مجلسِ عامہ
یِسُوع مسِیح کی خاندان پر مرکُوز اِنجِیل
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


17:23

یِسُوع مسِیح کی خاندان پر مرکُوز اِنجِیل

ہمارا عقیدہ اور اَبَدی خاندانوں پر ہمارا اِیمان ہمیں تقویت دیتا اور ایک دُوسرے کے ساتھ باہم باندھتا ہے۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، میرے واسطے کی گئی آپ کی دُعاؤں کے لیے آپ کا شُکریہ۔ مَیں نے اُنھیں محسُوس کِیا ہے۔

کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کی تعلیمات خاندان پر مُرتکز ہیں۔ خاندان کی بابت ہماری تعلیم کی بُنیاد میں ہَیکل ضرُوری ہے۔ وہاں حاصِل ہونے والی رُسُوم ہمیں اَبَدی خاندانوں کی حیثیت سے اپنے آسمانی باپ کی حُضُوری میں واپس جانے کے قابل بناتی ہیں۔

اپریل 2025 کی مجلِسِ عامہ تک، صدر رسل ایم نیلسن نے 200 نئی ہَیکلوں کی تعمیر کا اِعلان کِیا تھا۔ اُنھیں ہر مجلسِ عامہ کے اِختتام پر نئی ہَیکلوں کا اِعلان کرنا بُہت پسند تھا، اور ہم سب اُن کے ساتھ شادمان ہوتے تھے۔ بہرکیف، اِس وقت منصُوبہ بندی اور تعمیر کے اِبتدائی مراحِل میں موجُود ہَیکلوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر، یہ مُناسب ہے کہ ہم نئی ہَیکلوں کے اِعلان میں کمی لے کر آئیں۔ اِس لیے، بارہ رَسُولوں کی جماعت کی منظُوری سے، ہم اِس مجلسِ عامہ میں کسی نئی ہَیکل کا اِعلان نہیں کریں گے۔ ہم اَب پُوری دُںیا میں کلِیسیائی اَرکان کو ہَیکل کی رُسُوم فراہم کرتے ہُوئے آگے بڑھیں گے، اِس بات سمیت کہ نئی ہَیکلوں کی تعمیر کا اِعلان کب اور کہاں کِیا جائے۔

میرے وعظ کا وہ حِصّہ جو مَیں نے اَبھی اَبھی پیش کِیا ہے وہ ہمارے پیارے صدر رسل ایم نیلسن کی وفات کے بعد لِکھا گیا تھا۔ جو اَب آگے پیش کِیا جا رہا ہے وہ کئی ہفتے پہلے لِکھا اور منظُور کِیا گیا تھا، مگر یہ اَب بھی میری اُن تعلیمات کی نُمایندگی کرتا ہے، جو خُداوند کے اِلہام سے مُجھے عطا ہُوئیں۔

II۔

خاندان کے لیے اِعلامیہ، جس کا اِعلان 30 سال پہلے کِیا گیا تھا، بیان کرتا ہے کہ ”خاندان خُدا کی طرف سے مُقرر کردہ ہے“ اور ”خالق کے منصُوبے میں اپنے بچّوں کی اَبَدی منزل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔“ یہ بھی بیان کرتا ہے ”کہ زمین پر پھلنے پھُولنے اور اِسے معُمور کرنے کا خُدا کا حُکم آج بھی نافِذ ہے۔“ اور، ”ہم مزید اِعلان کرتے ہیں کہ خُدا نے حُکم دِیا ہے کہ مَرد و زَن کے درمیان اَفزایشِ نسل کی مُقدّس قُوتیں، صِرف قانُونی طور پر بیاہ شُدہ شوہر اور بیوی کی حیثیت سے ہی اِستعمال کی جائیں۔“ جیسے اُس وقت کے ایلڈر رسل ایم نیلسن نے برِیگھم ینگ یُونیورسٹی کے سامعین کو سِکھایا، کہ خاندان ”خُدا کے منصُوبے کا اَہم ترین حِصّہ ہے۔ … دَرحقیقت، منصُوبے کا ایک مقصد خاندان کو سرفراز کرنا ہے۔“

کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کو بعض اوقات خاندان پر مرکُوز کلِیسیا بھی کہا جاتا ہے۔ یقیناً اَیسا ہی ہے! خُدا سے ہمارے تعلقات اور ہماری حیاتِ فانی کے مقصد کو خاندان کے حوالے سے بیان کِیا گیا ہے۔ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل اُس کے رُوحانی بچّوں کے فائدے کے لیے ہمارے آسمانی باپ کا منصُوبہ ہے۔ ہم بِلا شُبہ کہہ سکتے ہیں کہ اِنجِیل کا منصُوبہ ہمیں سب سے پہلے اَبَدی خاندان کی مجلس میں سِکھایا گیا تھا، یہ ہمارے فانی خاندانوں کے ذریعے نافذ ہُوا، اور اِس کا مقصد خُدا کے بچّوں کو اَبَدی خاندانوں میں سرفراز کرنا ہے۔

III۔

اِس عقائدی پسِ منظر کے باوجُود، اِس کی مُخالفت کی جاتی ہے۔ ریاست ہائے مُتحدہ اَمریکہ میں ہم شادی اور تولیدِ اولاد میں بِگاڑ سے دوچار ہیں۔ تقریباً سو سالوں میں شادی شُدہ جوڑوں کی سربراہی میں زیرِ اِنتظام گھرانوں کے تناسب میں کمی واقع ہُوئی ہے، اور اِسی طرح شرحِ پیدایش میں بھی۔ ہمارے کلِیسیائی اَرکان میں شادیاں اور شرحِ پیدایش کافی حد تک مُثبت ہے، مگر اِن میں بھی نُمایاں طور پر کمی آئی ہے۔ یہ اِنتہائی اَہم ہے کہ مُقدّسِینِ آخِری ایّام بیاہ کے مقصد اور اولاد کی قدر و قِیمت کے بارے میں اپنے فہم و فِراست کو نہ کھوئیں۔ یہی وہ مُستقبل ہے جس کے لیے ہم کوشاں ہیں۔ ”سرفرازی خاندانی مُعاملہ ہے،“ صدر نیلسن نے ہمیں سِکھایا ہے۔ ”فقط یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی نجات بخش رُسُوم کے ذریعے ہی خاندانوں کو سرفراز کِیا جا سکتا ہے۔“

شادیوں اور بچّوں کی پیدایش میں قومی سطح پر زوال کی وجُوہات تاریخی اِعتبار سے تو سمجھ میں آتی ہیں، لیکن مُقدّسِینِ آخِری ایّام کی اِقدار اور طرزِعمل کو—اُن رُجحانات کی پیروی کرنے کی بجائے—اُن کو بہتر بنانا چاہیے۔

80 برس قبل اپنے لڑکپن میں، مَیں اپنے نانا نانی کے فارم ہاؤس پر رہتا تھا جہاں دِن بھر جو کُچھ بھی رُونُما ہوتا وہ تقریباً سب کُچھ خاندان کی زیرِ ہدایت ہوتا تھا۔ خاندانی سرگرمیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی ٹیلی ویژن یا دیگر الیکٹرانکس نہیں تھے۔ اِس کے برعکس، آج کے شہری مُعاشرے میں، بُہت کم اَرکان مُستقل طور پر خاندان پر مرکُوز سرگرمیوں کا تجربہ کرتے ہیں۔ شہری زِندگی اور جدید نقل و حمل، مُنظم تفریح، اور تیز رفتار مواصلات نے نوجوانوں کے لیے اپنے گھروں کو بورڈِنگ ہاؤسز کی طرح سمجھنا آسان بنا دِیا ہے، جہاں وہ سوتے ہیں اور کبھی کبھار کھانا کھاتے ہیں لیکن جہاں اُن کی سرگرمیوں پر والدین کی نِگرانی بُہت کم ہوتی ہے۔

والدین کا اَثر و رُسُوخ بھی اُس طریقے کی وجہ سے کم زور ہُوا ہے جس سے ہمارے زیادہ تر موجُودہ کلِیسیائی اَرکان روزی روٹی کماتے ہیں۔ ماضی میں، خاندانوں کو مُتحد کرنے والے بڑے عوامِل میں سے ایک مُشترکہ مقصد کے حُصُول کے لیے اِکٹھے مِل کر جدوجہد کرنے کا تجربہ تھا—جیسے کہ ویران زمین کو آباد کرنا یا روزی روٹی کمانا۔ خاندان ایک مُنظم اور مربُوط مُعاشی پیداوار کی اَکائی تھا۔ آج، زیادہ تر خاندان مُعاشی کھپت کی اَکائیاں ہیں، جس کے لیے خاندانی تنظیم اور باہمی تعاون کی زیادہ ضرُورت نہیں ہوتی ہے۔

