مجلسِ عامہ
خُدا سے میل مِلاپ کرو
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


10:22

خُدا سے میل مِلاپ کرو

یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کے وسِیلہ سے خُدا کے ساتھ یہ صُلح اَٹل اِیمان کی طرف لے جاتی ہے۔

جب مَیں صحائف کا مُطالعہ کرتا ہُوں، تو مُجھے اَیسے اَلفاظ نظر آتے ہیں جو واقعی میری توجہ کے طالب ہوتے ہیں، اِس لِیے کہ میری زِندگی میں رُونما ہونے والے واقعات و تجُربات کے نتیجہ میں یہ بُنیادی طور پر خاص معانی رکھتے ہیں۔ مَیں نے اپنا کیریئر فرانزک اَکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے گُزارا ہے۔ اِس پس منظر کے باعث، لفظ مِلاپ کرنا نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی جب میں پاک کلام پڑھ رہا تھا۔ میرا کام اَکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ، اور تفتیشی مہارتوں کو لاگُو کرکے مالی ریکارڈ کے ساتھ رپورٹ شُدہ رقُوم میں مُطابقت لانا تھا۔ بااَلفاظ دِیگر، میرا مقصد مالیاتی رپورٹس کو بُنیادی مالیاتی دستاویزات کے ساتھ تصفِیہ میں لانا تھا تاکہ دُرستی اور توثِیق کو یقِینی بنایا جا سکے۔ مَیں نے تضادات کو دُور کرنے کے لیے مُستعِد کوششیں کیں، اور یہ عام بات تھی کہ بُہت ہی چھوٹے تضادات کو حل کرنے میں بُہت زیادہ وقت صَرف ہو جاتا تھا۔

پولُس رسُول نے کُرِنتھِیوں کی مِنّت کی تھی کہ ”خُدا سے میل مِلاپ کر لو۔“ خُدا کے ساتھ میل مِلاپ کا مطلب خُدا کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگی قائم کرنا ہے، یا خُدا کے ساتھ اُس رِشتے کو بحال کرنا ہے جو ہمارے گُناہوں یا اَعمال کی وجہ سے بِگڑ یا ٹُوٹ گیا ہے۔ سیدھی بات، خُدا کے ساتھ میل ملاپ کا مطلب ہے اپنی نِیّت اور اَعمال کو خُدا کی منشا کے مُطابق ڈھالنا یا، جَیسے صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا، کہ خُدا کو اپنی زِندگیوں پر غالِب آنے دو۔

مثلاً صحائف میں سِکھایا گیا ہے، ہم اپنے اَعمال کو انجام دینے میں آزاد ہیں، ”ہمیشہ کی موت کے راستے یا اَبَدی زِندگی کے راستے کو مُنتخب کرنے میں۔“ لیکن اگر ہم مُستعِد نہیں ہیں، تو اپنے اَعمال کو انجام دینے کی یہ آزادی خُدا کی منشا کے مُطابق ڈھالنے کا موقع کھو سکتی ہے۔

یعقُوب نبی نے سِکھایا کہ جب ہم اپنے آپ کو خُدا کے ساتھ سرکشی یا عداوت میں پاتے ہیں، تو ہم فقط ایک ہی طریقہ سے صُلح کر سکتے ہیں کہ ”مسِیح کے کفّارہ کے وسِیلہ سے [خُدا] سے میل مِلاپ کریں۔“ ہمیں یہ اِدراک ہونا چاہیے کہ میل مِلاپ کا اِنحصار رحم پر ہے، جِس کا مطلب یہ ہے کہ یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کی شفِیق قُربانی صُلح کو مُمکن بناتی ہے۔

