مسِیح کی واپسی کی تیاری میں شِریک ہوں
بُلاہٹیں اور دیگر طریقے جن سے ہم خُدا کے کام کا آغاز کرتے ہیں مُنفرد طور پر ہمیں نجات دہندہ سے مُلاقات کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔
چند ماہ قبل، مَیں ایک ہال میں کھڑا تھا جب ایلڈر نِیل ایل اینڈرسن وہاں سے گُزرے۔ مُجھے حال میں نئے اعلیٰ حُکام کے طور پر بُلاہٹ دی گئی تھی۔ مُمکنہ طور پر میری ناتجربہ کاری کے احساس کو بھانپتے ہُوئے، وہ مُسکرائے اور کہا، ”خیر، یہ تو اَیسا لگ رہا جیسے یہ شخص بالکل نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔“
اور مَیں نے سوچا، ”سچّا نبی اور رویا بِین یہاں موجُود ہے۔“
ایلڈر اینڈرسن نے پھر سرگوشی کی، ”پریشان نہ ہوں، ایلڈر شَم وے۔ پانچ یا چھ برسوں میں—سب بہتر ہو جائے گا۔“
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں خُدا کی بادشاہی میں اَیسے کام کرنے کے لیے کیوں کہا جاتا ہے جو ہماری پُہنچ سے باہر محسُوس ہوتے ہیں؟ زِندگی کے تقاضوں کے ساتھ، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں کلِیسیا میں بُلاہٹوں کی ضرُورت ہی کیوں ہے؟ خیر، مَیں نے سوچا ہے۔
اور مجلسِ عامہ میں مُجھے جواب مِلا جب صدر رسل ایم نیلسن نے کہا، ”اَب وقت ہے کہ آپ اور مَیں اپنے خُداوند اور مُنّجی، یِسُوع اَلمسِیح کی آمدِ ثانی کے لیے تیاری کریں۔“ جب صدر نیلسن نے یہ کہا، تو رُوح نے مُجھے سِکھایا کہ جب ہم خُدا کے کام میں شریک ہوتے ہیں، تو ہم اپنے آپ کو اور دُوسروں کو مسِیح کی واپسی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ خُداوند کا وعدہ اِس بات پر زور دے رہا ہے کہ بُلاہٹیں، خِدمت گُزاری، ہَیکل میں عِبادت، ترغیبات کی پیروی، اور دیگر طریقے جن سے ہم خُدا کے کام کا آغاز کرتے ہیں مُنفرد طور پر ہمیں نجات دہندہ سے مُلاقات کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔
خُدا خُوش ہوتا ہے جب ہم اُس کے کام میں مشغُول ہوتے ہیں
”اِس عظیمُ الشان لمحے“ میں جب خُدا کی بادشاہی وُسعت پا رہی ہے اور ہَیکلیں دَھرتی کو معمُور کر رہی ہیں، تو خُدا کے کام میں مشغُول ہونے کے لیے آمادہ رُوحوں کی بڑھتی ہُوئی ضرُورت ہے۔ بےلوث خِدمت کرنا مسِیح جیسی شاگِردی کی اَصل رُوح ہے۔ مگر خِدمت کرنا شاذ و نادِر ہی آسان ہوتا ہے۔ اِسی واسطے مَیں آپ عہُود پر قائم رہنے والے شاگِردوں کو سراہتا ہُوں، ہمارے عزیز مِشنریوں سمیت، جنھوں نے اپنی اُمّت کی خِدمت کرتے ہُوئے خُدا کی بے لوث خِدمت کرنے کے لیے اپنی خواہشات اور چنوتیوں کو پسِ پُشت ڈال دِیا۔ خُدا ”آپ کو راستی سے [خِدمت کرنے پر آپ کو] عِزت دینے میں خُوشی محسُوس کرتا ہے۔“ وہ وعدہ فرماتا ہے، ”عالیٰ ہو گا [آپ] کا اَجر اور اَبَدی ہو گا [آپ] کا جلال۔“ جب ہم خِدمت کرنے کے لیے ہاں کہتے ہیں، تو ہم یِسُوع مسِیح سے ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں۔ اور جب ہم مسِیح سے ہاں کہتے ہیں، تو ہم سب سے زیادہ کثرت کی زِندگی کے لیے ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں۔
کالج میں کیمیکل اِنجینئرنگ کا مُطالعہ کرتے اور کام کرتے ہُوئے مَیں نے یہ سبق سیکھا۔ مُجھے سِنگلز وارڈ میں سرگرمیوں کے منصُوبہ ساز کے طور پر خِدمت کرنے کا کہا گیا۔ یہ بُلاہٹ میرے لیے ڈراؤنا خواب تھا۔ پہلے پہل تو یہ بُہت بوجھل لگتی تھی، مگر پھر بھی، مَیں نے قبُول کر لی۔ پھر ایک سرگرمی کے دوران ایک خُوب صُورت لڑکی میرے آئس کریم پیش کرنے کے اَنداز سے مُتاثر ہو گئی۔ وہ میری توجہ حاصِل کرنے کی اُمید میں، تین مرتبہ واپس لوٹ کر آئی۔ ہم محبّت میں پڑ گئے، اور محض دو ہفتے بعد اُس نے مُجھے شادی کی پیشکش کر دی۔ خیر، شاید یہ اِتنا تیز نہیں ہو پایا، اور اَصل میں مَیں نے ہی شادی کی پیشکش کی تھی، مگر سچّائی یہ ہے کہ: اگر مَیں اُس بُلاہٹ کو قبُول نہ کرتا تو ہائیڈی سے مِلنے کا موقع گنوا بیٹھتا اور یہ خیال مُجھے لرزا دیتا ہے۔
ہماری شِرکت مسِیح کی واپسی کے لیے تیاری ہے
ہم خُدا کے کام میں اِس لیے مشغُول نہیں ہوتے کہ اُسے ہماری ضرُورت ہے بلکہ اِس لیے کہ ہمیں خُدا ور اُس کی شان دار برکات کی ضرُورت ہے۔ وہ وعدہ فرماتا ہے، ”پَس، دیکھو، مَیں اُن سب کو جو میرے تاکِستان میں کام کرتے ہیں بڑی برکت دُوں گا۔“ مَیں تین اُصُولوں کا اِشتراک کرتا ہُوں جو سِکھاتے ہیں کہ خُدا کے کام میں ہماری شِراکت کیسے ہمیں فیض یاب کرتی ہے اور ہمیں مُنّجی سے مُلاقات کے لیے تیار کرتی ہے۔
اوّل، جب ہم شریک ہوتے ہیں، تو ہم ”[اپنی] تخلیق کے مقصد“ کی تکمیل کی طرف بڑھتے ہیں۔
ہم تخلیق کے حوالے میں اِس نمُونے کو سیکھتے ہیں۔ ہر روز کی مُشقت کے بعد، خُدا نے کی گئی پیش رفت کا اِعتراف کرتے ہُوئے کہا کہ ”اچھا تھا۔“ اُس نے یہ نہیں کہا کہ کام مُکمل ہو چُکا یا یہ کہ وہ کامِل تھا۔ لیکن جو بات اُس نے کہی وہ یہ تھی کہ ترقی ہُوئی تھی، اور خُدا کی نِگاہ میں، وہ اچھا ہے!
