مُنّجی سے مُلاقات کی ذاتی تیاری
مُنّجی کی تعلیمات کی پیروی کریں اُس کی ہدایات نہ تو پُراسرار اور نہ ہی پیچیدہ ہیں۔ جب ہم اِن پر عمل کرتے ہیں، تو ہمیں خوف زدہ یا بےچین ہونے کی ضرُورت نہیں ہوتی۔
میرے عزیز بھائیو اور بہنو، پچھلے اکتوبر، صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا کہ، ”اَب وقت ہے کہ آپ اور مَیں اپنے خُداوند اور مُنّجی، یِسُوع اَلمسِیح کی آمدِ ثانی کے لیے تیاری کریں۔“ جب صدر نیلسن آمدِ ثانی کا ذِکر کرتے ہیں، تو وہ ایسا ہمیشہ پُرمَسرت اُمید کے ساتھ کرتے ہیں۔ تاہم، حال ہی میں پرائمری کی ایک لڑکی نے مُجھے بتایا کہ جب بھی آمدِ ثانی کا ذِکر ہوتا ہے تو وہ بےچینی محسُوس کرتی ہے۔ اُس نے کہا، ”مُجھے خوف آتا ہے کیوں کہ یِسُوع کی آمدِ ثانی سے پہلے بُرے واقعات رُونُما ہوں گے۔“
یہ صِرف بچّے ہی نہیں جو اَیسا محسُوس کر سکتے ہیں۔ اُس لڑکی کے لیے، آپ کے لیے، اور میرے لیے بہترین نصیحت یہی ہے کہ ہم مُنّجی کی تعلیمات پر عمل کریں۔ اُس کی ہدایات نہ تو پُراسرار اور نہ ہی پیچیدہ ہیں۔ جب ہم اِن پر عمل کرتے ہیں، تو ہمیں خوف زدہ یا بےچین ہونے کی ضرُورت نہیں ہوتی۔
اپنی فانی خِدمت کے اِختتام کے قریب، یِسُوع مسِیح سے پُوچھا گیا کہ وہ دوبارہ کب آئے گا۔ جواب میں، اُس نے تین تماثیل سِکھائیں، جو متّی 25 میں درج ہیں، کہ کس طرح اُس سے مُلاقات کی تیاری کی جائے—چاہے وہ اُس کی آمدِ ثانی پر ہو یا جب بھی ہم اِس دُنیا سے چلے جائیں گے۔ یہ تعلیمات نہایت اَہم ہیں کیوں کہ اُس سے مُلاقات کے لیے ذاتی تیاری زِندگی کے مقصد کا مرکز ہے۔
نجات دہندہ نے سب سے پہلے دس کُنواریوں کی تمثیل بیان کی۔ اِس تمثیل میں، دس کُنواریاں ایک شادی کی ضیافت میں گئیں۔ پانچ عقلمندی سے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپیوں میں تیل بھی لائیں، اور پانچ بیوقُوفی سے تیل لانا بھُول گئیں۔ جب دُلہا کی آمد کا اِعلان ہُوا، تو بیوقُوف کُنواریاں تیل مُول لینے کو چلی گئیں۔ جب وہ واپس آئیں، تو بُہت دیر ہو چُکی تھی؛ اور ضیافت کا دروازہ بند ہو چُکا تھا۔
یِسُوع نے ہماری راہ نُمائی کے لیے تمثیل کے تین نکات بیان کِیے۔ اُس نے وضاحت کی:
”اور اُس دِن، جب مَیں اپنے جلال میں آؤں گا، وہ تمثیل پُوری ہو گی جو مَیں نے دس کُنواریوں کے حوالے سے بیان کی تھی۔
”پس وہ جو عقل مند تھیں اور اُنھوں نے سچّ قبُول کِیا تھا، اور پاک رُوح کو اپنی راہ نُمائی کے لیے اپنایا تھا، اور دھوکا نہیں کھایا تھا—مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، بلکہ وہ اُس دِن … ٹھہرے رہیں گے۔“
دُوسرے لفظوں میں، اُنھیں خوف زدہ یا بےچین ہونے کی ضرُورت نہ تھی کیوں کہ وہ بچ جائیں گی اور خُوش حال ہوں گی۔ وہ غالِب آئیں گی۔
اگر ہم عقلمند ہیں، تو ہم کہانت کی رُسُوم اور عہُود کے ذریعے یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کو قبُول کر کے سچّائی حاصِل کرتے ہیں۔ پھر، ہم رُوحُ القُدس کی مُستقل رفاقت کے اَہل بنے رہنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ قابلیت اِنفرادی اور ذاتی طور پر، رفتہ رفتہ حاصِل کی جانی چاہیے۔ مُستقل، ذاتی، اور نِجی عقیدت کے اَعمال رُوحُ القُدس کو ہماری راہ نُمائی کی دعوت دیتے ہیں۔
