مجلسِ عامہ
ایک دُوسرے کی ہمت افزائی کرنا
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


11:53

ایک دُوسرے کی ہمت افزائی کرنا

فقط خُداوند ہی ہماری اِنفرادی مجبُوریوں اور صلاحیتوں کو پُوری طرح جانتا ہے، اور اِسی وجہ سے، ہماری کارکردگی کو پرکھنے کے لیے صِرف وہی پُوری طرح کامِل ہے۔

حال ہی میں مَیں نے ایک واقعہ پڑھا جس نے مُجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ امریکی ماسٹرز ٹریک اور فیلڈ نیشنل چیمپئین شِپ کے لِیے—عُمر رسیدہ لوگوں کا مقابلہ ہُوا۔

1،500-میٹر دوڑ میں حِصّہ لینے والوں میں سے ایک 100 برس کا اوروِل راجرز تھا۔ مُصنف لِکھتا ہے:

”جب سٹارٹر پِسٹل سے گولی چلی تو دَوڑ میں بھاگنے والوں نے دَوڑ شُروع کی، اوروِل نے فوراً آخِری پوزیشن کی ٹھان لی، وہ پُوری دَوڑ میں سب سے پِیچھے اکیلا، پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چلتا رہا۔ جب اوروِل کے آگے والے آخری رنر نے دَوڑ ختم کی، تو اوروِل کے ابھی بھی ڈھائی چکر باقی تھے۔ تقریباً 3،000 تماشائی خاموشی سے بیٹھے اُسے دیکھ رہے تھے کہ وہ آہستہ آہستہ ٹریک پر آگے بڑھتا ہے—تن تنہا، تکلِیف دہ خاموشی کے ساتھ۔

”[لیکن] جب اُس نے آخری لیپ شُروع کِیا، تو ہجُوم کھڑا ہو کر، حوصلہ افزائی کرنے اور سراہنے لگا۔ جب اُس نے آخری راؤنڈ ختم کِیا، تو ہجُوم زور زور سے شور مچا رہا تھا۔ ہزاروں لوگوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، اوروِل نے اپنی بچی کُھچی توانائی بھی لگا دی۔ جُوں ہی اُس نے فائنل لائن کو عبُور کِیا تو ہجُوم خُوشی سے جُھوم اُٹھا اور اُس کے حرِیفوں نے اُسے گلے لگایا۔ اوروِل نے حلیمی اور شُکر گُزاری سے ہجُوم کی طرف ہاتھ ہِلایا اور اپنے نئے دوستوں کے ساتھ ٹریک سے باہر نِکل آیا۔“

یہ اوروِل کے مقابلوں کی پانچویں ریس تھی، اور ہر مقابلہ میں اُس کی پوزیشن بھی آخِری ہوتی تھی۔ شاید بعض لوگوں نےاوروِل کو تنقید کا نِشانہ بنایا ہو کہ اُسے اِس عُمر میں مقابلوں میں حصہ نہیں لینا چاہیے—کہ دوڑ اُس کے بس میں نہ تھی کیوں کہ وہ ہر کسی کے لیے ہر دوڑ کو بُہت طویل کر دیتا تھا۔

اگرچہ اوروِل ہمیشہ آخِر میں ریس ختم کرتا، لیکن اُس دِن اُس نے پانچ عالمی ریکارڈ توڑے۔ اُس کی دوڑ کو دیکھنے والوں میں سے کسی نے بھی یقین نہ کِیا ہوتا کہ اَیسا ممکن ہو گا، لیکن نہ تماشائی اور نہ اُس کے حرِیف مُنصف تھے۔ نہ اوروِل نے کوئی قاعدہ توڑا، اور نہ عہدے داروں نے کوئی نرمی برتی۔ اُس نے دُوسرے حریفوں کی طرح اِس ریس کی شرائط کو پُورا کِیا۔ اَلبتہ اُس کی دُشواری کا درجہ—اِس مُعاملہ میں، اُس کی عُمر اور محدُود جِسمانی صلاحیت—کو مدنظر رکھتے ہُوئے اُس کو 100 سال سے زائد عُمر کے افراد کے زمرے میں رکھا گیا۔ اور اُس ڈویژن میں، اُس نے پانچ عالمی ریکارڈ توڑے۔

