مجلسِ عامہ
پُورے دِل و جاں سے اپنا فرض نِبھانا
اکتوبر 2025 کی مجلسِ عامہ


15:22

پُورے دِل و جاں سے اپنا فرض نِبھانا

صبر و اِستقلال کے ساتھ، اپنا فرض پُورے دِل و جاں سے نِبھانے کے لیے نجات دہندہ پر بھروسا کریں۔

گُزشتہ سال یورپ کے دورے کے دوران، مَیں نے اپنی پُرانی ملازمت کی جگہ، فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر لفتھانزا جرمن ایئر لائنز کا دورہ کِیا۔

اپنے پائلٹوں کی تربیت کے لیے، وہ کئی جدید فُل موشن فلائٹ سِمیولیٹر چلاتی ہیں جو لگ بھگ ہر عام اور ہنگامی پرواز کی حالت کو دوبارہ سے تخلیق کر سکتے ہیں۔ بطور ایئر لائن کپتان کئی سالوں کے دوران، مُجھے اپنے پائلٹ لائسنس کو برقرار رکھنے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فلائٹ سِمیولیٹر میں ایک آزمایشی پرواز پاس کرنی ہوتی تھی۔ مُجھے دباؤ اور اِضطراب کے وہ شدید لمحات اچھی طرح یاد ہیں لیکن اِمتحان پاس کرنے کے بعد کام یابی کا احساس بھی یاد ہے۔ تب مَیں جوان تھا اور مُجھے چنوتیاں پسند تھیں۔

میرے دورے کے دوران، لفتھانزا کے ایک ایگزیکٹو نے مُجھ سے پُوچھا کہ کیا مَیں ایک بار پھر کوشِش کرنا اور 747 سِمیولیٹر کو دوبارہ اُڑانا پسند کرُوں گا۔

اِس سے پہلے کہ مُجھے سوال کو مُکمل طور پر سمجھنے کا وقت مِلتا، مَیں نے ایک آواز سُنی—جو حیران کُن طور پر میری اپنی آواز جیسی لگ رہی تھی—یہ کہتے ہُوئے، ”ہاں، مُجھے یہ بُہت زیادہ پسند آئے گا۔“

جیسے ہی مَیں نے یہ اَلفاظ بولے، خیالات کا ایک سونامی میرے ذہن و دِماغ میں اُمڈ آیا۔ 747 اُڑائے ہُوئے مُجھے کافی عرصہ بِیت چُکا تھا۔ اُس وقت مَیں نوجوان اور پُراِعتماد کپتان تھا۔ سابقہ چیف پائلٹ کے طور پر اَب مُجھے اپنی ساکھ برقرار رکھنی تھی۔ کیا مَیں اِن پیشہ ور اَفراد کے سامنے خُود کو شرمندہ کرُوں گا؟

مگر پیچھے ہٹنے کا وقت گُزر چُکا تھا، پَس مَیں کپتان کی نِشست پر بیٹھ گیا، اپنے ہاتھ جانے پہچانے اور محبُوب کنٹرولز پر رکھے، اور ایک بار پھر پرواز کا جوش محسُوس کِیا جب وہ عظیم طیارہ دھاڑتا ہُوا رَن وے سے اُٹھا اور نِیلی فِضاؤں میں محوِ پرواز ہو گیا۔

مُجھے یہ بتاتے ہُوئے خُوشی ہو رہی ہے کہ پرواز کام یاب رہی، طیارے کو کوئی نُقصان نہ پُہنچا، اور میری خُود اِعتمادی بھی برقرار رہی۔

اِس کے باوجُود، یہ تجربہ میرے لیے فروتنی کا باعث بنا۔ جب مَیں اپنے عُروج پر تھا، تو پرواز اُڑانا تقریباً میری دُوسری فِطرت بن چُکا تھا۔ اَب مُجھے بُنیادی کام کرنے میں بھی اپنی پُوری توجہ مرکُوز کرنی پڑ رہی تھی۔

