مجلسِ عامہ
یِسُوع مسِیح اور آپ کی نئی شرُوعات
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


14:20

یِسُوع مسِیح اور آپ کی نئی شرُوعات

ہم سب یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے، اور اُسی کی بدولت نئی شرُوعات کر سکتے ہیں۔ آپ بھی۔

صحیفائی کم بیانی کہ: یِسُوع بھلائی کرتا پِھرا

یِسُوع ”بھلائی کرتا پِھرا۔“ ہم اِس سادہ سی خبر کو اَعمال کی کِتاب میں پڑھتے ہیں۔ یہ کس قدر کم بیانی کا مُظاہرہ ہے! یقِیناً یِسُوع بھلائی کرتا پِھرا! وہی تو حقیقی—بھلائی کا جوہر اور—وسِیلہ ہے! اُس نے اپنی ساری فانی زِندگی بھلائی کرنے کے لِیے وقف کر دی تھی۔ وہ ”رحیم اور مہربان، قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت اور وفا میں غنی ہے،“ فضلیت میں لامحدُود اور رحمت میں لازوال۔

اُس کی فضیلت اور رحمت کو بیان کرنے یا اُس کا خلاصہ کرنے کی جِتنی بھی کوشش کریں ہمیشہ کم تر رہے گی! درحقیقت، جَیسا یُوحنّا رسُول نے بیان کرنے کی کوشش کی، اگر ہم نجات دہندہ کی ہر فضلیت کے مظہر کو لِکھنے کی کوشش کرتے، تو ”جو کِتابیں لِکھی جاتِیں اُن کے لِیے دُنیا میں گُنجایش نہ ہوتی۔“

یِسُوع مسِیح ہم میں سے ہر ایک کو نئی شرُوعات عطا کرتا ہے

چند مخصُوص مثالیں جو ہم نے پاک کلام میں یِسُوع کے ”بھلائی کے کاموں“ کے بارے میں امر کر دی ہیں، جو بڑے تعجُب اور حیرت کو جنم دیتی ہیں، خاص طور پر جب ہم واقعی اِس بات پر غَور کرتے ہیں کہ کاش ہم وہاں موجُود ہوتے، اُس کے مُعجزات کو دیکھتے، اُس کی تعلِیم قبُول کرتے، اور اُس کی شِفا کو محسُوس کرتے تو کَیسا لگتا۔ اُس نے سماج کے ٹھُکرائے ہُوؤں کے ساتھ کلام کِیا، اُس نے بیماروں اور ناپاک لوگوں کو چُھوا، اُس نے تھکے ماندے لوگوں کو تسلّی دی، اُس نے آزاد کرنے والی سچّائی سِکھائی، اور اُس نے گُناہ گاروں کو تَوبہ کے لِیے بُلایا۔ ہر کوڑھی، ہر اندھے، اور زناکار عورت کو؛ ہر لنگڑے، ہر بہرے، اور ہر گونگے کو؛ ہر دُکھیا ماں، ہر پریشان باپ، اور ہر سوگوار بیوہ کو؛ ہر ٹھُکرائے ہُوئے، ہر دُھتکارے ہُوئے، اور ہر مُصِیبت کے مارے کو؛ ہر جسمانی اور رُوحانی مُردے کو نئی شرُوعات عطا کرنے کے لِیے اُس نے سب کُچھ برداشت کِیا۔ جی ہاں، ایک اور حیران کُن انداز سے کم بیانی سے کہی گئی بات!

