پَرَستِش
میرے اور آپ کے لِیے خُدا کی پَرَستِش سے کیا مُراد ہے؟
”جب یِسُوعؔ ہیرودؔیس بادشاہ کے زمانہ میں یہُودیہ کے بَیت لحم میں پَیدا ہُوا، تو دیکھو، کئی مجُوسی پُورب سے یروشلِیم میں،
”یہ کہتے ہُوئے آئے، یہُودِیوں کا بادِشاہ جو پَیدا ہُوا ہے وہ کہاں ہے؟ کیوں کہ پُورب میں اُس کا سِتارہ دیکھ کر ہم اُسے سِجدہ کرنے آئے ہیں۔“
مجُوسی، جَیسا کہ اکثر اوقات اُنھیں کہا جاتا ہے، ممسُوح کو ڈُھونڈنے اور پَرَستِش کرنے کے اِعتبار سے وہ عقل مند تھے۔ اُن کے لِیے، پَرَستِش کا مطلب اُس کے سامنے سِجدہ کرنا اور اُسے سونے اور بیش قِیمت، خُوش بُودار مسالوں کے تحائف پیش کرنا تھا۔
میرے اور آپ کے لِیے خُدا کی پَرَستِش سے کیا مُراد ہے؟
جب ہم پَرَستِش کے مُتعلق سوچتے ہیں، تو ہمارے خیالات عام طور پر اُن طریقوں کا رُخ کرتے ہیں جِن سے ہم اِنفرادی طور پر اور کلِیسیائی عِبادتی رُسُوم میں مذہبی عقیدت ظاہر کرتے ہیں۔ جب مَیں نے اپنے آسمانی باپ اور اُس کے پیارے بیٹے، ہمارے نجات دہندہ کی پَرَستِش کرنے کے مُعاملہ پر غَور کِیا، تو چار تصُّورات ذہن میں آئے: پہلا، وہ اَعمال جو ہماری پَرَستِش کو تشکیل دیتے ہیں؛ دُوسرا، وہ رویّے اور اَحساسات جو ہماری پَرَستِش میں ظاہر ہوتے ہیں؛ تِیسرا، ہماری پَرَستِش کی اِنفرادِیّت؛ اور چَوتھا، اِن مُقدّس ہستِیوں کی تقلید کی ضرُورت جِن کی ہم پَرَستِش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے، وہ اَعمال جو ہماری پَرَستِش کو تشکِیل دیتے ہیں
پَرَستِش کی سب سے عام اور اَہم صُورتوں میں سے ایک کارِ عِبادت کو ادا کرنے کے لِیے کسی مُقدّس جگہ پر جمع ہونا ہے۔ خُداوند نے فرمایا، ” اور کہ تُو اپنے آپ کو دُنیا سے مزید بہتر طور پر بےداغ رکھنے کے لیے، تُو دُعا کے گھر میں جا کر میرے مُقَدَّس دِن پر اپنی نذریں گُزراننا۔“ یہی، یقیناً، گِرجا گھروں کی تعمیر میں ہمارا بُنیادی مُحرک ہے۔ لیکن، اگر ضرُوری ہو تو، کوئی غیر تخصِیص شُدہ جگہ بھی معقُول ہو گی اگر ہم کسی حد تک اُس کو مُقدّس بنا سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب ہم خُداوند کے دِن جمع ہوتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں۔ بےشک، ہم اپنے وسائل کے مُطابق بہترین لِباس پہنتے ہیں—بُہت مہنگے نہیں، بلکہ حیادار اَنداز سے تاکہ ہماری طرف سے اِلہٰی ذات کے لیے عِزت اور تعظِیم ظاہر ہو۔ ہمارا چال چلن بھی اِسی طرح قابلِ احترام اور قابلِ عِزت ہے۔ ہم دُعا میں شامِل ہو کر پَرَستِش کرتے ہیں؛ حمدوثنا کے گِیت گا کر ہم پَرَستِش کرتے ہیں (صِرف سُننے سے نہیں بلکہ حمدوثنا گاتے ہُوئے)؛ ہم ایک دُوسرے سے سِیکھنے اور سِکھانے سے پَرَستِش کرتے ہیں۔ یِسُوع فرماتا ہے کہ، ”بلکہ یہ یاد رکھ کہ، خُداوند کے اِس دِن، اپنے بھائیوں اور اپنے خُداوند کے حُضُور گُناہوں کا اِعِتَراف کرتے ہُوئے، تُو اپنی نذریں [یعنی، اپنے ’وقت، صلاحِیّتوں، یا وسائل کے نذرانے … خُدا اور ہم عصر اِنسانوں کی خِدمت میں پیش کر‘] اور ہدیے حق تعالیٰ کے حُضُور گُزراننا۔“ ہم کسی بینڈ کی طرح—تفریح یا جشن منانے کے لیے نہیں آتے—بلکہ اُسے یاد کرنے اور اُس کی اِنجِیل کی باتوں میں ”زیادہ کامِل طور سے ہدایت“ پانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