شاگِردی میں نظم و ضبط لازِم و ملزُوم ہے

فلائٹ سِمیولیٹر میں میرا تجربہ اَہم یاد دِہانی تھی کہ کسی بھی چیز میں مہارت حاصِل کرنا—چاہے وہ اُڑان بھرنا ہو، کشتی رانی ہو، بِیج بَونا ہو، یا جاننا—اِس کے لیے مُستقل ذاتی نظم و ضبط اور مشق لازِم ہوتی ہے۔

کسی مہارت کو حاصِل کرنے یا کسی صلاحیت کو پروان چڑھانے میں آپ کئی سال لگا سکتے ہیں۔ آپ اِتنی محنت و مُشقت کر سکتے ہیں کہ یہ آپ کی دُوسری فِطرت بن جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ سوچیں کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اَب آپ مشق اور مُطالعہ چھوڑ سکتے ہیں، تو آپ جلد ہی جان لیں گے کہ وہ عِلم اور صلاحیتیں جو آپ نے سخت محنت سے حاصِل کِیں تھیں دھِیرے دھِیرے ضائع ہو رہی ہیں۔

یہ اُن مہارتوں پر بھی لاگُو ہوتا ہے جیسے کہ کوئی زُبان سیکھنا، موسیقی کا آلہ بجانا، اور ہوائی جہاز اُڑانا۔ یہ شاگِردِ مسِیح بننے پر بھی لاگُو ہوتا ہے۔

سادہ اَلفاظ میں، شاگِردی میں خُود نظم و ضبط لازِم و ملزُوم ہے۔

یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، اور نہ ہی حادثاتی طور پر ہوتا ہے۔

یِسُوع مسِیح پر اِیمان ایک اِنعام ہے، لیکن اِسے حاصِل کرنا شعُوری اِنتخاب ہے جس کے لیے ہماری ”ساری جان، ساری عقل اور ساری قُوت“ کا عزّم درکار ہوتا ہے۔ یہ ہر روز کی مشق ہے۔ ہر گھنٹے کی۔ اِس کے لیے مُستقل سیکھنے اور پُرعزم لگن کی ضرُورت پڑتی ہے۔ ہمارا اِیمان، جو مُنّجی کے ساتھ ہماری وفاداری ہے، مضبُوط تر ہو جاتا ہے جب اُس مُخالفت کے خِلاف آزمایا جاتا ہے جس کا سامنا ہم یہاں فانیت میں کرتے ہیں۔ یہ اِیمان قائم رہتا ہے کیوں کہ ہم اِس کی نشوونُما کرتے ہیں، ہم فعال طور پر اِس کا اِطلاق کرتے ہیں، اور ہم کبھی بھی ہِمت نہیں ہارتے ہیں۔

اِس کے برعکس، اگر ہم اِیمان اور اِس کی اَثر اَنگیز قُدرت کو اِس پر عمل پیرا ہو کر برُوئے کار لانے میں ناکام رہیں ہیں، تو ہم اُن چیزوں کا کم یقین کرنے لگتے ہیں جو کبھی ہمارے واسطے مُقدّس تھیں—اُن باتوں پر کم پُراِعتماد ہو جاتے ہیں جنھیں ہم کبھی سچ گردانتے تھے۔

وہ آزمایشیں جو پہلے کبھی ہمیں اپنی طرف مُتوجہ نہ کر پاتی تھیں اَب کم بھیانک اور زیادہ دِل کش نظر آنا شُروع ہو جاتی ہیں۔

کل کی گواہی کا شُعلہ ہمیں صِرف اِتنی دیر تک ہی حرارت دے سکتا ہے۔ اِسے روشن و تابناک رکھنے کے لیے مُسلسل پرورش کی ضرُورت ہوتی ہے۔

عہدِ جدید میں، نجات دہندہ نے ایک مالِک کی بابت تمثیل سِکھائی جس نے اپنے ہر نوکر کو مُقدّس امانت سونپی—یعنی رقم کی مقدار جو تَوڑے کہلاتی ہے۔ جن نوکروں نے تن دہی سے اپنے تَوڑوں کا اِستعمال کِیا اُنھوں نے اُن میں اِضافہ کِیا۔ اپنے تَوڑے کو چھپا دینے والا نوکر آخِر کار اُسے کھو بیٹھا۔

