تاکہ سب کی اِصلاح ہو
جب ہم یِسُوع مسِیح پر توجہ مرکُوز کرتے، اُس کے عقیدے کی تعلیم دیتے، اور جاں فِشانی سے سیکھتے ہیں، تو ہم رُوحُ القُدس کو مدعُو کرتے ہیں کہ وہ یِسُوع مسِیح پر ہمارے اِیمان کو مضبُوط کرے اور مزید اُس کی مانِند بننے میں ہماری دَست گِیری کرے۔
یُونیورسٹی کے ایک نوجوان طالبِ عِلم کے بارے میں ایک کہانی سنائی جاتی ہے جسے ایک مُشکل کلاس میں دُشواری کا سامنا تھا، چُنانچہ اُس نے مُعاونت کے لیے ایک مُعلم کی خِدمات حاصِل کِیں۔ کورس کے اِختتام کے قریب، یُونیورسٹی کے پروفیسر نے اِعلان کِیا کہ طُلبا حتمی اِمتحان میں کاغذ کا ایک ٹُکڑا لا سکتے ہیں جس پر جو وہ چاہیں ہو سکتا ہے۔ بعض طُلبا نے اِس طرح تیاری کی کہ لیکچر اور نصابی کِتابوں سے معلُومات کو نہایت بارِیک تحریر میں لِکھ لِیا، جو صِرف مُحدب عدسہ کے ذریعے ہی پڑھی جا سکتی تھی۔ لیکن وہ نوجوان کاغذ کے ایک خالی ٹُکڑے اور اَجنبی کے ساتھ حتمی اِمتحان میں آیا۔ جب پروفیسر نے اُس سے سوال کِیا، تو نوجوان نے جواب دِیا، ”آپ نے کہا تھا کہ ہم کاغذ کا ایک ٹُکڑا لا سکتے ہیں جس پر جو ہم چاہیں ہو سکتا ہے۔“ پھر اُس نے کاغذ کو اپنے میز کے ساتھ فرش پر رکھا اور کہا، ”مَیں چاہتا ہُوں کہ میرا مُعلم کاغذ کے ٹُکڑے پر کھڑا ہو۔“
رُوحُ القُدس
کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے اَرکان کی حیثیت سے، ہم خُدائی اَرکان کی رفاقت سے نوازے گئے ہیں، اور ہم کامِل مُعلم کی مُعاونت پا سکتے ہیں۔ رُوحُ القُدس سب چیزیں جانتا ہے، سچّائی کی گواہی دیتا ہے، اور ”سب باتیں [ہمیں] یاد دِلائے گا۔“ صدر رسل ایم نیلسن نے بارہا خُداوند کی آواز سُننے کی اَہمیت کے بارے میں بات کی ہے۔ اُنھوں نے ہمیں سِکھایا کہ کیسے رُوحُ القُدس کی ہدایت کو مدعُو کرنا ہے اور بار بار ہم سے اِلتجا کی کہ مُکاشفہ پانے کی اپنی رُوحانی صلاحیت میں اِضافہ کریں۔
آج مَیں آپ کو دعوت دیتا ہُوں کہ آپ رُوحُ القُدس کے کِردار، بالخصُوص گھر اور کلِیسیا میں اِنجِیل کی درس و تدریس پر غور و فِکر کریں۔ رُوحُ القُدس اِیمان کی دُعا سے اور جب ہم اِس بیش قِیمت نعمت کے اَہل رہنے کے طلب گار ہوتے ہیں تو یہ ہمیں عطا کی جاتی ہے۔ کلِیسیا کی اِلہامی راہ نُما کِتاب نجات دہندہ کے طرِیق پر تعلیم دینا خُداوند کے قائم کردہ اِضافی اُصُولوں کا خاکہ پیش کرتی ہے جو رُوحُ القُدس کی تاثیر کو دعوت دینے میں مدد کرے گی۔
جاں فِشانی سے سیکھنے کی دعوت دیں