حالیہ ترین مجلِسِ عامہ کے، موقعہ پر، ایلڈر پیٹرک کیرون نے یاد دِلایا کہ ”ہم سبت کے دِن عِشائے ربانی کی عِبادت میں صرف حاضری لگانے اور فہرست پر نشان لگانے کے لیے جمع نہیں ہوتے ہیں۔ ہم پَرَستِش کے لیے اِکٹھے ہوتے ہیں۔ دونوں کے درمیان بڑا اہم فرق ہے۔ اور حاضر ہونے کا مطلب ہے حاضری لگوانا۔ لیکن پَرَستِش کرنے کا مطلب شعُوری طور پر اپنے خُدا کی حمد و ستایش اور اُس کی تعظیم کرنا ہے اِس انداز سے کہ ہم تبدیل ہو جائیں!“
اپنے سبتوں کو خُداوند اور اُس کے اِرادوں کے لیے وقف کرنا بہ ذاتِ خُود پَرَستِش ہے۔ چند برس پہلے، اُس وقت کے ایلڈر رسل ایم نیلسن نے تجزیہ کِیا: ”ہم سبت کے دِن کو کَیسے پاک مناتے ہیں؟ اپنی نوعُمری کے برسوں میں، مَیں نے دُوسروں کی تحریروں کا مُطالعہ کیا جِنھوں نے سبت کے دِن کام کاج کرنے اور نہ کرنے والے اُمُور کی فہرست مُرتب کر رکھی تھی۔ بعد اَزاں مَیں نے صحائف سے سِیکھا کہ سبت کے دِن میری راہ و روِش اور میرے روّیے نے میرے اور میرے آسمانی باپ کے مابین نِشان قائم کر دِیا ہے [دیکھیے خرُوج 31:13؛ حِزقی ایل 20:12، 20]۔ اِس اِدراک کے ساتھ، مجھے اب اُمُور انجام دینے اور نہ دینے والی فہرستوں کی ضرُورت نہیں ہے۔ جب مُجھے فیصلہ کرنا ہوتا تھا کہ آیا سبت کے لیے یہ سرگرمی مُناسب ہے یا نہیں، تو مَیں اپنے آپ سے سِیدھا پُوچھتا تھا، ’مَیں خُدا کو کس قسم کا اِشارہ دینا چاہتا ہُوں؟‘“
خُداوند کے دِن کی پَرَستِش یِسُوع مسِیح کی عظِیم اُلشان کَفارہ بخش قُربانی پر خاص توجہ دینے کے لِیے مخصُوص کی گئی ہے۔ ہم اِیسٹر پر اُس کے جی اُٹھنے کا جشن نہایت عقِیدت اور احترام کے ساتھ مناتے ہیں، بلکہ ہر ہفتہ وار بھی جب ہم اُس کے کَفارہ کی پاک رُسُوم میں شرِیک ہوتے ہیں، بشمول اُس کی قیامت۔ تائِب ہونے والوں کے لِیے، عِشائے ربانی میں شراکت سبت کی پَرَستِش کی معراج ہے۔
”مسِیح کے بدن“ کی مانند مِل کر پَرَستِش کرنا مُنفرد قُدرت اور فضائل کا باعث بنتی ہے جب ہم ایک دُوسرے کو سِکھاتے، خِدمت کرتے اور سہارا دیتے ہیں۔ دِلچسپ بات یہ ہے، کہ ایک حالیہ تحقیق سے معلُوم ہُوا ہے کہ جو لوگ اپنی رُوحانی زِندگی کو کُلی طور پر اِنفرادی سمجھتے ہیں وہ رُوحانی ترقی کو زیادہ ترجیح نہیں دیتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ اُن کا عقیدہ بُہت اہم نہیں ہے، یا خُدا کے ساتھ باقاعدگی سے وقت گُزارنے کا اَمکان کم ہوتا ہے۔ مُقدّسِین کی جماعت کی حیثیت سے، ہم پَرَستِش اور اِیمان میں ایک دُوسرے کو مضبُوط کرتے ہیں۔
