مجلسِ عامہ
مُسکراتے چہرے اور احسان مند دِل
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


10:53

مُسکراتے چہرے اور احسان مند دِل

افریقہ میں ہمارے مُقدّسِین کی عَظمَت مزید اُجاگر ہوتی ہے جب وہ مسائلِ زِیست اور نمُو پَذِیر کلِیسیا کے تَقاضوں کا سامنا کرتے ہیں۔

ایک برس سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے، مُجھے میری ستر کی صدارت کی ذمہ داری سے سُبُک دوش کِیا گیا تھا، اِس تبدیلی کا اِعلان اِس مجلسِ عامہ میں ہُوا ہے۔ چوں کہ میرا نام ایمریٹس پانے والے اعلیٰ حُکام کے ساتھ لیا گیا تھا، کئی لوگوں نے فرض کر لیا کہ میرا عرصہِ خدمت بھی اِختِتام پَذِیر ہو رہا ہے۔ مجلسِ عامہ کے بعد، اپنی زِندگی کے اگلے مرحلہ کے لیے مَیں نے متعَدّد نیک تَمَنّاؤں اور تَشَکُّر کے پیغامات موصُول کیے۔ حتٰی کہ چند ایک نے تو شمالی سالٹ لیک میں میرا گھر خریدنے کی بھی پیش کش کی۔ یہ جاننا خُوش کُن تھا کہ میری کمی محسُوس ہو گی اور یہ جاننا بھی کہ ہمیں اپنا گھر فَروخت کرنے کی جھنجھٹ نہیں ہو گی جب مَیں بَرِی الذِّمَّہ ہُوں گا۔ مگر مَیں ابھی وہاں نہیں پہنچا۔

میری نئی ذمہ داری مُونِیکا اور مُجھے حسین افریقہ لے گئی، جہاں کلِیسیا پھَل پھُول رہی ہے۔ جنوبی افریقہ علاقہ میں وفادار مُقدّسِین کے درمیان خدمت کرنا اور اُن کے لیے خُداوند کی محبّت کا عینی شاہد ہونا باعثِ سَعادَت رہا ہے۔ تمام پَس مَنظَروں کے نسل در نسل خاندانوں کو، بُہت سے کامیاب اور نہایت تَعلِیم یافتہ اَرکانِ کلِیسیا، سَمیت دُوسروں کی خِدمت کرنے کے لیے اپنے وقت اور صلاحیَّتوں کو وَقف کرتے دیکھنا حوصلہ افزا ہے۔

اِسی کے ساتھ ساتھ، خطے کی آبادی کے شماریات کو دیکھتے ہُوئے، بُہت سے محدود وسائل والے لوگ کلِیسیا میں شمولیت اِختیار کر رہے ہیں اور دیانت درانہ دہ یکی اور کلِیسیا کے فراہم کردہ تَعلِیمی مواقعوں کی بدولت اپنی زِندگیوں میں بدلاؤ لا رہے ہیں۔ سکول میں کامیاب ہوں، انگلش کونیکٹ، دُنیا بھر میں بی وائی یو—پاتھ وے، اور پرپیچویل ایجوکیشن فنڈ جیسے کئی ایک پروگرامز بُہت سی زِندگیوں کو بابرکت بنا رہے ہیں، خصوصاً اُبھرتی نسل کے لوگوں کو۔

ایک دفعہ صدر جیمز ای فاؤسٹ نے فرمایا تھا، ”یہ کہا جا چُکا ہے کہ لازم نہیں کلِیسیا اعلیٰ ترین لوگوں کو ہی متوَجّہ کرے بلکہ یہ اکثر اوقات مَعمُولی لوگوں کو عظیم الشّان بناتی ہے۔“

افریقہ میں ہمارے مُقدّسِین کی عَظمَت مزید اُجاگر ہوتی ہے جب وہ مسائلِ زِیست اور نمُو پَذِیر کلِیسیا کے تَقاضوں کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ اِس کا سامنا سدا مُثبَت رویے کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ صدر رسل ایم نیلسن کی مشہُور تعلیم کا بخوبی احاطہ کرتے ہیں۔

”ہم جو خُوشی محسُوس کرتے ہیں اُس کا دارومدار ہماری زِندگی کے حالات اور زِندگی سے وابستہ کسی بھی مرکزِ نگاہ سے بُہت کم ہوتا ہے۔

