رحم کا منصُوبہ
خُداوند مہربان ہے اور یہ کہ ہمارے آسمانی باپ کا نجات کا منصُوبہ واقعی رحم کا منصُوبہ ہے۔
نبی کی دعوت
گُزشتہ اپریل میں، اِس خُوش کُن خبر کے فوراً بعد کہ کلِیسیا نے کرٹ لینڈ ہَیکل کو حاصل کر لِیا ہے، صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں کرٹ لینڈ ہَیکل کی تخصِیصی دُعا کا مُطالعہ کرنے کی دعوت دی، جو عقائد اور عہُود کی فصل 109 میں مرقُوم ہے۔ صدر نیلسن نے کہا کہ تخصِیصی دُعا ”ایک سبق ہے کہ کس طرح ہَیکل آپ کو اور مُجھے اِن آخِری ایّام میں زِندگی کے مُصائب و مسائل کا مُقابلہ کرنے کے لیے رُوحانی طور پر تقویت دیتی ہے۔“
مُجھے یقِین ہے کہ فصل 109 کے مُطالعہ سے آپ نے اِدراک پایا جِس سے آپ کو برکت ملی۔ آج شام، مَیں اپنے نبی کی دعوت پر عمل کر کے سِیکھی ہُوئی چند باتیں، بیان کرتا ہُوں۔ اِطمِینان بخش راستا جِس پر میرا مُطالعہ آگے بڑھا اُس نے مُجھے یاد دِلایا کہ خُداوند مہربان ہے اور یہ کہ ہمارے آسمانی باپ کا نجات کا منصُوبہ واقعی رحم کا منصُوبہ ہے۔
ہَیکل میں خِدمت کرنے والے نئے بُلائے گئے مُناد صاحبان
جَیسا کہ آپ واقف ہوں گے، ”نئے بُلائے گئے مُنادوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ جلد از جلد ہَیکل کی ودِیعت پائیں اور جتنی بار حالات اِجازت دیں ہَیکل میں حاضر ہوں۔“ ودِیعت پانے کے بعد، وہ بھی ”مُنادی کی خِدمت شرُوع کرنے سے پہلے ہَیکل کے خادِمین کی حیثِیت سے خِدمت … کر سکتے ہیں۔“
مِشنری ٹریننگ سنٹر (ایم ٹی سی) میں داخل ہونے سے پہلے ہَیکل میں گُزرا وقت نئے مُنادوں کے لیے پُرفضل نعمت ہو سکتی ہے کیوں کہ وہ دُنیا کو اُن عہُود کی برکات بتانے سے پہلے ہَیکل کے عہُود کے بارے میں مزید جان پاتے ہیں۔
بلکہ فصل 109 کا مُطالعہ کر کے، مَیں نے سِیکھا کہ، ہَیکل میں، خُدا نئے مُنادوں کو تقوِیّت دیتا ہے—درحقیقت، ہم سب کو—کسی مزید پاکِیزہ اَنداز میں۔ تخصِیصی دُعا میں، جو مُکاشفہ کے وسِیلہ سے عطا کی گئی تھی، جوزف نے دُعا مانگی کہ ”جب … تیرے خادِم تیرے گھر سے تیرے نام کی گواہی دینے جائیں،“ تو ”سب لوگوں“ کے ”دِل“—ہر دو ”زمِین کے تمام ولیوں“ اور ”تمام مسکِینوں، مُحتاجوں، اور مُصِیبت زدوں … کے دِل نرم کِیے جائیں۔“ اُس نے دُعا مانگی کہ ”تَعَصُّب سچّائی کے سامنے گھُل جائے، اور تیرے لوگ سب کی نظر میں مَقبُولیت پائیں؛ تاکہ زمِین کی اِنتہائیں جانیں کہ ہم، تیرے خادِموں نے تیری آواز سُنی ہے، اور کہ تُو نے ہمیں بھیجا ہے۔“
یہ نئے بُلائے گئے مُناد کے لیے خُوب صُورت وعدہ ہے—کہ تَعَصُّب ”سچّائی کے سامنے گھُل جائے،“ تاکہ ”تیرے لوگ سب کی نظر میں مَقبُولیت پائیں،“ اور دُنیا جان لے کہ خُداوند نے اُنھیں بھیجا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو یقیناً اِنہی نعمتوں کی ضرُورت ہے۔ جب ہم ہمسایوں اور ساتھیوں کے ساتھ میل ملاپ رکھتے ہیں تو دِلوں کو نرم کرنا کتنی بڑی برکت کی بات ہوگی۔ تخصِیصی دُعا اِس بات کی قطعی وضاحت نہیں کرتی ہے کہ ہَیکل میں ہمارا گُزرا وقت کس طرح دُوسروں کے دِلوں کو نرم کرے گا، لیکن مُجھے یقین ہے کہ یہ اِس بات کا پابند ہے کہ کس طرح خُداوند کے گھر میں وقت گُزارتے ہیں یِسُوع مسِیح اور اُس کی رحمت پر توجہ کرنا ہمارے اپنے دِلوں کو نرم کرتا ہے۔