بُلاہٹیں کسی شخص کی قدر و قِیمت یا اَہلیت کا تعین نہیں کرتیں۔ بلکہ، جب ہم خُدا کے ساتھ مُشقت کرتے ہیں جس طریقے سے بھی وہ کہتا ہے، تو ہم اپنی تخلیق کے مقصد میں آگے بڑھتے ہیں۔
خُدا ہماری ترقی میں خُوش ہوتا ہے، اور ہمیں بھی اَیسا کرنا چاہیے، حتیٰ کہ جب ہمارے پاس اَبھی مزید کام کرنا باقی ہو۔ کبھی کبھار کسی بُلاہٹ میں خِدمت کرنے کے لیے ہم میں طاقت یا وسائل کی کمی ہو سکتی ہے۔ پھر بھی، دُعا اور صحائف کے مُطالعہ جیسے بامقصد طریقوں سے اِس کام میں مشغُول رہ سکتے ہیں اور اپنی گواہیوں کی حِفاظت کر سکتے ہیں۔ ہمارا پیارا آسمانی باپ ہمیں ملامت نہیں کرتا جب ہم آمادہ تو ہوتے ہیں مگر خِدمت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔
دوم، خِدمت کرنے سے ہمارے گھر اور گِرجا گھر مُقدّس مقامات بن جاتے ہیں جہاں ہم عہد کے مُطابق زِندگی گُزارنے کی مشق کر سکتے ہیں۔
مِثال کے طور پر، مسِیح کو ہمیشہ یاد رکھنے کا ہمارا عہد اِنفرادی طور پر کِیا جاتا ہے، لیکن جب ہم دُوسروں کی خِدمت کرتے ہیں تو اِس عہد کے مُطابق زِندگی گُزاری جاتی ہے۔ بُلاہٹیں ہمیں ”ایک دُوسرے کے … بوجھ اُٹھانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں، اور یُوں مسِیح کی شریعت کو پُورا کرتی ہیں۔“ جب ہم خِدمت کرتے ہیں کیوں کہ ہم خُدا سے محبّت رکھتے ہیں اور اپنے عہُود پر عمل کرنا چاہتے ہیں، تو وہ خِدمت جو محض فرض یا بوجھل لگتی تھی پُرمَسرت اور زِندگی بدل دینے والے بن جاتی ہے۔
رُسُومات ہمیں اِس لیے نہیں بچاتیں کہ وہ کسی آسمانی فہرست کی تکمیل کرتی ہیں۔ بلکہ، جب ہم اِن رُسُومات سے جُڑے عہُود پر عمل پیرا ہوتے ہیں، تو ہم اُس قِسم کے اِنسان بن جاتے ہیں جو خُدا کی حُضُوری میں سکُونت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سمجھ بُوجھ خِدمت کرنے میں ہِچکچاہٹ یا خِدمت نہ کرنے کی ترجیحات پر غالِب آتی ہے۔ یِسُوع مسِیح سے مُلاقات کے لیے ہماری تیاری تیز ہو جاتی ہے جب ہم یہ پُوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ خُدا کس چیز کی اِجازت دے گا اور یہ پُوچھنا شُروع کر دیتے ہیں کہ خُدا کیا پسند کرے گا۔
سوم، کارِ خُدا میں شریک ہونے سے ہمیں خُدا کے فضل کی نعمت پانے میں مدد مِلتی ہے اور ہم اُس کی عظیم محبّت کو محسُوس کرتے ہیں۔
ہمیں خِدمت کرنے کا مالی مُعاوضہ نہیں دِیا جاتا۔ اِس کی بجائے، صحائف سِکھاتے ہیں کہ اپنی ”محنت سے [ہم] خُدا کا فضل پائیں، کہ خُدا کا عِلم [پا کر]، [ہم] رُوح میں مضبُوط ہوں، [تاکہ] خُدا سے اِختیار اور قُوت پا کر سِکھا سکیں۔“ یہ واقعی ایک عُمدہ خُوبی ہے!