”جب ہماری زِندگی کا مرکز خُدا کے نجات کے منصوبے … اور یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجِیل پر ہو تو ہم خُوشی محسُوس کرتے ہیں—اِس سے قطعِ نظر کہ ہماری زِندگی میں کیا ہو رہا ہے—یا کیا نہیں ہو رہا۔“

اپنے مسائل سے قطع نظر وہ خُوشی پاتے ہیں۔ اُنھوں نے سِیکھ لیا ہے کہ نجات دہندہ سے ہمارے تعلُقات ہمیں مُشکلات سے مُسکراتے چہروں اور احسان مند دِلوں کے ساتھ نِمَٹنے کے قابل بناتے ہیں۔

افریقہ کے مُقدّسِین

موزمبیق سے آغاز کرتے ہُوئے، مُجھے اِن وفادار مُقدّسِین کے ساتھ اپنے تجربات بتانے دیں۔

موزمبیق

چند ماہ پہلے، مَیں نے ایک سالہ پرانی سٹیک کی سٹیک کانفرنس کی صدارت کی جِس کی پہلے ہی 10 اکائیاں تھیں۔ چھوٹا سا گرجا گھر اور تین شامیانے جو کہ باہر لگائے گئے تھے 2،000 سے زائد لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ صدرِ سٹیک 31 سال کا، اُس کی بیوی 26 کی ہے، اور اُن کے دو چھوٹے بچّے ہیں۔ وہ بِلا شکایت اِس نُموپَذِیر اور مسائل سے بھری سٹیک کی—مُسکراتے چہرے اور احسان مند دل کے ساتھ راہنُمائی کر رہا ہے۔

بطریق کے ساتھ انٹرویو میں، مَیں نے جانا کہ اُس کی اہلیہ نہایت عَلِیل ہے، اور اُسے اُس کی دیکھ بھال فراہم کرنے میں مُشکلات درپیش تھیں۔ صدرِ سٹیک کے ساتھ اِس مسئلہ پر گفتگو کرنے کے بعد، ہم نے اُسے کہانتی برکت دی۔ مَیں نے بطریق سے دریافت کِیا کہ وہ اُوسطاً کتنی بطریقی برکات دیتا ہے۔

”آٹھ سے دس،“ اُس نے کہا۔

مَیں نے پوچھا، ”فی مہینہ؟“

اُس نے جواب دیا، ”فی ہفتہ!“ مَیں نے اُسے نصیحَت کی کہ ہر ہفتہ اتنی زیادہ دینا دانش مندی نہیں ہے۔

”ایلڈر گُڈاُوئے،“ اُس نے کہا، ”نئےاَرکان سَمیت بُہت سے نوجوانان، ہر ہفتے آتے رہتے ہیں۔“ دوبارہ، شکایت کوئی نہیں—صرف مُسکراتا چہرہ اور احسان مند دِل۔

سٹیک کانفرنس بروز ہفتہ شام کی عبادت کے بعد، ہوٹل جاتے ہُوئے، مَیں نے سڑک کنارے لوگوں کو دیر رات کو سودا سلف خریدتے ہُوئے دیکھا۔ مَیں نے ڈرائیور سے پوچھا وہ دن کے دوران خریدنے کی بجائے شام ڈھلے اَیسا کیوں کر رہے ہیں۔ وہ خریداری کرنے کے لیے پیسے کمانے کی خاطر دِن کے دوران میں کام کر رہے تھے اُس نے جواب دیا۔

”اوہ، وہ کل کے کھانے کے لیے آج کام کر رہے تھے،“ مَیں نے پوچھا۔

مگر اُس نے میری تَصحِیح کی: ”نہیں، وہ آج رات کے کھانے کے لیے دِن میں کام کر رہے تھے۔“ مَیں نے اُمِّید کی ہمارے اَرکان اِس سے بہتر حالات میں ہوں گے، مگر اُس نے تصدیق کی کہ مُلک کے اِس حصہ میں بُہت سے لوگ ایسی ہی مُشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اگلی صُبح، ہماری اِتوار کی عِبادت کے دوران میں اور اُن کے حالات سے نیا نیا آشنا، مَیں اُن کے مُسکراتے چہروں اور احسان مند دِلوں سے اور بھی متاثر ہُوا تھا۔