اِن اُصُولوں میں سے ایک جاں فِشانی سے سیکھنے کی دعوت دینا ہے۔ ماضی میں، ہو سکتا ہے کہ ہم نے تعلیم دینے کو ایک اَیسا موقع سمجھا ہو گا جس میں والدین یا مُعلم اپنی تیاری میں رُوح کو دعوت دیتے ہیں اور پھر جو کُچھ وہ سیکھتے ہیں اُسے بچّوں یا جماعت کے اَرکان کے ساتھ بیان کریں، جن کا کِردار محض سُننا ہوتا ہے۔ لیکن اِس سے بھی زیادہ مؤثر تب ہوتا ہے جب ہم، سیکھنے والوں کی مانِند، تیار ہو کر آتے ہیں اور جب مُعلمین سیکھنے کے ایسے تجربات تخلیق کرتے ہیں جو براہِ راست ہمارے دِلوں اور ذہنوں میں ذاتی مُکاشفہ کو فروغ دیتے ہیں۔ پھر، جیسے ہی ہمیں اپنے مُطالعہ اور رُوحُ القُدس سے جو کُچھ ہم سیکھ رہے ہیں اُسے بیان کرنے کے مواقع دِیے جاتے ہیں، تو ہم ایک دُوسرے کی ہدایت اور اِصلاح پانے میں مدد کرتے ہیں۔ جب ہم اُن اِنجِیلی اُصُولوں کا اِطلاق کرتے ہیں، تو رُوح دوبارہ اُن کی سچّائی کی گواہی دیتا ہے۔
اور جیسے سب چیزوں میں، یِسُوع مسِیح کامِل نمُونہ ہے۔ اُس نے ہم میں سے ہر کو جاں فِشاں سیکھنے والے بننے اور اپنی گواہیوں کی ذِمہ داری اُٹھانے کا دعوت نامہ دِیا ہے۔ اُس نے اپنے شاگِردوں کو دعوت دی کہ وہ سیکھنے کی تیاری کریں، جو کُچھ وہ سیکھ رہے تھے اُسے بیان کریں، اور اِیمان کے ساتھ عمل کریں۔ اُس نے اُن کے واسطے دُعا کی، اُن کی اِلہٰی صلاحیت کو دیکھا، اُن کی بات سُنی، اور اُن کی یہ جاننے میں مدد کی کہ اُن سے محبّت کی گئی اور اُن کی ضرُورت ہے۔
بطور مُعلم، ہم سیکھنے والے کی ترقی پر، اُن کی ضرُوریات کو پُورا کرنے پر، اور تاحیات شاگِردی کی رُوحانی عادات کو فروغ دینے میں اُن کی مُعاونت کرنے پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔ بطور سیکھنے والے، جب ہم سیکھنے کے عمل میں اپنی خُود مُختاری کا اِستعمال کرتے ہیں، تو ہم رُوحُ القُدس کو اِشارہ دیتے ہیں کہ ہم اُس سے سیکھنے کے لیے رضامند ہیں۔
مَیں اُس مُعلمہ کا مشکُور ہُوں جس نے مُجھے بہتر سیکھنے والا بننے کی دعوت دی۔ جب مَیں نے کالج شُروع کِیا، تو مَیں نے غلطی سے کالج کو اَیسی چیز سمجھا جسے صِرف کھیلوں کی اِجازت لینے کی غرض سے برداشت کرنا پڑے گا۔ ایک روز، میری لِکھی ہُوئی تحریر پڑھنے کے بعد، میری پروفیسر نے مُجھے کہا کہ اُس کے خیال میں مَیں ایک خُداداد تجزیاتی مُفکر ہُوں۔ مَیں تو یہ بھی نہ جانتا تھا کہ اِس کا مطلب کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ تھوڑی اور توجہ کے ساتھ، مَیں بہترین طالبِ عِلم بن سکتا ہُوں۔ یہ خیال کبھی میرے وہم و گُمان میں بھی نہیں آیا تھا۔ اُس کی دِل چسپی، حوصلہ اَفزائی، دعوتوں نے میری تعلیم کی سِمت بدل ڈالی اور میری زِندگی کو بےحد برکت دی۔
عقیدے کی تعلیم دیں
رُوحُ القُدس کو دعوت دینے سے مُتعلق ایک اور اُصُول سچّے عقیدے کی تعلیم دینا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہُوا کہ ہمارے اِنجِیلی مُطالعہ اور ہدایت کی جَڑیں کلامِ خُدا میں پیوستہ ہیں اور کہ ہم اُن باتوں کو سنسنی خیز بنانے یا قیاس آرائی کرنے سے اِجتناب کریں جنھیں خُداوند نے اِفشا نہیں کِیا ہے۔ اِس کی بجائے، ہم لازمی اور اَبَدی اِنجِیلی اُصُولوں پر توجہ مرکُوز کرتے ہیں، جو رُوح کو سچّائی کی گواہی دینے کے قابل بناتا ہے۔ پھر سے، ہم مُنّجی کے نمُونہ کی پیروی کرتے ہیں۔ اُس نے فرمایا، ”میری تعلِیم میری نہیں، بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔“
