مجلسِ عامہ
مُنّجی سے مُلاقات کی ذاتی تیاری
مجلسِ عامہ اپریل 2025


14:10

مُنّجی سے مُلاقات کی ذاتی تیاری

مُنّجی کی تعلیمات کی پیروی کریں اُس کی ہدایات نہ تو پُراسرار اور نہ ہی پیچیدہ ہیں۔ جب ہم اِن پر عمل کرتے ہیں، تو ہمیں خوف زدہ یا بےچین ہونے کی ضرُورت نہیں ہوتی۔

میرے عزیز بھائیو اور بہنو، پچھلے اکتوبر، صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا کہ، ”اَب وقت ہے کہ آپ اور مَیں اپنے خُداوند اور مُنّجی، یِسُوع اَلمسِیح کی آمدِ ثانی کے لیے تیاری کریں۔“ جب صدر نیلسن آمدِ ثانی کا ذِکر کرتے ہیں، تو وہ ایسا ہمیشہ پُرمَسرت اُمید کے ساتھ کرتے ہیں۔ تاہم، حال ہی میں پرائمری کی ایک لڑکی نے مُجھے بتایا کہ جب بھی آمدِ ثانی کا ذِکر ہوتا ہے تو وہ بےچینی محسُوس کرتی ہے۔ اُس نے کہا، ”مُجھے خوف آتا ہے کیوں کہ یِسُوع کی آمدِ ثانی سے پہلے بُرے واقعات رُونُما ہوں گے۔“

یہ صِرف بچّے ہی نہیں جو اَیسا محسُوس کر سکتے ہیں۔ اُس لڑکی کے لیے، آپ کے لیے، اور میرے لیے بہترین نصیحت یہی ہے کہ ہم مُنّجی کی تعلیمات پر عمل کریں۔ اُس کی ہدایات نہ تو پُراسرار اور نہ ہی پیچیدہ ہیں۔ جب ہم اِن پر عمل کرتے ہیں، تو ہمیں خوف زدہ یا بےچین ہونے کی ضرُورت نہیں ہوتی۔

اپنی فانی خِدمت کے اِختتام کے قریب، یِسُوع مسِیح سے پُوچھا گیا کہ وہ دوبارہ کب آئے گا۔ جواب میں، اُس نے تین تماثیل سِکھائیں، جو متّی 25 میں درج ہیں، کہ کس طرح اُس سے مُلاقات کی تیاری کی جائے—چاہے وہ اُس کی آمدِ ثانی پر ہو یا جب بھی ہم اِس دُنیا سے چلے جائیں گے۔ یہ تعلیمات نہایت اَہم ہیں کیوں کہ اُس سے مُلاقات کے لیے ذاتی تیاری زِندگی کے مقصد کا مرکز ہے۔

نجات دہندہ نے سب سے پہلے دس کُنواریوں کی تمثیل بیان کی۔ اِس تمثیل میں، دس کُنواریاں ایک شادی کی ضیافت میں گئیں۔ پانچ عقلمندی سے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپیوں میں تیل بھی لائیں، اور پانچ بیوقُوفی سے تیل لانا بھُول گئیں۔ جب دُلہا کی آمد کا اِعلان ہُوا، تو بیوقُوف کُنواریاں تیل مُول لینے کو چلی گئیں۔ جب وہ واپس آئیں، تو بُہت دیر ہو چُکی تھی؛ اور ضیافت کا دروازہ بند ہو چُکا تھا۔

یِسُوع نے ہماری راہ نُمائی کے لیے تمثیل کے تین نکات بیان کِیے۔ اُس نے وضاحت کی:

”اور اُس دِن، جب مَیں اپنے جلال میں آؤں گا، وہ تمثیل پُوری ہو گی جو مَیں نے دس کُنواریوں کے حوالے سے بیان کی تھی۔

”پس وہ جو عقل مند تھیں اور اُنھوں نے سچّ قبُول کِیا تھا، اور پاک رُوح کو اپنی راہ نُمائی کے لیے اپنایا تھا، اور دھوکا نہیں کھایا تھا—مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، بلکہ وہ اُس دِن … ٹھہرے رہیں گے۔“