زیمبیا

ایک اِتوار کی عِبادت میں جاتے ہُوئے، صدرِ سٹیک اور مَیں نے ایک جوڑے کو ایک شِیر خوار اور دو بچّوں کے ساتھ راہ گُزر پر چلتے ہُوئے دیکھا۔ ہم اُنھیں سواری کی پیش کش کرنے کے لیے رُکے۔ وہ حیران اور خُوش ہُوئے۔ جب مَیں نے پوچھا اُنہیں گرجا گھر میں جانے کے لیے کتنی دور چلنا پڑتا ہے، تو والد نے جواب دیا، بچّوں کی رفتار پر مُنحصَر، 45 منٹ سے گھنٹہ لگ سکتا ہے۔ ہر اِتوار، وہ کوئی شِکوہ کِیے بغیر، پیدل آتے اور جاتے ہیں—وہ مُسکراتے چہروں اور احسان مند دِلوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔

ملاوی

اِتوار کو سٹیک کانفرنس سے قبل، مَیں نے سَرکاری سکولوں کو عِبادت گاہوں کے لِیے اِستعمال کرنے والی دو برانچوں کا دَورہ کِیا۔ عِمارَتوں کی مَخدُوش اور خَستَہ حالت کو دیکھ کر مُجھے دَھچکا لگا، حتٰی کہ اِن میں بُنیادی سہولتوں کی بھی کمی تھی۔ جب مَیں وہاں چند اَرکان سے مِلا، مَیں اُن کی عِبادت گاہوں کی زَبوُں حالی پر مُعذرت طلب کرنے کو تیار تھا، مگر وہ، عمومی طویل مسافت سے بچنے کے لیے، اکٹھے ہونے کے لیے دستیاب قریبی مُقام کے واسطے خُوش تھے۔ پھر سے، وہاں کوئی شِکایتں نہ تھیں—صرف مُسکراتے چہرے اور احسان مند دِل تھے۔

زمبابوے

ہفتہ کو قائدین کی تربِیت کے بعد، صدرِ سٹیک مُجھے کرایہ پر لیے گھر میں منعقدَ اِتوار کی عِبادت میں لے گیا۔ وہاں 240 لوگ موجود تھے۔ پھر بشپ نے اُس ہفتے بپتسمہ پانے والے 10 نئے لوگوں کو مُتعارف کرایا۔ جماعت دو کمروں میں پھیلی ہوئی تھی، چند اَرکان باہر بیٹھ کر، کھڑکیوں اور دروازوں سے جھانکتے ہُوئے عِبادت میں شامِل تھے۔ وہاں کوئی شِکایتں نہ تھیں—صرف مُسکراتے چہرے اور احسان مند دِل تھے۔

لیسوتھو

مَیں نے کلِیسیا کے ڈسٹرکٹ کو سٹیک بننے کی تیاری کرتا دیکھنے کے لیے اِس چھوٹے خُوب صورت مُلک کا بھی دورہ کِیا، جو ”ماؤنٹن کنگ ڈم“ کہلاتا ہے۔ ہفتہ کی عِبادتوں کے بعد، مَیں نے کرایہ کے گھر میں ہونے والی اُن کی برانچوں کی اِتوار کی عِبادتوں میں شرکت کی۔ کمرہِ عِشائے ربانی میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، حتیٰ کہ لوگ شرکت کی خواہش میں دروازے سے باہر کھڑے تھے۔ مَیں نے صدرِ برانچ کو بتایا اُسے بڑی عِبادت گاہ کی ضرورت ہے۔ مَیں حیران ہُوا، جب اُس نے بتایا کہ یہ تو صرف آدھے اَرکان تھے۔ باقی کے آدھے گھنٹہِ دوم کے بعد دُوسری عِشائے ربانی میں شریک ہوں گے۔ پھر سے، وہاں کوئی شِکایتں نہ تھیں—صرف مُسکراتے چہرے اور احسان مند دِل تھے۔