سبق کیا ہے؟ خُدا ہمیں نعمتیں عطا کرتا ہے—عِلم و عِرفان کی، قابلیت کی، موقع کی—اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اِن کو اِستعمال کریں اور بڑھائیں تاکہ یہ نہ صِرف ہمیں بلکہ اُس کے دُوسرے بچّوں کو بھی فیض یاب کریں۔ یہ اِس طرح نہیں ہوتا کہ ہم اِن نعمتوں کو کسی شیلف پر ٹرافی کی طرح رکھ دیں اور گاہے بَہ گاہے اِن کو سراہتے رہیں۔ ہماری نعمتیں صِرف اُسی وقت وُسعت اور عظمت پاتی ہیں جب ہم اِن کو اِستعمال میں لاتے ہیں۔

آپ کو نعمتیں عطا کی گئی ہیں

”لیکن ایلڈر اُکڈورف،“ آپ کہہ سکتے ہیں، ”کم اَز کم—میرے پاس تو کوئی بھی نعمت یا تَوڑا نہیں ہے، کچھ اَیسا نہیں جو واقعی قِیمتی ہو۔“ شاید آپ دُوسروں پر نظر کرتے ہیں جن کی نعمتیں واضح اور مُتاثر کُن ہیں اور آپ اُن کے مُقابلے میں خُود کو بُہت عام سا محسُوس کرتے ہیں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ قبل اَز فانی وجُود میں، عظیم نعمتوں اور صلاحیتوں کے میز والے دِن، آپ کی پلیٹ اَفسوس ناک حد تک خالی تھی—بالخصُوص دُوسروں کی بھری اور چھلکتی ہُوئی پلیٹوں کے مُقابلے میں۔

اوہ، کاش مَیں آپ کو گلے لگا سکتا اور اِس عظیم سچّائی کو سمجھنے میں آپ کی مدد کر پاتا: آپ نُور کی بابرکت ہستی ہیں، ایک لامحدُود خُدا کی رُوحانی اولاد! اور آپ کے اَندر آپ کے تصور سے بھی بڑھ کر ایک صلاحیت موجُود ہے۔

جیسا کہ شاعروں نے لِکھا ہے، آپ دُنیا میں آئے ہیں ”فلک سے اُلُوہیت سمیٹے“!

آپ کی اَساس کی کہانی اِلہٰی ہے، اور اِسی طرح آپ کا مُقدر بھی۔ آسمان کو چھوڑ کر آپ دُنیا میں آئے، مگر آسمان نے آپ کو کبھی نہیں چھوڑا!

آپ کُچھ بھی ہوں مگر عام نہیں ہیں۔

آپ کو نعمتیں عطا کی گئی ہیں!

عقائد اور عہُود میں، خُدا نے اِعلان فرمایا:

”کیوں کہ بُہت ساری نعمتیں ہیں، اور ہر [اِنسان] کو خُدا کے رُوح سے نعمت عطا کی جاتی ہے۔

”بعض کو ایک طرح کی دی جاتی ہے، اور بعض کو دُوسری طرح کی، [اور] سب کو فائدہ پُہنچے۔“

ہماری بعض نعمتیں صحائف میں درج ہیں۔ بُہت سی درج نہیں ہیں۔

جیسا کہ مرونی نبی نے کہا، ”خُدا کی نعمتوں کا اِنکار نہ کرنا، پَس وہ بےشُمار ہیں؛ اور وہ اُسی ایک خُدا کی طرف سے آتی ہیں۔“ اور ”مُختلف طریقوں … ، سے یہ نعمتیں عطا کی جاتی ہیں بلکہ وہ ہی ایک خُدا ہے جو سب میں ہر طرح کا اَثر پیدا کرتا ہے۔“