ہر وہ بات جو اُس نے کہی اور ہر وہ کام جو اُس نے انجام دِیا اُن میں سے ہر ایک کو نئی شرُوعات فراہم کی جِس کو اُس نے شِفا دی، برکت دی، تعلِیم دی، اور گُناہ سے نجات دِلائی۔ وہ اُن سے دست بردار نہیں ہُوا، اور وہ یقیناً آپ سے دست بردار نہیں ہوگا۔ اِس گھڑی تصُّور کریں کہ اُس سے زِندگی کی باتیں سُنتے ہیں:

”بیٹا، تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔“

”اَے لڑکی، مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ۔“۔

”تُو پاک صاف ہو جا۔“

”مَیں بھی تُجھ پر حُکم نہیں لگاتا: جا، اور پھر گُناہ نہ کرنا۔“

”بیٹی، تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہے؛ سلامت چلی جا۔“

اِن اَفراد کے لِیے نجات دہندہ کے اَلفاظ مُختصِر تھے، لیکن اِن کے ساتھ اُس نے مُعافی، شِفا، بحالی، اِطمِینان، اور اَبَدی زِندگی کے نئے نئے وسیع آفاق میں رنگ بھر دِیے۔ اور شان دار خبر یہ ہے کہ وہ آپ کو اور مُجھے وہی نئی شرُوعات عطا کرتا ہے۔ ہم سب یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے، اور اُسی کی بدولت نئی شرُوعات کر سکتے ہیں۔ آپ بھی۔ نئی شرُوعاتیں اپنی اُمّت کے واسطے باپ کے منصُوبہ کے قلب میں ہیں۔ یہ نئی شرُوعات کی کلِیسیا ہے! یہ تازہ اِبتدا کی کلِیسیا ہے!

یہ کلِیسیا نئی اِبتداؤں کی ہے

پانی اور رُوح سے بپتِسما لینے کے ساتھ، ہم ”نئے سِرے سے پَیدا ہوتے ہیں“ اور ”حیاتِ نو میں قدم رکھ سکتے ہیں۔“ کتنی زیادہ اُمِّید وہ نئی شرُوعات اُس اِنسان کے لِیے لاتی ہے جو گُناہ کے بوجھ تلے دب گیا ہو یا پریشان حال زِندگی اور ناکام رِشتوں کے اَثرات سے دوچار ہو؟ یِسُوع کو گُناہ کی مُعافی یا زِندگی میں نئے سِرے سے آغاز کی ضرُورت نہیں تھی، پھِر بھی اُس نے خُود بپتِسما لِیا تھا، ہمیں بڑی راحت کے ساتھ نئی شرُوعات کا راستہ دِکھایا جو اُس نے ہم میں سے ہر ایک کے لِیے تراشا ہے۔

اور ہماری نئی شرُوعات صِرف ایک بار نہیں ہوتی۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہمارا بپتِسما نئی شروعات میں ہمارا واحد موقع ہے۔ اَیسا نہیں ہے۔ ہمارے پاس صِرف ایک موقع نہیں ہے۔ یہ نئی شرُوعاتیں ہر روز ہو سکتی ہیں! اور یقینی طور پر ہر ہفتہ جب ہم اپنی نعمت یعنی کامِل نجات دہندہ کی یاد میں روٹی کا چھوٹا نوالہ کھاتے ہیں اور پانی کی چھوٹی سی پیالی پِیتے ہیں، جو ہمیں نئی شرُوعات عطا کرنے کی خاطر مُوا! یِسُوع ہمیں اُتنی زیادہ نئی شرُوعاتیں عطا کرتا ہے جِتنی زیادہ ہمیں اُن کی ضرُورت ہوتی ہے۔

مسِیح میں نئی زِندگی کے عزم اور خُوشی کے ساتھ، ہم ”نئی مخلُوق“ بن سکتے ہیں، جہاں پُرانی چِیزیں جاتی رہتی ہیں اور ساری چِیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔ یہ موقع کیا فراہم کرتا ہے اِس قِسم کی نئی صُبح اُس جان کے لِیے لاتا ہے جو زوال پذیر دُنیا میں زِندگی کی کُچلنے والی مُصِیبتوں کے باوجُود، شِفا پانے اور بحال ہونے کے لِیے ہمارے نجات دہندہ کی قُدرت پر اِیمان لانے کا فیصلہ کرکے، کوشش کرتی رہتی ہے؟ نجات دہندہ باپ کی مرضی پُوری کرنے اور اپنے الہٰی کفّارہ کے فرض کو انجام دینے کے اِرادہ سے کبھی پِیچھے نہ ہٹا، حالاں کہ اِس درد سے وہ کراہ رہا تھا، ہر مسام سے خُون بہہ رہا تھا، جِسم اور رُوح کو اَذیت پُہنچ رہی تھی، اور دُعا کرتا تھا کہ یہ کڑوا پیالہ ٹل جائے۔ ایک بار پھر، وہ ہمارے لِیے نمُونہ بن رہا تھا کہ خُدا کے ساتھ وفاداری نِبھانا کیسا ہوتا ہے۔

