مجلسِ عامہ
دُوسری آزمایش سے ہوشیار رہیں
مجلسِ عامہ اپریل 2025


11:36

دُوسری آزمایش سے ہوشیار رہیں

اُن لوگوں سے مت چھُپیں جو آپ سے محبّت کرتے ہیں اور آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں؛ بلکہ اُن کی طرف بھاگیں۔

چند سال پہلے، جب مَیں 12 سال کا ہُوا، تو مُجھے پہلی بار ہارونی کہانت کی جماعت کے ایک رات کے کیمپ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ یہ دعوت طویل اِنتظار کے بعد مِلی تھی، جب کہ میرے والد جماعت کے راہ نُما تھے اور اکثر وارڈ کے لڑکوں کے ساتھ کیمپنگ کرتے تھے، کیوں کہ مَیں گھر رہتا تھا۔

جب وہ دِن آیا، تو مَیں بُہت پُرجوش تھا۔ اور مَیں اعتراف کرتا ہُوں کہ مَیں شِدّت سے بڑے لڑکوں کے ساتھ گھُل مِل جانا چاہتا تھا۔ مَیں خُود کو ثابت کرنے کے لیے پُرعزم تھا۔ اِس کوشِش میں ابھی زیادہ وقت نہیں گُزرا تھا کہ میری آزمایش شُروع ہو گئی کہ آیا مَیں ساتھ چل پاؤں گا اور گروپ کا حِصّہ بنوں گا۔

مُجھے یہ کام مِلا تھا کہ مَیں اپنے والد کی کار کی چابیاں حاصل کرُوں تاکہ راہ نُماؤں کے ساتھ شرارت کی جا سکے۔ مُجھے بالکل یاد نہیں ہے کہ مَیں نے اپنے والد کو قائل کرنے کے لیے کیا کہا، لیکن مَیں جلد ہی اپنی کامیابی پر فخر کے ساتھ لڑکوں کے گروپ کی طرف ہاتھ میں چابیوں کے ساتھ، بھاگا۔

پھر اگلی ذمہ داری آئی۔ مُجھے گاڑی کا دروازہ کھولنا تھا اور ایک لکڑی کا ٹُکڑا ڈرائیور کی نشِست کی پُشت اور گاڑی کے ہارن کے درمیان پھنسانا تھا۔ اور مُجھے دروازہ لاک کرنا تھا تاکہ ہارن شام بھر بجتا رہے اور راہ نُماؤں کے لیے گاڑی تک رسائی حاصل کر کے اُس عارضی آلے کو ہٹانے کے علاوہ کوئی طریقہ نہ ہو۔

اب یہ وہ لمحہ تھا جب کہانی میرے لیے اِنتہائی شرمناک موڑ اِختیار کر گئی۔ ایک بار جب مَیں نے لاٹھی رکھ دی، مَیں نے دروازہ بند کِیا اور جتنی جلدی مُمکِن ہُوا بھاگ کر قریبی جھاڑیوں میں چُھپ گیا۔ جب مَیں زمین پر جُھکا، تو مَیں نے جلن والی درد محسُوس کی۔ تاریکی اور جلدی میں، مَیں خار دار کیکٹس پر بیٹھ گیا تھا۔

خار دار پئیر کیکٹس۔

میری درد بھری چیخیں اُونچے بجتے ہُوئے ہارن کی آواز میں دب گئیں، اور میرے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا سوائے اِس کے کہ مَیں آہستہ آہستہ لنگڑاتا ہُوا گاڑی کی طرف واپس جاتا، اپنے ”گناہوں“ کا اعتراف کرتا، اور شرمندگی والی ابتدائی طِبّی امداد حاصل کرتا۔

اُس رات باقی وقت مَیں اپنے پیٹ کے بل خیمے میں لیٹا رہا جبکہ میرے والد، چمٹی کے ذریعے میرے … سے کیکٹس کے کانٹے نکالتے رہے خیر، بس یہ کہہ سکتا ہُوں کہ اِس کے بعد کئی دِنوں تک مَیں صحیح سے بیٹھ نہیں پایا۔

مَیں نے کئی بار اِس تجربے پر غور کِیا ہے۔ اب مَیں اپنی جوانی، کی اِس بے وقوفی پر ہنس سکتا ہُوں، حالانکہ مُجھے کُچھ بُنیادی اُصُول سمجھ آ گئے ہیں۔

