مجلسِ عامہ
خُداوند اپنے کام میں تیزی لا رہا ہے
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


14:55

خُداوند اپنے کام میں تیزی لا رہا ہے

جب خُداوند اپنے کام میں تیزی لاتا ہے، تو ہمیں اُن سے محبّت، نِگہداشت، اور خِدمت کرنی چاہیے جو اُس کی اِنجِیل کو قبُول کرتے ہیں۔

چارلس ڈِکنز نے اپنے کلاسِک ناول دو شہروں کی کہانی کا آغاز اِس مشہُور و معرُوف فِقرے سے کِیا ”یہ سب سے بہترین دَور تھا، اور سب سے بدترین دَور بھی۔“ ایک لحاظ سے، یہ ہمارے دَور کے لیے بھی سچ ہے۔

ہم ایک ہنگامہ خیز دَور میں رہ رہے ہیں جب ”ساری زمین اَفراتفری کا شِکار [ہے]۔“ یِسُوع مسِیح کے پیروکاروں کی حیثیت سے، صدر رسل ایم نیلسن کی صالحین بننے کی نصیحت کو، ایلڈر گیری ای سٹیون سن نے آج صُبح بڑی عُمدگی سے اُجاگر کِیا۔ یہ ”بدترین دَور“ کے لیے اِتحاد، اِطمینان، اور شِفا کو فروغ دینے کا لازمی حِصّہ ہے۔

ہم ”سب سے بہترین دَور“ میں بھی جی رہے ہیں، اور مَیں اِسی پر زور دُوں گا۔ عقائد اور عہُود کی فصل 1 کے دیباچہ میں، خُداوند نے اِعلان فرمایا، کہ اِنجِیل کی معمُوری کی ”مُنادی … دُنیا کی اِنتہاؤں تک کی جائے گی۔“ خُداوند واقعی ہمارے دَور میں اپنے کام میں تیزی لا رہا ہے۔ ہمیں اِس تیزی کے لیے گہرے طور پر شُکر گُزار ہونا چاہیے، جو اِن مُشکل اوقات کے باوجُود رُونُما ہُوئی ہے اور ہو رہی ہے۔ ہم اَیسے دَور میں رہتے ہیں جب خُداوند کے پیروکاروں کو اُس کی آواز سُننے اور کھُلے دِل و دِماغ سے جواب دینے کا اِعزاز حاصِل ہے۔ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے اَرکان، جو نجات دہندہ اور اُس کے حُکموں کے ساتھ مُخلص ہیں، مقصدِ حیات اور گہرا شخصی اِطمینان پا رہے ہیں۔

کلِیسیائی تاریخ کے مُختلف اَدوار میں، عہد کی راہ پر گامزن ہونے والے اَفراد کی تعداد میں نُمایاں اِضافہ ہُوا ہے۔ اَیسا ہی ایک دَور 1837 اور 1850 کے درمیان پیش آیا۔ خُداوند کی بحال شُدّہ کلِیسیا کے چند اِبتدائی رَسُولوں نے برطانیہ میں مِشنری خِدمات اَنجام دیں۔ اِن مِشنری خِدمات کے نتیجے میں ہزاروں اَفراد کلِیسیا میں شامِل ہُوئے، اور 1850 تک ریاست ہائے مُتحدہ اَمریکہ کی نِسبت برطانیہ میں کلِیسیا کے اَرکان زیادہ تھے۔ اُس وقت، خُداوند نے اُن مُقدّسِین کو یُوٹاہ میں جمع ہونے کی ہدایت فرمائی۔ ایک بُہت بڑے پیمانے پر ہِجرت ہُوئی، جس میں بعض اَفراد کو پرپیچوئیل ایمیگریٹنگ فنڈ کے فراہم کردہ قرضوں کی مُعاونت حاصِل تھی۔