دُوسرے لفظوں میں، اُنھیں خوف زدہ یا بےچین ہونے کی ضرُورت نہ تھی کیوں کہ وہ بچ جائیں گی اور خُوش حال ہوں گی۔ وہ غالِب آئیں گی۔

اگر ہم عقلمند ہیں، تو ہم کہانت کی رُسُوم اور عہُود کے ذریعے یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کو قبُول کر کے سچّائی حاصِل کرتے ہیں۔ پھر، ہم رُوحُ القُدس کی مُستقل رفاقت کے اَہل بنے رہنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ قابلیت اِنفرادی اور ذاتی طور پر، رفتہ رفتہ حاصِل کی جانی چاہیے۔ مُستقل، ذاتی، اور نِجی عقیدت کے اَعمال رُوحُ القُدس کو ہماری راہ نُمائی کی دعوت دیتے ہیں۔

تیسرا نُکتہ جس پر یِسُوع نے زور دِیا وہ گُمراہی سے بچنا ہے۔ مُنّجی نے خبردار کِیا:

”خبردار کوئی تُم کو گُمراہ نہ کر دے۔

”کیوں کہ بُہتیرے میرے نام سے آئیں گے، اور کہیں گے، مَیں مسِیح ہُوں، اور بُہت سے لوگوں کو گُمراہ کریں۔“

مُنّجی جانتا تھا کہ ریاکار برگُزیدوں کو گُمراہ کرنے کی کوشِش کریں گے اور بُہت سے شاگِرد دھوکے میں آ جائیں گے۔ ہمیں نہ تو اُن لوگوں پر یقین کرنا چاہیے جو جھُوٹے طور پر اِلہٰی منظُوری کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں علامتی صحراؤں یا کوٹھریوں میں جعلی اُستادوں سے سیکھنے کے لیے بھٹکنا چاہیے۔

مورمن کی کِتاب ہمیں سِکھاتی ہے کہ ہم کیسے گُمراہ کرنے والوں اور شاگِردوں میں فرق کر سکتے ہیں۔ شاگِرد ہمیشہ خُدا پر اِیمان رکھنے، اُس کی خِدمت کرنے، اور نیکی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جب ہم اُن قابلِ اعتماد اَفراد سے مشورت لیں گے جو خُود مُنّجی کے وفادار شاگِرد ہیں تو ہم گُمراہ نہیں ہوں گے۔

ہم باقاعدگی سے ہَیکل میں عِبادت کر کے بھی گُمراہی سے بچ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں اَبَدی نُقطہِ نظر برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اُن اثرات سے محفُوظ رکھتا ہے جو ہمیں راہِ عہد سے ہٹانے یا بھٹکانے کی کوشِش کر سکتے ہیں۔

دس کُنواریوں کی اِس تمثیل کا بُنیادی سبق یہ ہے کہ جب ہم اِنجِیل کو قبُول کرتے ہیں، رُوحُ القُدس کو اپنے ساتھ رکھنے کی کاوِش کرتے ہیں، اور گُمراہی سے بچتے ہیں تو ہم عقلمند ہوتے ہیں۔ پانچ عقلمند کُنواریاں اُن کی مدد نہیں کر سکتی تھیں جن کے پاس تیل نہیں تھا؛ اِسی طرح کوئی بھی ہماری جگہ اِنجِیل قبُول نہیں کر سکتا، رُوحُ القُدس کو راہبر کے طور پر نہیں لے سکتا، اور گُمراہی سے نہیں بچ سکتا۔ ہمیں لازماً یہ اپنے لیے کرنا ہو گا۔

