مسِیح میں سادگی
مسِیح کی سچّی تعلِیم کا سادہ اور مرکوز طریقے سے اطلاق کرنا ہمیں ہماری روز مرہ زِندگیوں میں خُوشی پانے میں مدد دے گا۔
1۔ تعارف
تیس برس قبل، مَیں نے یوٹاہ اگڈن مشن میں بطور مُناد خدمت کرنے کی اپنی بُلاہٹ پائی تھی۔ بِلاشبہ، یورپ سے ہوتے ہوئے، یوٹاہ کی کچھ مقامی روایات جیسے ”گرین جیلو ود کیرٹس“ اور ”فیونرل پٹیٹوز“ میرے لیے قدرے منفرد تھے!
تاہم، مَیں بہت سے مُقدّسِین کے خلوص اور شاگردی، کلِیسیائی عِبادات میں شریک ہوتی ہُوئی لوگوں کی خاصی بڑی تعداد، اور بڑے پیمانے پر کلِیسیائی پروگراموں کو کُلی طور پر زیرِ عمل دیکھنے سے نہایت متاثر ہُوا تھا۔ جب میرا مشن اختتام پذیر ہُوا، مَیں یقینی بنانا چاہتا تھا کہ جس خُوشی اور رُوحانی مضبُوطی و پُختگی کا مَیں نے مشاہدہ کیا تھا وہ میرے مُستقبِل کے خاندان کے لیے بھی میسر ہو۔ مَیں اپنی زِندگی ”دائمی پہاڑوں کے سائے“ تلے گزارنے کے لیے جلدی سے واپس لوٹنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
بہر حال، خُداوند کے منصُوبے کچھ اور تھے۔ گھر پر میرے پہلے اِتوار کو، میرے دانا بشپ نے مُجھے ہماری وارڈ کی اَنجُمنِ فرزندان کے صدر کی حیثیت سے خدمت کرنے کی بُلاہٹ دی۔ نوجوانوں کے اُس شاندار گروہ کی خدمت کرنے سے، مَیں نے جلد ہی سیکھ لیا کہ شاگردِ مسِیح ہونے سے ملنے والی خُوشی کا کلِیسیائی سرگرمیوں کی وسعت یا پروگراموں کی تعداد سے بہت تھوڑا تعلق ہے۔
لہذا جب مَیں نے اپنی خُوب صورت بیوی مارگریٹ سے شادی کی، تو ہم نے بَہ خُوشی یورپ میں قیام کرنے اور اپنے آبائی وطن جرمنی میں اپنے خاندان کی پرورش کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم اکٹھے اُس کے شاہد ہُوئے جو صدر رسل ایم نیلسن نے کئی برس پہلے سِکھایا تھا، ”جو خُوشی ہم محسُوس کرتے ہیں اُس کا دارومدار ہماری زِندگی کے حالات پر کم اور بُہت زیادہ اِس بات پر ہے کہ ہم اپنی زِندگی کا مرکز کِس چیز کو بناتے ہیں۔“ جب ہماری زِندگی کا محور یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجِیل کا پیغام ہوتا ہے، تو ہم کہیں بھی رہیں ہم شاگردیت کی بھرپور برکات سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔
2۔ سادگی جو مسِیح میں ہے
بہر حال، اِس انتہائی لا دین، پیچیدہ، اور اِنتشاری دُنیا میں، اکثر مختلف متضاد پیغامات اور مطالبات کے ساتھ، ہم اپنی آنکھوں کو اندھا اور اپنے قلوب کو سخت ہونے سے کیسے باز رکھ سکتے اور یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی ”سادہ اور بیش قیمت باتوں“ پر کیسے توجہ مرکوز کر سکتے ہیں؟ اِنتشار کے زمانہ میں، پَولس رسُول نے کُرِنتھِیوں کے مُقدّسِین کو ”خلُوص اور پاک دامنی جو مسِیح کے ساتھ ہونی چاہیے“ سادگی کے ساتھ یاد دہانی کراتے ہُوئے بڑی نصحیت فرمائی۔