خُداوند جوزف سمتھ کی رحم کی فریاد کا جواب دیتا ہے
جب مَیں نے کرٹ لینڈ کی تخصِیصی دُعا کا مُطالعہ کِیا، تو اِس بات کا بھی مُجھ پر گہرا اَثر ہُوا کہ جوزف نے بار بار رحم کی فریاد کی تھی—کلِیسیا کے اَرکان کے لیے، کلِیسیا کے دُشمنوں کے لیے، مُلک کے حُکم رانوں کے لیے، دُنیا کی قَوموں کے لیے. اور، بُہت ذاتی طور پر، اُس نے خُداوند سے اِلتجا کی کہ وہ اُس کو یاد رکھے اور اُس کی اَہلیہ ایما اور اُن کے بچّوں پر رحم فرمائے۔
جوزف نے کَیسا محسُوس کِیا ہوگا جب، ایک ہفتہ بعد، اِیسٹر کے روز، 3 اپریل، 1836 کو، کرٹ لینڈ ہَیکل میں، نجات دہندہ اُس پر اور اولیور کاؤڈری پر ظاہر ہُوا اور جَیسا کہ عقائد اور عہُود کی فصل 110، میں مرقُوم ہے، فرمایا، ”دیکھو، مَیں نے اِس گھر کو قَبُول کِیا ہے، اور میرا نام یہاں ہو گا؛ اور مَیں رحم میں خُود کو اپنے لوگوں پر اِس گھر میں ظاہر کرُوں گا۔“ رحم کا یہ وعدہ جوزف کے لِیے خاص معنی رکھتا تھا۔ اور جَیسا کہ صدر نیلسن نے گُزشتہ اپریل میں سِکھایا تھا، یہی وعدہ ”آج ہر تخصِیص شُدّہ ہَیکل پر لاگو ہوتا ہے۔“
خُداوند کے گھر میں رحمت پانا
بُہت سارے طریقے ہیں جِن سے ہم سب خُداوند کے گھر میں رحم حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اُس وقت سے سچّ ہے جب سے خُداوند نے اِسرائیل کو پہلی بار خیمہ بنانے اور اُس کے وسط میں ”رحم گاہ“ لگانے کا حُکم دِیا تھا۔ ہَیکل میں، ہم اُن عہُود سے رحم پاتے ہیں جو ہم باندھتے ہیں۔ وہ عہُود، بپتِسما کے عہد کے علاوہ، ہمیں باپ اور بیٹے کے ساتھ باندھتے ہیں اور ہمیں اُس تک کثرت سے رسائی مِلتی ہے جو صدر نیلسن نے سِکھائی ہے کہ وہ ”خاص قسم کا عِشق اور رحم ہے … جِسے عِبرانی زبان میں حیسید“ کہتے ہیں۔
ہم اپنے خاندانوں کی اَبَدی مُہربندی کے موقع پر رحم پاتے ہیں۔ ہَیکل میں، ہم اِس بات کو بھی زیادہ واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ تخلِیق، زوال پذیری، نجات دہندہ کی کَفارہ بخش قُربانی، اور ہمارے آسمانی باپ کی حُضُوری میں دوبارہ داخل ہونے کی ہماری لیاقت—نجات کے منصُوبہ کا ہر حصہ—رحم کا مظہر ہے۔ بےشک، یہ کہا جا سکتا ہے کہ نجات کا منصُوبہ عین اِقبال مندی کا منصُوبہ ہے کیوں کہ یہ ”رحم کا منصُوبہ“ ہے۔
مُعافی مانگنے سے رُوحُ القُدس کا دَروازہ کھلتا ہے
مَیں فصل 110 میں اِس خُوب صُورت وعدہ کے لیے شُکرگُزار ہُوں کہ خُداوند اپنے آپ کو اپنی ہَیکلوں میں رحم کے ساتھ ظاہر کرے گا۔ مَیں اِس بات کا بھی شُکرگُزار ہُوں جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب بھی ہم، جوزف کی طرح، رحم کی فریاد کرتے ہیں تو خُداوند اپنے آپ کو رحم میں کیسے ظاہر کرے گا۔
فصل 109 میں جوزف سمِتھ نے رحم کی اِلتجا پہلی بار نہیں کی تھی جب اُس کی رحم کی اِلتجاؤں کے باعث مُکاشفہ نازِل ہُوا۔ مُقدّس جُھنڈ میں، نوجوان جوزف نے نہ صِرف یہ جاننے کے لِیے دُعا مانگی کہ کون سی کلِیسیا سچّی ہے، بلکہ اُس نے یہ بھی کہا کہ اُس نے ”رحم کے لِیے خُداوند سے فریاد مانگی، کیوں کہ کوئی اور نہیں تھا جِس کے پاس رحم پانے کے لِیے مَیں جا سکتا ہُوں۔“ بہرحال، اُس کا اِعتراف کہ اُسے رحم کی ضرُورت ہے جو صِرف خُداوند ہی فراہم کر سکتا ہے فلک کے درِیچوں کو کھولنے میں مدد کرتا ہے۔ تین سال بعد، فرِشتہ مرونی ظاہر ہُوا، جِس کے بعد جوزف نے کہا کہ اُس کی ”قادرِ مُطلق خُدا سے اپنے تمام گُناہوں اور نادانیوں کی مُعافی مانگنے کے لیے دُعا اور اِلتجا“ تھی۔