IV۔

اگرچہ والدین کا اَثر و رُسُوخ کم ہو رہا ہے، مُقدّسِینِ آخِری ایّام پر اَب بھی اپنے بچّوں کو اَبَدیت میں اپنے خاندان کی منزل کے لیے تیار ہونے کی تعلیم دینے کی خُدا داد ذِمہ داری عائد ہے (دیکھیے عقائد اور عہُود 68:‏25)۔ ہم میں سے بُہتیروں کو یہ لازماً کرنا ہے جب کہ ہمارے سارے خاندان روایتی نہیں ہیں۔ طلاق، مَوت، اور علیحدگی زِندگی کی تلخ حقیقتیں ہیں۔ مَیں نے یہ تجربہ اپنے ہی خاندان میں کِیا جہاں مَیں پَلا بڑھا۔

اوکس خاندان

جب مَیں سات برس کا تھا تو میرے والِد وفات پا گئے، اِس لیے مَیں اور میرے چھوٹے بہن بھائی بیوہ والِدہ کی آغوش میں پروان چڑھے۔ مُشکل ترین حالات میں بھی، وہ ثابت قدمی سے آگے بڑھتی رہیں۔ وہ تنہا اور ٹُوٹی ہُوئی تھیں، مگر مددِ خُداوندی سے، بحال شُدہ کلِیسیا کی بابت اُن کی قوی تعلیم نے ہماری راہ نُمائی کی۔ اُنھوں نے کیسے اپنی اولاد کی پرورش میں اِلہٰی مُعاونت کے لیے دُعا کی، اور وہ برکتوں سے مالا مال ہُوئیں۔ ہماری پرورش ایک خُوش و خُرم گھرانے میں ہُوئی جہاں ہمارے مرحُوم والِد کی ہستی ہمیشہ سے ایک زِندہ حقیقت بنی رہی۔ اُنھوں نے ہمیں سِکھایا کہ ہمارا ایک والِد تھا اور اُن کا ایک شوہر تھا اور ہم سدا ایک خاندان ہی رہیں گے کیوں کہ اُن کا بیاہ ہَیکل میں ہُوا تھا۔ ہمارے والِد صِرف عارضی طور پر دُور تھے کیوں کہ خُداوند نے اُنھیں ایک مُختلف کام کے لیے بُلایا تھا۔

مَیں جانتا ہُوں کہ بُہت سے دُوسرے خاندان اِتنے خُوش نہیں ہیں، لیکن ہر اکیلی ماں آسمانی باپ کی محبّت اور ہَیکل کے نِکاح کی حتمی برکات کی تعلیم دے سکتی ہے۔ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں! آسمانی باپ کا منصُوبہ ہر ایک کے واسطے اِس اِمکان کی یقین دِہانی کراتا ہے۔ ہم سب ہَیکل میں نِکاح اور اَبَدی خاندان کی حیثیت سے مُہربند ہونے کی مُمکنہ برکات کے لیے ممنُوں ہیں۔ اپنی والِدہ کی طرح، ہم لِحی کے اپنے بیٹے یعقُوب سے کِیے گئے وعدے کا حوالہ دینا پسند کرتے ہیں کہ خُدا ”تیری مُصیبتوں کی تیرے فائدے کے لیے تقدِیس کرے گا“ (2 نِیفی 2:2)۔ اِس کا اِطلاق مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے ہر خاندان پر ہوتا ہے، چاہے وہ مُکمل ہو یا فی الحال نامُکمل۔ ہم خاندان پر مرکُوز کلِیسیا ہیں۔

ہمارا عقیدہ اور اَبَدی خاندانوں پر ہمارا اِیمان ہمیں تقویت دیتا اور ایک دُوسرے کے ساتھ باہم باندھتا ہے۔ مَیں اپنے نانا ہیرس کا وعدہ کبھی نہیں بھُولوں گا، جب ہم بچّے پیسن، یُوٹاہ کے قریب اُن کے فارم ہاؤس پر رہتے تھے۔ اُنھوں نے مُجھے یہ اَفسوس ناک خبر دی کہ میرے والِد دُور دراز ڈینور، کولوراڈو میں اِنتقال کر گئے ہیں۔ مَیں کمرے کی طرف بھاگا اور بِستر کے پاس گھُٹنے ٹیک کر، زار زار رونے لگا۔ نانا جان میرے پیچھے آئے اور میرے ساتھ گھُٹنوں کے بَل ہو کر کہا، ”مَیں تُمھارا باپ بنُوں گا۔“ یہ شفیق وعدہ اِس بات کی قوّی مِثال ہے کہ دادا دادی یا نانا نانی کس طرح خاندان کے کسی فرد کے بِچھڑ جانے یا کھو جانے پر اُس کی کمی کو پُورا کر سکتے ہیں۔