اِس کے بعد نجات دہندہ نے تَوڑوں کی تمثیل سُنائی۔ اِس تمثیل میں، ایک شخص نے تین نوکروں کو مُختلف مقدار میں رقم دی، جنھیں تَوڑے کہا گیا ہے۔ ایک نوکر کو اُس نے پانچ تَوڑے دِیے، دُوسرے کو دو، اور تیسرے کو ایک دِیا۔ وقت گُزرنے کے ساتھ، پہلے دو نوکروں نے اپنے تَوڑوں کو دُگنا کر لِیا۔ مگر تیسرے نوکر نے اپنا واحد تَوڑا بس زمین میں چھپا کر رکھ دِیا۔ جن دونوں نوکروں نے اپنے تَوڑے دُگنے کر لِیے تھے، اُن سے اُس شخص نے کہا: ”اَے اچھّے اور دِیانتدار نوکر: شاباش، … تُو تھوڑے میں دِیانتدار رہا، مَیں تُجھے بہُت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا: اپنے مالِک کی خُوشی میں شرِیک ہو۔“

پھر اُس شخص نے اُس نوکر کو جس نے اپنا تَوڑا زمین میں چھپا دِیا تھا، ”شریر اور سُست“ ہونے پر ملامت کی۔ اُس نوکر کا تَوڑا واپس لے لِیا گیا، اور اُسے نِکال دِیا گیا۔ لیکن، اگر اِس نوکر نے اپنا تَوڑا دُگنا کر لِیا ہوتا، تو اُسے بھی وہی شاباش اور اَجر مِلتا جو باقی نوکروں کو مِلا تھا۔

اِس تمثیل کا ایک پیغام یہ ہے کہ خُدا ہم سے توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنے حاصِل کردہ تَوڑوں کو بڑھائیں، لیکن وہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے تَوڑوں کا موازنہ دُوسروں کے ساتھ کریں۔ 18ویں صدی کے حیسیدک عالم زُوسیا آف اینی پول کی فراہم کردہ اِس بصیرت پر غور کریں۔ زُوسیا ایک معرُوف مُعلم تھا مگر موت کے قریب پُہنچتے ہی خوفزدہ محسُوس کرنے لگا۔ اُس کے شاگِردوں نے پُوچھا، ”اُستاد، آپ کیوں کانپ رہے ہیں؟ آپ نے نیک زِندگی بسر کی ہے؛ یقیناً خُدا آپ کو عظیم اَجر سے نوازے گا۔“

زُوسیا نے کہا: ”اگر خُدا مُجھ سے پُوچھے، ’زُوسیا، تُو دُوسرا مُوسیٰ کیوں نہ بن پایا؟‘ تو مَیں کہُوں گا، ’اِس لیے کہ آپ نے مُجھے وہ رُوحانی فضیلت عطا نہیں کی جو آپ نے مُوسیٰ کو بخشی تھی۔‘ اور اگر مَیں خُدا کے سامنے کھڑا ہُوں اور وہ پُوچھے، ’زُوسیا، تُو دُوسرا سُلیمان کیوں نہیں بنا؟‘ تو مَیں کہُوں گا، ’کیوں کہ آپ نے مُجھے سُلیمان جیسی حِکمت عطا نہیں کی۔‘ لیکن، اَفسوس، مَیں اپنے خالق کے حُضُور کھڑا ہو کر کیا کہُوں گا اگر وہ یہ پُوچھے، ’زُوسیا، تُو زُوسیا کیوں نہ بن پایا؟ تُو وہ اِنسان کیوں نہ بن پایا جو بننے کی صلاحیت مَیں نے تُجھے بخشی تھی؟‘ آہ، اِسی لیے مَیں کانپ رہا ہُوں۔“

بے شک، اگر ہم اپنی خُداداد صلاحیتوں کو نِکھارنے کے لیے مُنّجی کی خُوبیوں، رحم، اور فضل پر اِنحصار نہ کریں، تو خُدا ہم سے مایُوس ہو گا۔ اُس کی محبّت بھری مُعاونت کے ساتھ، وہ ہم سے توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنی بہترین صُورت میں ڈھلیں۔ یہ حقیقت کہ ہم مُختلف صلاحیتوں کے ساتھ آغاز کرتے ہیں اُس کے نزدیک بے معانی ہے۔ اور ہمارے نزدیک بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔

آخِر میں، مُنّجی نے بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل بیان کی۔ جب وہ اپنے جلال میں واپس آئے گا تو، ”سب قومیں اُس کے سامنے جمع کی جائیں گی: اور وہ ایک کو دُوسرے سے جُدا کرے گا، جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتا ہے: اور بھیڑوں کو اپنے دہنے، اور بکریوں کو بائیں کھڑا کرے گا۔“