ہر عہد کے ساتھ جو ہم اُس کے ساتھ باندھتے اور اُس پر قائم رہنے کی ہر کوشش جو ہم کرتے ہیں، اُس سے ہمیں ”نیا دِل“ اور کثرت سے ”نئی رُوح“ عِنایت ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ، ہم جِتنا زیادہ اُس کی بھلائی کو اپنے دِلوں میں جگہ دیتے ہیں اور خُود شِکستہ آوازوں کو اپنے دماغوں سے نِکالتے ہیں، تو ہم اُس کی اُمّت بن جاتے ہیں کیوں کہ ہم واقعی اُسے اپنا خُدا مانتے ہیں۔ یِسُوع بڑے اِشتیاق سے ہمارا چوپان اور ہمارا سلامتی کا شہزادہ اور ہمارا بادِشاہ ہونا پسند کرتا ہے، اور ہم اپنے دِلوں اور دماغوں میں اُس کو ایسا بنانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

تَوبہ کو ہم نئی شرُوعات کے تُناظر میں دیکھتے ہیں

تَوبہ ہماری نئی شرُوعات، تازہ دم آغاز اور دُوسری بار مواقع کا دروازہ کھولتی ہے۔ ہمارے پیارے صدر رسل ایم نیلسن کی تعلیمات نے تَوبہ کی اِلہٰی نعمت کے مُتعلق غلط فہمِیوں کو دُور کر دِیا ہے، اور مُجھے لگتا ہے کہ ہم آخِرکار اِسے سمجھنے لگے ہیں۔

اچھّا لگتا ہے جب اپنے نوجوانوں کو یہ بتاتے ہُوئے سُنتے ہیں کہ اُن کے لِیے تَوبہ کا کیا مطلب ہے۔ مَیں نے حال ہی میں ایک نوجوان لڑکی کو مُسکراتے چہرے کے ساتھ کہتے سُنا، ”جب مَیں تَوبہ، ہر روز تَوبہ کے مُتعلق سوچتی ہُوں، تو مُجھے حیرت انگیز خُوشی اور اُمِّید کا اِحساس ہوتا ہے۔ مَیں اپنے آسمانی باپ اور اپنے نجات دہندہ کی محبّت اور خُوشی کو محسُوس کرتی ہُوں۔ دُعا میں آسمانی باپ کے پاس آنے سے مَیں ڈرتی نہیں اور جِس کسی مسئلہ میں تذب ذب کا شِکار ہوتی ہُوں اُس کے لِیے اُس سے مدد مانگتی ہُوں۔ مَیں جانتی ہُوں کہ وہ اِس تاک میں نہیں رہتے کہ کُچھ غلط کرُوں تو وہ مُجھے پکڑیں۔ اُن کی بانہیں بےتحاشہ کُھلی ہیں۔ یہ میرے لِیے تَوبہ ہے،“ اُس نے کہا۔ یہ نوجوان لڑکی سمجھتی ہے کہ یِسُوع مسِیح کی بدولت، وہ ایک نئی شروعات کر سکتی ہے!