مسِیح کی تعلِیم اور قوانینِ اِنجِیل اتنے سادہ ہیں حتٰی کہ چھوٹے بچّے بھی اُنھیں سمجھ سکتے ہیں۔ ہم یِسُوع مسِیح کی مُخْلَصی دینے والی قدرت تک رسائی پا سکتے اور یِسُوع مسِیح پر اِیمان کا مُظاہرہ کرنے، توبہ کرنے، بپتسما پانے، اور رُوحُ القُدس کے ذریعے پاک ہونے، اور آخر تک برداشت کرنے سے تمام رُوحانی برکات پا سکتے ہیں جو ہمارے آسمانی باپ نے ہماری لیے تیار کی ہیں۔ صدر نیلسن نے نہایت خُوب صورتی سے اِس سفر کو ”راہِ عہد“ اور ”یِسُوع مسِیح کے سچّے شاگرد بننے کے عمل کے طور پر بیان کیا ہے۔“
اگر یہ پیغام اِتنا سادہ ہے، تو پھر شریعتِ مسِیح پر عمل پیرا ہونا اور اُس کے نمونہ کی تقَلِید کرنا اکثر اِتنا دشوار کیوں محسُوس ہوتا ہے۔ اَیسا اِس لیے ہو سکتا ہے کہ ہم سادگی کی تشریح غلط کرتے ہیں کچھ اَیسا جِس کو کسی کوشش یا جان فشانی کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تَقلِیدِ مسِیح جہدِ مسلسل اور پیہم تبدیلی کی مُتَقاضی ہے۔ ہمیں ”نفسانی آدمی کو [ترک] کرنے اور … چھوٹے بچّے [کی مانند بننے]“ کی ضرورت ہے۔ اِس میں اپنا ”تَوَکُّل خُداوند “ پر رکھنا اور پیچیدگی کو جانے دینا ہے، بالکل جیسے چھوٹے بچّے کرتے ہیں۔ مسِیح کی سچّی تعلِیم کا سادہ اور مرکوز طریقے سے اطلاق کرنا ہمیں ہماری روز مرہ زِندگیوں میں خُوشی پانے، ہماری بُلاہٹوں میں ہدایت پانے، زِندگی کے چند نہایت پیچیدہ سوالوں کے جواب پانے، اور اپنے بڑے بڑے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے مضبُوطی فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
لیکن ہم مسِیح کے شاگردوں کے طور پر اپنے زِندگی بھر کے سفر میں اِس سادگی کا عملی طور پر کیسے اطلاق کر سکتے ہیں؟ صدر نیلسن نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہم نجات دہندہ کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ”خالص سچائی، خالص تعلیم، اور خالص مکاشفہ“ پر توجہ مرکوز کریں۔ باقاعدگی سے پوچھنا کہ، ”خُداوند یِسُوع مسِیح مُجھ سے کیا کروانا چاہتا ہے؟“ گہری سمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اُس کی مثال پر چلنا ہمیں غیر یقینی حالات میں محفوظ راستہ فراہم کرتا ہے اور روزمرہ زِندگی میں مُحبت بھرا، رہنمائی کرنے والا ہاتھ تھامنے کا سہارا دیتا ہے۔ وہ سلامتی کا شہزادہ اور اچھا چرواہا ہے۔ وہ ہمارا تسلی بخشنے والا اور چُھڑانے والا ہے۔ وہ ہماری چٹان اور پناہ ہے۔ وہ ایک دوست ہے—آپ کا دوست اور میرا دوست! وہ ہم سب کو خُدا سے مُحبت رکھنے، اُس کے حُکموں پر عمل کرنے اور اپنے پڑوسی سے پیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