والدین، اکیلے یا شادی شُدہ—اور دُوسرے، جیسے کہ دادا دادی یا نانا نانی، جو بچّوں کے لیے اِس کِردار کو نِبھاتے ہیں—عظیم ترین مُعلمین ہیں۔ اُن کی مؤثر ترین تدریس اُن کا اپنا عملی نمُونہ ہے۔ خاندانی حلقہ اَبَدی اِقدار کا مُظاہرہ کرنے اور سیکھنے کے لیے مِثالی جگہ ہے، جیسے کہ شادی اور اولاد کی اَہمیت، زِندگی کا مقصد، اور خُوشی کا حقیقی منبع۔ زِندگی کے دیگر ضرُوری اَسباق، جیسے کہ شفقت، مُعافی، ضبطِ نفس، اور تعلیم اور دیانت دار کام کی قدر و منزلت سیکھنے کے لیے بھی بہترین مقام ہے۔

بِلا شُبہ بُہت سے کلِیسیائی اَرکان کے اَیسے عزیز و اَقارب ہیں جو اِنجِیلی اِقدار اور توقعات کو قبُول کرنے سے اِنکاری ہیں۔ اَیسے اَرکان ہماری محبّت اور صبروتحمُل کے مُستحق ہیں۔ ایک دُوسرے سے برتاؤ کرتے وقت، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جس کاملیت کے ہم مُشتاق ہیں وہ فانیت کے دُشوار گُزار حالات تک محدُود نہیں ہے۔ عقائد اور عہُود 138:‏57–59 میں سِکھائی گئی عظیم تعلیم ہمیں یقین دِلاتی ہے کہ توبہ اور رُوحانی ترقی فانیت کے بعد آنے والے عالمِ اَرواح میں بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اِس سے بھی زیادہ اَہم بات یہ ہے، کہ جب خاندان ایک دُوسرے کو مضبُوط کرنے کے لیے مُتحد ہوتے ہیں، تو ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ یِسُوع مسِیح کے جلالی اور نجات بخش کفّارے کی بدولت فانی زِندگی میں ہمارے تمام گُناہوں اور ناگُزیر کوتاہیتوں کی توبہ کے وسِیلے سے مُعافی مِل سکتی ہے۔

ہمارا مُنّجی، یِسُوع مسِیح، ہمارا بہترین مِثالی کِردار ہے۔ اگر ہم اُس کی تعلیمات اور قُربانی کے مُوافق اپنی زِندگیوں کو ڈھالیں گے تو ہم فیض یاب ہوں گے۔ مسِیح کی پیروی کرنا اور اپنی ذات کو ایک دُوسرے کی خِدمت میں پیش کرنا خُود غرضی اور اِنفرادیت پسندی کا بہترین عِلاج ہے جو آج کل بُہت عام ہو چُکی ہے۔

والدین کا فرض بھی ہے کہ وہ اپنے بچّوں کو اِنجِیل کے اُصُولوں کے عِلاوہ عملی عِلم سے بھی آراستا کریں۔ خاندان اُس وقت یک جان ہوتے ہیں جب وہ اِکٹھے مِل کر بامقصد کام کرتے ہیں۔ خاندانی باغیچے لگانا خاندانی تعلقات کو اُستوار کرتا ہے۔ خُوش گوار خاندانی تجربات خاندانی رِشتوں کو مُستحکم کرتے ہیں۔ کیمپنگ کرنا، کھیلوں کی سرگرمیاں، اور دیگر سیر و تفریخ کے مشغلے خاندانوں کو باہم جوڑنے کے لیے خاص اَہمیت رکھتے ہیں۔ خاندانوں کو چاہیے کہ اپنے آباؤاَجداد کو یاد رکھنے کے لیے خاندانی میل مِلاپ کا اہتمام کریں، جو ہمیں ہَیکل کی طرف راغِب کرتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچّوں کو زِندگی گُزارنے کی بُنیادی مہارتیں سِکھائیں، جن میں باغیچے اور گھر کے کام کاج بھی شامِل ہیں۔ زُبانیں سیکھنا مِشنری خِدمت اور جدید زندگی کے لیے کارآمد تیاری ہے۔ اِن مہارتوں کے مُعلمین والدین دادا دادی یا نانا نانی یا توسیعی خاندان کے اَفراد ہو سکتے ہیں۔ خاندان اُس وقت خُوشحالی و ترقی پاتے ہیں جب وہ گروہ کی صُورت میں سیکھتے ہیں اور خاندان اور اُس کے اَفراد کے مُتعلق تمام تشویش ناک مُعاملات پر باہم مشورت کرتے ہیں۔

کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں، ”لیکن ہمارے پاس اِن میں سے کسی بھی چیز کے لیے وقت نہیں ہے۔“ حقیقی طور پر قابلِ قدر کام کرنے کا وقت نِکالنے کے لیے، بُہت سے والدین جانیں گے کہ اگر وہ سب اپنی ٹیکنالوجیز کو بند کر دیں تو وہ اپنے خاندان کو پھر سے فعال کر سکتے ہیں۔ اور والدین، یاد رکھیں، بچّے کھانے کے نہیں بلکہ آپ کے ساتھ وقت گُزارنے کے بھُوکے پیاسے ہیں۔

اگر گھرانے اِکٹھے مِل کر دُعا کریں، شام سویرے گھُٹنے ٹیک کر برکات کے لیے شُکرانہ اَدا کریں اور اپنے مُشترکہ مسائل کے لیے دُعا کریں تو اُن پر عظیم برکتیں نچھاور ہوں گی۔ مُبارک ہوتا ہے وہ کُنبہ بھی جو کلِیسیائی عِبادات اور دیگر عِبادات میں ایک ساتھ پرستِش کرتا ہے۔ خاندانی بندھن خاندانی کہانیاں سُنانے، خاندانی روایات قائم کرنے، اور مُقدّس تجربات بانٹنے سے بھی مضبُوط ہوتے ہیں۔ صدر سپنسر ڈبلیو کِمبل نے ہمیں یاد دِلایا ہے کہ ”ہماری اپنی زِندگی کی کہانیاں اور ہمارے آباؤاَجداد کے اَثر اَنگیز قِصّے … قوی تدریسی آلات ہیں۔“ یہ اَکثر ہمارے واسطے اور ہماری آیندہ نَسلوں کے واسطے اِلہام کے بہترین وسائل ہوتے ہیں۔

مَیں خُداوند یِسُوع مسِیح کی گواہی دیتا ہُوں، جو خُدا ہمارے اَبدی باپ، کا اِکلوتا بیٹا ہے۔ وہ ہمیں راہِ عہد پر گامزن ہونے کی دعوت دیتا ہے جو اِلہٰی گھرانے کے میل مِلاپ کی جانب راغِب کرتی ہے۔ کہانت کی مُہربندی کی قُوتیں، کرٹ لینڈ ہَیکل میں بحال کی گئی کُنجیوں کی زیرِ ہدایت، خاندانوں کو اَبَدیت کے لیے مُتحد کرتی ہیں۔ (دیکھیے عقائد اور عہُود 110:‏13–16) جو اِس وقت پُوری دُنیا میں خُداوند کی بڑھتی ہُوئی ہَیکلوں میں اِستعمال کی جا رہی ہیں۔ اِنجِیل سچّی ہے۔ آئیے ہم بھی اِس کا حِصّہ بنیں، میری دُعا ہے، یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔

حَوالَہ جات

  1. خاندان: دُنیا کے لیے ایک اِعلان،“ گاسپل لائبریری۔

  2. رسل ایم نیلسن، ”اِیمان اور خاندان“ (بریگھم ینگ یُونیورسٹی کی فائر سائیڈ، 6 فروی 2005)، 3، speeches.byu.edu۔

  3. رسل ایم نیلسن، ”ہَیکل اور خاندانی تاریخ کے فریضے سے آسمان کو کھولیں،“ لیحونا، اکتوبر 2017، 18۔

  4. سپنسر ڈبلیو کِمبل،”لہٰذا مُجھے سِکھایا گیااِنزائن، جنوری 1982، 4۔