اُس کے دائیں جانب والے اُس کی بادشاہی میں وارث بنے، اور بائیں جانب والوں کو کوئی میراث نہ مِلی۔ اِمتیازی خصُوصیت یہ تھی کہ آیا اُنھوں نے اُسے کھانا کھِلایا جب وہ بھُوکا تھا، پانی پِلایا جب وہ پیاسا تھا، پردیسی تھا تو اُس کو گھر میں اُتارا، ننگا تھا تو اُسے کپڑا پہنایا، اور اُس کی خبر لی جب وہ بیمار یا قید میں تھا۔

ہر کوئی پریشان تھا، دائیں ہاتھ والے بھی اور بائیں ہاتھ والے بھی۔ اُنھوں نے پُوچھا کہ کب اُنھوں نے اُسے کھانا کھِلایا، پانی پِلایا، کپڑا پہنایا، یا کب اُنھوں نے اَیسا نہیں کِیا، اور کب وہ اُس کی مدد کو آئے جب وہ بے بس تھا۔ مُنّجی، جواب میں اُن سے کہے گا، ”مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں، چُوں کہ تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائِیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک کِیا، اِس لیے میرے ہی ساتھ کِیا۔“

تمثیل کا پیغام واضح ہے: جب ہم دُوسروں کی خِدمت کرتے ہیں، تو ہم خُدا کی خِدمت کرتے ہیں؛ اور جب ہم اَیسا نہیں کرتے، تو ہم اُسے مایُوس کرتے ہیں۔ وہ ہم سے توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنی نعمتوں، تَوڑوں، اور صلاحیتوں کو آسمانی باپ کے بچّوں کی زِندگیوں کو بابرکت بنانے کے لیے اِستعمال کریں۔ دُوسروں کی خِدمت کے اِلہٰی جذبے کو 19ویں صدی کے فِن لینڈ کے شاعر یُوہان لُڈوِگ رُونبرگ کی لِکھی ہُوئی نظم میں واضح کِیا گیا ہے۔ مَیں اور میرے بہن بھائی اپنے بچپن میں بار بار ایک نظم ”فارمر پاوو“ سُنتے تھے۔ نظم میں، پاوو ایک غریب کِسان تھا جو اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ فِن لینڈ کی مرکزی جھیلوں والے عِلاقے میں رہتا تھا۔ چند سال مُسلسل، اُس کی زیادہ تر فصلیں تباہ ہو گئیں، کبھی بہار کی برف پگھلنے سے آنے والے بہاؤ کے باعث، کبھی گرمیوں کی ژالہ باری سے، اور کبھی خزاں کے اوائل میں پڑنے والی سردی کی وجہ سے۔ جب بھی تھوڑی بُہت فصل تیار ہوتی، کِسان کی بیوی ماتم کرتی ہے، ”پاوو، پاوو، اَے بدقِسمت بُوڑھے آدمی، خُدا نے ہمیں چھوڑ دِیا ہے۔“ پاوو، صبروتحمل سے، جواب دیتا ہے، ”جَو کے آٹے میں درخت کی چھال مِلا کر روٹی بناؤ تاکہ بچّے بھُوکے نہ رہیں۔ مَیں دَلدلی کھیتوں کو خُشک کرنے کے لیے اور زیادہ محنت کرُوں گا۔ خُدا ہمارا امتحان لے رہا ہے، لیکن وہ ضرُور مُہیا کرے گا۔“

ہر بار جب فصلیں تباہ ہو جاتیں، پاوو اپنی بیوی کو ہدایت دیتا کہ وہ قحط سے بچنے کے لیے آٹے میں درخت کی چھال کی مقدار دُگنی کر دے۔ اُس نے مزید محنت کی، زمین میں نالیاں کھودِیں تاکہ پانی نِکالا جا سکے اور اُس کے کھیت بہار کے سیلاب اور خزاں کے اوائل میں پڑنے والی سردی سے کم مُتاثر ہوں۔