سچّا عقیدہ صحائف اور جدید اَنبیا کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔ اِنفرادی طور پر اور بطور خاندان صحائف کا مُطالعہ کرنے کی خُداوند کی تاکید اور ہر ہفتے کلِیسیا میں شِرکت کرنا اُس کی اِنجِیل کا مُطالعہ کرنے کے لیے شان دار ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس سے ہم اُس کے عقیدے کو سیکھتے اور اُس کی آواز کو سُن سکتے ہیں۔ ہم صحائف کی تلاش اِس غرض سے کرتے ہیں کہ اُس کے بیانیے، سِکھائے گئے اُصُولوں، اور سِکھائی گئی سچّائیوں کا اپنی زِندگیوں میں اِطلاق سمجھ سکیں۔ کیسی عظیم برکت ہے کہ صحائف ہر وقت ہماری دَسترس میں ہوتے ہیں۔ تصور کریں کہ آدم اور حوّا، ابینادی، یا حتیٰ کہ مُعلمِ اَعظم، یِسُوع مسِیح، ہمیں تعلیم دینے کے لیے ہمارے گھروں یا کلاسوں میں تشریف لاتے ہیں۔ وہ اَیسا تب کر سکتے ہیں جب ہم کلامِ خُدا پر ضیافت مناتے ہیں؟ مُسلسل کاوِش کے ساتھ، ہم صحائف کو سمجھنا اور اُن سے محبّت کرنا سیکھ سکتے ہیں اور بھروسا کر سکتے ہیں کہ اُن میں رُوح کے تمام سوالوں کے جوابات موجُود ہیں۔
ہماری شادی سے پہلے ایک وقت تھا جب میری اَہلیہ، کرِسٹی، آسمانی باپ کی محبّت کو محسُوس کرنے اور اُس کے منصُوبے کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ جب اُس نے راہ نُمائی کے واسطے دُعا کی، تو تاثر یہ مِلا کہ اُسے اِنسٹی ٹیوٹ میں شِرکت کرنی چاہیے، لہٰذا اُس نے نئے عہد نامہ کی کلاس میں داخلہ لِیا۔ جس طرح سے اُس کے اِنسٹی ٹیوٹ کے مُعلم نے صحائف سے تعلیم دی، حتیٰ کہ جس طرح سے وہ اُن کو سنبھالے رکھتا تھا، ظاہر کرتا تھا کہ وہ کلامِ خُدا سے کتنی محبّت رکھتا تھا۔ جب اُس نے شِرکت کی، تو رُوحُ القُدس نے اُس سے سرگوشی کی کہ صحائف میں کُچھ اَیسا ہے جس کی اُسے ضرُورت تھی۔ اُس کے مُعلم کی صحائف سے محبّت اور رُوحُ القُدس کی سرگوشیوں نے اُس میں خُدا کے کلام کا سنجیدگی سے مُطالعہ شُروع کرنے کی آرزُو پیدا کی—جو گہری تبدیلی اور تقدِیس شُدہ خِدمت کا زِندگی بھر کا سفر بن گیا۔
یِسُوع مسِیح پر توجہ مرکُوز کریں
آخِر میں، جیسے نجات دہندہ کے طرِیق پر تعلیم دینا تجویز کرتی ہے، ہماری درس و تدریس کا مرکز ہمیشہ یِسُوع مسِیح ہی ہونا چاہیے۔ ہم اُس کی بابت زیادہ کثرت سے اور زیادہ اَدب و اِحترام سے بات کر سکتے ہیں اور اُس کے لیے گواہی، شُکرگُزاری، اور محبّت کا اِظہار کرنے کے مزید موقعوں کے طالِب ہو سکتے ہیں۔ ترتیب جو بھی ہو، جب ہم اُسے یاد رکھتے ہیں، تو ”اُس کا رُوح [ہمارے] ساتھ“ ہو سکتا ہے۔