جب آپ اپنی زِندگی پر غور و خوض کرتے ہیں، تو اُس وقت کے بارے میں سوچیں جب آپ کو آسمانی باپ سے دُوری کا اِحساس ہُوا چُوں کہ آپ اُس سے دُور جا چُکے تھے۔ مثلاً، شاید آپ اُس سے اپنی دُعاؤں میں یا اُس کے حُکموں کو ماننے میں کم مُستعِد ہو گئے ہوں۔ جب ہم خُدا سے دُور جانے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو ہمیں صُلح کی کوشش میں پہل کرنا ہوگی۔ خُداوند نے ہماری ذِمہ داری پر زور دِیا جب اُس نے کہا،: ”تُم میری طرف رُجُوع لاؤ تو مَیں تُمھاری طرف رُجُوع لاؤں گا؛ جاں فِشانی سے مُجھے ڈھُونڈو تو تُم مُجھے پاؤ گے؛ مانگو، تو تُم پاؤ گے؛ کھٹکٹاؤ، تو تُمھارے واسطے کھولا جائے گا۔“

نجات دہندہ اِس اہم رِشتے کو بَحال کرنے اور صُلح کرانے میں کیسے ہماری مدد کرتا ہے؟ میرے لِیے، مَیں خُدا سے صُلح کرنے کے لِیے اپنے سفر میں بڑی ترقی کرتا ہُوں جب مَیں صدر نیلسن کی ہدایت پر عمل کرتا ہُوں اور ہر روز تَوبہ کرتا ہُوں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ صُلح ایک ٹوٹے ہُوئے رشتے کی بحالی کی طرف اِشارہ کرتی ہے، خاص طور پر خُدا اور اِنسان کے درمیان میں، گُناہ کی رُکاوٹ کو ہٹا کر۔

پاک کلام میں جِس عظِیم میل مِلاپ کے مُتعلق ہم پڑھتے ہیں اُن میں سے ایک واقعہ انوس کا ہے۔ اُس کی زِندگی میں کُچھ تھا جو خُدا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھا۔ اُس نے خُدا کے ساتھ صُلح کے لیے یِسُوع مسِیح کے کفّارہ پر توکُل کرنے کی مثال قائم کر دی ہے۔ اُس نے اپنی تَوبہ کی حسرت، اپنی فروتنی، اپنی توجہ، اور اپنے عزم کو واضح کِیا۔ خُدا کے ساتھ اُس کی صُلح کی تصدِیق تب ہُوئی جب اُس کو آواز آئی، فرمایا، ”انوس، تُجھے تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے، اور تُو برکت پائے گا۔“ انوس نے اِس تاثَیر کو پہچانا جو تَوبہ اور صُلح کے باعث اُس پر نازِل ہُوئی تھی جب اُس نے کہا، ”اور مَیں، انوس جانتا تھا کہ خُدا جُھوٹ نہیں بول سکتا؛ پَس، میرا اِحساسِ گُناہ پُوری طرح سے مِٹ گیا تھا۔“

صُلح سے نہ صرف اِحساسِ جُرم سے نجات مِلتی ہے بلکہ ہم اپنے اندر اور دُوسروں کے ساتھ بھی تسلّی پاتے ہیں۔ یہ رِشتوں کو بہتر کرتی ہے، دِلوں کو نرم کرتی ہے، اور ہماری شاگِردی کو مضبُوط کرتی ہے، خُدا کے حُضُور زیادہ اعتماد فراہم کرتی ہے۔ جو شَے مُجھے بڑی اُمِّید اور آسرا دِلاتی ہے وہ میل مِلاپ کا ایک اور پھل ہے جِسے انوس نے بیان کِیا ہے جب اُس نے کہا، ”اور اِن باتوں کو مَیں، انوس، سُن چُکا تو، اِس کے بعد، خُداوند پر میرا اِیمان اَٹل ہونا شُروع ہوگیا۔“

جب مَیں لڑکا تھا، تو میرے نانا کا چیری کا بُہت بڑا باغ تھا۔ مُجھے باغ میں کام کرنے کا موقع مِلا، جو زیادہ تر گرمیوں میں چیری کی کٹائی کے دوران میں ہوا کرتا تھا۔ نو عُمر لڑکے کے طور پر، مُجھے معلُوم ہُوا کہ میری زیادہ سے زیادہ شراکت یہ تھی کہ ٹوکری تھما دی جاتی تھی اور پھر چیری چُننے کے لیے درخت پر چڑھا دِیا جاتا تھا۔