جِس طرح اوروِل کو ہر بار ٹریک پر قدم رکھنے کے لیے بڑی ہمت کی ضرُورت تھی، اُسی طرح بعض بہنوں اور بھائیوں کے لیے بھی ہر روز زِندگی کے میدان میں قدم رکھنے کے لیے بڑی ہمت درکار ہوتی ہے، یہ جانتے ہُوئے کہ اُن کے خِلاف نامُناسب قیاس آرائیاں ہوں گی تو بھی پریشانیوں کے باوجُود وہ نجات دہندہ کی تقلید کرنے اور اپنے عہُود پر قائم رہنے کے لیے ہر مُمکن کوشش کر رہے ہیں۔

اِس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم دُنیا میں کہاں رہتے ہیں، ہماری عُمر کیا ہے، اپنائیت کا اِحساس پانا ہم سب کی بُنیادی اِنسانی ضرُورت ہے، ہمیں لگے کہ ہم کو قبُول کِیا جاتا ہے اور ہماری ضرُورت ہے اور کہ ہماری زِندگی کا مقصد اور معنی ہے، خواہ ہمارے حالات یا مجبُوریاں کیسی بھی کیوں نہ ہوں۔

ریس کے آخِری راؤنڈ پر، ہجُوم کی بُہت زیادہ ہمت افزائی نے، اوروِل کو ریس جاری رکھنے کی ہمت دی۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ اُس کی آخِری پوزِیشن تھی۔ شُرکا اور ہُجوم کے لیے، یہ مُقابلہ سے کہیں زیادہ تھا۔ کئی طرح سے، نجات دہندہ کی محبّت کی یہ خُوب صُورت عملی مثال تھی۔ جب اوروِل نے ختم کی، تو سب نے مِل کر خُوشی کا اِظہار کِیا۔

ماسٹرز چیمپیئن شِپ کی طرح، ہماری جماعتیں اور خاندان اَیسے مقاماتِ اِجتماع بن سکتے ہیں جہاں ہم ایک دُوسرے کی ہمت افزائی کریں—ایک دُوسرے کے لِیے مسِیح کی محبّت سے عہد کی برادریاں بنائیں—ہمیں جو بھی مُشکل درپیش ہے اُس پر قابو پانے میں ایک دُوسرے کی مدد کریں، عیب جوئی کِیے بغیر ایک دُوسرے کی قُوت اور حوصلہ بنیں۔ ہمیں ایک دُوسرے کی ضرُورت ہے۔ اِتحاد سے اِلہٰی قُوت نازِل ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شَیطان ہم میں پھُوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔

بدقسمتی سے، ہم میں سے بعض لوگوں کے لِیے، چرچ میں آنا بعض اوقات مُختلِف وجوہات کی بِنا پرمُشکل ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اِیمان پر اُٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے اندیشہ میں مُبتلا ہو یا کوئی شخص سماجی اِضطراب یا ڈِپریشن کا شِکار ہو۔ بعض لوگوں کا دُوسرے مُلک، نسل، یا پس منظر سے تعلُق ہوتا ہے یا کسی فرد کا زِندگی کے تجربوں یا چِیزوں کو دیکھنے کا طریقہ مُختلف ہوتا ہے یا جَیسے وہ محسُوس کرتے ہیں وہ سانچے میں فِٹ نہیں ہوتے ہیں۔ چھوٹے اور نوزائیدہ بچّوں والے نیند سے محرُوم اور پریشانی میں گِھرے والدین یا خاندانوں اور بیاہتا جوڑوں بھری جماعت میں کوئی غیر شادی شُدہ شخص بھی ہو سکتا ہے۔ کُچھ وہ بھی ہو سکتے ہیں جو برسوں دُور رہنے کے بعد واپس آنے کی ہمت کر رہے ہوں یا وہ جِنھیں یہ لگتا ہو کہ وہ کسی قابل نہیں ہیں اور اُن سے کوئی تعلُق نہیں رکھے گا۔