تیسرا نُکتہ جس پر یِسُوع نے زور دِیا وہ گُمراہی سے بچنا ہے۔ مُنّجی نے خبردار کِیا:
”خبردار کوئی تُم کو گُمراہ نہ کر دے۔
”کیوں کہ بُہتیرے میرے نام سے آئیں گے، اور کہیں گے، مَیں مسِیح ہُوں، اور بُہت سے لوگوں کو گُمراہ کریں۔“
مُنّجی جانتا تھا کہ ریاکار برگُزیدوں کو گُمراہ کرنے کی کوشِش کریں گے اور بُہت سے شاگِرد دھوکے میں آ جائیں گے۔ ہمیں نہ تو اُن لوگوں پر یقین کرنا چاہیے جو جھُوٹے طور پر اِلہٰی منظُوری کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں علامتی صحراؤں یا کوٹھریوں میں جعلی اُستادوں سے سیکھنے کے لیے بھٹکنا چاہیے۔
مورمن کی کِتاب ہمیں سِکھاتی ہے کہ ہم کیسے گُمراہ کرنے والوں اور شاگِردوں میں فرق کر سکتے ہیں۔ شاگِرد ہمیشہ خُدا پر اِیمان رکھنے، اُس کی خِدمت کرنے، اور نیکی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جب ہم اُن قابلِ اعتماد اَفراد سے مشورت لیں گے جو خُود مُنّجی کے وفادار شاگِرد ہیں تو ہم گُمراہ نہیں ہوں گے۔
ہم باقاعدگی سے ہَیکل میں عِبادت کر کے بھی گُمراہی سے بچ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں اَبَدی نُقطہِ نظر برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اُن اثرات سے محفُوظ رکھتا ہے جو ہمیں راہِ عہد سے ہٹانے یا بھٹکانے کی کوشِش کر سکتے ہیں۔
دس کُنواریوں کی اِس تمثیل کا بُنیادی سبق یہ ہے کہ جب ہم اِنجِیل کو قبُول کرتے ہیں، رُوحُ القُدس کو اپنے ساتھ رکھنے کی کاوِش کرتے ہیں، اور گُمراہی سے بچتے ہیں تو ہم عقلمند ہوتے ہیں۔ پانچ عقلمند کُنواریاں اُن کی مدد نہیں کر سکتی تھیں جن کے پاس تیل نہیں تھا؛ اِسی طرح کوئی بھی ہماری جگہ اِنجِیل قبُول نہیں کر سکتا، رُوحُ القُدس کو راہبر کے طور پر نہیں لے سکتا، اور گُمراہی سے نہیں بچ سکتا۔ ہمیں لازماً یہ اپنے لیے کرنا ہو گا۔
اِس کے بعد نجات دہندہ نے تَوڑوں کی تمثیل سُنائی۔ اِس تمثیل میں، ایک شخص نے تین نوکروں کو مُختلف مقدار میں رقم دی، جنھیں تَوڑے کہا گیا ہے۔ ایک نوکر کو اُس نے پانچ تَوڑے دِیے، دُوسرے کو دو، اور تیسرے کو ایک دِیا۔ وقت گُزرنے کے ساتھ، پہلے دو نوکروں نے اپنے تَوڑوں کو دُگنا کر لِیا۔ مگر تیسرے نوکر نے اپنا واحد تَوڑا بس زمین میں چھپا کر رکھ دِیا۔ جن دونوں نوکروں نے اپنے تَوڑے دُگنے کر لِیے تھے، اُن سے اُس شخص نے کہا: ”اَے اچھّے اور دِیانتدار نوکر: شاباش، … تُو تھوڑے میں دِیانتدار رہا، مَیں تُجھے بہُت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا: اپنے مالِک کی خُوشی میں شرِیک ہو۔“
پھر اُس شخص نے اُس نوکر کو جس نے اپنا تَوڑا زمین میں چھپا دِیا تھا، ”شریر اور سُست“ ہونے پر ملامت کی۔ اُس نوکر کا تَوڑا واپس لے لِیا گیا، اور اُسے نِکال دِیا گیا۔ لیکن، اگر اِس نوکر نے اپنا تَوڑا دُگنا کر لِیا ہوتا، تو اُسے بھی وہی شاباش اور اَجر مِلتا جو باقی نوکروں کو مِلا تھا۔
اِس تمثیل کا ایک پیغام یہ ہے کہ خُدا ہم سے توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنے حاصِل کردہ تَوڑوں کو بڑھائیں، لیکن وہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے تَوڑوں کا موازنہ دُوسروں کے ساتھ کریں۔ 18ویں صدی کے حیسیدک عالم زُوسیا آف اینی پول کی فراہم کردہ اِس بصیرت پر غور کریں۔ زُوسیا ایک معرُوف مُعلم تھا مگر موت کے قریب پُہنچتے ہی خوفزدہ محسُوس کرنے لگا۔ اُس کے شاگِردوں نے پُوچھا، ”اُستاد، آپ کیوں کانپ رہے ہیں؟ آپ نے نیک زِندگی بسر کی ہے؛ یقیناً خُدا آپ کو عظیم اَجر سے نوازے گا۔“