جب ہم اُس کی مثال پر عمل کرنے اور مسِیح پر اِیمان کے ساتھ آگے بڑھنے کا انتخاب کرتے، اُس کے کفارہ کی قدرت کو قبول کرتے اور اپنے عہُود کو یاد رکھتے ہیں، تو محبّت ہمارے قلُوب کو معمُور کرتی ہے، اُمِّید اور شفا ہماری رُوحوں کو صحت مند کرتے ہیں، اور تلخی اور غم شُکر گزاری میں اور موعودہ برکات کا انتظار صبر میں بدل جاتا ہے۔ کبھی کبھار، ہمیں مُضر حالات سے کنارہ کشی کرنے یا پیشہ ورانہ مدد کے خواہاں ہونے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ لیکن ہر صورتِ حال میں، اِنجِیل کے سادہ اُصُولوں کا اطلاق کرنا ہمیں زِندگی کے مسائل میں سے خُداوند کے طریق پر نکلنے میں معاونت دے گا۔
بعض اوقات ہم دُعا کرنا، روزہ رکھنا، صحائف کو پڑھنا، روزانہ تَوبہ کرنا، ہفتہ وار عشائے ربانی لینا، اور ہَیکَل میں باقاعدہ عِبادت کرنے جیسے سادہ اعمال سے حاصل ہونے والی قوت کو حقیر سمجھتے ہیں۔ مگر جب ہم پہچان لیتے ہیں کہ ہمیں ”کچھ بڑا کام کرنے“ کی ضرورت نہیں ہے اور ہم خُود کو سچّی اور سادہ تعلیم پر مرکوز کرتے ہیں، ہم دیکھنا شروع کرتے ہیں کہ کیسے اِنجِیل ہمارے لیے، ”شان دار طور پر کام کرتی“ ہے حتٰی کہ نہایت مُشکل ترین حالات میں بھی۔ ہم ”خُدا کی حُضُوری میں توکّل،“ اور مضبُوطی پاتے ہیں حتٰی کہ جب ہم اذیت کا تجربہ کرتے ہیں۔ ایلڈر ایم رسل بیلرڈ نے ہمیں کئی مرتبہ یاد دِلایا ہے، ”سادگی میں ہی [ہم] کو وہ … اِطمِینان، خوشی اور شادمانی ملتی ہے۔“
اُس سادگی کا اطلاق کرنا جو مسِیح میں ہے ہمیں لوگوں کو طریقوں پر اور اَبَدی تعلقات کو قلیل مدتی رویوں پر فوقیت دینے کے قابل بناتا ہے۔ خُدا کے کارِ نجات و سرفرازی میں ”یہ سب سے زیادہ اہم بات ہے“ جس پر ہم توجہ مرکوز کرتے ہیں اِس کی بجائے کہ اپنی خدمت گزاری کو منظم کرنے میں اُلجھے رہیں۔ ہم خُود کو اُن کاموں کو ترجیح دینے کے لیے دستیاب رکھتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں اِس کی بجائے کہ اُن کاموں کے بوجھ تلے دبے رہیں جو ہم کر نہیں سکتے ہیں۔ خُداوند نے ہمیں یاد دِلایا ہے: ”پَس، نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہارو، کیوں کہ تُم ایک عالی و اَرفع کام کی بُنیاد رکھ رہے ہو۔ اور معمُولی باتوں کے وسِیلے سے وہ رُونُما ہوتی ہے جو اَفضل ہے۔“ سادگی کے ساتھ فروتنی میں عمل پیرا ہونے کی کیا ہی قوی ہمت افزائی ہے، چاہیے ہمارے حالات کیسے بھی ہیں۔
3۔ اُوما زیسلا
میری دادی مارٹا زیسلا ”معمُولی اور سادہ چِیزوں” سے افضل کام انجام دینے کی شان دار مثال تھی۔ ہم اُسے پیار سے اُوما زیسلا کہتے تھے۔ اُوما نے مئی 30، 1926، کو مشرقی پروشیا میں سیلبونگن کے چھوٹے سے دیہات میں میری پر دادی کے ہمراہ اِنجِیل کو قبول کیا تھا۔
مارٹا زیسلا (دائیں) اپنے بپتسمہ کے دن۔