برسوں کی سختیوں کے بعد، پاوو نے آخِرکار ایک شان دار فصل کاٹی۔ اُس کی بیوی خُوشی سے پُکار اُٹھی، ”پاوو، پاوو، یہ خُوشی کے دِن ہیں! اَب درخت کی چھال پھینکنے، اور خالص جَو کے آٹے سے روٹی بنانے کا وقت آ گیا ہے۔“ لیکن پاوو نے سنجیدگی سے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور کہا، ”آدھا آٹا درخت کی چھال کے ساتھ مِلاؤ، کیوں کہ ہمارے پڑوسی کے کھیت سردی پڑنے سے برباد ہو گئے ہیں۔“ پاوو نے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی کثرت کو قُربان کِیا تاکہ اپنے تباہ حال اور مُفلس پڑوسی کی مُعاونت کر سکے۔

مُنّجی کی بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل کا سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی دی گئی نعمتوں—وقت، تَوڑوں، اور برکتوں کو—خُدا کے بچّوں کی خِدمت کے لیے اِستعمال کرنا چاہیے، خاص طور پر اُن کے لیے جو سب سے زیادہ کمزور اور مُحتاج ہیں۔

جس پریشان پرائمری کی بچّی کا مَیں نے پہلے ذِکر کِیا، اُس کے اور آپ میں سے ہر ایک کے لیے، میری دعوت یہ ہے کہ یِسُوع مسِیح کی پیروی کریں اور رُوحُ القُدس پر اَیسے بھروسا کریں جیسے کسی عزیز دوست پر کرتے ہیں۔ اُن پر بھروسا کریں جو آپ سے اور نجات دہندہ سے محبّت کرتے ہیں۔ اپنی مُنفرد صلاحیتوں کو نِکھارنے کے لیے خُدا کی راہ نُمائی طلب کریں، اور دُوسروں کی مدد کریں، چاہے یہ آسان نہ بھی ہو۔ آپ نجات دہندہ سے مُلاقات کرنے کے لیے تیار ہوں گے، اور آپ صدر نیلسن کے ساتھ پُرمسرت اُمید میں شامِل ہو سکتے ہیں۔ اَیسا کرنے سے، آپ یِسُوع مسِیح کی آمدِ ثانی کی تیاری میں دُنیا کی مدد کریں گے، اور آپ کو کافی اُمید کی برکت مِلے گی کہ آپ اَب اور مُستقبل میں، خُداوند کے آرام اور خُوشی میں داخِل ہو سکیں۔

جیسا کہ ہم اپنے ایک نئے گیت میں گاتے ہیں:

خُوشی مناؤ! اور اُس دن کی تیاری کرو! …

کوئی نہیں جانتا وہ دِن اور گھڑی کیسی ہو گی جب وہ آئے گا،

کہتے صحیفے وہ آئے گا ضرُور؛ وہ دِن ہے برکت سے بھاری

جب آئے گا مُنّجی محبُوب ہمارا۔

یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. رسل ایم نیلسن، ”خُداوند یِسُوع مسِیح دوبارہ آئے گا،“ لیحونا، نومبر 2024، 121۔

  2. ہمیں پریشان ہونے کی ضرُورت نہیں، کیوں کہ یِسُوع مسِیح ہمیں تبدیل کرے گا تاکہ ہم اُس سے مُلاقات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ جب ہم مُستقل طور پر اپنے عہُود کی پاسداری کرتے اور اَحکام کی پیروی کرتے ہیں، تو ہم اُس کے فضل اور برکتوں کے ذریعے، بتدریج نجات دہندہ کی مانِند بنتے جاتے ہیں۔ اور جب ہم اَیسا کریں گے، ہم اُس کی آمدِ ثانی کے لیے تیار ہوں گے۔ جس طرح 1 یُوحنّا 3:‏2–3 میں بیان کِیا گیا ہے:

    ”عزیزو، اَب ہم خُدا کے فرزند ہیں، ہم جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانند ہوں گے: کیونکہ اُس کو ویسا ہی دیکھیں گے؛ جیسا وہ ہے۔

    اور جو کوئی اُس سے یہ اُمِید رکھتا ہے اپنے آپ کو ویسا ہی پاک کرتا ہے، جیسا وہ پاک ہے۔“