مُجھے 1852 میں اِنگلینڈ اور ویلز سے ایک بڑی تعداد میں تبدیل شُدگان کی سالٹ لیک وادی میں آمد کا واقعہ بُہت پسند ہے۔ صدارتِ اوّل نے اِس گروہ کا اِستقبال کیپٹن پِٹ کے بینڈ کے ہم راہ، ایمیگریشن کینن کے دہانے پر کِیا تھا۔ Deseret News نے اُن کا ذِکر یُوں کِیا ”مُہاجرین کا ایک گروہ جس میں [شامِل] بہنیں اور بچّے، پیدل چلتے ہُوئے، دھُوپ سے جھُلسے ہُوئے، موسم کی سختیوں سے تھکے ماندے، مگر لاچار نہیں؛ اُن کے دِل مُنور اور بلند حوصلہ تھے، جو اُن کے شادمان اور مَسرُور چہروں سے بالکل عیاں تھے۔“

جب وہ ”ہَیکل کی اَراضی سے گُزرے، … تو شہر کے مُختلف حِصّوں سے ہزاروں مَرد، عَورتیں، اور بچّے، اِس شان دار اور پُرتپاک اِستقبال میں شامِل ہونے کی خاطر جمع ہُوئے تھے۔“ صدر بریگھم ینگ اُن سے مُخاطب ہُوئے: ”خُداوند اِسرائیل کا خُدا آپ کو برکت دے۔ … ہم نے آپ کے لیے لگاتار دُعائیں کی ہیں؛ بِلا ناغہ، ہزاروں مِنتیں آپ کے لیے، اُس ہستی کے حُضُور پیش کی گئی ہیں جس نے ہمیں اِسرائیل کو اِکٹھا کرنے، اِنجِیل کی مُنادی کے ذریعے بنی نوعِ اِنسان کو بچانے، اور اُنھیں مسِیحا کی آمدِ ثانی کے لیے تیار کرنے کا حُکم صادِر کِیا ہے۔“

اِس پُر مَسرت موقع کی رُوح میں، مَیں ایک بار پھر تمام نئے تبدیل شُدگان اور خُداوند کی کلِیسیا میں واپس لوٹنے والوں کو یقین دِلاتا ہُوں: ہم آپ سے محبّت کرتے ہیں؛ ہمیں آپ کی ضرُورت ہے؛ خُداوند کو آپ کی ضرُورت ہے۔ ہم شاید آپ کا اِستقبال بینڈ باجوں سے نہ کریں، لیکن ہم دُعا کرتے ہیں کہ آسمان کی برکتیں راہِ عہد پر پیش رفت کرنے کی آپ کی کاوِشوں میں ہر قدم شامِلِ حال ہوں جو سیلیسٹیئل بادشاہی میں خُدا باپ اور یِسُوع مسِیح کی طرف لے جاتی ہیں۔

اِس بات کے واضح شواہِد موجُود ہیں کہ ہمارے دَور میں یِسُوع مسِیح پر اِیمان میں اِضافہ ہو رہا ہے۔ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام میں، رُجُوع لانے والوں کی تعداد اور اُن کی شِرکت میں غیر معمُولی اِضافہ ہُوا ہے۔ پچھلے 36 ماہ میں، لگ بھگ 900،000 تبدیل شُدگان کلِیسیا میں شمُولیت اِختیار کر چُکے ہیں۔ یہ تبدیل شُدگان کلِیسیا کی کُل رُکنیت کا تقریباً 5 فی صد ہیں۔ ہم نئے اَراکِین کو کھُلے دِل سے خُوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کی دِلی قدر کرتے ہیں جنھوں نے یہ راہ چُنی ہے۔

گُزشتہ 36 ماہ میں یہ 900،000 تبدیل شُدگان 1940 میں کلِیسیا کی 110وِیں سال گِرہ کے موقع پر کُل رُکنیت سے زیادہ ہیں، جو اُس وقت محض 860،000 تھی۔ یہ وہی سال تھا جس میں ایلڈر جیفری آر ہالینڈ، ایلڈر ڈئیٹر ایف اُکڈورف، اور مَیں پیدا ہُوئے تھے۔

