تُو مسِیح ہے
(متّی 16:16)
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچّے یِسُوع مسِیح پر ایمان لائیں، عہد کے ذریعے یِسُوع مسِیح اور اُس کی کلِیسیا سے تعلق رکھیں، اور یِسُوع مسِیح کی مانند بننے کی کوشش کریں۔
جب ہمارا بیٹا ایلائے چوتھی کلاس میں تھا، تو اُس کی کلاس نے ایک فرضی حکومت قائم کی جہاں اُس کو اُس کے ساتھیوں نے کلاس کے جج کے طور پر خدمت کرنے کے لیے مُنتخب کِیا۔ ایک دِن دُوسری ڈسٹرکٹ کورٹ یُوٹاہ کے ایک حاضر سروس جج نے دورہ کِیا، ایلائے کو اپنا سرکاری چوغا پہنایا، اور پھر اُن کی کلاس کے لیے عہدے کا حلف اُٹھایا۔ اِس بات نے اُس نوجوان ایلائے کی قابلِ تاثیر جان میں قانون اور خود شریعت دینے والے، یِسُوع مسِیح کا مُطالعہ کرنے کا جذبہ پیدا کِیا۔
برسوں کی جاں فشاں کوشش کے بعد، ایلائے کو قانون کے اعلیٰ سکولوں میں سے ایک میں انٹرویو کے لیے بُلایا گیا۔ اُس نے بتایا، ”ماں مُجھ سے 10 سوالات پُوچھے گئے۔ آخری سوال یہ تھا، ’آپ اپنی اخلاقی راہ نُمائی کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟‘ مَیں نے جواب دیا کہ پُوری تاریخ کے بنی نوع انسان کی زندگیوں کی اخلاقیات کا نظام کسی نمونہ یا مثال پر مبنی رہا ہے۔ اخلاقیات کا ثالث جس کو مَیں اپنی زندگی میں نمونہ کے طور پر رکھتا ہُوں وہ یِسُوع مسِیح ہے۔ مَیں نے بتایا کہ اگر تمام بنی نوع انسان یِسُوع مسِیح کے پہاڑی وعظ، کی تعلیمات پر عمل کرِیں تو دُنیا ایک بہتر، پُر امن جگہ بن جائے گی۔“ پھر انٹرویو ختم ہُوا، اور اُس نے سوچا، ”وہ گئے میرے بچپن کے خواب۔ کسی بھی دُنیاوی تعلیمی ادارے میں کوئی یِسُوع مسِیح کے بارے میں سُننا نہیں چاہتا۔“
دو ہفتوں کے بعد، ایلائے کو امدادی وظیفہ کے ساتھ داخلہ مِل گیا۔ حامی بھرنے سے پہلے، ہم نے کیمپس کا دورہ کِیا۔ قانون کا سکول ایک قلعے کی مانند لگتا تھا اور ایک خُوب صُورت جھیل کے نظارے کے ساتھ پہاڑی کی بلندی پر واقع تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ، جب ہم عظیمُ الشان لائبریری اور باوقار برآمدوں سے گُزر رہے تھے، تو ہم نے دیکھا کہ پہاڑی وعظ کی صفات بینرز اور پتھروں پر کُندہ کی گئیں تھیں۔
اُس کی تعلیمات کے آغاز سے پہاڑی وعظ بِلاشُبہ سب سے زیادہ قابلِ ذکر کلام ہے۔ کوئی دُوسرا وعظ ہمیں یِسُوع مسِیح کے کردار، اُس کی اِلہٰی صفات، اور اُس کی مانند بننے کے ہمارے حتمی مقصد کو سمجھنے میں اِس سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا ہے۔
یِسُوع مسِیح کی زندگی بھر شاگردی کرنے کا آغاز ہمارے گھروں—اور پرائمری میں 18 ماہ کی عُمر کے شُروع سے ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچّے یِسُوع مسِیح پر ایمان لائیں، عہد کے ذریعے یِسُوع مسِیح اور اُس کی کلِیسیا سے تعلق رکھیں، اور یِسُوع مسِیح کی مانند بننے کی کوشش کریں۔
یِسُوع مسِیح پر ایمان لائیں
پہلا، یِسُوع مسِیح پر اِیمان لائیں۔
زندگی کی روٹی کے وعظ کے بعد، ”[خُداوند کے] بُہت سے شاگردوں“ کو اُس کی تعلیمات اور عقیدے کو قبول کرنا مُشکل لگا، اور وہ ”واپس چلے گئے، اور اُس کے ساتھ مزید نہ رہے۔“ پھر یِسُوع نے بارہ کی طرف رُخ کِیا اور دِل دہلا دینے والا سوال پُوچھا: ”کیا تُم بھی چلے جانا چاہتے ہو؟“
پطرس نے جواب دیا:
”اَے خُداوند، ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زِندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔
”… اور ہم اِیمان لائے اور جان گئے ہیں کہ خُدا کا قُدُّوس تُو ہی ہے۔“
جیسا کہ پطرس نے ظاہر کِیا، یقین یہ ہے کہ ”کسی پر ایمان لانا یا کسی چیز کو سچّائی کے طور پر قبُول کرنا۔“ اور نجات کی جانب راہ نُمائی کرنے کے لیے ہمارا ایمان، خُداوند یِسُوع مسِیح پر مرکُوز ہونا چاہیے۔ ”ہم … [یِسُوع] مسِیح پر ایمان کی مشق تب کرتے ہیں جب ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ موجود ہے، اُس کے [سچّے] کردار اور [فطرت] کا [فہم]، اور علم ہوتا ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے مُطابق زندگی گُزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
ہمارے پیارے نبی، صدر رسل ایم نیلسن، نے فرمایا، ”یِسُوع مسِیح پر اِیمان ہی پُورے عقیدے اور اِلہیٰ قُدرت کے چشمے کی بُنیاد ہے۔“
ہم بچّوں کی یِسُوع مسِیح پر اُن کے ایمان کو مضبُوط کرنے اور اُس کی الہٰی قُدرت تک رسائی حاصل کرنے میں کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ ہمیں اپنے نجات دہندہ کے بعد کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
”[خُداوند] نے لوگوں سے کلام کرتے ہُوئے، کہا:
”دیکھو، مَیں یِسُوع مسِیح ہُوں۔ …
”اُٹھو اور میرے پاس آؤ۔ …
”… لشکر آگے بڑھا، اور اپنے ہاتھ اُس کی پسلی میں ڈالے، اُس کے ہاتھوں اور اُس کے پیروں میں کیلوں کے نشان محسُوس کیے؛ اور اُنہوں نے باری باری جا کر ایسا کِیا … اور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے محسُوس کِیا، اور یقینی طور سے پہچان گئے اور گواہی دی کہ یہ وہی ہے۔“
مَیں آپ کو غور کرنے کی دعوت دیتی ہُوں کہ یہ چھوٹے بچّوں کی زندگی میں کیسا لگ سکتا ہے۔ کیا وہ یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجِیل کی گواہیاں سُنتے ہیں؟ کیا وہ اُس کی عقیدت مندانہ خدمت اور الوہیت، کو دیکھتے ہیں؟ کیا وہ اُس کی حقیقت اور الوہیت کی گواہی دیتے ہُوئے رُوحُ القُدس کو محسُوس کرتے اور پہچانتے ہیں؟ کیا وہ اُس کے پیغام اور مقصد کو جانتے ہیں؟
یِسُوع مسِیح اور اُس کی کلِیسیا سے تعلق رکھیں
دُوسرا، یِسُوع مسِیح اور اُس کی کلِیسیا سے تعلق رکھیں
بِنیامین بادشاہ کے لوگوں نے دِل کی بڑی تبدیلی کا تجربہ حاصل کِیا اور عہد کے وسیلے سے اپنی زندگیوں کو خُدا کی مرضی کو پُورا کرنے کے لیے وقف کِیا۔ اُنھوں نے خُدا اور یِسُوع مسِیح کے ساتھ جو عہد باندھا تھا اُس کی بدولت، وہ ”مسِیح کے بچّے، اُس کے بیٹے، اور بیٹیاں کہلائے۔“ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے اَرکان کی حیثیت سے، ہماری موعُودہ ذمہ داری ہے کہ ہم اُس کی بادشاہی کی تعمیر کریں اور اُس کی واپسی کے لیے تیاری کریں۔
ہم مُقدّس عہُود باندھنے اور اُن پر قائم رہنے میں بچّوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ آ، میرے پیچھے ہو لے کتابچہ کے ضمیمہ ا اور ب میں، ہمیں گُفتگُو کا آغاز کرنے اور ایسے اسباق ملتے ہیں جو خاندانوں کو بااختیار بنائیں گے اور اُن کی مُقدّس ذمہ داری میں مُعلمین اور راہ نُماؤں کی مدد کریں گے تاکہ بچّوں کو خُدا کے عہد کے راستے پر زندگی بھر کے لیے تیار کرسکیں۔
یِسُوع مسِیح کی مانِند بنیں
تیسرا، یِسُوع مسِیح کی مانِند بنیں۔
مورمن کی کِتاب میں، نجات دہندہ نے اپنے نئے چُنے گئے شاگردوں کو تاکید کی کہ وہ اُس کی مُمکنہ طور پر قریب سے تقلید کریں: ”تمھیں کس طرح کے انسان ہونا چاہیے؟ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں بالکل ویسا جیسا کہ مَیں ہُوں۔“۔