یہ سچ ہو سکتا ہے کہ ہماری رُوحانی نعمتیں ہمیشہ دِل کش نہیں معلوم ہوتیں، لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کی اَہمیت کم ہے۔ کیا مَیں آپ کے ساتھ چند رُوحانی نعمتوں کو بیان کر سکتا ہُوں جو مَیں نے دُنیا بھر کے بےشُمار اَرکان میں دیکھی ہیں؟ غور کریں کہ آپ کو ایک یا زائد نعمتوں سے نوازا گیا ہے جیسے کہ:

  • شفقت دِکھانا۔

  • اُن لوگوں پر دھیان دینا جنھیں نظر اَنداز کِیا جاتا ہے۔

  • خُوش رہنے کی وجُوہات ڈھُونڈنا۔

  • صُلح کرانے والا بننا۔

  • چھوٹے مُعجزات پر غور کرنا۔

  • خلوصِ دِل سے تعریف کرنا۔

  • مُعاف کرنا۔

  • توبہ کرنا۔

  • برداشت کرنا۔

  • چیزوں کو سادہ اَلفاظ میں بیان کرنا۔

  • بچّوں کے ساتھ جُڑنا۔

  • کلِیسیائی راہ نُماؤں کی تائید کرنا۔

  • دُوسروں کی یہ جاننے میں مدد کرنا کہ اُن کی وابستگی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ آپ اِن نعمتوں کو وارڈ کے ٹیلنٹ شو میں ظاہر ہوتے ہُوئے نہ دیکھیں۔ مگر مَیں اُمید کرتا ہُوں کہ آپ دیکھ سکیں کہ وہ خُداوند کے کام کے لیے کتنی بیش قِیمت ہیں اور آپ نے کیسے اپنی نعمتوں کے ذریعے خُدا کی اُمّت میں سے کسی ایک کو چھُوا، برکت بخشی، یا حتیٰ کہ بچایا بھی ہو گا۔ یاد رکھیں ”معمُولی اور سادہ چیزوں سے اَفضل کام اَنجام پاتے ہیں۔“

چُناں چہ آئیے ہم میں سے ہر ایک اپنا اپنا فرض نِبھائے۔

اپنا فرض نِبھائیں

میرے عزیز بھائیو اور بہنو، پیارے دوستو، میری دُعا ہے کہ پاک رُوح اِن نعمتوں اور صلاحیتوں کو پہچاننے میں آپ کی مدد کرے جو خُدا نے آپ کو عطا کی ہیں۔ پَس، آئیے ہم بھی، خُداوند کی تمثیل میں اُن وفادار نوکروں کی مانِند بنیں، جنھوں نے اپنے تَوڑوں کو بڑھایا اور پھیلایا۔

وہ دِن آئے گا جب ہم اپنی مُختاری کا حِساب دینے کے لیے اپنے شفیق آسمانی باپ کے حُضُور کھڑے ہوں گے۔ وہ جاننا چاہے گا کہ ہم نے اُن نعمتوں کے ساتھ کیا کِیا جو اُس نے ہمیں بخشی تھیں—خاص طور پر، ہم نے اُنھیں اُس کی اُمّت کو برکت دینے کے لیے کیسے اِستعمال کِیا۔ خُدا جانتا ہے کہ ہم حقیقی طور پر کون ہیں، ہمیں کیا بننے کے لیے خلق کِیا گیا تھا، اور اِسی لیے ہم سے اُس کی توقعات بُلند ہیں۔

لیکن وہ ہم سے یہ توقع نہیں کرتا کہ ہم وہاں پُہنچنے کے لیے کوئی بُہت بڑا، بہادُرانہ، یا فَوقُ البشر قدم اُٹھائیں۔ اِس دُنیا میں جسے اُس نے تخلیق کِیا، ترقی رفتہ رفتہ اور صبر سے ہوتی ہے—بلکہ مُستقل اور جہدِ مُسلسل سے بھی ہوتی ہے۔