یہ زبردست نئے تبدیل شُدگان دُنیا کے ہر کونے سے آئے ہیں۔ اِس سال کے پہلے چھ مہینوں میں، یورپ، اَفریقہ، ایشیا، پیسیفک، اور لاطینی اَمریکہ میں پچھلے سال کے مُقابلے میں تبدیل شُدگان کی تعداد میں 20 فی صد سے زیادہ اِضافہ ہُوا ہے۔ شُمالی اَمریکہ میں ہم نے 17 فی صد اِضافہ دیکھا ہے۔ خُداوند کا کام زبردست طریقوں سے مُسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بڑھتی ہُوئی تعداد واضح گواہی ہے کہ اِنجِیل دِلوں کو چھُو رہی ہے اور ہر جگہ زِندگیاں بدل رہی ہے۔

ہمارے دَور میں، یہ بیش قِیمت تبدیل شُدگان اَب کسی مرکزی مقام پر جمع نہیں ہوتے۔ کلِیسیائی اَرکان کے اِیمان اور تقدِیس کی بدولت، دُنیا بھر میں—عِبادت گاہوں اور ہَیکلوں کی تعمیر سمیت، جماعتوں کی مُعاونت کے لیے—وسائل دَستیاب ہیں۔ ضرُوری کہانتی کُنجیوں اور مُہیا کردہ وسائل کے ساتھ، نجات بخش رُسُوم اَب دُنیا کے زیادہ تر حِصّوں میں دَستیاب ہیں۔

اِس سے قطعِ نظر کہ ہم کہاں رہتے ہیں، موجُودہ اَرکان کو ہزاروں لاکھوں نئے اَرکان کا ویسے ہی خیرمَقدم کرنا ہو گا جس طرح ہم نے اپنی اِبتدائی تاریخ میں اِنگلینڈ اور ویلز کے مُقدّسِین کا خیرمَقدم کِیا جن کا مَیں نے ذِکر کِیا۔ اِس عِبادت میں مُجھے ایلڈر گیرٹ ڈبلیو گانگ کا وعظ بُہت پسند آیا جس میں اُنھوں نے ہمیں سِکھایا کہ کسی کو بھی جذباتی یا رُوحانی طور پر تنہا نہیں بیٹھنا چاہیے۔

ہمارا مُقدّس فرِیضہ نئے اور واپس لوٹنے والے اَراکین کو قبُول اور خُوش آمدید کرنا ہے۔ جب خُداوند اپنے کام میں تیزی لاتا ہے، تو ہمیں اُن سے محبّت، نِگہداشت، اور خِدمت کرنی چاہیے جو اُس کی اِنجِیل کو قبُول کرتے ہیں۔ ہم صِیُونی اُمّت کی تعمیر کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، جہاں ہم ”یک دِل اور یک ذہن ہوں، اور راست بازی سے [رہتے ہیں]۔“ خُداوند کے ساتھ ایک ہونے کے لیے، ضرُور ہے کہ ہم خُداوند کے حُضُور ایک ہوں۔ بپتِسما کی تاریخ سے قطعِ نظر، تمام اَرکان، دُوسروں کو خُوش آمدید کہنے کی ذِمہ داری رکھتے ہیں۔

کلِیسیا کے اَرکان کے لیے میری مشورت یہ ہے کہ وہ اُن بیش قِیمت چُنیدہ لوگوں کی دیکھ بھال کریں، اور اُن سے محبّت کریں جنھوں نے یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کو قبُول کِیا ہے۔