  3. خُداوند کی آمدِ ثانی ہزار سالہ دَور کے آغاز میں ہو گی، جب وہ جلال میں واپس آئے گا، اور سب اِقرار کریں گے کہ وہ وعدہ کِیا ہُوا ممسُوح تھا اور ہے (دیکھیں یسعیاہ 45:‏23؛ زکریاہ 12:‏10؛ عقائد اور عہُود 88:‏104

  4. دیکھیں رسل ایم نیلسن، ”کلماتِ خیر مقدم،“ لیحونا، مئی 2020، 6۔

  5. دیکھیں ترجمہ اَز جوزف سمِتھ، متّی 25:‏1 (متّی 25:‏1، فُٹ نوٹس الفمتّی 25:‏1–4، 6–13۔

  6. عقائد اور عہُود 45:‏56–57۔

  7. دیکھیں ڈیوڈ اے بیڈنار، ”خُداوند میں تبدیل،“ لیحونا، نومبر 2012، 109۔

  8. دیکھیں 2 نِیفی 32:‏5۔

  9. متّی 24:‏4–5۔

  10. دیکھیں جوزف سمِتھ—متّی 1:‏5–6، 8–9، 21–22، 25–26۔

  11. دیکھیں مرونی 7:‏13، 15–17۔ مورمن کی کِتاب کی تعلیمات بائبل کی تعلیمات کے ساتھ مِل کر اُن کی وضاحت کرتی ہیں ”جھُوٹی تعلیم رَدّ کرنے کے واسطے“ (2 نِیفی 3:‏12)۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صدر رسل ایم نیلسن نے کہا کہ دُنیا کو آمدِ ثانی کے لیے تیار کرنے کے واسطے مورمن کی کِتاب خُدا کا آلہِ کار ہے (دیکھیں ”مورمن کی کِتاب، اِجتماعِ اِسرائیل، اور آمدِ ثانی،“ لیحونا، جُولائی 2014، 27)۔

  12. دیکھیں رسل ایم نیلسن، ”سوچ آسمانی رکھیں!،“ لیحونا، نومبر 2023، 119۔ صدر نیلسن نے یہ بھی سِکھایا کہ: ”[اپنی گواہی] کو بےدین مَردوں اور عورتوں کے جھُوٹے فلسفوں سے آلُودہ نہ کریں“ (دُںیا پر غالِب آئیں اور آرام پائیں،“لیحونا، نومبر 2022، 97)۔ ”اپنے سوال خُداوند اور دِیگر مُستنِد وسائل کے پاس لے جائیں۔ … دُوسرے شک کرنے والوں کے ساتھ اُن کی مشق کر کے اپنے شک کو بڑھانا بند کریں، (”مسِیح جی اُٹھا ہے؛ اُس پر اِیمان پہاڑوں کو سِرکا دے گا،“ لیحونا، مئی 2021، 103)۔ جیسا کہ مورمن کی کِتاب کے نبی بُزرگ ایلما نے نصیحت کی، ”نہ کسی آدمی پر بھروسا کرنا کہ تُمھارا اُستاد یا تُمھارا رُوحانی پیشوا ہو، سِوا اِس بات کے کہ وہ مردِ خُدا ہو، اُس کی راہوں پر چلتا ہو اور اُس کے حُکموں کو مانتا ہو“ (مُضایاہ 23:‏14)۔ اِس آخِری زمانہ میں، مُنّجی نے ہمیں سِکھایا ہے کہ ہم فقط اُس پر بھروسا کریں ”جس کی رُوح پشیمان ہے، … جس کی زبان حلیم اور اِصلاح کراتی ہے، … [جو] میری قُدرت کے سائے میں تھرتھراتا ہے … اور … توصیف اور حِکمت کا پھل لائے گا، اُن مُکاشفوں اور سچّائیوں کے مُطابق جو مَیں نے تُمھیں دِیں ہیں“ (دیکھیں عقائد و عہُود 52:‏14–19

