مُقدّس چیزوں سے عَقِیدَت مَندی
مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت کا جذبہ حقیقی شُکرگُزاری کو پروان چڑھاتا ہے، سچّی خُوشی کو وُسعت بخشتا ہے، ہمارے ذہنوں کو مُکاشفہ کی طرف لے جاتا ہے، اور ہماری زِندگیوں میں زیادہ شادمانی لاتا ہے۔
خرُوج کی کِتاب میں، ہم مُوسیٰ کے ساتھ کوہِ حورب کی ڈھلانوں کی طرف سفر کرتے ہیں جب اُس نے—جلتی ہُوئی جھاڑی کو دیکھنے کے لیے جو بھسم نہ ہوتی تھی اپنے روزمرہ کے کاموں سے دھِیان ہٹایا—جیسا کہ ہم سب کو بھی کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ جب وہ قریب پُہنچا تو، ”خُدا نے اُسے جھاڑی میں سے پُکارا اور کہا، اَے مُوسیٰ، اَے مُوسیٰ۔ اور اُس نے کہا، مَیں حاضِر ہُوں۔ اور [خُدا] نے کہا، … اپنے پاؤں سے جُوتا اُتار کیوں کہ جِس جگہ تُو کھڑا ہے وہ مُقدّس زمِین ہے۔“ بڑی تعظیم و تکریم، عاجزی اور تعجُب کے ساتھ، مُوسیٰ نے اپنے جُوتے اُتار دِیے اور خُود کو خُداوند کا کلام سُننے اور اُس کی پاک حُضُوری کا تجربہ پانے کے لیے تیار کِیا۔
وہ مُقدّس پہاڑی ظہُور حیرت اَنگیز تعظیم و تکریم سے معمُور تجربہ تھا، جس نے مُوسیٰ کو اُس کی اِلہٰی شناخت سے جوڑا، اور جو دَرحقیقت، ایک معمُولی چرواہے کو طاقتور نبی میں بدلنے کا کُلیدی عنصر تھا، جس نے اُسے زِندگی کی اِک نئی راہ پر گامزن کِیا۔ اِسی طرح، ہم میں سے ہر ایک عَقِیدَت مَندی کی صِفت کو اپنے رُوحانی کِردار کا مُقدّس حِصّہ بنا کر اپنی شاگِردی کو رُوحانیت کے اعلیٰ ترین نمُونے میں ڈھال سکتے ہیں۔
لفظ عَقِیدَت کا ماخذ لاطینی فعل ریوریری ہے، جِس کا مطلب ہے ”احترام و تعظیم سے کھڑے ہونا ہے۔“ اِنجِیلی مفہُوم میں، یہ تعریف گہرے احترام، محبّت، اور شُکرگُزاری کے احساس یا رویے کے ساتھ جُڑتی ہے۔ اُن لوگوں کی مُقدّس چیزوں کے لیے ایسی عَقِیدَت مَندی جو شکستہ دِل اور خُدا اور یِسُوع مسِیح کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اُن کی جانوں میں مزید خُوشی کو فروغ دیتی ہے۔
مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت لازمی رُوحانی خُوبی کا سب سے بڑا ظہُور ہے؛ یہ ہماری پاکیزگی سے وابستگی کا نتیجہ ہوتا ہے اور ہمارے آسمانی باپ اور ہمارے مُنّجی، یِسُوع مسِیح کے لیے ہماری محبّت اور رُوحانی قُربت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رُوح کے بُلند و بالا تجربات میں سے ایک بھی ہے۔ اَیسی صِفت ہمارے خیالات، دِلوں، اور زِندگیوں کو خُدا کی قُربت میں لے جاتی ہے۔ اَصل میں، عَقِیدَت محض رُوحانیت کا ایک پہلُو نہیں ہے؛ بلکہ یہ جوہر ہے—اُس بُنیاد کا جس پر رُوحانیت تعمیر کی جاتی ہے، یہ ذاتِ اِلہٰی کے ساتھ شخصی تعلق قائم کرتی ہے، جیسا کہ ہمارے بچّے سِکھاتے ہیں جب وہ گاتے ہیں، ”رکھتا ہُوں جب مَیں عَقِیدَت، دِل میں اپنے جانتا ہُوں آسمانی باپ اور یِسُوع کے قریب ہُوں مَیں۔“
یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کی حیثیت سے، ہمیں مدعُو کِیا جاتا ہے کہ ہم اپنی زِندگیوں میں عَقِیدَت کی نعمت کو پروان چڑھائیں تاکہ ہم خُدا اور اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح، کے ساتھ گہرے تعلق کے لیے تیار ہوں، اور ساتھ ہی اپنے رُوحانی کِردار کو تقویت دیں۔ اگر ہمارے دِلوں میں اَیسے احساسات کی کثرت ہو گی، تو بِلاشُبہ ہماری زِندگیوں میں زیادہ خُوشی اور شادمانی ہو گی، اور غم اور اُداسی کی جگہ کم رہ جائے گی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت کا اِظہار روزمرّہ کے کاموں کو معنی بخشتا ہے اور ہمارے شُکرگُزاری کے احساس کو تقویت دیتا ہے—اعلیٰ اور مُقدّس ترین چیزوں کے لیے، تعجُب، عِزت، اور محبّت کی ترغیب دیتا ہے۔
بد قِسمتی سے، ہم ایک اَیسی دُنیا میں رہتے ہیں جہاں مُقدّس چیزوں کے لیے اظہارِ عَقِیدَت تیزی سے غیر اَہم ہوتا جا رہا ہے۔ دَرحقیقت، دُنیا غیرمؤدب کو سراہتی ہے، جیسے کوئی مشہُور رسالہ، ٹیلی ویژن پروگرام، یا اِنٹرنیٹ اِس کی شہادت دیتا ہے۔ مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت کی کمی رویوں میں بےتکلفی اور طرزِ عمل میں لاپرواہی پیدا کرتی ہے، جو ایک نسل کو تیزی سے بےحِسی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اگلی نسل کو بَدبختی میں مُبتلا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
بے حُرمتی ہمیں عہُود کے وسیلے خُدا کے ساتھ قائم ہونے والے تعلق سے بھی دُور لے جا سکتی ہے اور خُدا کے حُضُور جواب دہی کے احساس کو بھی کم کرتی ہے۔ نتیجتاً، ہم صِرف اپنے سکُون کی فِکر کرنے؛ اپنی بے قابُو خواہشات کو پُورا کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں؛ اور بالآخِر مُقدّس چیزوں، حتیٰ کہ خُدا، کی بے حُرمتی کرنے کے ناپاک مقام تک پُہنچ جاتے ہیں، اور نتیجتاً، ہم بطور آسمانی باپ کی اولاد اپنی اِلہٰی فِطرت کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ مُقدّس چیزوں کی بے حُرمتی دُشمن کے مقاصد کو مزید وُسعت دیتی ہے کیوں کہ یہ ہمارے مُکاشفے کے حساس وسیلوں کو درہم برہم کرتی ہے، جو ہمارے زمانہ میں ہماری رُوحانی بقا کے لیے نہایت ضرُوری ہیں۔
مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت کے مفہُوم اور اَہمیت کو صحائف میں اچھی طرح سے بیان کِیا گیا ہے۔ عقائد اور عہُود میں ایک مِثال ہمارے آسمانی باپ اور اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح، کے لیے حِلم و احترام کا اشارہ دیتی معلُوم ہوتی ہے جو اُن کے واسطے لازمی صِفت ہے جو سیلیسٹیئل بادشاہی حاصِل کرنے والے ہیں۔