ہم بپتِسما اور استحکام پانے والے بچّوں کی کیسے اُن کی عہُود کی ذمہ داری پُورا کرنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ وہ خُود کو اور دُوسروں کو یِسُوع مسِیح کے پاس لائیں؟ عُمر بھر کی شاگردی کا تقاضا ہے کہ ہم ”… عمل کرنے والے بنیں، نہ کہ صرف سُننے والے۔“
خُداوند کے سب سے چھوٹے شاگردوں کو دعوت دیتے ہُوئے، براہِ کرم اُن کی راہ نُمائی کریں، اُن کی ہدایت کریں، اُن کے ساتھ چلنے، اور راہ تلاش کرنے میں اُن کی مدد کرنے کا ہر موقع تلاش کریں۔ اُن بیش قیمت چھوٹے بچّوں کے ساتھ مشورت کریں جب وہ سِکھانے کی، گواہی دینے کی، دُعا کرنے کی، یا خِدمت کرنے کی تیاری کرتے ہیں تاکہ وہ پُر اعتماد ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کو پُورا کرنے میں خوشی محسُوس کریں۔ اَثر اَنگیز طریقوں سے اُن کی یہ جاننے میں مدد کریں کہ یہ اُن کی کلِیسیا ہے اور اُنھیں نجات دہندہ کی واپسی کی تیاری میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔
جب یِسُوع مسِیح ہماری زندگیوں کا مرکز بنتا ہے، تو ہماری خواہشات، اور اُن کی نوعیت ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہیں۔ تبدیلی سب کُچھ بدل دیتی ہے! وہ ہمارے دِلوں میں تبدیلی لا سکتا ہے، ”کہ ہم میں بدی کرنے کی نہیں، بلکہ مسلسل نیکی کرنے کی خواہش رہتی ہے۔“ یہ ہمارے وقت گُزارنے کے طریقے بدل دیتی ہے، ہمارے وسائل جو ہم پڑھتے، دیکھتے، سُنتے، اور بانٹتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک مُمتاز، عِلمی، اور مُستقبل کے لیے نازک انٹرویو میں ہمارے جواب دینے کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے۔
ہمیں یِسُوع مسِیح کے نُور کو اپنی زندگی کے ہر کونے میں بھرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اُس کی قبل از فانی الہٰی سچّائی، اُس کے الہٰی مقصد، اور اُس کی جلالی قیامت کی گواہی اپنے گھروں اور اِس کلِیسیا کی ہر ایک عبادت میں نہیں دے رہے، تو محبّت، خدمت، دیانت داری، فروتنی، شُکرگُزاری، اور شفقت کے پیغامات محض ایک پُرجوش حوصلہ افزا تقریر بن کر رہ جاتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح کے عِلاوہ کوئی تبدیل کرنے کی قُدرت نہیں رکھتا، کوئی مقصد نہیں جس کی تمنا کی جا سکے، اور نہ ہی زندگی کی مُشکلات کی کوئی مفاہمت ہے۔ اگر ہم یِسُوع مسِیح کی شاگردی میں لاپرواہ ہو جائیں، تو یہ ہمارے بچّوں کے لیے تباہ کُن ہو سکتا ہے۔
جب ہم اپنے بچّوں کو بتاتے ہیں کہ ہم اُن سے پیار کرتے ہیں، کیا ہم اُنھیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ اُن کا آسمانی باپ اور نجات دہندہ یِسُوع مسِیح اُن سے محبت رکھتے ہیں؟ ہماری محبّت تسلی اور الہام دے سکتی ہے، مگر اُن کی محبّت پاک، سرفراز، اور شفا یاب کر سکتی ہے۔
یہ یِسُوع غیر افسانوی یِسُوع، یا سادہ یِسُوع، یا بے دین یِسُوع، یا لاپرواہ یِسُوع، یا نامعلُوم یِسُوع، نہیں ہونا چاہیے بلکہ جلالی، قادرِ مُطلق، جی اُٹھا، سرفراز، عبادت گُزار، قوّی، خُدا کا اکلوتا بیٹا، جو بچانے پر قادر ہے۔ اور جب فلپائن کے ایک چھوٹے بچّے نے خُوشی سے ایک روز مُجھے گواہی دی، ”ہم بچائے جانے کے قابل ہیں!“ اُس کے مُقدّس اور پاک نام پر ”جسے خُدا نے [عظیم] کفّارہ بننے کے لیے مقرر کِیا،“ یعنی یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