہ ہمیں ہماری کم زوریوں کے ذریعے مُخاطب کرے گا۔ لیکن مُوسیٰ پہلے ہی جان چُکا تھا کہ وہ ”اِبنِ آدم“ سے کہیں زیادہ تھا۔ اُس نے شیطان کو بولا: ”تُو کون ہے؟ پَس دیکھ، مَیں خُدا کا بیٹا ہُوں۔“ اِسی طرح، جب ہم فانیت کی چنوتیوں کا سامنا کرتے ہیں یا جب ہم محسُوس کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں ہماری کم زوریوں سے مُخاطب کر رہا ہے، تو ہمیں اِس علم میں مضبُوطی سے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے کہ ہماری اصل پہچان کیا ہے۔ ہمیں زمینی نہیں بلکہ آسمانی تصدیق تلاش کرنی چاہیے۔ اور جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو ہم بھی دلیری سے یہ اعلان کر سکتے ہیں، ”مَیں طفلِ خُدا ہُوں۔“
نوجوان بالغِین کے لیے عالم گیر عِبادت میں، ہمارے پیارے صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا: ”تو آپ کون ہیں؟ اَوّل اور سب سے اہم، آپ طفلِ خُدا، فرزندِ عہد، اور یِسُوع مسِیح کے شاگرد ہیں۔ جب آپ اِن سچّائیوں کو قبُول کریں گے، تو ہمارا آسمانی باپ آپ کو اپنی مُقدّس موجودگی میں اَبَدی زندگی گُزارنے کے حتمی مقصد تک پہنچنے میں مدد دے گا۔“
یہ کوئی اِتفاق نہیں ہے کہ مُمکنہ طور پر سب سے زیادہ دہرائے جانے والے صحیفے میں، خُدا ہمیں اپنے ساتھ ہمارے تعلقات کی یاد دلاتا ہے۔ اُن تمام ناموں میں سے جن سے اُس کی شناخت ہو سکتی تھی، اُس نے ہمیں عِشائے ربانی کی دُعا میں اُسے ”اے خُدا، اَبَدی باپ“ بُلانے کو کہا۔
جب ہم حقیقی طور پر جان لیں گے کہ ہم کون ہیں، تو ہم زیادہ مضبُوطی سے یقین کریں گے کہ ہمارے پیارے آسمانی باپ نے ہمارے لیے دوبارہ اُس کے ساتھ رہنے کے لیے واپس لوٹنے کا منصُوبہ فراہم کِیا ہے۔ ایلڈر پیٹرک کیرون نے سِکھایا: ”ہمارے باپ کا خُوب صُورت منصُوبہ، حتیٰ کہ اُس کا ’شان دار‘ منصُوبہ، آپ کو گھر لانے کے لیے تیار کِیا گیا ہے، نہ کہ آپ کو محرُوم رکھنے کے لیے۔ … خُدا مُسلسل آپ کے پیچھے آتا ہے۔“ ایک لمحے کے لیے اِس کے بارے میں سوچیں—ہمارا قادِرِ مُطلَق، پیارا باپ ”مُسلسل آپ کے پیچھے آتا ہے۔“
اِس سے قطعِ نظر کہ ہم اپنی شاگردی کے راستے پر کہاں ہیں، ہماری زندگیاں بُنیادی طور پر بدل جائیں گی اگر ہم بہتر طور پر سمجھیں کہ ہم اصل میں کون ہیں۔ کیا مَیں دو طریقے تجویز کر سکتا ہُوں جن سے ہم اِس فہم کو گہرا کر سکتے ہیں۔
پہلا، دُعا
جب نجات دہندہ اپنی فانی خِدمت کا آغاز کر رہا تھا، تو اُسے بیابان میں لے جایا گیا کہ ”خدا کے ساتھ رہے۔“ شاید ہمیں اپنی سوچ کو یوں بدلنے کی ضرورت ہے کہ صرف دُعا کرنے کی بجائے ہم اتنا وقت نکالیں کہ ہر روز واقعی ”خُدا کے ساتھ رہ سکیں۔“