مَیں بعد میں لیسوتھو واپس آیا کیونکہ ہمارے کئی نوجوانوں کے ساتھ ایک مہلک ٹریفک حادثہ پیش آیا تھا، جس کا ذکر ایلڈر ڈی ٹاڈ کرسٹوفرسن پہلے ہی کر چُکے ہیں۔ جب مَیں خاندانوں اور راہنُماؤں سے مِلا، مُجھے سوگوار ماحول کی توقع تھی۔ اِس کی بجائے، میرا سامنا مضبُوط اور استقامت والے مُقدّسِین سے ہُوا جو صورت حال سے بڑے دلیرانہ اور حیران کُن انداز سے نپٹ رہے تھے۔

میپھو انیکیا نیکو

میپھو انیکیا نیکو، 14، اس تصویر میں حادثہ میں بچ جانے والی نے، اپنے الفاظ میں بڑی اچھی طرح بیان کِیا: ”مسِیح پر بھروسا رکھو اور سدا اُس پر نظر کرو، کیوں کہ اُس کے وسِیلہ سے آپ اِطمِینان پا سکتے ہیں، اور وہ شفا کے عمل میں آپ کی مدد کرے گا۔“

یہ چند ایک مثالیں ہیں جہاں ہم اُن کے مُثبَت رویے دیکھتے ہیں کیوں کہ اُنھوں نے اپنی زِندگیوں کو یِسُوع مسِیح کی انجیل پر مُرتکز کِیا ہے۔ وہ جانتے ہیں اُمِّید اور سہارا کہاں ڈھونڈنا ہے۔

مُنّجی کی شِفا بخش قدرت

کیوں مُنّجی اُنھیں اور ہمیں ہماری زِندگیوں کی کسی بھی حالت میں سہارا دے سکتا ہے؟ جواب صحائف میں تلاش کِیا جا سکتا ہے۔

”اور وہ ہر قسم کے دُکھوں اور مُصِیبتوں اور آزمایشوں کو برداشت کرتا جائے گا۔ …

”… اور وہ اُن کی کمزوریاں خُود پر لے لے گا، کہ اُس کا دِل رحم سے لبریز ہو، … تاکہ وہ جانے … کہ اُن کی کم زوریوں میں اُن کی مدد کیسے کرے۔“

جیسے ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا ہے، کوئی جسمانی درد، کرب، یا کم زوری نہیں جو ہم محسُوس کرتے ہیں جو مُنّجی نہ جانتا ہو۔ ”آپ اور مَیں کم زوری کے اُس لمحے میں چِلا سکتے ہیں، ’کوئی نہیں سمجھتا جن حالات سے مَیں گزر رہا ہُوں۔ …‘ شاید، کوئی انسان، نہیں جانتا۔ مگر اِبن خُدا مکمل طور پر جانتا اور سمجھتا ہے۔“ اور کیوں؟ کیوں کہ ”ہمارے سہنے سے کہیں پہلے اُس نے یہ بوجھ محسُوس کیے اور سہے ہیں۔“

مَیں متی 11 میں پائے گئے کلامِ مسِیح کے ساتھ اپنی گواہی تمام کرتا ہُوں:

”اَے محنت اُٹھانے والو، اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو سب میرے پاس آؤ، مَیں تُم کو آرام دُوں گا۔

”میرا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مُجھ سے سِیکھو؛ کِیوں کہ مَیں حلِیم ہُوں اور دِل کا فروتن: اور تُمھاری جانیں آرام پائیں گی۔

”کِیُوں کہ میرا جُوا ملائِم ہے، اور میرا بوجھ ہلکا۔“

افریقہ میں اُن مُقدّسِین کی مانند، مَیں جانتا ہُوں یہ وعدہ سچّا ہے۔ یہ وہاں سچّا ہے، یہ ہر کہیں سچّا ہے۔ اِسی کی مَیں گواہی دیتا ہُوں یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. جیمس ای فاؤسٹ، ”Five Loaves and Two Fishes،“ انزائن، نومبر 1994، 5۔

  2. رسل ایم نیلسن، ”خُوشی اور روحانی بقا،“ لیحونا، نومبر 2016، 82۔

  3. ایلما 7:‏11–12۔

  4. ڈیوڈ اے بیڈنار، ”کفّارہ اور فانی زندگی کا سفر،“ لیحونا، اپریل 2012، 19۔

  5. متّی 11:‏28–30۔