صدر گورڈن بی ہِنکلی نے سِکھایا ہے کہ ایک تبدیل ہونے والے کو ”ایک دوست، ایک ذِمہ داری، اور ’خُدا کے عُمدہ کلام‘ سے پرورش“ کی ضرُورت ہوتی ہے (مرونی 6:‏4)۔“ ہم اُن دوستوں میں شامِل ہو سکتے ہیں جو اِن نئے تبدیل شُدگان کو یقین دِلاتے ہیں کہ وہ ہم سے وابستہ ہیں اور محض مہمان نہیں ہیں۔ ہم اُن کی دَست گِیری کر سکتے ہیں کہ وہ جانیں کہ وہ یِسُوع مسِیح کے شاگِرد ہیں جو دُوسروں کی خِدمت گُزاری کر سکتے اور خِدمت کرنے کی بُلاہٹیں قبُول کر سکتے ہیں۔ تبدیل شُدگان کو کُل وقتی مِشن پر جانے پر غور کرنا چاہیے۔ سب کو مِثلِ مسِیح زِندگی گُزارنے کی کاوِش کرنے کا عزّم کرنا چاہیے۔

بُہتیرے لوگ بڑی ذاتی قُربانی کے ساتھ کلِیسیا میں شامِل ہوتے ہیں اور اُنھیں اپنے ہم عصر مُقدّسِین سے محبّت اور مُعاونت کی اَشد ضرُورت ہوتی ہے۔

آپ میں سے جو اِیمان میں نئے یا واپس لوٹ رہے ہیں، اُنھیں چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اپنے ساتھ صبر سے کام لیں۔ مِشنریوں نے آپ کو لازمی تعلیم دی ہے اور بادشاہی کے عہُود اور رُسُومات کی وضاحت کی ہے، جو صحائف اور میری اِنجِیل کی مُنادی کرو میں بیان کی گئی ہیں۔

رُسُوم اور عہُود کو پانا اور حُکموں کو ماننا ضرُوری ہے۔ سرفرازی پانے کے لیے ضرُوری عہُود پر توجہ مرکُوز کریں۔ اِنجِیل سرفرازی کو مُمکن بناتی ہے، جس کے لیے خُدا کے ساتھ مُقدّس عہُود باندھنے اور اُن پر قائم رہنے کی ضرُورت ہوتی ہے۔ بپتِسما، اِستحکام، اور آدمیوں کے لیے ملکِ صِدق کی کہانت کی عطا کے عِلاوہ، وہ عہُود جو ہم باندھتے ہیں ہَیکل میں اَنجام دِیے جاتے ہیں۔ مرحُومین کے لیے، اِن نجات بخش رُسُوم میں سے ہر ایک صِرف ہَیکل میں اَدا کی جاتی ہے۔ جس کے مُطابق، خُود کو ہَیکل کے لیے تیار کرنا آپ کا فوری مقصد ہونا چاہیے۔

بعض اوقات آپ محسُوس کریں گے آپ کا علم ناکافی ہے۔ اِنجِیلی عِلم ایک بُہت بڑی نعمت ہے جو وقت کے ساتھ دھیرے دھیرے حاصِل ہوتی ہے، لیکن یہ نجات بخش رسم نہیں ہے۔ اِنجِیل عِلم کا اِمتحان نہیں ہے۔ اَلبتہ، جیسے صدر نیلسن نے وعدہ فرمایا ہے: ”جب آپ ہر روز دُعاگو ہو کر مورمن کی کِتاب کا مُطالعہ کرتے ہیں، تو آپ ہر روز بہتر فیصلے کریں گے۔ … جب آپ اُس پر غور کریں گے جِس کا آپ مُطالعہ کرتے ہیں، تو آسمان کے دریچے کُھل جائیں گے، اور آپ اپنے شخصی سوالوں کے جواب اور خُود اپنی زِندگی کے لیے ہدایت پائیں گے۔“

اِس کے عِلاوہ، ہر سال بروز اِتوار کی عِبادات میں کلِیسیا کے نصاب میں پُرانا عہد نامہ، نیا عہد نامہ، مورمن کی کِتاب، اور عقائد اور عہُود کا سلسلہ وار احاطہ کِیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب آپ کا اِنجِیلی عِلم بڑھے گا تو آپ زیادہ پُراِعتماد محسُوس کریں گے۔ صحائف کا باقاعدہ مُطالعہ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل میں آپ کی تبدیلی کو گہرا کر کے آپ کی زِندگی کو برکت اور تقویت دے گا۔