یاد رکھیے، یہ یِسُوع مسِیح ہی ہے جس نے مَوت اور گُناہ پر فتح حاصِل کر کے پہلے ہی فَوقُ البشر کام سراَنجام دے دِیا ہے۔

ہمارا فرض بس مسِیح کی پیروی کرنا ہے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم گُناہ سے مُنہ موڑیں، شافی کی طرف رُجُوع لائیں، اور قدم بہ قدم، اُس کی راہوں پر چلیں۔ جب ہم جاں فِشانی اور وفاداری سے، اَیسا کرتے ہیں، آخِر کار ہم اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کی زنجِیروں کو توڑتے اور آہستہ آہستہ بہتر ہوتے جاتے ہیں، جب تک کہ وہ کامِل دِن آئے جب ہم مسِیح میں کامِل ہو جائیں گے۔

برکتیں ہماری پُہنچ میں ہیں۔ وعدے وفا ہوتے ہیں۔ دروازہ کُشادہ کھُلا ہے۔ یہ ہمارا اِنتخاب ہے کہ ہم داخِل ہوں اور آغاز کریں۔

شُروعات معمُولی ہو سکتی ہے۔ مگر یہ ٹھیک ہے۔

جہاں اِیمان کم زور ہو، وہاں مسِیح یِسُوع میں اُمید اور اُس کی پاک اور صاف کرنے کی قُدرت کے ساتھ آغاز کریں۔

ہمارا باپ چاہتا ہے کہ ہم اِیمان اور شاگِردی کی اِس چنوتی سے محض سیاحوں کی طرح سے نہ گُزریں بلکہ پُورے دِل و جاں سے اِیمان لانے والوں کی طرح قبُول کریں جو بابُل کو پیچھے چھوڑتے اور ترک کرتے ہیں اور اپنے دِلوں، ذہنوں، اور قدموں کو صیُون کی طرف بڑھاتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ فقط ہماری کاوِشیں ہمیں آسمانی نہیں بنا سکتی ہیں۔ لیکن یہ ہمیں وفادار اور خود کو یِسُوع اَلمسِیح کے سُپُرد کرنے کے قابل بنا سکتی ہیں، اور وہی ہمیں آسمانی بنا سکتا ہے۔

ہمارے محبُوب مُنّجی کی بدولت، کوئی اَیسی صُورتِ حال نہیں جس میں ہم ہار جائیں۔ اگر ہم اپنی اُمید اور اِیمان اُس پر رکھتے ہیں، تو ہماری فتح یقینی ہے۔ وہ ہم سے اپنی طاقت، اپنی قُدرت، اور اپنے بکثرت فضل تک رسائی کا وعدہ کرتا ہے۔ قدم بہ قدم، تھوڑا تھوڑا کر کے، ہم اُس عظیم اور کامِل دِن کے قریب تر ہوتے جائیں گے جب ہم اُس کے سنگ اور اپنے پیاروں کے ہم راہ اَبَدی جلال میں سکُونت کریں گے۔

وہاں پُہنچنے کے لیے، ہمیں آج اور ہر روز اپنا فرض نِبھانا ہو گا۔ ہم اُن اِقدام کے لیے شُکر گُزار ہیں جو ہم نے کل اُٹھائے، مگر ہم وہیں پر رُک نہیں سکتے۔ ہم بخُوبی جانتے ہیں کہ ہمیں اَبھی طویل سفر طے کرنا ہے، مگر ہم اِس بات سے ہِمت نہیں ہارتے۔

مسِیح کے پیروکار کی حیثیت سے—یہی ہمارے وجُود کا لُبِّ لُباب ہے کہ ہم کون ہیں۔

مَیں کلِیسیا کے ہر رُکن کو تاکید کرتا اور برکت دیتا ہُوں، اور اُن سب کو جو اِس کا حِصّہ بننے کی آرزُو کرتے ہیں، کہ وہ صبر و اِستقلال سے، اپنے پُورے دِل و جاں سے اپنا فرض نِبھانے کے لیے نجات دہندہ پر بھروسا کریں—تاکہ آپ کی خُوشی مُکمل ہو اور کہ، اِک روز، آپ وہ سب کُچھ حاصِل کریں جو باپ کے پاس ہے۔ مَیں یِسُوع مسِیح کے نام پر اِس کی گواہی دیتا ہُوں، آمین۔