وہ خُداوند اور اُس کی اِنجِیل سے محبّت کرتی تھی اور اُن عہُود کا پالن کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی تھی جو اُس نے باندھے تھے۔ 1930 میں اُس نے میرے دادا سے شادی کی، جو کلِیسیا کا رکن نہیں تھا۔ اِس موقع پر اُوما کے لیے کلِیسیائی عِبادات میں شرکت کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ میرے دادا کا کھیت قریب ترین جماعت سے کئی گھنٹے دور تھا۔ مگر اُس نے اُس پر توجہ مرکوز کی جو وہ کر سکتی تھی۔ اُوما نے دُعا کرنا، صحائف پڑھنا، اور صِیُّون کے گیت گانا جاری رکھا۔
بعض لوگوں سوچ سکتے ہیں کہ وہ اِیمان میں مزید فعال نہ رہی ہوگی، مگر یہ حقیقت سے کوسوں دور تھا۔ جب میری پھوپھو اور میرے والد کا جنم ہُوا، تو گھر میں کہانت نہ ہونے اور قریب ترین کلِیسیائی عِبادات یا رسُوم تک رسائی کے بغیر، اُس نے پھر وہ ہی کیا جو وہ کر سکتی تھی اور اپنے بچّوں کو ”خُداوند کے حُضُور راست بازی سے چلنا، اور دُعا کرنا“ سِکھانے پر توجہ مرکوز کی۔ اُس نے اُن کے لیے صحائف میں سے پڑھا، اُن کے ساتھ صِیُّون کے گیت گائے، اور یقیناً—ہر روز—اُن کے ساتھ دُعا کی۔ 100 فی صد گھر پر مرتکز کلِیسیا کا تجربہ۔
1945 میں، میرے دادا گھر سے بہت دور خدمات انجام دے رہے تھے۔ جب دشمن اُن کے کھیت کے قریب آئے، اُوما نے محفوظ مقام پر پناہ ڈھونڈنے کے لیے اپنے پسندیدہ کھیت کو چھوڑ دیا۔ دُشوار اور زِندگی کو خطرے میں ڈالنے والے سفر کے بعد، اُنھوں نے مئی 1945 میں شمالی جرمنی میں آخر کار پناہ ڈھونڈ لی۔ اُن کے پاس تن پر کپڑوں کے سوا کچھ نہ بچا تھا۔ مگر اُوما نے وہ کرنا جاری رکھا جو وہ کرنے کے قابل تھی: اُس نے اپنے بچّوں کے ساتھ دُعا کی—ہر روز۔ اُس نے اُن کے ساتھ صِیُّون کے گیت گائے جو اُس نے زُبانی یاد کر رکھے تھے—ہر روز۔
زِندگی نہایت دشوار تھی، اور کئی برسوں تک اُن کا محض اپنی میز پر خوراک مہیا کرنے پر دھیان رہا۔ مگر 1955 میں میرے ابا، تب 17 برس کے، رینڈزبرگ کے شہر میں تجارتی سکول میں جا رہے تھے۔ وہ ایک عمارت کے پاس سے گزرے اور باہر ایک تختی دیکھی جس پر لکھا تھا ”Kirche Jesu Christi der Heiligen der Letzten Tage“—”کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری اَیّام۔“ اُنھوں نے سوچا، ”یہ دلچسپ ہے؛ یہ تو اماں کی کلِیسیا ہے۔“ پس، جب وہ گھر آئے، اُنھوں نے اُوما کو بتایا کہ اُنھوں نے اُس کی کلِیسیا کو ڈھونڈ لیا ہے۔
آپ تصوّر کر سکتے ہیں تقریباً 25 برس تک کلِیسیا سے رابطہ کے بغیر اُنھیں کیسا محسُوس ہُوا ہو گا۔ اُنھوں نے اگلے اِتوار شرکت کرنے کا عزم باندھا اور میرے والد کو اپنے ہمراہ چلنے پر راضی کیا۔ رینڈزبرگ اُس چھوٹے گاؤں سے 20 میل (32 کلومیٹر) سے زیادہ دُور تھا جہاں وہ مکین تھے۔ مگر یہ اُوما کو چرچ جانے سے نہیں روک سکتا تھا۔ اگلے اِتوار، وہ میرے والد کے ساتھ سائیکل پر سوار ہُوئیں اور چرچ گئیں۔