یِسُوع مسِیح کی خالص تعلیم کو سیکھنا زِندگی بھر کی جُستجُو ہے، جس میں عقائد کو سمجھنا اور مِثلِ مسِیح زِندگی بسر کرنا دونوں شامِل ہیں۔ ضرُوری عہُود اَیسا بُنیادی ڈھانچہ مُہیا کرتے ہیں جنھیں ہم راہِ عہد کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ اُصُول صدر نیلسن نے قوّی طور پر سِکھائے ہیں۔ تمام اَرکان، بالخصُوص نئے اور واپس لوٹنے والے، عہُود اور راہِ عہد پر اُس کے نبُوتی پیغامات کا مُطالعہ کرنے اور اپنانے سے برکت پائیں گے۔

اگر آپ سرفرازی کے لیے ضرُوری ہر عہد کو لائق طور پر پانے کا ہدف مقرر کرتے ہیں، تو آپ اُس شاہراہ پر گامزن ہوں گے جو سیلیسٹیئل بادشاہی کی طرف جاتی ہے۔ ہَیکل اور ہَیکل کی رُسُوم ہماری توجہ کا مرکز ہونی چاہئیں۔ زیادہ تر عہُود ہر فرد کے لیے دَستیاب ہیں۔ ایک عہد، اَبَدی نِکاح، جیون ساتھی کی سنگت میں اپنی کاوِشوں کو مُتحد کرنے پر مُشتمل ہے۔ ہمارا مقصد اُس اَبَدی جیون ساتھی کو تلاش کرنا ہونا چاہیے۔

بہرحال، اگر اِس وقت اَبَدی نِکاح مُمکن نہ ہو تو مایُوس نہ ہوں۔ نبیوں نے سِکھایا ہے کہ جو وفادار اَرکان حُکموں کو مانتے ہیں اُن سے کوئی بھی برکت روکی نہیں جائے گی۔ مورمن کی کِتاب کے ایک نبی، بنیامین بادشاہ، نے بڑی خُوب صُورتی سے فرمایا: ”جو خُدا کے حُکموں کو مانتے ہیں … وہ سب باتوں میں مُبارک ہیں، … اور اگر وہ آخِر تک وفادار [رہیں] گے … وہ کبھی نہ ختم ہونے والی اِقبال مندی کی حالت میں خُدا کے ساتھ قیام کریں گے۔“

آپ جان لیں گے، اگر آپ کو پہلے معلُوم نہیں ہے، کہ اَرکان کامِل نہیں ہوتے۔ آشکار تعلیم واضح کرتی ہے کہ زمین پر اپنے اِس فانی قیام کے دوران میں، ہم غلطیاں کریں گے۔ ہم ایک غیر کامِل اور زوال پذیر دُنیا میں رہتے ہیں، نہ کہ کسی سیلیسٹیئل دُنیا میں۔ یہ حیاتِ فانی آزمایش کا وقت ہے، جس میں توبہ کرنے اور خُود کو ثابت کرنے کے مُستقل مواقع موجُود ہیں۔

جب ہم یِسُوع مسِیح کی مانِند بننے کے طالِب ہوتے ہیں تو ہم سب اپنی ناکامی کو محسُوس کرتے ہیں۔ جب ہم کاملِیت کے معیار پر پُورا نہ بھی اُتریں تو اُس کا کفّارہ ہمیں ہر روز توبہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جیسے، مورمن کی کِتاب کے ایک اور نبی، نِیفی نے فرمایا: ”[ہم] ضرُور مسِیح میں ثابت قدمی کے ساتھ، کامِل درخشاں اُمید پا کر، اور خُدا اور کُل بنی نوع اِنسان کی محبّت میں آگے بڑھیں۔ پَس، اگر تُم مسِیح کے کلام پر ضیافت کرتے ہُوئے آگے بڑھو گے، اور آخِر تک برداشت کرو، تو دیکھو، باپ یُوں فرماتا ہے: تُم اَبَدی زِندگی پاؤ گے۔“