نئی شروعات ہر ایک کے لیے، ہر وقت

کیا آپ کو نئی شرُوعات کی ضرُورت ہے؟ کیا آپ تازہ دم اِبتدا کر سکتے ہیں، کیا آپ بھی؟ اُن لوگوں کے بارے میں سوچیں جِن کی نجات دہندہ نے خِدمت کی تھی—جِن لوگوں کو اُس نے تعلِیم دی، شِفا دی، زِندہ کِیا، مُعاف کیا، اور بحال کِیا۔ کیا وہ کسی خاص مُعاشی طبقہ یا پس منظر کے تحت اُنھیں چُن رہا تھا؟ کیا وہ نیکوکار اور گُناہ گار میں فرق کر رہا تھا؟ کیا وہ لوگوں میں اِس لِیے اِمتیاز کر رہا تھا کیوں کہ وہ زیادہ مُستحق تھے یا زیادہ پسندیدہ تھے؟ نہیں۔

بعض اُس کی شِفا بخش قُدرت پر اِعتقاد کرکے، بڑے اِیمان کے ساتھ اُس کے پاس آئے، مثلاً، وہ عَورت جِس کے خُون جاری تھا، رُومی صُوبہ دار جِس کا نَوکر مر رہا تھا، کوڑھی، یائیر، یا نابِینا برتِمائی۔ اُن میں سے ہر ایک نے اپنے اِیمان کو اِس اُمِّید پر قائم کِیا کہ ناصرت سے تعلُق رکھنے والے ربی کی بھلائی اور قُدرت اُن کی زِندگیوں اور اُن کی تقدیروں کو بدل دے گی۔ اور اُس نے اَیسا ہی کِیا۔ اُس نے اپنی شِفا کو اُنڈیل دیا۔

بلکہ یِسُوع نے اُن لوگوں کو بھی برکت دی جِن کا اِیمان ڈانواں ڈول تھا، مثلاً اُس بِیمار بچّے کا باپ جو چِیخ اُٹھا، شاید آپ کی طرح، ”اَے خُداوند، مَیں اِعتقاد رکھتا ہُوں؛ تُو میری بے اِعتقادی کا عِلاج کر۔“ اور اُس نے اُن لوگوں پر بھی رحم کِیا جو اُس کے بالکُل خواہاں نہیں تھے، مثلاً زِنا میں پکڑی گئی عَورت، نائِین کی بیوہ، بیت حسؔدا کا اَپاہج، اور وہ آدمی جو اندھا پَیدا ہُوا تھا۔ کیا آپ نے محسُوس کِیا ہے کہ وہ آپ کی زِندگی میں بھلائی کے کام کرتا رہتا ہے یعنی جب آپ اُس کے مُشتاق یا مُقلد بھی نہیں ہوتے؟

پاک کلام کے اِن سب کِرداروں کو، اور اُن سب لوگوں کو جو سُنتے اور جواب دیتے تھے، اُس نے نئی شروعات عطا کی، چاہے وہ گُناہ کی مُعافی والی نئی زندگی ہو، یا بِیماری سے شِفا پانے والی نئی زندگی، یا موت سے حیات میں آنے والی نئی زِندگی۔

آپ کے اور میرے لِیے اِس کا کیا مطلب ہے؟ اُس کی نیکی اور رحم اور شفقت کی کوئی حد نہیں ہے۔ نئی شروعاتیں باپ کے منصُوبہ کے قلب میں ہیں! تازہ دم آغاز کا موقع دینا اِلہٰ زادہ کی منشا ہے! نئے اُفق، نئے باب، اور نئے مواقع اِنجِیلی خُوش خبری کا بُنیادی دِل ہیں!

تو، کیا آپ نئی شرُوعات پانے کے لِیے لمبی مُدت تک اپنے عہُود سے دُور رہے ہیں؟ نہیں۔ کیا آپ نے ایک اور موقع پانے کے لِیے یہ یا وہ بُہت بار کِیا ہے؟ نہیں۔ کیا آپ یہاں سے اپنی نئی کہانی لِکھنے میں اُس کی مدد پانے کے لِیے مسِیح سے بڑی دُور چلے گئے ہیں؟ نہیں۔ صِرف شَیطان ہی ہے جو اِس خیال سے فائدہ اُٹھاتا ہے کہ آپ تو ڈُوب گئے ہیں۔ آپ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے۔