زُوسیا نے کہا: ”اگر خُدا مُجھ سے پُوچھے، ’زُوسیا، تُو دُوسرا مُوسیٰ کیوں نہ بن پایا؟‘ تو مَیں کہُوں گا، ’اِس لیے کہ آپ نے مُجھے وہ رُوحانی فضیلت عطا نہیں کی جو آپ نے مُوسیٰ کو بخشی تھی۔‘ اور اگر مَیں خُدا کے سامنے کھڑا ہُوں اور وہ پُوچھے، ’زُوسیا، تُو دُوسرا سُلیمان کیوں نہیں بنا؟‘ تو مَیں کہُوں گا، ’کیوں کہ آپ نے مُجھے سُلیمان جیسی حِکمت عطا نہیں کی۔‘ لیکن، اَفسوس، مَیں اپنے خالق کے حُضُور کھڑا ہو کر کیا کہُوں گا اگر وہ یہ پُوچھے، ’زُوسیا، تُو زُوسیا کیوں نہ بن پایا؟ تُو وہ اِنسان کیوں نہ بن پایا جو بننے کی صلاحیت مَیں نے تُجھے بخشی تھی؟‘ آہ، اِسی لیے مَیں کانپ رہا ہُوں۔“
بے شک، اگر ہم اپنی خُداداد صلاحیتوں کو نِکھارنے کے لیے مُنّجی کی خُوبیوں، رحم، اور فضل پر اِنحصار نہ کریں، تو خُدا ہم سے مایُوس ہو گا۔ اُس کی محبّت بھری مُعاونت کے ساتھ، وہ ہم سے توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنی بہترین صُورت میں ڈھلیں۔ یہ حقیقت کہ ہم مُختلف صلاحیتوں کے ساتھ آغاز کرتے ہیں اُس کے نزدیک بے معانی ہے۔ اور ہمارے نزدیک بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔
آخِر میں، مُنّجی نے بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل بیان کی۔ جب وہ اپنے جلال میں واپس آئے گا تو، ”سب قومیں اُس کے سامنے جمع کی جائیں گی: اور وہ ایک کو دُوسرے سے جُدا کرے گا، جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتا ہے: اور بھیڑوں کو اپنے دہنے، اور بکریوں کو بائیں کھڑا کرے گا۔“
اُس کے دائیں جانب والے اُس کی بادشاہی میں وارث بنے، اور بائیں جانب والوں کو کوئی میراث نہ مِلی۔ اِمتیازی خصُوصیت یہ تھی کہ آیا اُنھوں نے اُسے کھانا کھِلایا جب وہ بھُوکا تھا، پانی پِلایا جب وہ پیاسا تھا، پردیسی تھا تو اُس کو گھر میں اُتارا، ننگا تھا تو اُسے کپڑا پہنایا، اور اُس کی خبر لی جب وہ بیمار یا قید میں تھا۔
ہر کوئی پریشان تھا، دائیں ہاتھ والے بھی اور بائیں ہاتھ والے بھی۔ اُنھوں نے پُوچھا کہ کب اُنھوں نے اُسے کھانا کھِلایا، پانی پِلایا، کپڑا پہنایا، یا کب اُنھوں نے اَیسا نہیں کِیا، اور کب وہ اُس کی مدد کو آئے جب وہ بے بس تھا۔ مُنّجی، جواب میں اُن سے کہے گا، ”مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں، چُوں کہ تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائِیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک کِیا، اِس لیے میرے ہی ساتھ کِیا۔“