چیری کی کٹائی میں نمایاں تبدیلی آئی جب میرے نانا نے چیری کے درختوں کو زور سے جھٹکنے والی مشین خریدی۔ یہ مشین درخت کے تنے کو پکڑ کر ہلاتی ہے جِس کی وجہ سے چیریز درخت سے ٹُوٹ کر اُن جالوں پر گِر جاتیں جو چیری کو جمع کرنے کے لیے اِستعمال ہوتے ہیں۔ مَیں نے غَور کِیا کہ جب مشین درخت کو ہِلانا شرُوع کرتی، تو تقریباً ساری چیریز سیکنڈوں میں درخت سے گِر جاتی تھیں۔ مَیں نے یہ بھی دیکھا کہ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ درخت کو 10 سیکنڈ یا پُورے ایک منٹ تک ہِلایا جاتا، کُچھ چیریز نہیں گرتی تھیں۔ وہ واقعی اَٹل تھیں۔

درخت سے چیریز کو جھٹکے دے کر اُتارنا اِیتھیلین اخراج کی وجہ سے مُمکن ہوتا ہے۔ یہ ہارمون چیری کے تنے اور درخت کے درمیان خُلیوں کی تہہ کو کم زور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اِس لِیے، پکی ہُوئی چیری کی ٹہنی کم زور کنکشن کی وجہ سے زیادہ آسانی سے درخت سے الگ ہو جاتی ہے۔

پاک کلام میں، ہم سِیکھتے ہیں کہ یسّی کا تنا مسِیح، یعنی یِسُوع مسِیح کا اِستعارہ ہے، جِس کے بارے میں پیشِین گوئی کی گئی تھی، کہ وہ داؤد بادِشاہ کے باپ یسّی کی نسل سے آئے گا۔ جِس طرح اِیتھیلین پکی ہُوئی چیری کی ٹہنی کے تعلُق کو کم زور کر دیتا ہے، اِسی طرح نافرمانی، شکُوک و شُبہات اور خَوف یسّی کے تنے، یعنی یِسُوع مسِیح، سے ہمارے تعلُق کو کم زور کر سکتے ہیں، جِس سے ہمیں آسانی سے ہِلا کر اِس سے الگ کِیا جا سکتا ہے۔ ہم جِس قدر بھی بااِیمان ہوں، ہمیں یِسُوع مسِیح کے ساتھ اپنے تعلُق کو کم زور ہونے سے بچانا چاہیے۔

عقائد اور عہُود میں، حتیٰ کہ اِیمان والوں کو بھی خبردار کِیا گیا ہے: ”بلکہ یہ مُمکِن ہے کہ اِنسان زِندہ خُدا سے پھِرے اور فضل سے گِر جائے۔“ خُداوند مزید فرماتا ہے، ”ہاں، … وہ بھی جو مُقَدَّس ٹھہرائے گئے ہیں خبردار ہوں۔“ گِرنے سے بچنے کے لِیے، خُداوند تاکِید کرتا ہے، ”پَس کلِیسیا خبردار رہے اور ہمیشہ دُعا کرے، اَیسا نہ ہو کہ وہ آزمایش میں پڑیں۔“

کوئی شخص بھی آسانی سے ہل جانے کی کیفیت کو اِس سے تشبِیہ دے سکتا ہے جِس کی بابت نوِشتے بتاتے ہیں، کہ وہ اَعمال کے ناگُزیر نتائج کی بدولت ہلاکت کے لِیے پکتے ہیں۔ اِس فِقرہ کو زوال، بدعُنوانی، یا پستی کی اَیسی کیفیت کی نِشان دہی کرنے کے لیے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر اِستعمال کِیا جا سکتا ہے جو کسی چیز کے سقُوط یا تباہی کے لیے حساس بناتی ہے۔