اور نئی شروعاتیں ہمارے گُناہوں اور غلطیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ نجات دہندہ کی فضِیلت اور فضل کے وسِیلہ سے، ہم نئی شروعات کر سکتے ہیں جِس سے پُرانی ذہنیت، بُری عادات، بدمزاجی، منفی روّیوں، بے بسی کے اِحساسات، اور دُوسروں کو مُوردِ اِلزام ٹھہرانے اور ذاتی ذِمہ داری سے فرار ہونے کے رُجحانات میں تبدیلی آتی ہے۔ آپ واقعی اپنے بارے میں اِن چِیزوں کو تبدِیل کر سکتے ہیں جو برسوں سے آپ کو پریشان کر رہی ہیں۔ آپ نئی اِبتداؤں کے آقا کی قُدرت کے وسِیلہ سے دوبارہ شرُوع کر سکتے ہیں۔ وہ ہمیں نئی شرُوعات عطا کرتے ہُوئے کبھی نہیں تھکتا۔

اُن لوگوں کے لیے جو ایک ہی گُناہ یا ایک ہی لت میں بار بار گِرتے رہتے ہیں، آپ آگے بڑھتے رہیں۔ اُس نے راستے میں کوئی رُکاوٹ کھڑی نہیں کی ہے۔ اُس نے آپ کے دُوسری بار مواقع پر کوئی حد مُقرر نہیں کی ہے۔ بڑھتے چلیں۔ کوشش کرتے رہیں۔ اپنے آس پاس کے لوگوں سے مدد لیں۔ اور آپ نئی اِبتدا پر توکُل کریں جو آپ کے لِیے ہر بار موجُود ہوتی ہے جب آپ اپنے باپ کے پاس خلُوصِ دِل سے واپس آتے ہیں۔ اپنے پیچھے جان بُوجھ کر گُناہ کرنے، لاپروائی سے دُہرانے، اور تکُبرانہ بغاوت کو چھوڑ دیں جہاں کی وہ ہیں۔ آپ کو وہ نہیں بننا چاہیے جو آپ پہلے تھے۔ اپنی نئی شرُوعات کو گلے لگائیں، اپنے دُوسرے یا تیسرے یا چوتھے یا سوویں موقع کو، جو یِسُوع مسِیح کے کفّارہ بخش خُون کے وسِیلہ سے عطا کِیا گیا ہے۔

مُجھے جو نئی شرُوعاتیں عطا کی گئی ہیں اور جو مُجھے ابھی عطا ہونی ہیں اُن کے واسطے میں اپنی شُکر گُزاری بیان کرنے سے قاصر ہوں۔

آخِر میں

ہمارے نجات دہندہ نے کم بیانی سے آخِری کلمہ بولا جِس کے بغیر اِس دِن کی اُمِّید یا خُوشی کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔ گتسمنی کی جانکنی کے بعد اور اَذیت ناک مصلُوبیت کے اِختتام پر، اُس نے فقط اِتنا کہا، ”تمام ہُوا۔“ ممسُوح کی نبُّوت پُوری ہو چُکی تھی، اور کُل بنی نوع اِنسان کے گُناہوں اور دُکھوں کے قرض کی پُوری قِیمت ادا ہو چُکی تھی۔ اُس نے فرمایا ”تمام ہُوا“ اُس کا لامحدُود اور اَبَدی فِدیہ۔ پھِر بھی اِس کا کفّارہ اُس وقت تک مُکمل نہیں ہُوا جب تک اُس نے خُود تِیسرے دِن، اُس نئی زِندگی کا تجُربہ نہ کر لِیا، باپ کی قُدرت کے وسِیلہ سے جلالی، جی اُٹھنے والی ہستی کی حیثیت سے نئی شروعات کا۔