یِسُوع مسِیح کو اپنی تدریس کا مرکز بنانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اِس بات پر زور دِیا جائے کہ وہ کامِل نمُونہ، یعنی اِنجِیل کے تمام اُصُولوں کا پیکر اور اِظہار ہے۔ حتیٰ کہ جب اُس کا براہِ راست صحیفائی حوالہ نہ دِیا گیا ہو، تب بھی ہم اُس سِکھائے جا رہے اُصُول کی مِثال کے طور پر اُس کی جانب اِشارہ کر سکتے ہیں۔ ہم صِرف یہ پُوچھ سکتے ہیں، ”کیا آپ کسی اَیسے وقت کے مُتعلق سوچ سکتے ہیں جب یِسُوع مسِیح نے اِس اُصُول کی مِثال پیش کی؟“
ہم اُس کے اَلقاب، کِرداروں، اور صِفات، کو سیکھنے سے بھی اُس پر توجہ مرکُوز کر سکتے ہیں، نہ صِرف یہ جاننے کی کوشِش کرتے ہُوئے کہ اُس نے کیا کِیا ہے بلکہ بہتر طور پر یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کون ہے۔ مِثال کے طور پر، جب توبہ کے اُصُول کا مُطالعہ کرتے ہیں، تو یہ سمجھنا ضرُوری ہے کہ توبہ کیسے کی جائے۔ مگر یہ یاد رکھنا بھی ضرُوری ہے کہ یِسُوع مسِیح نے توبہ کو مُمکن بنانے اور یہ سمجھنے کے لیے کیا کِیا ہے کہ توبہ ہمیں اُس کی بابت، اُس کی حقیقی فِطرت اور خصُوصیات کے بارے میں کیا سِکھاتی ہے۔ توبہ کرنے کا ہمارا موقع اُس کی محبّت، صبر، اور رحم، ہماری اِلہٰی صلاحیت پر اُس کے اِیمان، ہمارے گُناہوں کے کفّارے کے واسطے اُس کی رضامندی، اور مُعاف کرنے سے مِلنے والی خُوشی کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اور اُس کے اَلقاب کو سمجھنا—جیسا کہ خُدا کا برّہ، مُخلصی بخشنے والا، اور شافی—یہ دیکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ توبہ ہمیں پاک صاف کرنے، تبدیل ہونے، اور شِفا دینے کی اُس کی دعوت ہے۔ اُس نے ہمارے واسطے جو کُچھ کِیا ہے اور جو کُچھ یہ کہتی ہے اُس پر توجہ مرکُوز کرنا کہ وہ کون ہے جو ہماری ”توبہ پر اِیمان“ رکھنے میں مُعاونت کر سکتا ہے۔
کبھی کبھار، ہم فوری طور پر صحیفائی بیان میں نجات دہندہ کی صِفات کو نہیں دیکھ سکتے۔ مِثال کے طور پر، جب نِیفی کے کشتی بنانے کے بارے میں پڑھتے ہیں، تو ہم شاید صِرف نِیفی پر توجہ مرکُوز کرتے ہیں۔ لیکن مُنّجی پر توجہ مرکُوز کرنا ہماری یہ دیکھنے میں مدد کر سکتا ہے کہ یہ نوِشتہ ہمیں نِیفی کی عظمت کے مُتعلق سِکھانے کے لیے محفُوظ نہیں کِیا گیا تھا بلکہ ہمیں خُدا کی بُزرگی دِکھانے کے لیے ہے—کہ وہ ہمیں اپنے حُکموں پر عمل کرنے کی طاقت دیتا ہے اور بوقتِ ضرُورت ہمیں رہائی بخشتا ہے۔