بحیثیتِ کلِیسیا ہم ہر پہلُو سے باپ اور بیٹے کو اِنتہائی مُقدّس اور مُحترم رکھنے کی کاوش کرتے ہیں، اِس سمیت کہ ہم کیسے اُن کی شبیہات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ رُوحُ القُدس کی ہدایت یہ تعین کرنے میں اَہم عنصر ہے کہ کیسے اِن شبیہات کو باپ اور بیٹے کی مُقدّس فِطرت، کِردار، اور اِلہٰی صِفات کی عکاسی کرنی چاہیے۔ ہم اِس بات میں خاص احتیاط برتتے ہیں کہ کوئی بھی اَیسا عنصر پیش نہ کِیا جائے جو ہمارے آسمانی باپ اور اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح، اور اُن کی تعلیمات، سے ہماری بُنیادی توجہ کو مبذُول کرا سکے، اِس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کردہ جدید آلات کا اِطلاق، جیسے کہ مصنُوعی ذہانت (اَے آئی) کے ذریعے مَواد اور تصاویر تخلیق کرنے کا طریقہ بھی شامِل ہے۔
اِسی اُصُول کا اِطلاق کلِیسیا کے سرکاری مواصلاتی ذرائع کے ذریعے دَستیاب ہر طرح کی معلُومات پر بھی لاگُو ہوتا ہے۔ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی مُقدّس خُوبی، اِقدار، اور معیارات کو برقرار رکھنا یقینی بنانے کے لیے ہم ہر سبق، کِتاب، راہ نُما کِتابچہ، اور پیغام کو بڑی احتیاط سے رُوح کی زیرِ ہدایت تیار اور منظُور کرتے ہیں۔ کلِیسیا کے نوجوان بالغین کے لیے ایک حالیہ پیغام میں، ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا، ”رُوحانیت اور ٹیکنالوجی کے پیچیدہ دوراہے کو سمجھنے کے لیے، مُقدّسِینِ آخِری ایّام کو عاجزی اور دُعا کے ساتھ (1) اِنجِیلی اُصُولوں کی شناخت کرنی چاہیے جو اُن کی مصنُوعی ذہانت کے اِستعمال کی راہ نُمائی کر سکیں اور (2) رُوحُ القُدس کی رفاقت اور مُکاشفہ کی رُوحانی نعمت کے لیے مُخلصی سے کوشِش کرنی چاہیے۔“
میرے پیارے بھائیو اور بہنو، جدید ٹیکنالوجی جتنی بھی پُر کشش ہو جائے، وہ رُوحُ القُدس کے اثر سے پیدا ہونے والی عَقِیدَت میں پائی جانے والی حیرت، تعجُب، اور شگُفتگی کا روپ نہیں دھار سکتی۔ مسِیح کے پیروکاروں کی حیثیت سے، ہمیں مُحتاط رہنا چاہیے کہ اَے آئی سے تیار کردہ مَواد اور تصاویر کا غیر مُناسب اِستعمال کرتے ہُوئے خُدا اور اُس کے بیٹے کے ساتھ اپنے تعلق کو کمزور نہ کریں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی یعنی ”بشر کے بازُو“ پر بھروسا کرنا اُس اِلہام، رُوحانی ترقی، اور گواہی کا ناکافی اور بےادب مُتبادل ہے جو صِرف رُوحُ القُدس کی قُدرت سے حاصِل کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ نِیفی نے اِعلان کِیا کہ: ”اَے خُداوند، مَیں نے تُجھ پر توکّل کِیا ہے، اور مَیں اَبَد تک تُجھ پر بھروسا کروُں گا۔ مَیں بشر کے بازُو پر بھروسا نہ کرُوں گا۔“