مَیں نے محسُوس کِیا ہے کہ جب مَیں دُعا کرنے سے پہلے چند منٹ باپ سے بات کرنے کی تیاری کرتا ہُوں تو میری دُعاؤں کا معیار بہتر ہو جاتا ہے۔ صحیفے ہمیں دِکھاتے ہیں کہ یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ خواہ وہ جوزف سمِتھ ہو؛ یا ہیلیمَن کا بیٹا نیفی؛ یا انُوس، سب نے خُدا کے ساتھ اپنی درج شُدّہ دُعا سے پہلے کِسی نہ کِسی طرح غور و فکر کِیا۔ انُوس نے کہا کہ اُس کی جان کو بھُوک لگی جب اُس کے باپ کے الفاظ اُس کے دِل کی گہرائی تک پُہنچے۔ اِن مثالوں میں سے ہر ایک ہمیں یہ سِکھاتی ہے کہ ہمیں ہر روز ”خُدا کے ساتھ“ وقت کے لیے رُوحانی تیاری کی ضرورت ہے۔
نیفیوں کے لیے، نجات دہندہ نے ہدایت دی، ”بلکہ تُو، جب دُعا کرے، تو اپنی کوٹھری میں جا، اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشِیدگی میں ہے دُعا کر۔“
چاہے وہ کوٹھری میں ہو یا بیڈ رُوم میں، اُصُول یہ ہے کہ ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں آپ دُعا کرنے کے لیے اکیلے ہوں، اپنی جان کو ساکت ہونے کی اِجازت دیں، اور ”دبی ہُوئی دھیمی آواز“ کی ترغیبات کو محسُوس کریں۔ ہم اُن چیزوں پر غور کرنے سے تیار ہو سکتے ہیں جن کے لیے ہم شُکر گُزار ہیں اور وہ سوالات یا خدشات جو ہم اپنے باپ کے پاس لانا چاہیں گے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری دُعائیں محض رٹی رٹائی نہ ہوں بلکہ ہم اپنے باپ سے گُفتگُو کریں، اگر مُمکن ہو تو بلند آواز میں۔
مُجھے احساس ہے کہ ہماری زندگیوں کی افراتفری میں، جب ہم ننھے مُنّے بچّوں کے ساتھ نِمٹ رہے ہوتے ہیں یا ایک میٹنگ سے دُوسری کی طرف دوڑ رہے ہوتے ہیں، تو شاید ہمارے پاس پُرسکُون کوٹھریوں اور پُرفکر تیاری کا عیش و آرام میسر نہ ہو—لیکن وہ خاموش، مُختصر، اور فوری دُعائیں بُہت زیادہ معنی خیز ہو سکتی ہیں جب ہم نے دِن کے شُروع میں ”خدا کے ساتھ رہنے“ کی کوشش کی ہو۔
کُچھ ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جنھوں نے طویل عرصہ سے دُعا نہیں کی ہے یا دیگر جنھوں نے محسُوس کِیا ہے کہ اُن کی دُعائیں سنی نہیں جا رہی ہیں۔ مَیں آپ سے وعدہ کرتا ہُوں کہ آپ کا آسمانی باپ آپ کو جانتا ہے، آپ سے پیار کرتا ہے، اور آپ سے سُننا چاہتا ہے۔ وہ آپ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ یاد رکھیں کہ آپ کون ہیں۔
حال ہی میں ایلڈر جیفری آر ہالینڈ نے سِکھایا: ”آپ جتنی بھی زیادہ دُعا کر رہے ہیں، اُس سے بھی زیادہ دُعا کریں۔ آپ جتنی بھی زور و شور سے دُعا کر رہے ہوں، اور زیادہ زور و شور سے دُعا کریں۔
اپنی دُعاؤں کی تعداد اور جوش و خروش کو بڑھانے کے علاوہ، روزانہ مورمن کی کِتاب کا مُطالعہ کرنا اور ہَیکل میں عِبادت کرنا ہمارے ذہنوں کو مکاشفہ کے لیے تیار کرنے میں مدد دے گا۔ جب ہم اپنے آسمانی باپ کے ساتھ اپنے رابطے کو بہتر بنانے کی کوشِش کرتے ہیں، تو وہ ہمیں زیادہ گہرے طور پر محسُوس کرنے کی برکت دے گا کہ ہم اُس کے بچّے ہیں۔