صدر رسل ایم نیلسن نے کہا ہے: ”اگر آپ کی وارڈ میں کسی جوڑے کی طلاق ہو گئی ہو، یا نوجوان مُناد جلدی گھر آ گیا ہو، یا کسی نوعُمر کو اپنی گواہی پر شُبہ ہو، تو اُنھیں آپ کی عیب جوئی کی ضرُورت نہیں ہے۔ اُنھیں یِسُوع مسِیح کے سچّے عِشق کا اِحساس پانے کی ضرُورت ہے جو ہماری باتوں اور کاموں سے ظاہر ہوتا ہے۔“

کلِیسیا میں ہمارے تجُربہ کا مقصد خُداوند کے ساتھ اور ایک دُوسرے کے ساتھ نہایت اہم تعلقات قائم کرنا ہے جوکہ ہماری رُوحانی اور جذباتی بھلائی کے لِیے بُہت ضرُوری ہیں۔ خُدا کے ساتھ جو عہد ہم باندھتے ہیں، بپتِسما سے شرُوع کرتے ہیں، یہ ہماری ذِمہ داری ہے کہ ہم ایک دُوسرے سے محبّت کریں اور اُن کی دیکھ بھال کریں خُدا کے خاندان کے اَرکان کی حیثیت سے، مسِیح کے بدن کے اعضا ہیں، اور نہ کہ کاموں کی فہرست کی خانہ پُری کے لِیے ہیں۔

مسِیح جَیسی محبّت اور دیکھ بھال اعلیٰ اور مُقدّس تر ہے۔ محبّت مسِیح کا سچّا عِشق ہے۔ مثلاً صدر نیلسن نے کہا ہے، ”محبّت ہمت دیتی ہے ’کہ ایک دُوسرے کا بوجھ اُٹھائیں‘ [مضایاہ 18:‏8] بجائے اِس کے کہ پریشانیوں کا اَنبار ایک دُوسرے کے اُوپر لگاتے جائیں۔“

نجات دہندہ نے فرمایا، ”اگر آپس میں محبّت رکھّو گے تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو۔“ اور صدر نیلسن نے مزید کہا: ”محبّت یِسُوع مسِیح کے حقیقی پیروکار کی اَصل خُوبی ہے۔“ ”نجات دہندہ کا پیغام واضح ہے: اُس کے سچّے شاگِرد سہارا دیتے ہیں، اُوپر اُٹھاتے ہیں، حوصلہ دیتے ہیں، قائل کرتے ہیں۔ … ہم دُوسروں کے بارے میں اور دُوسروں کے ساتھ کیسے بات کرتے ہیں … واقعی اہم ہیں۔“

اُس پر نجات دہندہ کی تعلیم بُہت واضح ہے۔ اِس کا خلاصہ سُنہری اُصُول میں ہے: پس جو کُچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمھارے ساتھ کریں وُہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو۔ اپنے آپ کو اُس شخص کی جگہ پر رکھیں اور اُن کے ساتھ ویسا سلُوک کریں جَیسا آپ چاہتے ہیں کہ اگر آپ اُن کی صُورتِ حال میں ہوتے۔

دُوسروں کے ساتھ مسِیح جَیسا سلُوک ہمارے خاندانوں اور کلِیسیا سے کہیں زیادہ دُور تک جاتا ہے۔ اِس میں دُوسرے مذاہب سے ہماری بہنیں اور بھائی یا جِن کا کوئی مذہب نہیں شامل ہیں۔ اُس میں دُوسرے مُمالک اور ثقافتوں سے تعلُق رکھنے والے ہمارے بھائی بہنوں کے ساتھ ساتھ مُختلِف سیاسی وابستگیاں رکھنے والے بھی شامِل ہیں۔ ہم سب خُدا کے خاندان کا حِصّہ ہیں، اور وہ اپنے تمام بچّوں سے پیار کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کے بچّے اُس سے محبّت کریں اور ایک دُوسرے سے بھی کریں۔