اِنسانی فطرت کی بُہت سی مثالیں نفسانی آدمی میں عام طور پر نظر آتی ہیں—جس میں گھُلنے مِلنے کی خواہش، اپنے آپ کو ثابت کرنے کی خواہش، پیچھے رہ جانے کا خوف، اور باتیں چھُپانے کی مجبُوری ہے تاکہ ہم نتائج سے بچ جائیں۔ یہ حتمی رویہ ہے جس پر مَیں آج مرکزی طور پر بات کرُوں گا—کُچھ ایسا کرنے کے بعد چھُپانا جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔

اب، مَیں اپنی بچگانہ شرارت کو سنگین گُناہ کی طرح نہیں سمجھ رہا، لیکن ہم کُچھ ملتی جُلتی چیزیں نکال سکتے ہیں جو ہمارے فانی سفر میں آزمایشوں کے دوران مُفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

باغِ عدن میں، آدم اور حوّا کے دِلکش حالات تھے—خوراک کی کثرت، باغ کی بے مثال خُوبصورتی—نہ صرف ایک خُوبصورت باغ بلکہ ایک باغ جس میں نہ تو کوئی جڑی بوٹیاں تھیں اور نہ ہی کوئی جھاڑ جھنکار۔

تاہم، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ باغ کی زندگی نے اُن کی ضروری ترقی کو محدُود کر دیا تھا۔ باغ آخری منزل نہیں تھا بلکہ بُہت سے امتحانوں میں سے پہلا تھا جو ثابت کرے گا، تیار کرے گا، اور اُنھیں باپ اور بیٹے کی حضُوری میں واپس لوٹنے کی اپنی آخری منزل کی طرف بڑھائے گا۔

آپ کو یاد ہو گا کہ باغ میں مُخالفت بھی تھی۔ ابلِیس کو آدم اور حوّا کو آزمانے کی اِجازت تھی۔ اُس نے پہلے آدم کو نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے کے لیے آزمایا۔ اِسے نہ کھانے کا حُکم یاد رکھتے ہُوئے، آدم نے منع کر دیا۔ پھر وہ بابرکت حوّا کے پاس آیا، جس نے پھل کھانے کا اِنتخاب کِیا، اور آدم کو بھی ایسا ہی کرنے کے لیے قائل کِیا۔

بعد میں، آدم اور حوّا نے بتایا کہ یہ فیصلہ آسمانی باپ کے منصُوبہ کو پُورا کرنے کے لیے ضروری تھا۔ مگر اُس پھل کو کھا کر، اُنھوں نے قانون توڑا—ایک قانون جو اُنھیں براہِ راست باپ کی طرف سے دیا گیا تھا۔ نیک و بد کی پہچان کا پھل کھانے کے نتیجے میں رُونما ہونے والے فہم نے اُنھیں شدید بےچینی میں مُبتلا کر دیا ہوگا جب اُنھوں نے باپ کی باغ میں واپسی کی آواز سنی ہو گی۔ اُنھیں احساس ہُوا کہ وہ ننگے ہیں، کیونکہ وہ درحقیقت کپڑوں کے بغیر، معصُومیت کی حالت میں رہتے تھے۔ لیکن شاید اِس لمحے بغیر لباس ہونے سے زیادہ تکلیف دہ یہ تھا کہ اب اُن کا گُناہ سامنے آ چُکا تھا۔ وہ بےبس اور کمزور تھے۔ وہ ہر لحاظ سے ننگے تھے۔

ہمیشہ سے موقع پرست، ابلِیس نے، اُن کی بے نقاب اور کمزور حالت کو جانتے ہُوئے، اُنھیں پھر سے آزمایا—اِس بار خُدا سے چھُپنے کے لیے۔

اِس آزمایش کو—مَیں ”دُوسری آزمایش“—کہُوں گا، جو وہ آزمایش ہے جس کا بُہت بُرا نتیجہ نکلتا ہے اگر ہم اِس کے شکار ہو جائیں۔ یقیناً، خُدا کی شریعت کو توڑنے کی تمام پہلی آزمایشوں سے اِجتناب کرنا بہترین ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ سب زمین پر مُختلف قسم کی پہلی آزمایشوں میں گر جائیں گے۔ جب ہم اپنی پُختگی اور فہم میں ترقی کرتے ہیں، جب ہم مزید اپنے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح کی مانند بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اُمید کرتے ہیں کہ پہلی آزمایشوں سے بچنے کی ہماری قوت مُسلسل بہتر ہو گی۔