اِس کے باوجُود، ہم روزانہ کی پَرَستِش کے اعمال کو نہیں بُھول سکتے جو ہم اِنفرادی طور پر اور گھر میں ادا کرتے ہیں۔ نجات دہندہ یاد دِلاتا ہے، ”پَس تیرے وعدے ہر روز اور ہر وقت راست بازی میں گُزرانے جائیں۔“ ایک بہن نے دِانش مندی سے مُشاہدہ کِیا کہ، ”مَیں خُدا کی پَرَستِش کرنے کا اِس سے زیادہ موثّر طریقہ نہیں سوچ سکتی کہ اُس کے چھوٹے بچّوں کو اپنی زِندگیوں میں خُوش آمدید کہیں اور اُن کی دیکھ بھال کریں اور اُنھیں اُس کا منصُوبہ سِکھائیں۔“
ایلما اور امیولک نے بنی ضورام کو سِکھایا جِنھیں اُن کی عِبادت گاہوں میں جانے سے روک دِیا گیا تھا کہ وہ ہفتہ میں صِرف ایک بار نہیں، بلکہ ہمیشہ خُدا کی پَرَستِش کریں اور ”جہاں کہیں بھی تُم ہو۔“ اُنھوں نے دُعا کو پَرَستِش کے طور پر بتایا:
”تُم اپنے بیابان میں اور اپنی کوٹھریوں میں اور اپنے پوشیدہ مقاموں پر اپنی ساری جان اُنڈیل دینا۔
”ہاں، اور جب تُم خُداوند سے فریاد نہیں کر رہے ہوتے، تو تُمھارے دِل معمُور ہو کر، پیہم اُسی کی طرف دُعا میں مشغُول رہیں۔“
اُنھوں نے صحائف پر فِکر و تحقِیق کرنے، مسِیح کی گواہی دینے، نیکوکاری اور خِدمت میں مشغُول رہنے، رُوحُ القُدس پانے، اور روزانہ شُکر گُزاری میں زِندگی گُزارنے کے بارے میں بھی بات کی تھی۔ اِس سوچ پر غَور کریں: ”روزانہ شُکر گُزاری میں زِندگی گُزاریں۔“ یہ میرے دُوسرے نظریہ کی بات کرتا ہے:
پَرَستِش سے وابستہ حتمی رویّے اور اَحساسات
خُدا کے لِیے احساس اور شُکر گُزاری کا اِظہار، درحقیقت، پَرَستِش کو صِرف ایک اور فرض کے طور پر دیکھنے کے برعکس خُوشی بھرے تجدید کے احساس سے اَثر انداز ہوتا ہے۔
سچّی پَرَستِش کا مطلب ہے خُدا سے محبّت کرنا، اور اپنی مرضی اُس کے سپُرد کرنا—سب سے زیادہ قِیمتی تُحفہ جو ہم نذر کر سکتے ہیں۔ جب اُس سے پُوچھا گیا کہ ساری شرِیعت میں سے سب سے بڑا عظِیم حُکم کون سا ہے، تو یِسُوع نے جواب دِیا، ”خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبّت رکھ۔“ اُس نے اِسے پہلا حُکم بھی کہا۔
یہ یِسُوع کی اپنے باپ کی پَرَستِش کا نمُونہ تھا۔ اُس کی زِندگی اور اُس کی کَفارہ بخش قُربانی باپ کے جلال کے لِیے وقف تھی۔ ہم ناقابل تصُّور تکلِیف اور دُکھ کے درمیان یِسُوع کی دِل دہلا دینے والی فریاد کو یاد کرتے ہیں: ”اَے میرے باپ، اگر ہو سکے، تو یہ پِیالہ مُجھ سے ٹل جائے،“ لیکن پِھر اُس کی فروتنی ”تَو بھی نہ جَیسا مَیں چاہتا ہُوں، بلکہ جَیسا تُو چاہتا ہے وَیسا ہی ہو۔“
پَرَستِش اِس کامل مثال کی تقلِید کے لِیے کوشاں رہنا ہے۔ ہم راتوں رات اِس نصاب میں کمال حاصل نہ کر پائیں گے، لیکن اگر ہر روز ہم ”پشیمان رُوح اور شِکستہ دِل کی قُربانی [اُس کے] حُضُور گُزرانیں،“ تو وہ ہمیں دوبارہ اپنے رُوح کے ساتھ بپتِسما دے گا اور اپنے فضل سے ہمیں معمُور کرے گا۔
تِیسرا، ہماری عِبادت کی اِنفرادِیّت
عقائد اور عہُود کی پہلی فصل میں، خُداوند دُنیا کے اِس جُرم کا اِعلان کرتا ہے:
”وہ میرے قوانین سے بھٹک گئے ہیں، اور میرے دائمی عہد کو توڑا ہے؛
”وہ خُداوند کی راست بازی کے قیام کی تلاش میں نہیں رہتے، بلکہ ہر شخص اپنی راہ چلتا ہے، اور اپنے ہی بنائے ہُوئے معَبُود کی پیروی کرتا ہے، جِس کی شبِیہ دُنیا کی مانِند ہے۔“
ہمارے لِیے تین یہُودی جوانوں، حننیاہ، مِیساایل، اور عزریاہ کی مثال کو یاد رکھنا فائدہ مند ہے، جو لِحی اور اُس کے خاندان کے یروشلِیم چھوڑنے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی بابل کی اسِیری میں لے جائے گئے۔ بابل کے حُکم ران نے اُن کا نام بدل کر سدرک، مِیسک، اور عبدنجُو رکھا۔ بعد اَزاں، جب اِن تینوں نے نبُوکدؔنضر کی طرف سے بنائی گئی مُورت کو سِجدہ کرنے سے اِنکار کر دِیا، تو اُس نے حُکم دِیا کہ اُنھیں آگ کی جلتی بھٹّی میں ڈال دِیا جائے، اور اُن سے کہا، ”اور کَون سا معبُود تُم کو میرے ہاتھ سے چُھڑائے گا؟“
آپ کو اُن کا دلیرانہ جواب یاد ہوگا:
”ہمارا خُدا جِس کی ہم عِبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی بھٹّی سے چُھڑانے کی قُدرت رکھتا ہے، اور اَے بادِشاہ وُہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چُھڑائے گا۔“
”اور نہیں تو، تُجھے معلُوم ہو … کہ ہم تیرے معبُودوں کی عِبادت نہیں کریں گے، اور اُس سونے کی مُورت کو جو تُو نے نصب کی ہے سِجدہ نہیں کریں گے۔“
بھٹّی اِس قدر گرم تھی کہ اُس میں ڈالنے والوں کو مار ڈالا لیکن سدرک، مِیسک اور عبدنجُو کو کوئی نقصان نہ پُہنچا۔ ”پَس نبُوکدؔنضر نے پُکار کر کہا کہ، سدرک اور مِیسک اور عبدنجُو کا خُدا مُبارک ہو، جِس نے … اپنے بندوں کو رہائی بخشی جِنھوں نے اُس پر توکُّل کِیا، … اور اپنے بدنوں کو نِثار کِیا، کہ اپنے خُدا کے سِوا، کِسی دُوسرے معبُود کی عِبادت اور بندگی نہ کریں۔“ اُنھوں نے رہائی کے لِیے یہوواہ پر توکُّل کِیا، ”اور نہیں تو،“ یعنی، اگر خُدا نے اپنی حِکمت کے مُطابق اُن کی موت کو نہ روکا، تب بھی وہ اُس کے ساتھ سچّے رہیں گے۔
جو بھی باپ اور بیٹے کی عِبادت پر مُقدّم ہو جائے وہ بُت بن جاتا ہے۔ وہ لوگ جو خُدا کو سچّائی کا سرچشمہ ماننے سے اِنکار کرتے ہیں، یا اُس کے حُضُور کسی قِسم کی جواب دہی کے مُنکر ہوتے ہیں، درحقیقت، خُود کو اپنا خُدا مان لیتے ہیں۔ جو شخص اِلہٰی ہدایت سے بڑھ کر کسی جماعت یا مقصد کے ساتھ وفاداری کرتا ہے وہ جُھوٹے معبُود کی پُوجا کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو خُدا کی عِبادت کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں لیکن اُس کے حُکموں کو نہیں مانتے وہ اپنی روِش پر چلتے ہیں: ”وہ اپنے ہونٹوں سے تو میری قُربت چاہتے ہیں، لیکن اُن کے دِل مُجھ سے دُور ہیں۔“ ہماری عِبادت کا اِمتیازی طور پر مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم ”خُدایِ واحد اور برحق کو اور یِسُوع مسِیح کو جسے [اُس] نے بھیجا ہے جانیں۔“