ہمارے نجات دہندہ کی زِندگی اُن لوگوں سے بھی محبّت کرنے، اِکٹھا کرنے، اور سہارا دینے کی مثال تھی جِنھیں مُعاشرہ رد کِیے ہُوئے اور ناپاک قرار دیتا تھا۔ وہ اَیسا نمُونہ ہے جِس کی تقلید کرنے کا ہمیں حُکم دِیا گیا ہے۔ ہم مسِیح جَیسی صفات پَیدا کرنے اور آخِرکار اپنے نجات دہندہ کی طرح بننے کے لِیے یہاں آئے ہیں۔ وہ فہرستوں کی اِنجِیل نہیں ہے؛ یہ بننے کی اِنجِیل ہے—اَیسا بننا جَیسا وہ ہے اور اِس طرح پیار کرنے والے جِس طرح وہ کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم صِیُّون کے لوگ بنیں۔

جب مَیں اپنی 20 کی دہائی کے آخر میں تھی، تو مَیں شدید ڈپریشن کے دور سے گُزری تھی، اور اِس دوران میں، اَیسا لگتا تھا جَیسے خُدا کی موجُودگی کی حقیقت اچانک ختم ہو گئی تھی۔ مَیں جذبات کی پُوری وضاحت نہیں کر سکتی سِوا یہ کہنے کے کہ مَیں پُوری طرح کھوئی ہُوئی محسُوس کرتی تھی۔ اپنے بچپن سے ہی، مَیں ہمیشہ جانتی تھی کہ میرا آسمانی باپ ہے اور مَیں اُس سے بات کر سکتی ہُوں۔ لیکن اُس دوران میں، مَیں بھُول گئی تھی کہ کوئی خُدا تھا کہیں۔ مُجھے اپنی زِندگی میں اِس سے پہلے کبھی اِس طرح کا تجُربہ نہیں ہُوا تھا، اور اَیسا محسُوس ہوتا تھا کہ میری پُوری بُنیاد ٹُوٹ پھُوٹ رہی ہے۔

نتیجے کے طور پر، میرے لیے چرچ جانا مُشکل ہو گیا تھا۔ مَیں جاتی تھی، لیکن کبھی کبھار کیوں کہ مَیں ڈرتی تھی کہ کہیں مُجھ پر ”غیر سرگرم“ یا ”نِیم اِیمان والی“ کا لیبل نہ لگ جائے، اور مَیں کسی کے ذمہ لگایا گیا پروجیکٹ بننے سے ڈرتی تھی۔ اِس عرصہ میں مُجھے واقعی جس چیز کی ضرُورت تھی وہ یہ تھی کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی طرف سے حقیقی محبّت، سمجھ بُوجھ اور معاونت کا اِحساس پاؤں، نا کہ تنقِید کا نِشانہ بنُوں۔

بعض مفروضوں سے مَیں ڈرتی تھی جو لوگ میرے بارے میں بنائیں گے، مَیں نے خُود دُوسروں کے بارے میں مفروضے بنائے تھے جب وہ باقاعدگی سے چرچ میں نہیں آتے تھے۔ اِس تکلِیف دہ ذاتی تجُربہ نے مُجھے اِس بارے میں کُچھ قِیمتی سبق سِکھائے کہ ہمیں کیوں حُکم دیا گیا ہے کہ ہم ایک دُوسرے کی عیب جوئی نہ کریں۔

کیا ہم میں اَیسے لوگ ہیں جو خاموشی سے تکلِیف اُٹھاتے ہیں، دُوسروں کو اپنی پوشِیدہ بےچینیوں کو بتانے سے ڈرتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ ردِعمل کیسا ہوگا؟

فقط خُداوند ہی پریشانی کی اُس اَصل شِدت کو پُوری طرح جانتا ہے جِس سے ہم میں سے ہر کوئی اپنی زِندگی کی دوڑ میں لڑ رہا ہے—عذاب، مُصِیبتیں، اور وہ رُكاوٹیں جِن کا ہم سامنا کرتے ہیں جِنھیں اکثر دُوسرے نہیں دیکھ سکتے۔ فقط وہی زِندگی کو بدلنے والے زخموں کو پُوری طرح سمجھتا ہے اور ہم میں سے بعض کو ماضی میں صدمے پُہنچے ہوں گے وہ اب بھی ہمیں حالیہ دَور میں مُتاثر کر رہے ہیں۔

