فانی زِندگی کے لِیے اِلہٰی وسائل
ہمارے آسمانی باپ کا منصُوبہ ہمارے فانی سفر میں ہماری ہدایت کے لِیے وسائل فراہم کرتا ہے۔
I۔
نبی جوزف سمِتھ کے وسِیلہ سے، خُداوند نے ہماری زمِین سے پہلے کی زِندگی کے مُتعلق بُہت کُچھ اِفشا کِیا ہے۔ وہاں، ہم خُدا کے رُوحانی بچّوں کی حیثیت سے موجُود تھے۔ چُوں کہ خُدا اپنے بچّوں کی ترقی میں مدد کرنا چاہتا تھا، اُس نے ایک اَیسی دُنیا خلق کرنے کا اِرادہ کِیا جِس پر ہم بدن پا سکیں، تجربات کے ذریعے سِیکھ سکیں، اِلہٰی صِفات کو پروان چڑھا سکیں، اور آزمائے جا سکیں کہ آیا ہم خُدا کے حُکموں پر عمل کریں گے۔ جو لوگ لائِق ہوں گے ”اُن کے سَروں پر مزید جلال ہمیشہ سے ہمیشہ تک عطا کِیا جائے گا“ (ابرہام 3:26)۔
اِس اِلہٰی منصُوبے کی شرائط کو قائم کرنے کے لِیے، خُدا نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو ہمارا نجات دہندہ چُنا۔ لُوسیفر، جِس کا تجویز کردہ مُتبادل منصُوبہ اِنسان کے حقِ انتخاب کو نِیست و نابُود کر دیتا، شَیطان بن گیا اور ”نِیچے پھینکا“ گیا۔ زمِین پر پھینکا گیا اور فانی زِندگی کے حق سے محرُوم کر دِیا گیا، شیطان کو اِجازت دی گئی کہ وہ ”اِنسان کو دھوکا دے اور اَندھا کرے، اور اُنھیں اپنی مرضی کے مُطابق قید میں لے جائے، حتیٰ کہ جِتنے بھی [خُدا کی] آواز کو نہ سُنیں گے“ (مُوسیٰ 4:4)۔
اپنے بچّوں کی فانی نشوونُما کے لِیے خُدا کے عظیمُ الشان منصُوبہ کے لِیے ضرُوری تھا کہ ”ہر چیز کی ضِد ہو“ تاکہ وہ تُجربہ کریں (2 نِیفی 2:11)۔ جِس طرح ہمارے جِسمانی عضلات کششِ ثِقل کے قانُون کے خِلاف زور لگائے بغیر نہ تو مضبُوط ہو سکتے ہیں یا قائم رہ سکتے ہیں، اُسی طرح فانی نشوونُما کے لِیے اِنسان کو شَیطان کی آزمایشوں اور مُختلف فانی تضادات کے خِلاف مزاحمت کرنا پڑتی ہے۔ رُوحانی ترقی کے لِیے یہ لازِم ہے کہ نیک و بد میں کسی ایک کو چُنا جائے۔ جو لوگ نیکی کو چُنتے ہیں وہ اپنی اَبَدی منزل کی طرف بڑھتے ہیں۔ جو بَدی کو چُنتے ہیں—جَیسا کہ سب فانی زِندگی کی مُختلف آزمایشوں میں مُبتلا ہو کر کرتے ہیں—اُنھیں بچانے والی مدد کی ضرُورت ہو گی، جو محبّت کرنے والے خُدا نے عطا کرنے کا منصُوبہ تیار کِیا ہے۔
II۔
بِلاشُبہ، خُدا کی سب سے زیادہ مضبُوط عطا کی گئی فانی مدد نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح تھا، جو قِیمت اَدا کرنے کے لِیے دُکھ اُٹھائے گا اور تَوبہ کِیے گئے گُناہوں کی مُعافی فراہم کرے گا۔ وہ رحیم اور جلالی کَفارہ وضاحت کرتا ہے کہ خُداوند یِسُوع مسِیح پر اِیمان کیوں اِنجِیل کا پہلا اُصُول ہے۔ اُس کا کَفارہ ”مُردوں کی قیامت لاتا ہے“ (ایلما 42:23) اور ”دُنیا کے گُناہوں کا کفّارہ اَدا کرتا [ہے]“ (ایلما 34:8)، ہمارے تمام توبہ شُدّہ گُناہوں کو مِٹاتا اور ہمارے نجات دہندہ کو قُدرت عطا کرتا ہے کہ ہماری فانی کمزوریوں میں ہمیں سہارا دے۔
گُناہوں کو شان سے مِٹانے اور مُعاف کِیے جانے کے عِلاوہ، پُرشفِیق آسمانی باپ کا منصُوبہ ہماری حِفاظت کے لِیے بُہت سی دُوسری نعمتیں فراہم کرتا ہے، جِس میں ہمیں گُناہ کرنے سے پہلے روکنا بھی شامِل ہے۔ ہماری فانی زِندگی ہمیشہ باپ اور ماں سے شرُوع ہوتی ہے۔ مِثالی طور پر، دونوں ہماری ترقی کی ہدایت کے لِیے مُختلف صلاحیتوں کے ساتھ موجُود ہوتے ہیں۔ اگر نہیں، تو اُن کی عدم موجُودگی اَیسی ضِد ہے جِس پر ہمیں قابُو پانا لازِم ہے۔
III.