کیوں کہ اُس نے ہمیشہ وہی کام کِیے جو اُس کے باپ کو پسند تھے، اور کیوں کہ اُس نے ”ہر بات میں باپ کی مرضی پُوری کی ہے،“ تاکہ آپ اور مَیں نئی شرُوعات پا سکیں۔ براہِ کرم اپنی نئی شروعات، یعنی آج، اِسی وقت قبُول کریں۔ یِسُوع مسِیح ہمارے اِیمان کا بانی اور کامِل کرنے والا، ہمارے ساتھ لاتعداد نئے باب لِکھ رہا ہے۔ وہ اِبتدا اور اِنتہا ہے—ہماری شرمندگی اور مُصِیبت کا خاتمہ، اور اُس میں نئی زِندگی کا آغاز، ہمیں اپنا فضل پانے، ہمیں ماضی کو پیچھے چھوڑنے، اور جتنی بار ضرُورت ہو ایک نئی صُبح کے ساتھ، دُوبارہ شرُوعات کرنے دیتا ہے۔ واقعی اُس کی ”بھلائی اور رحمت [عُمر] بھر [ہمارے] ساتھ ساتھ رہیں گی۔“ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. اَعمال 10:‏38؛ مزید دیکھیے ”زِندہ مسِیح :رسُولوں کی گواہی،“ گاسپل لائبریری۔

  2. دیکھیے مرونی 7:‏12–13۔

  3. دیکھیے خُروج 34:‏5–7۔

  4. یُوحنّا 21:‏25۔

  5. مرقس 2:‏5۔

  6. مرقس 5:‏41۔

  7. متّی 8:‏3۔

  8. یُوحنّا 8:‏11۔

  9. لُوقا 8:‏48۔

  10. دیکھیں شَین ایم بوون، ”چوں کہ مَیں جیتا ہُوں، تُم بھی جیتے رہوں گے،“ لیحونا، نومبر 2012، 15–17۔

  11. یُوحنّا 3:‏3؛ مضایاہ 27:‏25۔

  12. رُومِیوں 6:‏4۔

  13. مرونی 6:‏8۔

  14. 2 کُرنتھِیوں 5:‏17۔

  15. دیکھیے عقائد اور عہُود 19:‏16–19۔

  16. دیکھیے حِزقی ایل 36:‏26–28۔

  17. ”مسِیح پر ہمارا اِیمان اور اُس کے لیے ہماری محبّت ہمیں تَوبہ کرنے، یا اپنے ایسے خیالات، عقائد، اور طرزِ عمل کو تبدیل کرنے کے لیے اُکساتی ہے جو اُس کی مرضی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ تَوبہ میں خُدا کے بارے میں، اپنے، اور دُنیا کے بارے میں نیا نقطہِ نظر تخلیق کرنا شامِل ہوتا ہے“ (میری اِنجِیل کی مُنادی کرو: مُنادی کی خِدمت کے لِیے ہدایت نامہ [2004]، 62)۔

    ”تَوبہ کی تعلِیم لُغت کی تعرِیف سے کہیں زیادہ وسِیع و ارفع ہے۔ جب یِسُوع نے کہا ’تَوبہ،‘ تو اُس کے شاگِردوں نے اُس حُکم کو یُونانی زبان میں فعل metanoeo کے ساتھ درج کِیا۔ اِس زور دار لفظ کی بڑی اَہمیت ہے۔ اِس لفظ میں میٹا سابقہ ہے جِس کا مطلب ’تبدیلی‘ ہے۔ لاحقہ چار اہم یونانی اصطلاحات سے متعلق ہے: نواس، جِس کا مطلب ہے ’ذہن‘؛ گنوسس، کا مطلب ’عِلم‘؛ نیوما، کا مطلب ’رُوح‘؛ اور نوی، کا مطلب ’سانس‘ ہے” (رسل ایم نیلسن، ”تَوبہ اور رُجُولت،“ لیحونا، مئی،2007، 103)۔

    ”انفرادی ترقّی کے لیے باقاعدگی سے روزانہ، تَوبہ پر دھیان لگانے سے زیادہ آزادانہ، بڑا یا اہم کام اور کوئی نہیں۔ تَوبہ کوئی واقعہ نہیں ہے؛ یہ ایک عمل ہے۔ یہ خُوشی اور ذہنی اِطمینان کی کُنجی ہے۔ اِیمان کے ساتھ مل کر، تَوبہ یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کی قُدرت تک ہماری رسائی کو کھول دیتی ہے۔