جب ہم اپنے دَور کی چنوتیوں پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مُنّجی بھی، اپنی فانی خِدمت کے دوران میں، ہنگامہ خیز اور پُرتشدد دَور میں رہا ہے۔ اُس کی توجہ اُس دَور کے سیاسی مسائل پر نہیں تھی؛ بلکہ مُقدّسِین کی کاملیت پر تھی۔

اِک اَیسے جہان میں جو مُسلسل اَفراتفری کا شِکار رہا ہے مُنجّی اور اُس کے عقائد و تعلیمات کی پیروی کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ اپنی حیاتِ فانی کے دوران مُنّجی کے لیے اُس ہنگامہ خیز دُنیا میں یہ آسان نہیں تھا، یہ ہمارے اِبتدائی قائدین اور اَرکان کے لیے آسان نہ تھا، اور یہ ہمارے واسطے بھی آسان نہیں ہے۔ خُوش قِسمتی سے، زِندہ نبی ہمیں ہمارے دَور کے لیے خاص طور پر درکار راہبری فراہم کرتے ہیں۔ صدر ڈیلن ایچ اوکس اِس رُوحانی طور پر قوّی مِیراث کو جاری رکھیں گے۔

مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کی تعلیم اَبَدی اور سچّی ہے۔ مَیں اپنی ٹھوس اور یقینی گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح زِندہ ہے، اور اُس کے کفّارہ کی بدولت، ہم اُس کے ساتھ ایک ہو سکتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. چارلس ڈکنز، دو شہروں کی کہانی (1859)، 1۔

  2. ڈِکنز کے موضُوعات میں سے ایک سماجی بےچینی کے وقت میں اِنفرادی تبدیلی کا خیال تھا۔

  3. عقائد اور عہُود 45:‏26۔

  4. دیکھیے گیری ای سٹیون سن، ”مُبارک ہیں جو صُلح کراتے ہیں،“ لیحونا، نومبر 2025، 6–9۔

  5. عقائد اور عہُود 1:‏23۔

  6. دیکھیے عقائد اور عہُود 88:‏73۔

  7. دیکھیے عقائد اور عہُود 59:‏23؛ مزید دیکھیے یُوحنّا 14:‏27۔

  8. دیکھیے اَعمال 2:‏41۔

  9. دیکھیے عقائد اور عہُود 112۔ یہ مُکاشفہ 23 جُولائی، 1837 کو نازل ہُوا، جس دِن اِس دَور میں اِنگلینڈ میں پہلی بار اِنجِیل کی مُنادی کی گئی تھی۔ اِن مِشنوں پر مزید جاننے کے لیے، دیکھیے جیمز بی ایلن، رونلڈ کے ایسپلن، اور ڈیوڈ جے وِٹاکر، Men With a Mission: The Quorum of the Twelve Apostles in the British Isles, 1837–1841 (1992).

  10. اِن میں سے زیادہ تر تبدیل شُدگان محنت کش طبقے سے آئے تھے۔ چارلس ڈِکنز نے اِن میں سے کُچھ کا مُشاہدہ کِیا جب وہ ایمیزون جہاز پر، ریاست ہائے مُتحدہ اَمریکہ کو اپنے سفر کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ اپنی تشریح میں جانب دار تھا۔ اُس نے اُنھیں ”اپنے طبقے میں، اِنگلینڈ کے بہترین لوگ“ قرار دِیا (“The Uncommercial Traveler,” All the Year Round,4 جُولائی، 1863، 446)۔ مزید دیکھیے 1 کُرنتھِیوں 1:‏26–28۔

  11. دیکھیے “Arrival from England, by the ‘Perpetual Emigrating Fund,’” Deseret News, Sept. 18, 1852, 90.