آخِر میں، باپ اور بیٹے کی تقلید کی ضرُورت
آخِر کار، ہم کیسے زِندگی بسر کرتے ہیں عِبادت کی بہترین، سب سے زیادہ حقِیقی صُورت ہو سکتی ہے۔ اپنی عقیدت ظاہر کرنے کا مطلب ہے باپ اور بیٹے کی تقلِید کرنا—اُن کی صفات اور سِیرت کو اپنے اندر پَیدا کرنا۔ اگر، جیسا کہ کہاوت ہے، تقلید خُوشامد کی مُخلص ترین شکل ہے، تو ہم اِلہٰی ذات کے حوالہ سے کہہ سکتے ہیں، تقلید عِبادت کی مُخلص ترین صُورت ہے۔ اِس تقدِیس کو پانے کے لِیے ہماری طرف سے فعال، پیہم کوشاں رہنے کی تجویز کرتا ہے۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ مانِندِ مسِیح بننا بھی ہماری عِبادت کا فِطری نتِیجہ ہے۔ عِبادت کرنے کے مُتعلق پہلے حوالہ دِیا گیا ایلڈر کیرون کا فقرہ، ”اِس انداز سے کہ ہمیں تبدیل کر دے“ اَہم ہے۔ سچّی عِبادت اِنقلاب پذِیر ہے۔
یہ عہد کی راہ کی خُوب صُورتی ہے—عِبادت، محبّت، اور خُدا سے وفاداری کا راستا۔ ہم بپتِسما لے کر اُس راستے پر داخل ہوتے ہیں، مسِیح کا نام اپنے پر لینے اور اُس کے حُکموں پر عمل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہمیں رُوحُ القُدس کی نعمت عطا ہوتی ہے، جو نجات دہندہ کے فضل کا پیامبر ہے جو ہمیں گُناہ سے پاک صاف کر کے رہائی دیتا ہے جب ہم تَوبہ کرتے ہیں۔ ہم یہاں تک کہہ سکتے ہیں کہ ہماری تَوبہ کرنا بھی اُس کی عِبادت کرنا ہے۔
جب ہم خُداوند کے گھر میں مزید کہانتی رُسُوم اور عہُود باندھتے ہیں تو وہ ہمیں مزید تقدیس عطا کرتے ہیں۔ ہَیکل کی رُسُوم اور عہُود عِبادت کی افضل صُورت کو تشکیل دیتے ہیں۔
صدر رسل ایم نیلسن نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ ”ہر وہ مرد اور ہر عورت جو کہانت کی رُسُوم میں شرِیک ہوتا ہے اور جو خُدا کے ساتھ عہد کرتا ہے اور مانتا ہے خُدا کی قُدرت تک براہ راست رسائی رکھتا ہے۔“ یہ اَیسی قُدرت نہیں ہے جو فقط ہمیں خِدمت کرنے، اور برکت دینے کے لائق بناتی ہے۔ یہ اِلہٰی قُدرت بھی ہے جو ہمیں تپانے اور پاک کرنے کے واسطے ہم میں کام کرتی ہے۔ جب ہم عہد کی راہ پر چلتے ہیں، تو پاک کرنے والی ”قُدرتِ الہٰی کا ظُہُور ہوتا ہے“ ہمارے اندر۔
کیا ہم، جِس طرح قدِیم بنی نِیفی اور بنی لامن، ”یِسُوع کے قدموں میں سجدہ ریز ہُوئے، اور اُس کی تمجید کی … ۔“ کیا ہم، جِس طرح یِسُوع نے حُکم دِیا ہے کہ، ”سجدے میں گِر جائیں گے اور [بیٹے کے] نام پر باپ کی عِبادت کریں گے۔“ کیا ہم رُوحُ القُدس پائیں گے اور اپنے دِلوں کو خُدا کے حوالہ کریں گے، اُس کے عِلاوہ کوئی اور معبُود نہ ہوں گے، اور یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کی حیثیت سے اپنی زِندگیوں میں اُس کی سِیرت کی تقلِید کریں۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم اَیسا کریں گے تو، ہمیں عِبادت میں شادمانی کا احساس ہوگا۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