خُدا کے فضل کی بدولت، ہماری قابلیتیں یا کمزوریاں بُلاہٹ دینے یا قبُول کرنے کا بُنیادی معیار نہیں ہوتیں۔ خُدا ہم سے اپنے کام میں شریک ہونے کے لیے کامِل کارکردگی یا غیر معمُولی صلاحیت کی توقع نہیں کرتا۔ اگر اَیسا ہوتا، تو ملکہ آستر اپنی قوم کو نہ بچا پاتی، پطرس اِبتدائی کلِیسیا کی قیادت نہ کر پاتا، اور جوزف سمِتھ بحالی کا نبی نہ بن پاتا۔
جب ہم اپنی قابلیتوں سے بالاتر ہو کر کُچھ کرنے کے لیے اِیمان کے ساتھ عمل کرتے ہیں، تو ہماری کمزوریاں عیاں ہو جاتی ہیں۔ ایسا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، مگر ”یہ جاننا ہمارے لیے ضرُوری ہے کہ یہ [خُدا کے] فضل کی بدولت ہے، … کہ ہمارے پاس اِن کاموں کو انجام دینے کی طاقت ہے۔“
جب ہم خُدا کے کام میں مشغُول ہوتے ہیں تو ہم کئی بار گِریں گے۔ مگر ہماری کاوِشوں میں، یِسُوع مسِیح ہمیں تھام لیتا ہے۔ ناکامیوں اور خوف سے نجات پانے کا تجربہ کرنے کے لیے ہمیں بتدریج اُٹھاتا ہے اور اِس احساس سے کہ ہم کبھی بھی کافی نہ ہوں گے۔ جب ہم اپنی معمُولی مگر بہترین کاوِش کو وقف کرتے ہیں، تو خُدا اِس کو بڑھاتا ہے۔ جب ہم یِسُوع مسِیح کے لیے قُربانی دیتے ہیں، تو وہ ہمیں پاک صاف کرتا ہے۔ یہ فضلِ خُدا کی بدل دینے والی قُدرت ہے۔ جب ہم خِدمت کرتے ہیں، تو ہم فضل میں آگے بڑھتے ہیں جب تک کہ ہم ”باپ کی طرف کھینچے نہ جائیں اور [یِسُوع مسِیح] کے حُضُور حاضر ہونے کے لیے،“ تیار نہ ہو جائیں۔
بُلاہٹوں کے تُحفے کو قبُول کرنے اور شادمان ہونے میں دُوسروں کی مُعاونت کریں
مَیں نہیں جانتا کہ مُنّجی مُجھ سے کیا کُچھ پُوچھے گا جب مَیں اُس کے حُضُور کھڑا ہُوں گا، لیکن شاید ایک سوال یہ ہو گا کہ ”تُم اپنے ساتھ کِس کو لے کر آئے ہو؟“ بُلاہٹیں پیارے آسمانی باپ کی طرف سے مُقدّس تُحفے ہیں جو دُوسروں کو اپنے ساتھ یِسُوع مسِیح کے پاس لانے میں مدد کرتے ہیں۔ لہٰذا مَیں راہ نُماؤں اور ہم میں سے ہر ایک کو دعوت دیتا ہُوں کہ اور زیادہ خُلوصِ نیت سے اُن لوگوں کو تلاش کریں جن کے پاس کوئی بُلاہٹ نہیں ہے۔ خُدا کے کام میں مشغُول ہونے میں اُن کی حوصلہ اَفزائی اور مُعاونت کریں تاکہ وہ مسِیح کی دوبارہ آمد کی تیاری کر سکیں۔
جان کلِیسیا میں سَرگرم نہیں تھا جب اُس کے بِشپ نے اُس سے مُلاقات کی اور اُسے بتایا کہ خُداوند کے پاس اُس کے کرنے کو ایک کام ہے۔ اُس نے جان کو تمباکُو نوشی ترک کرنے کی دعوت دی۔ اگرچہ جان نے کئی بار اِسے ترک کرنے کی کوشِش کی، مگر اِس بار اُس نے ایک اَن دیکھی قُوت کو مدد کرتے ہُوئے محسُوس کِیا۔
صِرف تین ہفتے بعد، صدرِ سٹیک نے جان سے مُلاقات کی۔ اُس نے اُسے صدارتِ بِشپ میں خِدمت کرنے کی بُلاہٹ دی۔ جان حیران رہ گیا تھا۔ اُس نے صدرِ سٹیک کو بتایا کہ اُس نے اَبھی اَبھی تمباکُو نوشی ترک کی ہے۔ اگر اِس کا مطلب یہ تھا کہ اُسے اِتوار کو پیشہ ورانہ فُٹ بال میچ دیکھنے کی اپنی روایت کو ترک کرنا ہو گا، تو، یہ بُہت بڑی قُربانی تھی۔ صدرِ سٹیک کا اِلہامی جواب بُہت سادہ تھا: ”جان، مَیں آپ سے نہیں کہہ رہا؛ بلکہ خُداوند کہہ رہا ہے۔“