یہ پک جانا کِس چِیز کی نمایندگی کرتا ہے؟ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اِس مقام تک پُہنچ سکتے ہیں جہاں ہم بدل نہیں سکتے؟ نہیں، میرے خیال میں اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ ایک اَیسے مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں پر ہم بدلنا نہیں چاہتے۔ ہلاکت میں پکنے کا توڑ اُن کاموں کو انجام دینا ہے جو یِسُوع مسِیح کے ساتھ ہمارے تعلُق کو مضبُوط بنائیں گے۔ مثلاً بتایا گیا ہے، تَوبہ نے انوس کو اَٹل اِیمان کے مقام تک پُہنچایا۔ تَوبہ میں طاقت ہے—باقاعدہ، فوری، اور بار بار تَوبہ۔ مثلاً صدر نیلسن نے ہمیں سِکھایا ہے: ”اِنفرادی ترقّی کے لیے باقاعدگی سے روزانہ، تَوبہ پر دھیان لگانے سے زیادہ آزادانہ، بڑا یا اہم کام اور کوئی نہیں ہے۔“

تَوبہ کے عِلاوہ، یعقُوب نبی نے سِکھایا کہ اپنی زِندگیوں میں خُدا کے ہاتھ کو محسُوس کرنا، مُکاشفہ کے مُشتاق ہونا، اور قبُول کرنا، اور خُدا کو سُننا جب وہ کلام کرتا ہے صِرف اِس لِیے کہ گِرنے سے ہمیں بچائے۔ یعقُوب نے مزید سِکھایا، ”پَس، ہم تحقیقِ صحائفِ اَنبیا میں محو ہوتے ہیں، ہمارے پاس بے شُمار مُکاشفے ہیں اور نبُوّت کی رُوح ہے؛ اور اِن سب گواہیوں سے ہم اُمِّید پاتے ہیں، اور ہمارا اِیمان اَٹل بن جاتا ہے-“ نبیوں اور رسُولوں کے کلام اور ہدایت کو سُننا اور اُن پر عمل کرنا ہمیں اُمِّید، اِعتماد اور ہمت سے معمُور کر سکتا ہے جِس کے نتیجہ میں ہمارا اِیمان اَٹل ہو جاتا ہے۔

مَیں نے سِیکھا ہے کہ خُدا کے ساتھ میل مِلاپ کرنے کی حسرت کے ساتھ تَوبہ کی تمنا بھی ہونی چاہیے۔ تَوبہ کرنا اور یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کی برکات کا تجُربہ پانا اَٹل اِیمان کی طرف لے جاتا ہے۔ اَٹل اِیمان خُدا سے ہمیشہ میل مِلاپ رکھنے کی خواہش کو جنم دیتا ہے۔ یہ دائروی، یا بار بار کرنے والا نمُونہ ہے۔

بھائیو اور بہنو، مَیں آپ کو یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کے وسِیلہ سے خُدا کے ساتھ میل مِلاپ کرنے کی دعوت دیتا ہُوں۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ عہد باندھنے اور قائم رکھنے سے نجات دہندہ کے ساتھ ہمارا تعلُق مضبُوط ہوتا ہے، جِس سے ہم ہلاکت میں پکنے سے بچ جاتے ہیں۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کے وسِیلہ سے خُدا کے ساتھ یہ صُلح اَٹل اِیمان کی طرف لے جاتی ہے۔

مَیں جانتا ہُوں کہ آسمانی باپ آپ سے اور مُجھ سے پیار کرتا ہے، اور اُس نے اپنے پیارے بیٹے، یِسُوع مسِیح، کو ہمارا نجات دہندہ اور مُخلصی دینے والا، اور عظِیم ثالِث بنا کر بھیجا۔ مَیں یِسُوع مسِیح کی گواہی دیتا ہُوں اور یہ یِسُوع مسِیح کے نام سے کہتا ہُوں، آمین۔