تمثیل کا پیغام واضح ہے: جب ہم دُوسروں کی خِدمت کرتے ہیں، تو ہم خُدا کی خِدمت کرتے ہیں؛ اور جب ہم اَیسا نہیں کرتے، تو ہم اُسے مایُوس کرتے ہیں۔ وہ ہم سے توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنی نعمتوں، تَوڑوں، اور صلاحیتوں کو آسمانی باپ کے بچّوں کی زِندگیوں کو بابرکت بنانے کے لیے اِستعمال کریں۔ دُوسروں کی خِدمت کے اِلہٰی جذبے کو 19ویں صدی کے فِن لینڈ کے شاعر یُوہان لُڈوِگ رُونبرگ کی لِکھی ہُوئی نظم میں واضح کِیا گیا ہے۔ مَیں اور میرے بہن بھائی اپنے بچپن میں بار بار ایک نظم ”فارمر پاوو“ سُنتے تھے۔ نظم میں، پاوو ایک غریب کِسان تھا جو اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ فِن لینڈ کی مرکزی جھیلوں والے عِلاقے میں رہتا تھا۔ چند سال مُسلسل، اُس کی زیادہ تر فصلیں تباہ ہو گئیں، کبھی بہار کی برف پگھلنے سے آنے والے بہاؤ کے باعث، کبھی گرمیوں کی ژالہ باری سے، اور کبھی خزاں کے اوائل میں پڑنے والی سردی کی وجہ سے۔ جب بھی تھوڑی بُہت فصل تیار ہوتی، کِسان کی بیوی ماتم کرتی ہے، ”پاوو، پاوو، اَے بدقِسمت بُوڑھے آدمی، خُدا نے ہمیں چھوڑ دِیا ہے۔“ پاوو، صبروتحمل سے، جواب دیتا ہے، ”جَو کے آٹے میں درخت کی چھال مِلا کر روٹی بناؤ تاکہ بچّے بھُوکے نہ رہیں۔ مَیں دَلدلی کھیتوں کو خُشک کرنے کے لیے اور زیادہ محنت کرُوں گا۔ خُدا ہمارا امتحان لے رہا ہے، لیکن وہ ضرُور مُہیا کرے گا۔“
ہر بار جب فصلیں تباہ ہو جاتیں، پاوو اپنی بیوی کو ہدایت دیتا کہ وہ قحط سے بچنے کے لیے آٹے میں درخت کی چھال کی مقدار دُگنی کر دے۔ اُس نے مزید محنت کی، زمین میں نالیاں کھودِیں تاکہ پانی نِکالا جا سکے اور اُس کے کھیت بہار کے سیلاب اور خزاں کے اوائل میں پڑنے والی سردی سے کم مُتاثر ہوں۔
برسوں کی سختیوں کے بعد، پاوو نے آخِرکار ایک شان دار فصل کاٹی۔ اُس کی بیوی خُوشی سے پُکار اُٹھی، ”پاوو، پاوو، یہ خُوشی کے دِن ہیں! اَب درخت کی چھال پھینکنے، اور خالص جَو کے آٹے سے روٹی بنانے کا وقت آ گیا ہے۔“ لیکن پاوو نے سنجیدگی سے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور کہا، ”آدھا آٹا درخت کی چھال کے ساتھ مِلاؤ، کیوں کہ ہمارے پڑوسی کے کھیت سردی پڑنے سے برباد ہو گئے ہیں۔“ پاوو نے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی کثرت کو قُربان کِیا تاکہ اپنے تباہ حال اور مُفلس پڑوسی کی مُعاونت کر سکے۔
مُنّجی کی بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل کا سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی دی گئی نعمتوں—وقت، تَوڑوں، اور برکتوں کو—خُدا کے بچّوں کی خِدمت کے لیے اِستعمال کرنا چاہیے، خاص طور پر اُن کے لیے جو سب سے زیادہ کمزور اور مُحتاج ہیں۔
جس پریشان پرائمری کی بچّی کا مَیں نے پہلے ذِکر کِیا، اُس کے اور آپ میں سے ہر ایک کے لیے، میری دعوت یہ ہے کہ یِسُوع مسِیح کی پیروی کریں اور رُوحُ القُدس پر اَیسے بھروسا کریں جیسے کسی عزیز دوست پر کرتے ہیں۔ اُن پر بھروسا کریں جو آپ سے اور نجات دہندہ سے محبّت کرتے ہیں۔ اپنی مُنفرد صلاحیتوں کو نِکھارنے کے لیے خُدا کی راہ نُمائی طلب کریں، اور دُوسروں کی مدد کریں، چاہے یہ آسان نہ بھی ہو۔ آپ نجات دہندہ سے مُلاقات کرنے کے لیے تیار ہوں گے، اور آپ صدر نیلسن کے ساتھ پُرمسرت اُمید میں شامِل ہو سکتے ہیں۔ اَیسا کرنے سے، آپ یِسُوع مسِیح کی آمدِ ثانی کی تیاری میں دُنیا کی مدد کریں گے، اور آپ کو کافی اُمید کی برکت مِلے گی کہ آپ اَب اور مُستقبل میں، خُداوند کے آرام اور خُوشی میں داخِل ہو سکیں۔
جیسا کہ ہم اپنے ایک نئے گیت میں گاتے ہیں:
یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