اکثر ہم اپنے آپ کو سخت تنقِید کا نِشانہ بناتے ہیں، یہ سوچ کر کہ ہمیں ترقی کی راہ پر بُہت آگے جانا چاہیے۔ فقط خُداوند ہی ہماری اِنفرادی مجبُوریوں اور صلاحیتوں کو پُوری طرح جانتا ہے، اور اِسی وجہ سے، ہماری کارکردگی کا فیصلہ کرنے کے لیے صِرف وہی پُوری طرح کامِل ہے۔

بہنو اور بھائیو، آئیے کہانی کے اُن تماشائیوں کی طرح بنیں اور شاگردی کے سفر میں ایک دوسرے کی ہمت افزائی کریں، چاہے ہمارے حالات کُچھ بھی ہوں! اِس کے لیے ہمیں نہ قوانین کو توڑنے یا معیارات کو نِیچے لانے کی ضرورت ہے۔ یہ درحقیقت دُوسرا حُکمِ عظیم ہے—اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔ اور جَیسے ہمارے نجات دہندہ نے فرمایا ہے، ”جب تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائِیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک کِیا … تو میرے ہی ساتھ کِیا،“ چاہے نیکی یا چاہے بُرائی۔ اُس نے یہ بھی کہا ہے: ”اگر تُم ایک نہیں ہو تُم میرے نہیں ہو۔“

ہم سب کی زِندگیوں میں اَیسا وقت آئے گا جب ہمیں مدد اور حوصلہ اَفزائی کی ضرُورت ہوگی۔ آئیے اب ایک دُوسرے کے لیے ہمیشہ اَیسا کرنے کا عہد کریں۔ جب ہم اَیسا کرتے ہیں، ہم زیادہ اِتحاد پَیدا کریں گے اور نجات دہندہ کے لیے راہ تیار کریں گے کہ ہم میں سے ہر کسی کو شِفا دینے اور تبدِیل کرنے كا اپنا کارِ اِلہٰی انجام دے۔

آپ میں سے جو لوگ محسُوس کرتے ہیں کہ زِندگی کی اِس دوڑ میں، حیاتِ فانی کے اِس سفر میں بُہت پیچھے رہ گئے ہیں، براہِ کرم چلتے رہیں۔ فقط نجات دہندہ ہی کامِل عدالت کر سکتا ہے کہ آپ کو اِس وقت کہاں ہونا چاہیے، اور وہ عادِل اور رحم دِل ہے۔ وہ زِندگی کی دوڑ کا عظیم و برتر مُنصف ہے، اور فقط اُسی کو پُورا اِدراک ہے کہ آپ کِس مُشکل کے ساتھ دوڑ رہے ہیں یا چل رہے ہیں یا لَڑکھڑا رہے ہیں۔ وہ آپ کی مجبُوریوں، آپ کی صلاحیتوں، آپ کی زِندگی کے تجربات، اور آپ کے اُٹھائے ہُوئے پوشِیدہ بوجھ کے ساتھ ساتھ آپ کے دِل کے اِرادوں کو بھی مدِنظر رکھے گا۔ آپ حقیقت میں شاید علامتی عالمی ریکارڈز بھی توڑ رہے ہوں گے۔ براہِ کرم ہمت نہ ہاریں۔ براہِ کرم، چلتے رہیں! براہِ کرم ٹھہریں! آپ کی جگہ ہے! خُداوند کو آپ کی ضرُورت ہے، اور ہمیں آپ کی ضرُورت ہے!

آپ دُنیا میں کہیں بھی رہتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی دُور کیوں نہ ہو، براہِ کرم ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کا آسمانی باپ اور آپ کا نجات دہندہ آپ کو پُوری طرح جانتے ہیں اور آپ سے کامِل پیار کرتے ہیں۔ وہ آپ کو کبھی نہیں بُھلاتے۔ وہ آپ کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں۔

اپنی نظر نجات دہندہ پر رکھیں۔ وہ آپ کا آہنی عصا ہے۔ اُس کو نظر انداز نہ کریں۔ مَیں گواہی دیتی ہُوں کہ وہ زِندہ ہے اور آپ اُس پر توکُل کر سکتے ہیں۔ مَیں گواہی دیتی ہُوں کہ وہ ہمت افزائی کر رہا ہے۔