    ”… روزانہ تَوبہ کی مضبوطی بخشنے والی قوت کا تجربہ—روزانہ کچھ بہتر کرنے اور بننے کا تجربہ حاصل کریں۔

    ”جب ہم تَوبہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو، ہم تبدیل ہونے کا انتخاب کرتے ہیں! ہم نجات دہندہ کو خُود کی بہترِین تبدِیل شُدّہ صُورت میں ڈھالنے کی اِجازت دیتے ہیں۔ ہم رُوحانی طور پر بڑھنے اور خُوشی حاصِل کرنے کا اِنتخاب کرتے ہیں—اُس میں مُخلصِی کی خُوشی۔ جب ہم تَوبہ کرنے کا اِنتخاب کرتے ہیں، تو ہم مزید یِسُوع مِسیح کی مانند بننے کا اِنتخاب کرتے ہیں!“ (رسل ایم نیلسن، ”ہم بہتر کر سکتے ہیں اور بہتر بن سکتے ہیں،“ لیحونا، مئی 2019، 67)۔

    ہر روز کی تَوبہ کی خُوشی کو دریافت کریں۔

    ”تَوبہ کتنی ضرُوری ہے؟ ایلما نے سِکھایا کہ ہمیں چاہیے کہ ’صِرف تَوبہ اور خُداوند پر اِیمان کی مُنادی کریں‘ [مضایاہ 18:‏20]۔ تَوبہ ہر اُس جوابدہ شخص کے لِیے لازِم ہے جو اَبَدی جلال کا آرزومند ہے۔ کسی کو اِستثنا حاصل نہیں ہے۔ …

    ”ہر روز کی تَوبہ کے ساتھ، عہد کے راستے پر چلنا، مُثبت رُوحانی جوش کو بڑھاوا دیتا ہے“ (رسل ایم نیلسن، ”رُوحانی جوش کی طاقت،“ لیحونا، مئی 2022، 98–99)۔

  18. دیکھیے مرقس 5:‏25–34۔

  19. دیکھیے متّی 8‏:5–13۔

  20. دیکھیے متّی 8:‏1–4۔

  21. دیکھیے مرقس 5:‏22–43۔

  22. دیکھیے مرقس 10:‏46–52۔

  23. دیکھیے مرقس 9:‏17–27۔

  24. دیکھیے یُوحنّا 8:‏3–11۔

  25. دیکھیے لُوقا 7:‏12–15۔

  26. دیکھیے یُوحنّا 5:‏1–9۔

  27. دیکھیے یُوحنّا 9:‏1–7۔

  28. یُوحنّا 19:‏30۔

  29. دیکھیے ایلما 34:‏14–16۔

    ”جب نجات دہندہ نے کہا، ’تمام ہُوا،‘ تو اِس سے مُراد اُس کی فانی زِندگی کا تجُربہ تھا، کیوں کہ اُس کی مصلُوبِیت نِشان تھی بلکہ اُس کی ہمہ وقت بڑھتی ہُوئی قُدرت کا ایک سنگِ مِیل تھی“ (سپنسر ڈبلیو کِمبل، بمُطابق کانفرنس رپورٹ، اپریل 1946، 49)۔

    ”نجات دہندہ نے اپنا فرض مُکمل نہیں کِیا تھا جِس وقت اُس نے بُلند آواز سے کہا، ’تمام ہُوا،‘ اور صلِیب پر جان دے دی۔ اُس کا اُن اَلفاظ کو اِستعمال کرنا، اِس زمِین پر اُس کا اعلیٰ و ارفع فرض مُراد نہیں تھی، بلکہ محض وہ دُکھ تھے جو اُس نے سہے تھے“ (جوزف ایف سمتھ، گاسپل ڈاکٹرائن، 5واں شُمارہ [1939]، 449–50)۔

  30. دیکھیے یُوحنّا 8:‏29۔

  31. 3 نِیفی 11:‏11۔

  32. زبُور 23:‏6۔