  13. دیکھیں رسل ایم نیلسن، ”خُداوند یِسُوع مسِیح دوبارہ آئے گا،“ 121۔

  14. جب مرحُوم آباؤاَجداد کے لیے عِوضی رُسُوم اَدا کی جاتی ہیں، تو وہ آباؤاَجداد خُود فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا وہ اِنجِیل کو قبُول کرتے ہیں اور وفادار رہتے ہیں یا نہیں۔ حتیٰ کہ اُن حالات میں بھی، کوئی بھی کسی دُوسرے کے لیے فیصلے نہیں کرتا۔

  15. دیکھیں متّی 25:‏14–30۔

  16. دیکھیں راہ نُمائے صحائف، ”تَوڑا۔“ یُونانی اور رومی دَور میں تَوڑا قدیم وزن اور مالی قدر کی ایک اکائی تھی۔ اَندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ ایک تَوڑا قریباً 6000 دِینار کے برابر ہوتا ہے، اور کیوں کہ ایک دِینار ایک مزدُور کی ایک دِن کی اُجرت تھی، اِس لیے ایک تَوڑا اوسط محنت کش کی تقریباً 20 سال کی اُجرت کے برابر ہوتا تھا۔

  17. متّی 25:‏21؛ مزید دیکھیں آیت 23۔

  18. دیکھیں متّی 25:‏24–26۔

  19. تمثیل کو آگے بڑھاتے ہُوئے، چیزوں کے اَبَدی تناظر میں، ایک بار جب ہر نوکر اپنے مالِک کی خُوشی میں داخِل ہو جاتا ہے اور مالِک کی ہر چیز کا وارث بن جاتا ہے، تو شُروع میں ہر نوکر کے پاس جو ظاہری، معمُولی فرق ہوتا ہے وہ بے معانی ہو جاتا ہے۔

  20. مزید برآں، خُداوند اِس تمثیل میں بیان کردہ تَوڑوں کو زِندگی اور اِنجِیل کے مُختلف پہلوؤں، بشمُول عِلم اور گواہی سے تشبیہ دیتا ہے (دیکھیں عیتر 12:‏35؛ عقائد اور عہُود 60:‏2، 13) اِملاک اور مُختاریوں سمیت (دیکھیں عقائد اور عہُود 82:‏18

  21. دیکھیں ہیرلڈ ایس کُشنر، زِندگیوں کی مایُوسیوں پر غالِب آنا (2006)، 26

  22. جیسا کہ میری اِنجِیل کی مُنادی کرو: یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کا اِشتراک کرنے کے لیے ہدایت نامہ (2023)، 48، ”زِندگی میں جو بھی نااِنصافی ہے اُسے یِسُوع مسِیح کے کفّارے کے وسیلے سے دُرست کِیا جا سکتا ہے۔“

  23. دیکھیں متّی 25:‏31–46۔

  24. متّی 25:‏32–33۔

  25. دیکھیں متّی 25:‏37–39، 44۔

  26. متّی 25:‏40؛ مزید دیکھیں آیت 45۔

  27. دیکھیں مُضایاہ 2:‏17۔ ہم مُنّجی کے مقصد میں شریک ہوتے ہیں جب ہم اُس کی اِنجِیل کو پھیلاتے ہیں، شِکستہ دِلوں کو شِفا دینے میں مدد کرتے ہیں (دیکھیں یسعیاہ 61:‏1–3؛ لُوقا 4:‏16–21)، کمزوروں کی دَست گیری کرتے ہیں، لٹکتے ہاتھوں کو اُٹھاتے ہیں، اور ناتواں گھُٹنوں کو تقویت دیتے ہیں (دیکھیں عقائد اور عہُود 81:‏5

  28. برچ/شیتل کے درخت کی چھال کی اندرونی تہہ میں کُچھ کاربوہائیڈریٹ اور فائبر ہوتے ہیں۔ یہ آخِری چارے کے طور پر کھایا جا سکتا ہے۔

  29. دیکھیں یوہان لُڈوِنگ رُونبرگ، “Högt Bland Saarijärvis Moar,” Idyll och epigram Dikter (1830), nummer 25; Suomen kansalliskirjallisuus (Helsinki, 1941), 9:50–52; sv.wikisource.org/wiki/Högt_bland_Saarijärvis_moar. سویڈش سے ترجمہ میرا ہے۔