  12. دیکھیے عقائد اور عہُود 76:‏62، 70؛ مزید دیکھیے 1 کرنتھوں 15:‏40–42۔

  13. اَرکان اور شُماریاتی ریکارڈز اور مِشنری ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ معلُومات۔

  14. اَرکان اور شُماریاتی ریکارڈز اور مِشنری ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ معلُومات۔

  15. اَرکان اور شُماریاتی ریکارڈز کی طرف سے فراہم کردہ معلُومات۔

  16. اَرکان اور شُماریاتی ریکارڈز اور مِشنری ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ معلُومات۔

  17. 1890 تک، کلِیسیائی راہ نُماؤں نے اَرکان کی حوصلہ اَفزائی کرنا شُروع کی کہ وہ یُوٹاہ اِکٹھے ہونے کی بجائے اپنی آبائی سرزمینوں پر رہیں۔ ریاست ہائے مُتحدہ اَمریکہ اور کینیڈا سے باہر پہلی سٹیک 1920 میں قائم کی گئی تھی اور شُمالی اَمریکہ سے باہر پہلی سٹیک نیوزی لینڈ میں بنائی گئی تھی۔ (see Brandon S. Plewe, ed., Mapping Mormonism: An Atlas of Latter-day Saint History [2014], 184–85)۔

  18. دیکھیے عقائد اور عہُود 110:‏11–16۔

  19. دیکھیے گیرٹ ڈبلیو گانگ، ”کوئی تنہا نہ بیٹھے،“ لیحونا، نومبر 2025، 40–43۔

  20. مُوسیٰ 7:‏18۔

  21. دیکھیے یُوحنّا 17:‏20–21؛ 1 کُرنتھِیوں 12:‏11–31۔

  22. گورڈن بی ہنکلی، ”رُجُوع لانے والے اور ینگ مین،“ اِنزائن، مئی 1997، 47۔

  23. دیکھیے یعقُوب 2:‏5؛ مزید دیکھیے متّی 19:‏29؛ رومیوں 2:‏11؛ اِفسیوں 2:‏19؛ مُضایاہ 18:‏8–9۔

  24. دیکھیے میری اِنجِیل کی مُنادی کرو: یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کے اِشتراک کے لیے راہ نُما کِتاب (2023)، 17۔

  25. دیکھیے عقائد اور عہُود 14:‏7۔

  26. رسل ایم نیلسن، ”مورمن کی کِتاب: اِس کے بغیر آپ کی زِندگی کیسے ہو گی؟،“ لیحونا، نومبر 2017، 62–63؛ مزید دیکھیے سپنسر ڈبلیو کِمبل: ”جب اَیسا لگتا ہے کہ کوئی اِلہٰی کان شنوا نہیں، اور کوئی اِلہٰی آواز مُخاطب نہیں، … اگر [ہم] صحائف میں [اپنے آپ کو] غرق کرتے ہیں، تو فاصلے محدُود ہو جاتے ہیں اور رُوحانیت لوٹ آتی ہے“ (کلِیسیائی صدُور کی تعلیمات: سپنسر ڈبلیو کِمبل [2006]، 67)۔

  27. دیکھیے یُوحنّا 5:‏39۔

  28. دیکھیے، مِثال کے طور پر، رسل ایم نیلسن، ”خُدا کو غالِب آنے دو،“ لیحونا، نومبر 2020، 92–95؛ ”رُوحانی جوش کی طاقت،“ لیحونا، مئی 2022، 97–100، ”دُنیا پر غالِب آئیں اور آرام پائیں،“ لیحونا، نومبر 2022، 95–98۔

  29. مُضایاہ 2:‏41۔

  30. دیکھیے ایلما 34:‏32۔

  31. 2 نِیفی 31:‏20۔

  32. دیکھیے اِفِسیوں 4:‏11–15۔

  33. دیکھیے یُوحنّا 17:‏20–22۔