ہمارے آسمانی باپ کا منصُوبہ ہمارے فانی سفر میں ہماری ہدایت کے لِیے دیگر وسائل فراہم کرتا ہے۔ مَیں اُن میں سے چار کے مُتعلق بات کرُوں گا۔ براہِ کرم مُجھے میرے چار، وسائل کے ہندسے تک محدُود نہ سمجھیں، کیوں کہ یہ وسائل ایک دُوسرے سے جُڑے ہُوئے ہیں۔ مزید برآں، اِن کے عِلاوہ اور بھی پُرشفِیق امدادی تحفُظات موجُود ہیں۔
پہلا، مَیں مسِیح کے نُور یا رُوح کی بات کرتا ہُوں۔ مرُونی کی کِتاب میں اپنی عالی قدر تعلِیم میں، مرُونی اپنے والد کا حوالہ دیتا ہے کہ ”ہر اِنسان کو مسِیح کا رُوح عطا کِیا گیا ہے، تاکہ وہ نیک و بد کی پہچان کر سکے“ (مرُونی 7:16)۔ اِسی تعلِیم کو ہم جدِید مُکاشفوں میں پڑھتے ہیں۔
”اور رُوح ہر آدمی کو جو دُنیا میں آتا ہے نُور عطا کرتا ہے؛ اور رُوح پُوری دُنیا میں ہر اُس اِنسان کو مُنوّر کرتا ہے جو رُوح کی آواز سُنتا ہے“ (عقائد اور عہُود 84:46)۔
دوبارہ: ”پَس میرا رُوح دُنیا میں بھیجا گیا ہے کہ حلیم اور پشیمان کو مُنوّر کرے، اور بدکار کو قُصُوروار ٹھہرائے“ (عقائد اور عہُود 136:33)۔
صدر جوزف فیلڈنگ سمِتھ نے اِن صحائف کی وضاحت کی: ”خُداوند نے اِنسان کو (جب وہ اِس دُنیا میں پَیدا ہُوا) بے بس نہیں چھوڑا، نُور اور حَق کو ٹٹول ٹٹول کر تلاش کرے، بلکہ ہر اِنسان … راہ نُمائی، ہدایت، مسِیح کے رُوح کی مشاورت یا سچّائی کا نُور پانے کے حق کے ساتھ پَیدا ہُوا ہے۔“
اور دُوسرا خُداوند کی طرف سے فراہم کی گئی عظیم مدد جو ہماری دُرست کو چُننے میں مدد کرتی ہے جو نجات کے منصُوبہ (خُوشی کا منصُوبہ) کے حِصّہ کے طور پر نوِشتوں میں ہدایات کا مجمُوعہ ہے۔ یہ ہدایات اَحکام، رُسُوم، اور عہُود ہیں۔
اَحکام اُس راستے کی وضاحت کرتے ہیں جو ہمارے آسمانی باپ نے ہمارے لِیے اَبَدی زِندگی کی طرف بڑھنے کے لِیے نِشان زد کِیا ہے۔ وہ لوگ جو اَحکام کو خُدا کے فیصلہ کرنے کا طریقہ سمجھتے ہیں کہ کِس کو سزا دینی ہے وہ خُدا کے محبّت بھرے خُوشی کے منصُوبے کے مقصد کو سمجھنے سے قاصِر ہیں۔ اِس راستے پر، ہم دھیرے دھیرے اپنے مُنّجی کے ساتھ ضرُوری ناطہ جوڑ سکتے ہیں اور اُس کی قُدرت کی فراوانی کے لائِق ہو جاتے ہیں تاکہ ہماری اُس منزل تک پُہنچنے میں مدد کر سکے جو خُدا ہم سب کے واسطے چاہتا ہے۔ ہمارے آسمانی باپ کی منشا ہے کہ اُس کی ساری اولاد سیلیسٹیئل بادِشاہی میں واپس جائے، جہاں خُدا اور ہمارا نجات دہندہ سکُونت کرتے ہیں، اور اُس میں رہنے والوں کی طرح سیلیسٹیئل جلال کی زِندگی پائیں۔