میری دُعا ہے کہ ہم سب نجات دہندہ کی سِیرت کی تقلید کریں اور ایک دُوسرے کی یِسُوع مسِیح کے نام پر ہمت افزائی کریں، آمین۔

حوالہ جات

  1. جیفری سی سٹرونگ، نجی خط و کِتاب، اِجازت کے حوالہ دِیا گیا۔

  2. ہماری صدارت کی ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری بہنیں کلِیسیا میں اور خصُوصاً ریلیف سوسائٹی میں اِحساسِ اپنائیت کو محسُوس کریں۔ مُجھے کئی مواقع پر خطُوط پڑھنے اور تجُربات سُننے کا موقع مِلا ہے جِنھوں نے مُجھے افسُردہ کِیا۔

  3. دیکھیے 1 کرنتھیوں 12:‏26۔

  4. دیکھیے ہنری بی آئرنگ، ”Our Hearts Knit as One،“ لیحونا، نومبر 2008، 68-71؛ مزید دیکھیے اُلیسس سوارز، ”مسِیح میں ایک،“ لیحونا، نومبر 2018، 37-39؛ ”مسِیح میں ایک“ (وِڈیو)، گاسپل لائبریری۔

  5. دیکھیے 3 نِیفی 11:‏29۔

  6. رسل ایم نیلسن، ”صالحین کی ضرُورت ہے،“ لیحونا، مئی 2023، 100۔ اِسی پیغام میں، اُس نے کہا کہ ”ہر بار—جھگڑا رُوح کو بھگا دیتا ہے“ (صفحہ 100)۔ مَیں یہ شامِل کرُوں گی کہ دُوسروں پر نکُتہ چِینی والی باتیں بھی رُوح کو دُور کر سکتی ہیں۔ جب ہم تنقیدی قیاس آرائیوں کے ساتھ دُوسروں کو نیچا دِکھاتے ہیں، تو یہ تکبر کا ثبُوت ہے، اور صدر ہنری بی آئیرنگ نے کہا ہے کہ ”غرُور اِتفاق کا بدترین دشمن ہے“ (”ہمارے دِل جُڑ کر یکجا ہیں“، 70)۔

  7. دیکھیے جے اینٹ ڈنیس، ”آؤ اور خُدا کی عہد خواتین کی حیثیت اپنی جگہ لے لو“ (برگھم ینگ یونیورسٹی ویمنز کانفرنس میں اَنجُمنِ خواتین عمُومی صدارت کی طرف سے،دِیا گیا خطاب، مئی 1، 2024)، گاسپل لائبریری؛ دیکھیے مضایاہ 18:‏8–10۔

  8. دیکھیے 1 کرنتھیوں 12:‏14–26۔

  9. دیکھیے مرونی 7:‏47۔

  10. رسل ایم نیلسن، ”صالحین کی ضرُورت ہے،“ 101؛ تاکید اِضافی ہے۔

  11. یُوحنّا 13:‏35؛ تاکید اِضافی ہے۔

  12. رسل ایم نیلسن، ”صالحین کی ضرورت ہے،“ 100، 99۔

  13. دیکھیے متّی 7:‏12۔

  14. جب ہم نجات دہندہ کی پیروی کرتے ہیں اور اُس کی مانند بننے کی خواہش کرتے ہیں، ہم ہر ایک کو اِس طرح دیکھنے کی کوشش کریں گے جِس طرح وہ اُنھیں دیکھتا ہے، اور جب ہم محبّت کی نعمت کے لِیے دُعا کرتے رہیں گے، تو آخِرکار ہمارے دِلوں میں محبّت اور دیکھ بھال کا مُخلصانہ اِحساس بڑھ سکتا ہے۔ ہم دُوسروں کو ”بنانے، اُٹھانے، حوصلہ دینے، اور قائل کرنے“ کے جذبہ کو پَیدا کریں گے، فرض سمجھ کر نہیں بلکہ اِس لِیے کہ ہم آہستہ آہستہ اپنے نجات دہندہ کی طرح بن رہے ہیں (رسل ایم نیلسن، ”صالحِین کی ضرُورت ہے،“ 100)۔ مسِیح کی طرح دُوسروں کی خِدمت کرنے سے ہم وہ بن جائیں گے جو ہم ہیں، وہ نہیں جو ہم کرتے ہیں۔