بعض لوگ خُدا سے چھُپنے کی کوشش کر سکتے ہیں کیونکہ وہ دِکھنا یا سامنے آنا نہیں چاہتے، اور وہ شرمندگی یا احساسِ جُرم محسُوس کرتے ہیں۔ تاہم، بے شمار صحائف ہمیں سِکھاتے ہیں کہ خُدا سے چھُپنا نامُمکن ہے۔ یہاں مَیں صرف چند ایک کا ذِکر کروُں گا۔

خُداوند درج ذیل سوالات کے ذریعے یرمیاہ کو سِکھاتا ہے: ”کیا کوئی آدمی پوشیدہ جگہوں پر چھُپ سکتا ہے کہ میں اُسے نہ دیکھوں؟ خُداوند فرماتا ہے۔ کیا زمین و آسمان مُجھ سے معمُور نہیں؟“

اور ایُّوب کو سِکھایا گیا:

”کیونکہ اُس کی آنکھیں آدمی کی راہوں پر لگی ہیں اور وہ اُس کی سب روِشوں کو دیکھتا ہے۔

”نہ کوئی اَیسی تاریکی، نہ موت کا سایہ ہے، جہاں بد کردار چھُپ سکیں۔“

زبور نویس داؤد سب سے زیادہ شاعرانہ انداز میں پُکارتا ہے:

”اَے خُداوند، تُو نے مُجھے جانچ لِیا اور پہچان لِیا۔

”تُو میرا اُٹھنا بَیٹھنا جانتا ہے، تُو میرے خیال کو دُور سے سمجھ لیتا ہے۔ …

”میری زُبان پر کوئی ایسی بات نہیں جِسے تُو اَے خُداوند! پُورے طور پر نہ جانتا ہو۔ …

”مَیں تیری رُوح سے بچ کر کہاں جاؤں؟ یا تیری حُضُوری سے کِدھر بھاگُوں؟

”اگر آسمان پر چڑھ جاؤں، تو تُو وہاں ہے: اگر مَیں پاتال میں بستر بچھاؤں، تو دیکھ، تو وہاں بھی ہے۔“

نئے تبدیل شُدگان

اُن کے لیے جو حال ہی میں کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام میں شامل ہُوئے ہیں، دُوسری آزمایش خاص طور پر مُشکل ہو سکتی ہے۔ اپنے بپتِسما کے وسیلے سے آپ نے یِسُوع مسِیح کا نام اپنے تئیں لینے کا عہد کِیا ہے، جس میں بُہت سے لوگوں کے لیے طرزِ زندگی میں ضروری تبدیلی شامل ہے۔ کسی کے طرزِ زندگی کو بدلنا آسان نہیں ہے۔ اکثر، اپنے پیارے آسمانی باپ کی طرف بڑھنے کے لیے آپ کو اپنی عادات، طور طریقے، اور حتیٰ کہ کُچھ تعلُقات بھی بدلنے پڑتے ہیں۔

دُشمن جانتا ہے کہ آپ اُس کے مکار حملے کے لیے کمزور ہو سکتے ہیں۔ وہ آپ کی ماضی کی زندگی، جو کئی لحاظ سے آپ کو غیر مطمئن لگتی تھی، اب آپ کے لیے غیر یقینی طور پر پُرکشش بنا دے گا۔ الزام لگانے والا، جیسا کہ اُسے مُکاشفہ کی کِتاب میں کہا گیا ہے، آپ کو ایسے خیالات سے بہکانے کی کوشش کرے گا: ”آپ اپنی زندگی بدلنے کے لیے اتنے مضبُوط نہیں ہیں؛ آپ یہ نہیں کر سکتے؛ آپ اِن لوگوں میں سے نہیں ہیں؛ وہ آپ کو کبھی قبُول نہیں کریں گے؛ آپ بُہت کمزور ہیں۔“

اگر یہ خیالات آپ کو سچّے لگیں جو عہد کی راہ پر نئے بوئے گئے ہیں، تو ہم آپ سے اِلتجا کرتے ہیں کہ الزام لگانے والے کی آواز پر توجہ نہ دیں۔ ہم آپ سے پیار کرتے ہیں؛ آپ ایسا کر سکتے ہیں؛ ہم آپ کو قبُول کرتے ہیں؛ اور نجات دہندہ کے ساتھ، آپ سب کُچھ کرنے کی طاقت پائیں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب آپ کو ہماری محبّت کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی، اپنی سوچ سے یہ دھوکا نہ کھائیں کہ اگر آپ اپنے پہلے طرزِ زندگی میں ایک قدم واپس لے لیں گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے۔ یِسُوع مسِیح کے کفّارے کی بےمثال قُدرت کے وسیلے سے، آپ دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اُس سے چھُپتے ہیں اور اپنے آپ کو اپنی نئی کلِیسیا سے دُور کرتے ہیں، تو آپ اپنے آپ کو اُس سرچشمہ سے دُور کرتے ہیں جو آپ کو غالب آنے کی طاقت دے سکتا ہے اور دے گا۔