رُسُوم اور عہُود اُس شرِیعت کا حِصّہ ہیں جو اَبَدی زِندگی کے راستے کا تعُین کرتی ہے۔ رُسُوم، جِن کی مدد سے ہم خُدا کے ساتھ مُقدّس عہُود باندھتے ہیں، راستے میں اَہم قدم اور ضرُوری حِفاظتی چوکیاں ہیں۔ مَیں عہُود کے کِردار کے بارے میں سوچنا پسند کرتا ہُوں کہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خُدا کے منصُوبہ کے تحت، اُس کی اَفضل ترین برکات اُن لوگوں کو عطا کی جاتی ہیں جو بعض حُکموں کی پابندی کا پہلے سے وعدہ کرتے ہیں اور جو اُن وعدوں کو پُورا کرتے ہیں۔
خُدا کی طرف سے دُرست اِنتخابات کرنے کے لیے دی جانے والی مدد رُوحُ القُدس کی تاثِیریں ہوتی ہیں۔ رُوحُ القُدس خُدائی اَراکین کا تِیسرا رُکن ہے۔ اُس کا کام، صحائف میں بیان کِیا گیا ہے، باپ اور بیٹے کی گواہی دینا، ہمیں سِکھانا، ہر بات کو یاد کرانا، اور ساری سچّائی میں ہماری راہ نُمائی کرنا ہے۔ صحائف میں رُوحُ القُدس کی تاثِیروں کے بُہت سے حوالے شامِل ہیں، مثلاً مورمن کی کِتاب کی سچّائی کی بابت تحقِیق کے جواب میں رُوحانی گواہی۔ تاثِیر کو رُوحُ القُدس کی نعمت کے ساتھ گُڈمُڈ نہ کریں، جو بپتِسما کے بعد عطا کی جاتی ہے۔
اپنے بااِیمان بچّوں کے لِیے خُدا کے سب سے اَہم وسائل میں سے ایک رُوحُ القُدس کی نعمت ہے۔ اِس نعمت کی اَہمیت اِس حقیقت میں واضح ہے کہ یہ رسمی طور پر تَوبہ اور پانی کے بپتِسما کے بعد عطا کی جاتی ہے، ”اور پھر [صحائف بتاتے ہیں] آگ اور رُوحُ القُدس سے تُمھارے گُناہوں کی مُعافی ہو گی“ (2 نِیفی 31:17)۔ وہ لوگ جِنھوں نے گُناہوں کی یہ مُعافی پائی ہے—اور پِھر باقاعدگی سے روزانہ توبہ کے ذریعے سے اپنی صفائی کی تجدید کرتے ہیں اور اِس عہد کے مُطابق زِندگی گُزارتے ہیں جو وہ عِشائے ربّانی کے ذریعے سے باندھتے ہیں تو—اُس وعدے کے لائِق ٹھہرتے ہیں کہ رُوحُ القُدس، خُداوند کا رُوح، ” … ہمیشہ اُن کے ساتھ ہو“ (عقائد اور عہُود 20:77)۔
یُوں، صدر جوزف ایف سمِتھ نے سِکھایا کہ رُوحُ القُدس ”لوگوں کے ذہنوں کو خُدا کی باتوں کے بارے میں روشن کرے گا، اُن کی تبدیلی کے وقت اُن کو قائل کرے گا کہ اُنھوں نے باپ کی مرضی کو پُورا کِیا ہے، اور اُن میں زِندگی بھر رفِیق کے طور پر مُستقل گواہ ہو گا، ساری سچّائی میں یقینی اور محفُوظ راہ نُما کے طور پر کام کرے گا اور اُن کو روز بہ روز خُوشی اور مَسرت سے معمُور کرے گا، اِس جذبے کے ساتھ کہ ہر اِنسان کو بُرائی کی بجائے نیکی کرنے اور برداشت کرنے، شفِیق اور مہربان ہونے، صبر کرنے اور محبّت رکھنے کا مزاج پَیدا کرے گا۔ وہ سب لوگ جن کے پاس یہ اَن مول نعمت ہے، یعنی یہ بیش قِیمت موتی، اُن میں راست بازی کی مُسلسل پیاس رہتی ہے۔ رُوحُ القُدس کی مدد کے بغیر،“ صدر سمِتھ نے نتِیجہ اَخذ کِیا کہ، ”کوئی بھی اِنسان تنگ اور سُکڑے راستے پر نہیں چل سکتا۔“
IV۔