ایک اور مُکاشفہ میں، نبی جوزف سمِتھ کو ہدایت دی گئی کہ خُداوند کے واسطے تعمیر کی گئی ہَیکلیں اُس کے لیے مقامِ احترام ہونی چاہئیں۔ اپنی پُوری خِدمت کے دوران میں، ہمارے عزیز نبی، صدر رسل ایم نیلسن، نے مُقدّس ہَیکل میں تعظیم و تکریم کے ساتھ عِبادت کرنے پر بُہت زیادہ زور دِیا ہے۔ خُداوند کے گھر میں، ہمیں باپ اور بیٹے کی پاک حُضُوری میں داخِل ہونے کی بابت سِکھایا جاتا ہے۔ مَیں نے ہمیشہ اِس بات کو ہدایت بخش اور حتیٰ کہ اِلہام بخش پایا ہے کہ ہَیکل میں داخِل ہونے اور مُقدّس رُسُوم میں شامِل ہونے سے پہلے سب سے پہلا کام جو ہم کرتے ہیں وہ اپنے جُوتے اُتارنا اور سفید لِباس زیب تن کرنا ہے۔ مُوسیٰ کی طرح، اگر ہم دانِستہ طور پر دیکھیں، تو ہم جان سکتے ہیں کہ اپنے دُنیاوی جُوتوں کو اُتارنا مُقدّس سَرزمین پر قدم رکھنے اور اعلیٰ اور مُقدّس ترین طریقوں سے تبدیل ہونے کا آغاز ہے۔
بھائیو اور بہنو، مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت مَندی دریافت کرنے اور اپنی شاگِردی کو رُوحانیت اور لگن کے گہرے درجے میں تبدیل کرنے کے لیے ہمیں، مُوسیٰ کی طرح، کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنے کی ضرُورت نہیں ہے۔ مثلاً، ہم اِسے اُس وقت پا سکتے ہیں، جب ہم اپنے گھر کے ماحول کو دُنیاوی اثرات سے بچانے کی کوشِش کرتے ہیں۔ اِس کی تکمیل ہمارے آسمانی باپ کے حُضُور یِسُوع مسِیح کے نام پر خُلوص اور سنجیدگی سے دُعا کرنے اور صحائف اور نبیوں کی تعلیمات میں پائے جانے والے کلامِ خُدا کے جاں فِشاں مُطالعہ کے وسیلہ سے اپنے مُنّجی کو بہتر طور پر جاننے کی کاوِش سے ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، اَیسی رُوحانی تبدیلی اُس وقت آ سکتی ہے جب ہم خُداوند کے ساتھ باندھے گئے عہُود کی تعظیم کرنے کی کوشِش کرتے ہیں جو ہم حُکموں کی فرماں برداری کرتے ہُوئے کرتے ہیں۔ یہ کاوِشیں ہمارے دِلوں کے لیے پُرسُکون اور یقینی اِطمینان لاسکتی ہیں۔ اَیسے اَعمال پر توجہ مرکُوز کرنے سے یقیناً ہمارے گھروں کو رُوحانی پناہ گاہوں میں بدلنے میں مدد مِل سکتی ہے—اِیمان کی ذاتی جائے پناہ جہاں رُوح بستا ہے، بالکل مُوسیٰ کے پہاڑی تجربے کی طرح۔
ہم اَیسی رُوحانی تبدیلی کا تجربہ بھی کر سکتے ہیں جب ہم کلِیسیائی عِبادات میں وفاداری سے شریک ہوتے ہیں، بشمُول پاک گیتوں سے حمد وثنا کرنے سے اپنے دِلوں کو خُداوند کی طرف راغب کرنا۔ مُوسیٰ کی مانِند—دُنیاوی خلل سے، خصُوصاً ہمارے موبائل فون یا کسی بھی اَیسی چیز سے جو مُقدّس لمحے سے ہم آہنگ نہ ہو—مُنہ موڑنا، ہمیں اِس قابل بناتا ہے کہ ہم اپنی پُوری توجہ عِشائے ربّانی لینے کی طرف مبذُول کریں، نجات دہندہ اور اُس کی کفّارہ بخش قُربانی کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی عہُود پر دِل اور عقل سے توجہ مرکُوز کریں۔ عِشائے ربّانی پر اِس طرح کی توجہ مُنّجی کے ساتھ ہمارے ملاپ کے مودبانہ تجدیدی لمحات کو بڑھائے گی اور سبت کو خُوش کُن بنا دے گی اور ہماری زندگی کو بدل دے گی۔
بالآخِر، ہم اپنی شاگِردی میں اِس رُوحانی تبدیلی کا تجربہ پا سکتے ہیں جب ہم باقاعدگی سے خُداوند کے گھر کے پہاڑ—یعنی اپنی مُقدّس ہَیکلوں میں عِبادت کرتے ہیں—اور اعتمادِ عہد کے ساتھ رہنے کے خواہاں ہوتے ہیں، بالخصُوص جب ہم فانی زِندگی کی آزمایشوں کا سامنا کرتے ہیں۔