جب عشائے ربانی کی عِبادت کا آغاز ہُوا، تو میرے والد یہ اُمِّید کرتے ہُوئے کہ یہ جلد ہی ختم ہو جائے گی، آخری قطار میں بیٹھے ہُوئے تھے۔ یہ اُوما کی کلِیسیا تھی اور اُس کی نہیں۔ اُس نے جو کچھ دیکھا وہ کوئی ہمت افزا نہیں تھا: صرف چند ضعیف خواتین اور دو مُناد جنھوں نے موثر طور پر عِبادت کا ہر فرض نِبھایا۔ مگر پھر اُنھوں نے گانا شروع کیا، اور اُنھوں نے صِیُّون کے گیت گائے جو میرے والد صاحب نے تب سُنے تھے جب وہ چھوٹا لڑکا تھا: ”آؤ، آؤ، مُقدسو،“ ”اے میرے باپ،“ ”حمد اُس جوان کی۔“ اِس چھوٹے گلّہ کو وہ گیت گاتے ہُوئے سُن کر جو وہ بچپن سے جانتا تھا، اُس کے دِل کو چھید دیا، اور وہ فوری طور پر اور کسی شک کے بغیر جان گیا کہ کلِیسیا سچی ہے۔
پہلی عشائے ربانی کی عِبادت جس میں میری دادی 25 برس بعد شریک ہُوئی وہ عِبادت تھی جہاں میرے والد نے یِسُوع مسِیح کی بحال شدہ اِنجِیل کی سچّائی کی گواہی پائی تھی۔ تین ہفتے بعد، 25 ستمبر، 1955، کو اُس نے میرے دادا اور پھوپھو کے ہمراہ بپتسما پایا۔
رینڈزبرگ میں اُس چھوٹی سی عشائے ربانی کی عِبادت کو 70 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مَیں اکثر اُوما کے بارے سوچتا ہُوں، اُس نے اُن تنہا راتوں میں کیا محسُوس کیا ہو گا، وہ سادہ اورمعمولی کام کرتے ہُوئے جو وہ کرنے کے قابل تھی، جیسے دُعا کرنا، کلام پڑھنا، اور گِیت گانا۔ آج جب میں مجلسِ عامہ میں کھڑا اُوما، اُس کے اپنے عہُود کو پورا کرنے کے عزم اور مُشکلات کے باوجود خُداوند پر تُوکل رکھنے کے متعلق بات کرتا ہُوں تو میرا دِل فروتنی اور تشکر سے لبریز ہو جاتا ہے—نہ صرف اُس کے لیے بلکہ دُنیا بھر میں اپنے بہت سے شاندار مُقدّسین کے لیے جو اپنے مسائل بھرے حالات میں سادگی کے ساتھ مسِیح پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، شاید اب بہت کم تبدیلی کو دیکھیں مگر توکل رکھتے ہُوئے کہ مستقْبل میں کسی روز عالی شان باتیں رونُما ہُوں گی۔
4۔ معمولی اور سادہ چیزیں
مَیں نے اپنے تجربہ سے سیکھا ہے کہ اِنجِیل کی معمولی اور سادہ چیزیں اور وفاداری سے مسِیح پر توجہ مرکوز کرنا ہمیں حقیقی خُوشی کی جانب لے جاتا ہے، بڑے معجزے دِکھاتا ہے، اور ہمیں یہ اعتماد عطا کرتا ہے کہ تمام موعودہ برکات پُوری ہوں گی۔ یہ آپ کے لیے بھی اُتنی ہی حقیقی ہیں جتنی کہ میرے لیے ہیں۔ صدر جیفری آر ہالینڈ کے اَلفاظ میں، ”کچھ نَعمتیں جلد ہی حاصل ہو جاتی ہیں، کچھ دیر بعد، اور کچھ حاصل نہیں ہوتیں؛ لیکن جو لوگ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کو خوشی سے قبول کرتے ہیں، اُنھیں یہ ضرور حاصل ہوتی ہیں۔“ اِس بات کی، مَیں بھی گواہی دیتا ہُوں یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