جس پر جان نے جواب دِیا، ”خیر، اگر اَیسا ہے، تو مَیں خِدمت کرُوں گا۔“
جان نے مُجھے بتایا کہ خِدمت کرنے کے لیے دی گئی یہ قُربانیاں اُس کے اور اُس کے خاندان کے لیے رُوحانی طور پر بدلنے والے موڑ تھے۔
مَیں سوچتا ہُوں کہ کیا ہمارے اندر نظر نہ آنے والی کمزوری ہوتی ہے، جِس کے باعث ہم اَیسے اَفراد کو بُلاہٹیں دینے میں ناکام رہتے ہیں، جو ہماری فانی نظر میں، نامُمکن یا نا اَہل لگتے ہیں۔ یا پھر ہم ترقی کی تعلیم کی نِسبت کارکردگی کی ثقافت پر زیادہ زور دے سکتے ہیں، اِس بات کو نظر انداز کرتے ہُوئے کہ کیسے مُنّجی غیر متوقع اور ناتجربہ کار اَفراد کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اُن کو خِدمت کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنار صحائف کے فرمان کی اَہمیت سِکھاتے ہیں کہ ”ہر [عورت اور] مَرد [اپنی] ذِمہ داری کو سیکھے، اور اُس پر عمل درآمد کرے۔“ کیا ہم اَیسا کرتے ہیں؟ جب راہ نُما اور والدین دُوسروں کو خُود سیکھنے اور عمل درآمد کرنے کا موقع دیتے ہیں، تو وہ نشوونُما پاتے اور پھلتے پھُولتے ہیں۔ اگرچہ وفادار اَرکان کو دُوسری بُلاہٹ دینا آسان طریقہ ہو سکتا ہے، مگر بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُن لوگوں کو خِدمت کرنے کی دعوت دیں جو بظاہر نامُمکن لگتے ہیں اور اُنھیں سیکھنے اور ترقی کرنے کا موقع دیں۔
اگر مسِیح ہمارے درمیان ہوتا، تو وہ بیماروں کی عیادت کرتا، سنڈے سکُول کی کلاس میں تعلیم دیتا، شِكستہ دِل نوجوان خاتُون کے ساتھ بیٹھتا، اور بچّوں کو برکت دیتا۔ وہ اپنا کام خُود کر سکتا ہے۔ مگر وہ ہمیں عمل کرنے اور سیکھنے کا موقع دے کر اِس اُصُول پر عمل کرتا ہے، اِسی واسطے وہ ہمیں اپنی جگہ پر بھیجتا ہے۔
کارِ خُدا میں شِرکت کے ساتھ ”خُداوند [یِسُوع مسِیح] کی نُمایندگی کرنے کا حق، اِعزاز اور ذِمہ داری بھی آتی ہے۔“ جب ہم مسِیح کو جلال دینے کے لیے خِدمت کرتے ہیں اور نہ کہ اپنے آپ کو، تو ہماری خِدمت پُرمَسرت بن جاتی ہے۔ جب دُوسرے ہماری کلاس، عِبادت، خِدمت گُزاری کی مُلاقات، یا سَرگرمی سے اِس طرح جائیں کہ اُنھوں نے مسِیح کو یاد رکھا ہے نہ کہ ہمیں، تو یہ کام قُوت بخش بن جاتا ہے۔
نجات دہندہ کی نُمایندگی کرنے کی پُرخُلوص کاوِش میں، ہم مزید اُس کی مانِند بن جاتے ہیں۔ یہی اُس مُقدّس لمحے کے لیے بہترین تیاری ہے جب ہم میں سے ہر ایک گھُٹنوں کے بَل ہو گا اور یہ اِقرار کرے گا کہ یِسوع اَلمسِیح ہے، جس کی مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ وہ ہے، اور کہ صدر رسل ایم نیلسن ”زمین کی اِنتہاوں تک اُس کی … آواز“ ہیں جو ہمیں اُس چیز کے لیے ”تیاری کرنے میں مُعاونت دیتے ہیں … جو آنے والی ہے۔“ یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام میں، آمین۔