ہمارے فانی سفر میں ہماری راہ نُمائی کرنے میں بُہت سے طاقت ور وسائل کے ساتھ، یہ مایُوس کُن بات ہے کہ بُہت سے لوگ ہمارے نجات دہندہ اور مُخلصی دینے والے، یِسُوع مسِیح کے ساتھ اپنی مُقرّرہ مُلاقات کے لِیے تیار نہیں ہیں۔ اُس کی دس کُنواریوں کی تمثیل جِس کا اِس عِبادت میں کثرت سے ذِکر کِیا گیا ہے، یہ بتاتی ہے کہ جِن لوگوں کو اُس سے ملنے کی دعوت دی گئی ہے، اُن میں سے صِرف نِصف تیار ہوں گے۔
ہم سب بغیر تیاری کی مثالیں جانتے ہیں: واپس آنے والے مِشنری جِنھوں نے وقفے وقفے سے اپنی رُوحانی نشوونُما میں رُکاوٹ ڈالی ہے، وہ نوجوان جِنھوں نے کلِیسیا کی تعلِیم اور سرگرمیوں سے الگ ہو کر اپنی رُوحانی ترقی کو خطرے میں ڈال دِیا ہے، وہ مرد جِنھوں نے اپنی مَلکِ صِدق کی تقرّری کو مُلتوی کِیا ہے، مرد اور عورتیں—بعض اوقات نیک پیروکاروں کی نسل یا لائق والدین—جِنھوں نے عہد کی راہ کو چھوڑ دیِا کیوں کہ پاک ہَیکل میں عہُود باندھنے اور عمل کرنے میں ناکام رہے۔
اِس طرح کے بُہت سے اِنحراف اُس وقت ہوتے ہیں جب اَرکان ذاتی دُعا، باقاعدہ پاک کلام کا مُطالعہ، اور بار بار توبہ کے بُنیادی رُوحانی نِگہبانی کے منصُوبہ پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اِس کے برعکس، بعض لوگ عِشائے ربّانی میں شرِیک نہ ہو کر عہُود کی ہفتہ وار تجدید کو نظرانداز کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ کلِیسیا اُن کی ضرُوریات کو پُورا نہیں کر رہی ہے، اُن باتوں کو مُتبادِل جانتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے مُستقبل کی ضرُوریات ہیں اِس سے پہلے جو خُداند نے اپنی بُہت سی تعلیمات اور دُوسروں کے لِیے ہماری ضرُوری خِدمت کے مواقع فراہم کِیے ہیں۔
فروتنی اور خُداوند پر توکُّل اَیسے اِنحراف کا عِلاج ہے۔ جَیسا کہ مورمن کی کِتاب سِکھاتی ہے، خُداوند ”اُنھیں برکت دیتا، اور خُوش حال کرتا ہے جو اُس پر توکُّل کرتے ہیں“ (ہِیلیمن 12:1)۔ خُداوند پر توکُّل اُن تمام لوگوں کے لِیے خاص ضرُورت ہے جو خُدا کے حُکموں اور اُس کے نبِیوں کی تعلیمات کو اِنسان کی حِکمت اور تازہ ترین دریافتوں کے ترازُو میں تولتے ہیں۔
مَیں نے اُن کئی فانی وسائل کے مُتعلق بات کی ہے جو ہمارا آسمانی باپ اپنے بچّوں کو اپنے پاس واپس آنے کے لِیے عطا کرتا ہے۔ اِس اِلہٰی منصُوبہ میں ہمارا حِصّہ خُدا پر توکّل کرنا اور اِن اِلہٰی وسائل کو تلاش کرنا اور اِستعمال کرنا ہے، خاص طور پر اُس کے پیارے بیٹے، ہمارے نجات دہندہ اور فِدیہ دینے والے، یِسُوع مسِیح کا کَفارہ۔ مَیں دُعا کرتا ہُوں کہ ہم اِن اُصُولوں کو سِکھائیں اور زِندگی گُزاریں، یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمِین۔