دُوسرا، جانیں کہ یِسُوع ہی المسِیح ہے
آسمانی باپ کی اپنے بچّوں کی حیثیت سے ہمارے لیے محبّت کا سب سے بڑا ظہور یہ حقیقت ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے کو، ہمارا شخصی نجات دہندہ بنا کر بھیجا، تاکہ گھر واپس آنے میں ہماری مدد کی جا سکے۔ پس، ہمیں اُس کو جاننے کی ضرورت ہے۔
برسوں پہلے، بطور صدرِ سٹیک خِدمت کرتے ہُوئے، مَیں نے ایک بھائی کو ہَیکل میں آرڈیننس ورکر کے طور پر خِدمت کرنے کے لیے نامزد کِیا۔ یہ وضاحت کرنے کے بعد کہ وہ کِس قدر ایک شان دار آرڈیننس ورکر ہوں گے، مَیں نے غلطی سے ”تائید نہ کریں،“ پر کِلک کر دیا اور نامزدگی بھیج دی۔ پیغام کو واپس لینے میں ناکامی کے بعد، مَیں نے ہَیکل کے صدر کو فون کِیا اور کہا: ”مَیں نے ایک خوفناک غلطی کر دِی ہے۔“ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہَیکل کے اُس اچھے صدر نے کہا، ”صدر ائیر، کوئی ایسا کام نہیں جو آپ نے کِیا ہو جس کی مُعافی اور آخرکار تصحیح نہیں کی جا سکتی۔“ کیا زبردست سچ ہے۔ درحقیقت، یسوع مسیح ”بچانے میں قادِر“ ہے۔
2019 میں اِجازت نامہ برائے ہَیکل کے سوالات میں گہری تبدیلی آئی۔ پہلے، ایک سوال یہ پُوچھا جاتا تھا کہ کیا آپ یِسُوع مِسیح کی، بحیثیت نجات دہندہ اور مُخلصی دینے والے کی گواہی رکھتے ہیں۔ اب یہ پُوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ یِسُوع مِسیح کی، بحیثیت اپنے نجات دہندہ اور مُخلصی دینے والے کی گواہی رکھتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح کا کفّارہ نہ صرف دُوسروں کے لیے کام کرتا ہے؛ بلکہ یہ آپ کے اور میرے لیے بھی کام کرتا ہے۔ وہ میرا نجات دہندہ ہے۔ وہ آپ کا نجات دہندہ ہے۔ اِنفرادی طور پر۔ صرف اُس کے وسیلے سے آپ اور مَیں اپنے باپ کے ساتھ رہنے کے لیے واپس لوٹ سکتے ہیں۔
پس، بھائیو اور بہنو، آئیں ہم اُس کے طالب ہوں۔ آئیں ہم باپ اور ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ اُس کے الہٰی تعلق کا مُطالعہ کریں۔ آئیے ہم مُخلصی بخش محبّت کے گیت کا تجربہ کریں جو اپنے مُخلصی دینے والے کے ذریعے ہم میں سے ہر ایک کو ذاتی طور پر ہوتا ہے جب ہم توبہ کرتے ہیں۔ جب ہم اُسے جانیں گے ”جو بچانے میں قادِر ہے،“ تو ہم یہ سمجھ پائیں گے کہ ہم، بحیثیت طفلِ خُدا، اُس کی خُوشی—اُس کی سب سے اہم ترجیح—اور درحقیقت ہم میں سے ہر ایک نجات پانے کے لائق ہے۔
مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ ہمارے پاس ایک محبّت کرنے والا آسمانی باپ ہے۔ جب ہم بڑی دُعا، شخصی مُکاشفہ، اور یِسُوع مسِیح کے پاس آنے کے ذریعے اُس اَبَدی سچّائی کو جان پاتے ہیں، تو ہم اب اور ہمیشہ دلیری سے یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ، ”مَیں ہُوں طفلِ خُدا۔“ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