میرا ایک عزیز دوست، جو نیا تبدیل شُدّہ ہے، اُس نے بتایا کہ تنہائی میں ایمان کی تائید کرنا کتنا مُشکل ہے۔ ایک معاون کمیونٹی کا حِصّہ بننے اور اِس پر قائم رہنے میں بڑی طاقت ہے—سب یِسُوع مسِیح کی محبّت سے برکت پاتے ہُوئے لڑکھڑاتے مگر آگے بڑھتے رہے ہیں۔

صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا ہے کہ ”دُنیا پر غالِب آنا کوئی واقعہ نہیں ہے جو ایک یا دو دِن میں انجام پاتا ہے۔ یہ عمل زِندگی بھر جاری رہتا ہے جب ہم لگا تار مسِیح کی تعلیم کو قبُول کرتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح پر اِیمان بڑھاتے ہیں روزانہ توبہ کر کے اور عہُود کو مان کر جو ہمیں ہمت عطا کرتے ہیں۔ ہم عہد کے راستے پر گامزن رہتے ہیں اور رُوحانی تقویت، شخصی مُکاشفہ، اِیمانی کثرت، اور فرِشتوں کی خِدمت سے فیض پاتے ہیں۔

اگر آپ کو جسمانی چوٹ لگے اور، اگر آپ مناسب طبی امداد نہ لیں، تو آپ کی حالت بِگڑ سکتی ہے اور یہ زندگی کے لیے-خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی بات رُوحانی زخموں کے لیے بھی سچ ہے۔ صرف، وہی رُوحانی زخم جن کا علاج نہ کیا گیا ہو، آپ کی اَبَدی نجات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اُن لوگوں سے مت چھُپیں جو آپ سے محبّت کرتے ہیں اور آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں؛ بلکہ اُن کی طرف بھاگیں۔ اچھے بشپ، برانچ کے صدُور، اور راہ نُما آپ کو یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کی شفا بخش طاقت تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اُن کو جو شاید چھُپے ہُوئے ہیں، ہم آپ کو واپس آنے کی اِلتجا کرتے ہیں۔ آپ کو اُس کی ضرورت ہے جو یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل اور کفّارہ پیش کرتے ہیں، اور ہمیں آپ کی پیش کش کی ضرورت ہے۔ خُدا آپ کے گُناہ جانتا ہے؛ آپ اُس سے چھُپ نہیں سکتے۔ اپنے آپ کو اُس کے حضُور لائیں۔

اُس کے مُقدّسِین کی حیثیت سے، ہم میں سے ہر ایک کو کلِیسیا میں ایک ایسی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے جو محبّت کرنے والی، قبُول کرنے والی، اور اُن سب کی حوصلہ افزائی کرنے والی ہو جو اُس کے راستے پر ترقی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اِس دُوسری آزمایش سے ہوشیار رہیں! قدیم اور جدید دونوں نبیوں کی مشورت پر عمل کریں اور جانیں کہ آپ پیارے باپ سے چھُپ نہیں سکتے۔

اِس کے برعکس، یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کی معجزانہ شفا بخش قُدرت حاصل کریں۔ یہ ہمارے وجُود کا حقیقی مقصد ہے—کہ ہم کمزور اور فانی جِسم حاصل کریں جو ”ہر طرح کی خامی کے تحت ہو“ اور جو افسوس کے ساتھ پہلی آزمایشوں کے سامنے سرنگوں ہو جائیں؛ اُن آزمایشوں میں گرنے کے باوجود ترقی کریں؛ اور اُس کے بعد خُدا کی مدد طلب کریں، تاکہ ہم اپنے نجات دہندہ اور آسمانی باپ کی مانند بن سکیں۔ یہ اُسی کا راستا ہے۔ یہی واحد راستا ہے۔ اِن سچّائیوں کی گواہی مَیں یِسُوع مسِیح کے نام پر دیتا ہُوں، آمین۔