ہم آسمانی باپ کے خُوشی کے کامِل منصُوبے میں یِسُوع مسِیح کے مرکزی کِردار پر بھی توجہ مرکُوز کر سکتے ہیں۔ یہ ہماری زِندگیوں کا رُخ بدل سکتا ہے کہ ہم اپنے حالات کو اپنے دُنیاوی حالات کے تناظر کے ذریعے سے دیکھنے کی بجائے خُدا کے اَبَدی منصُوبے کے نُقطہِ نظر سے دیکھیں۔ اِنجِیل مُطالبات کی فہرست نہیں ہے؛ یہ خُوش خبری ہے کہ یِسُوع مسِیح گُناہ اور مَوت پر غالِب آیا ہے۔ یہ خُدا کے ساتھ اپنے عہُود پر کاربند رہ کر اُس کے حیرت اَنگیز فضل تک رسائی پانے سے ہی مُمکن ہے کہ ہم اَب خُوشی سے جی سکتے ہیں اور اَبَدیت میں اپنے آسمانی باپ کے ساتھ زِندگی بسر کرنے کی تیاری کر سکتے ہیں۔ جب ہم آسمانی باپ اور مُنّجی کو صحائف میں دیکھنا سیکھیں گے، تو ہم اُنھیں بہتر طور پر جانیں گے اور ہم اُن کی محبّت اور اَثر و رُسُوخ کو زیادہ کثرت سے اور زیادہ قوّی طور پر اپنی زِندگیوں میں دیکھیں گے۔
مَیں ہمیشہ اُس رُوح کو یاد رکھُوں گا جو مَیں نے بطور نوجوان محسُوس کی جب ہمارے مُعلم نے نجات دہندہ کی زِندگی کے آخِری ایّام کے بارے میں سِکھایا تھا۔ اُس نے بالا خانہ، گتسِمنی، گلگُتا، اور خالی قبر میں پیش آنے واقعات کی اَہمیت کو سمجھنے میں ہماری مُعاونت کی۔ اُس نے شافی کے لیے اپنے گہرے تشکُّر اور اُس کی پیروی کرنے کی اپنی شدید خواہش کا اِظہار کِیا۔ اُس کی تعلیم رُوحُ القُدس کے لیے یِسُوع مسِیح کی گواہی دینے کی دعوت تھی۔ اور جس رُوح کو مَیں نے اُس کلاس میں محسُوس کِیا اُس نے میرے اِیمان کو مضبُوط کِیا اور مُنّجی کے واسطے میری محبّت اور قدردانی کو بڑھایا۔ اُس مُعلم کا اَثر میری پُوری زِندگی میرے ساتھ رہا ہے۔ جیسا کہ ایک اور مُعلم کی بابت کہا گیا تھا، ”ہم اُس کے اِیمان کی حرارت سے اپنے ہاتھوں کو سینک سکتے ہیں۔“
حاصلِ کلام
اپنے گھروں اور کلِیسیائی عِبادات میں، جب ہم یِسُوع مسِیح پر توجہ مرکُوز کرتے، اُس کے عقیدے کی تعلیم دیتے، اور جاں فِشانی سے سیکھتے ہیں، تو ہم رُوحُ القُدس کو مدعُو کرتے ہیں کہ وہ یِسُوع مسِیح پر ہمارے اِیمان کو مضبُوط کرے اور مزید اُس کی مانِند بننے میں ہماری دَست گِیری کرے، جو تمام اِنجِیلی درس و تدریس کا مقصد ہے۔
مَیں اپنی زِندگی میں اپنے تمام مُعلمین کے لیے شُکر گُزار ہُوں، نیک نام والدین اور مقامی راہ نُماؤں اور مُعلمین سے لے کر اُن مَردوں اور عورتوں تک جنھیں اِس مِنبر سے تعلیم دینے اور گواہی دینے کے لیے بُلایا گیا ہے، جو یِسُوع مسِیح کو جاننے اور اُس کی پیروی کرنے میں ہماری مُعاونت کرتے ہیں۔ اور مَیں رُوحُ القُدس کے لیے مشکُور ہُوں، جو کہ کامِل مُعلم ہے۔ رُوحُ القُدس کے ذریعے ہی مَیں جانتا ہُوں کہ آسمانی باپ ہم سے پیار کرتا ہے اور ہمارے لیے کامِل منصُوبہ رکھتا ہے، کہ یِسُوع ہی اَلمسِیح ہے، دُنیا کا نجات دہندہ اور مُخلصی بخشنے والا؛ اور کہ اُس کی اِنجِیل اور کلِیسیا بحال ہو چُکی ہے۔ مَیں شُکرگُزاری کے ساتھ اِن باتوں کی گواہی یِسُوع مسِیح کے نام پر دیتا ہُوں، آمین۔