  15. دیکھیے مُضایاہ 23:‏15۔

  16. دیکھیے، مثال کے طور پر، متّی 9:‏10–13؛ مرقس 1:‏40–42؛ لُوقا 8:‏43–48؛ 14:‏13–14؛ یُوحنّا 4:‏7–26؛ 5:‏2–9؛ 8:‏3–11۔

  17. دیکھیے 3 نِیفی 27:‏27؛ مزید دیکھیے رابرٹ سی گے، ”اپنے تئیں یِسُوع مسِیح کا نام لینا،“ لیحونا، نومبر 2018، 97–100۔

  18. ”ہمیں تقسیم کرنے والے اِختلافات کا واحد مستقل حل یہ ہے کہ ہم سب اپنے نجات دہندہ کی تعلیمات پر عمل کریں اور رفتہ رفتہ اُس کے جیسا بن جائیں۔“ (ڈیلن ایچ اوکس، بمُطابق جوئیل رینڈل، ”مسِیح کی تقلِید ’پیہم عزم اور ضابطہِ حیات ہے،‘ صدر اوکس بیلجیم میں یورپی مُقدّسِین کو سِکھاتے ہیں،“ Church News، جولائی 14، 2025، thechurchnews.com)۔

  19. ڈیلن ایچ اوکس، ”تبدیل ہونے کا دعویٰ،“ لیحونا، جنوری 2001، 40–43۔

  20. دیکھیے یُوحنّا 13:‏34۔

  21. ”کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسینِ آخِری ایّام کے اَرکان کے لیے واضح بلاہٹ یہ ہے کہ وہ صِیُّونی لوگ بننے کی کوشش کریں جو دِل اور دماغ میں ایک ہیں اور راست بازی میں جیتے ہیں،“ (کوئنٹن ایل کُک، “راستبازی اور اتحاد میں دلوں کی یگانگت,” Liahona، نومبر. 2020، 21)۔

  22. دیکھیے جے اینٹ ڈنیس، “Why I Choose to Stay” (برگھم ینگ یونی ورسٹی میں اَنجُمنِ خواتین سے کِیا گیا خطاب، 2 مئی، 2024)، گاسپل لائبریری۔

  23. دیکھیے ترجمہ از جوزف سمتھ، متّی 7:‏1–2 (in متّی 7:‏1، زیریں حاشیہ aایلما 41:‏14۔

  24. دیکھیے جے اینٹ ڈنیس، ”اُس کا جوُا ملائم ہے اور اُس کا بوجھ ہلکا ہے،“ لیحونا، نومبر. 2022، 80–81۔

  25. دیکھیے ایلما 7:‏11–12۔

  26. دیکھیے متّی 22:‏36–40۔

  27. متّی 25:‏40۔

  28. عقائد اور عہُود 38:‏27۔

  29. دیکھیے زبُور 145:‏8–9؛ اِفِسیوں 2:‏4–5۔

  30. دیکھیے ٹمارا ڈبلیو رونیا، ”آپ کی توبہ یِسُوع مسِیح پر بوجھ نہیں بنتی؛ بلکہ یہ اُس کی خُوشی کو درخشاں کرتی ہے،“ لیحونا، مئی 2025، 91۔

  31. دیکھیے عقائد اور عہُود 137:‏9۔

  32. دیکھیے رُومیوں 8:‏38–39۔

  33. دیکھیے پیٹرک کیرون، ”خُدا کا اِرادہ آپ کو گھر واپس لانا ہے،“ لیحونا، مئی 2024، 87–89۔

  34. دیکھیے یُوحنّا 1، اور باب کی شہ سُرخی آیت 1؛ 1 نِیفی 11:‏24–25۔

  35. دیکھیے جیفری آر ہالینڈ، ”کل خُداوند آپ کے درمیان حیرت اَنگیز کام کرے گا،“ لیحونا، مئی 2016، 127۔