میری اہلیہ اور مَیں نے اپنی زِندگی میں اِن اُصُولوں کو لاگُو کرنے کی کوشِش کرتے ہُوئے بڑی عقیدت کے ساتھ چند مُقدّس پہاڑی لمحات کا ذاتی طور پر تجربہ کِیا ہے، جو ہماری شاگِردی میں بامقصد تبدیلی کا سبب بنے ہیں۔ مُجھے یاد ہے کہ جیسے یہ کل کی بات ہو جب مَیں اپنے دُوسرے بچّے کو دفنانے کے لیے قبرستان میں قدم رکھ رہا تھا، جو قبل اَز وقت پیدا ہُوا تھا اور زِندہ نہ رہ سکا، جب کہ میری اہلیہ اَبھی تک ہسپتال میں صحت یاب ہو رہی تھی۔ مُجھے یاد ہے کہ مَیں نے خُدا سے بڑی گرم جوشی اور عَقیدت مندی سے دُعا کی، اُس کٹھن اِمتحان سے نِمٹنے کے لیے مدد طلب کی۔ اُسی لمحے میں، مُجھے اپنے دِل میں ایک واضح اور قوّی رُوحانی یقین دِہانی حاصِل ہُوئی کہ: اگر مَیں اور میری بیوی برداشت کرتے ہیں، اُس خُوشی کو تھامے رکھیں جو یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کے مُوافق زِندگی بسر کرنے سے مِلتی ہے تو ہماری زِندگیوں میں سب کُچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اُس وقت جو ایک ناقابلِ برداشت، غمگین چنوتی لگتی تھی ایک مُقدّس، تعظیم سے بھرپُور تجربہ بن گئی، ایک سنگِ مِیل جس نے ہمارے اِیمان کو قائم رکھنے میں مدد کی اور ہمیں اُن عہُود پر اعتماد بخشا جو ہم نے خُداوند کے ساتھ باندھے تھے اور جو وعدے اُس نے میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کِیے تھے۔
میرے بھائیو اور بہنو، مُقدّس چیزوں کے لیے عَقِیدَت کا جذبہ حقیقی شُکرگُزاری کو پروان چڑھاتا ہے، سچّی خُوشی کو وُسعت بخشتا ہے، ہمارے ذہنوں کو مُکاشفہ کی طرف لے جاتا ہے، اور ہماری زِندگیوں میں زیادہ شادمانی لاتا ہے۔ یہ ہمارے قدموں کو مُقدّس سَرزمین پر رکھتا اور ہمارے دِلوں کو خُدا کی طرف اُٹھاتا ہے۔
مَیں آپ کو گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم اَیسی صِفات کو اپنی روزمرّہ کی زِندگیوں میں شامِل کرنے کے مُشتاق ہوتے ہیں، تو ہم اپنی عاجزی کو بڑھانے، اپنے واسطے خُدا کی منشا کی بابت اپنی سمجھ بُوجھ کو وُسعت دینے، اور خُداوند کے ساتھ باندھے گئے عہُود کے وعدوں پر اپنے اعتماد کو مضبُوط کرنے کے قابِل ہوں گے۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم مُقدّس چیزوں کے لیےعَقِیدَت کی اِس نعمت کو اپناتے ہیں—چاہے خُداوند کے گھر کے پہاڑ میں، عِبادت گاہ میں، یا ہمارے اپنے گھروں میں—جب ہم اپنے آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح کی کامِل محبّت سے جُڑتے ہیں تو ہم حیرت اَنگیز عقیدت اور تعجُب سے معمُور ہو جائیں گے۔ مَیں بڑی تعظیم کے ساتھ اپنے مُنجّی اور مُخلصی دینے والے، یِسُوع مسِیح، کے مُقدّس نام پر اِن سچّائیوں کی گواہی دیتا ہُوں، آمین۔