حوالہ جات

  1. ائیر لائن کے کپتانوں کو اپنی مہارتوں کو برقرار رکھنے اور اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے ہر چھ ماہ بعد ایک سِمیولیٹر چیک فلائٹ سے گُزرنا ضرُوری ہے۔ یہ سخت ٹریننگ ایف اے اے جیسی ایوی ایشن اتھارٹیز کی طرف سے مُقرر کردہ ریگُولیٹری کے مُطابق لازمی ہے۔

  2. دیکھیے 1 کُرنتھِیوں 12:‏9۔

  3. مرونی 10:‏32۔

  4. ”جِس طرح ہمارے جِسمانی عُضلات کششِ ثِقل کے قانُون کے خِلاف زور لگائے بغیر نہ تو مضبُوط ہو سکتے ہیں یا قائم رہ سکتے ہیں، اُسی طرح فانی نشوونُما کے لِیے اِنسان کو شَیطان کی آزمایشوں اور مُختلف فانی تضادات کے خِلاف مزاحمت کرنا پڑتی ہے“ (ڈیلن ایچ اوکس، ”فانیت کے لیے اِلہٰی مدد،“ لیحونا، مئی 2025، 104)۔

  5. دیکھیے ایلما 32:‏37–43۔

  6. دیکھیے متّی 25:‏14–30۔ بحالی کے اِبتدائی ایّام میں، خُداوند نے اِس تمثیل کا حوالہ دِیا جب اُس نے اُن کو تنبیہ کی جنھوں نے اُن تَوڑوں کو چھپایا جو اُس نے اُنھیں دِیے تھے۔ اُس نے اُنھیں خبردار بھی کِیا کہ اگر وہ اپنے تَوڑے چھپانا جاری رکھیں گے ”تو اُن سے وہ بھی جو اُن کے پاس ہے، لے لِیا جائے [گا]“ (عقائد اور عہُود 60:‏2–3

  7. بعض اوقات ہم نعمتوں اور تَوڑوں کی اَہمیت کو ضرُورت سے زیادہ زور دے کر مُستقل کاوِش کی قدر کم کر دیتے ہیں۔ ہمارے دَور کے سب سے کام یاب مُصنفین میں سے ایک نے لِکھا: ”یقیناً کُچھ صلاحیت شامِل ہونی چاہیے، لیکن صلاحیت ایک سستی چیز ہے، نمک سے بھی زیادہ سستی۔ جو چیز ایک باصلاحیت شخص کو کام یاب شخص سے جُدا کرتی ہے وہ بےحد محنت اور مُطالعہ ہے؛ صلاحیتوں کو مُسلسل نِکھارتے رہنے کا عمل“ (سٹیفن کِنگ، Danse Macabre [2011]، 88)۔

  8. ”Ode: Intimations of Immortality from Recollections of Early Childhood،“ The Poetical Works of William Wordsworth (1835)، 249۔

  9. عقائد اور عہُود 46:‏11–12۔

  10. مرونی 10:‏8۔

  11. برسوں پہلے، بارہ رَسُولوں کی جماعت سے ایلڈر ماروِن جے ایشٹن نے کُچھ کم واضح نعمتوں کے بارے میں یادگار پیغام دِیا تھا (دیکھیے ”بےشُمار نعمتیں ہیں،“ اِنزائن، نومبر 1987، 20–23)۔

  12. ایلما 37:‏6۔

  13. دیکھیے کُلسِیوں 3:‏23؛ عقائد اور عہُود 64:‏34۔

  14. دیکھیے عقائد اور عہُود 50:‏24۔

  15. دیکھیے راہ نُما صحائف، ”خُود مُختاری۔“

  16. دیکھیے عقائد اور عہُود 84:‏38۔