  30. یہ اِس بات کی نُمایندگی کرتا ہے جو خُدا نے قدیم اِسرائیل کو کرنے کی ہدایت دی تھی: ”اور چُوں کہ مُلک میں کنگال سدا پائے جائیں گے: اِس لیے مَیں تُجھ کو حُکم کرتا ہُوں، کہ تُو اپنے مُلک میں اپنے بھائی، یعنی کنگالوں، اور مُحتاجوں کے لیے اپنی مُٹھی کھُلی رکھنا“ (اِستشنا 15:‏11

  31. دیکھیں ڈیلن ایچ اوکس، ”آمدِ ثانی کی تیاری،“ لیحونا، مئی 2004، 7–10، آمدِ ثانی اور اِس کے لیے تیاری کے طریقوں کے بارے میں شان دار خطاب۔

  32. دیکھیں رسل ایم نیلسن،”دُنیا پر غالب آئیں اور آرام پائیں“، 95–98۔ صدر نیلسن نے سِکھایا ہے کہ، ”اِکٹھا کرنے کی اِس ذمِہ داری کا ایک اہم عُنصر ایسے لوگوں کو تیار کرنا ہے جو خُداوند کے دُوبارہ آنے پر اُس کو قبُول کرنے کے قابِل، اَہل، اور لائق ہوں؛ وہ لوگ جنھوں نے پہلے ہی یِسُوع مسِیح کو اِس فانی دُنیا پر ترجیح دی ہے، وہ لوگ جو اپنی اپنی مرضی سے یِسُوع مسِیح کے افضل ترین، پاک ترین قوانین کے مُطابق زِندگی گُزارتے ہیں شادمان ہوتے ہیں۔“ (”دُنیا پر غالِب آئیں اور آرام پائیں،“ 98)۔

  33. دیکھیں مرونی 7:‏3۔ صدر جوزف ایف سمِتھ نے سِکھایا کہ: ”آرام … جس کا حوالہ دِیا گیا ہے وہ جسمانی آرام نہیں ہے۔ … [یہ] رُوحانی آرام اور اِطمینان ہے جو سچّائی کے پُختہ یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ … اِنجِیل کی سچّائیوں کی سمجھ بُوجھ پا کر، ہم آج ہی خُداوند کے آرام میں داخِل ہو سکتے ہیں۔ … [وہ جو اِس آرام میں داخِل ہو چُکے ہیں] جن کے ذہن مُطمئن ہو گئے ہیں، اور جن کے دِلوں میں سچّائی میں جاں فِشاں رہنے کا غیر مُتزلزل عزّم ہے اور جنھوں نے اپنی اعلیٰ بُلاہٹ کے نِشان پر اپنی نظریں لگائی ہیں، اور جو اِنکساری اور راست بازی کے ساتھ اُس راستے پر گامزن ہیں … جو یِسُوع مسِیح کے پیروکاروں کے لیے مُقرر کی گئی ہے۔ لیکن بُہت سے اَیسے لوگ ہیں جو، مُصمم یقین کے اُس مقام پر نہیں پُہنچ پائے، بلکہ ہر نئی تعلیم کی ہوا کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، پس وہ اِضطراب، بےچینی، اور بے یقینی میں پڑے رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کلِیسیا، قوم، اور دُنیا کے ہنگاموں میں رُونُما ہونے والے واقعات سے مایُوس ہو جاتے ہیں۔ … وہ شک، بےچینی، اور غیریقینی کے احساس میں مُبتلا رہتے ہیں۔ اُن کے خیالات پریشان رہتے ہیں، اور وہ تھوڑی سی تبدیلی پر بھی پُرجوش ہو جاتے ہیں، جس طرح سمُںدر میں کوئی اپنی سِمت کھو بیٹھا ہو“ (اِنجِیلی عقائد، پانچواں ایڈیشن [1939]، 126)۔

  34. ”جب مُنّجی دوبارہ آئے گا،“ گیت—برائے گھر اور کلِیسیا، گاسپل لائبریری۔