رحم کی فریاد کے بعد مُکاشفہ کا یہ نمونہ صحیفوں میں جانا پہچانا ہے۔ انُوس نے مُعافی کی دُعا مانگنے کے بعد ہی خُداوند کی آواز سُنی۔ بادِشاہ لمونی کے والد کی تبدِیلی اُس کی دُعا کے ساتھ شُروع ہوتی ہے: ”تیری قُربت پانے کی خاطر مَیں اپنے سب گُناہ چھوڑ دُوں گا۔“ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اِسی طرح کے نِرالے تجُربات سے نوازا نہ جائے، لیکن اُن لوگوں کے لِیے جو بعض اوقات دُعا کے جوابات کو محسُوس کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں، خُداوند کے رحم کی آرزُو رُوحُ القُدس کی گواہی کا احساس پانے کے سب سے زیادہ موثّر طریقوں میں سے ایک ہے۔
خُدا کی رحمت پر غَور و فِکر کرنے سے مورمن کی کِتاب کی گواہی کا دروازہ کُھلتا ہے
اِسی طرح کی سچّائی مرونی 10:3–5 میں خُوب صُورتی سے سِکھائی گئی ہے۔ ہم اکثر یہ سِکھانے کے لِیے اِن آیات کو مُختصر کرتے ہیں کہ، سچّی دُعا کے وسِیلہ سے، ہم جان سکتے ہیں کہ آیا مورمن کی کِتاب سچّی ہے۔ لیکن یہ اِختصار رحم کے اہم کِردار کو نظرانداز کر سکتا ہے۔ سُنیں کہ مرونی اپنی تلقِین کا آغاز کیسے کرتا ہے: ”مَیں تُمھیں تاکِید کرتا ہُوں کہ جب تُم اِن نوِشتوں کو پڑھو، … تاکہ تُمھیں یاد رہے کہ خُداوند آدم کی تخلِیق سے لے کر اب تک بنی آدم پر کس قدر مہربان رہا ہے، اور جب تُم اِن نوِشتوں کو پاؤ، تو اپنے دِلوں میں اِس بات پر غَور و فکر کرو۔“
مرونی ہم سے نہ صِرف اِن نوِشتوں کو پڑھنے کی تاکِید کرتا ہے—جن نوِشتوں کو وہ مُہر بند کرنے والا تھا—بلکہ اپنے دِلوں میں اِس بات پر بھی غَور و فکر کریں کہ مورمن کی کِتاب اِس کی بابت کیا اِنکشاف کرتی ہے کہ ”خُداوند بنی آدم پر کس قدر مہربان رہا ہے۔“ خُداوند کے رحم پر غَور و فِکر کرنا ہے جو ہمیں تیار کرتا ہے کہ ”خُدا، اَبَدی باپ، سے مسِیح کے نام پر دریافت کرنا، گویا یہ نوِشتے برحق نہیں ہیں۔“
جب ہم مورمن کی کِتاب پر غَور کریں تو، ہم پُوچھیں: کیا یہ واقعی سچّی ہے، جَیسا کہ ایلما نے سِکھایا، کہ خُدا کا رحم کا منصُوبہ یقِین دِلاتا ہے کہ ہر وہ اِنسان جو بھی اِس زمین پر پَیدا ہُوا تھا دوبارہ زِندہ کِیا جائے گا اور کہ اُنھیں ”اُن کی کامِل حالت میں … بحال کِیا جائے گا“؟ کیا امیولک صحیح ہے—کیا نجات دہندہ کا رحم اِنصاف کے سب تلخ حقِیقی تقاضوں کو پُورا کر سکتا ہے جو ہم دُوسری صُورت میں ادا کرنے کے پابند ہوں گے اور ”[ہمیں] سلامتی کی بانہوں کے حصار میں لاتا ہے“؟
کیا یہ سچّ ہے، جِس طرح ایلما نے گواہی دی، کہ مسِیح نے نہ صِرف ہمارے گُناہوں کے لِیے بلکہ ہمارے ”دُکھوں اور مُصِیبتوں“ کے لِیے بھی دُکھ اُٹھائے تاکہ وہ ” … جانے، کہ اُن کی کم زوریوں میں اُن کی مدد کیسے کرے“؟ کیا خُداوند واقعی اِتنا مہربان ہے، جَیسا کہ بادِشاہ بنِیامِین نے سِکھایا، کہ مُفت نعمت کے طور پر، اُس نے کَفارہ دِیا ”اُن لوگوں کے گُناہوں کے واسطے … جو اپنی بابت خُدا کی مرضی جانے بغَیر مر گئے یا جِنھوں نے نادانی میں گُناہ کِیا“؟
کیا یہ سچّ ہے، جب لِحی نے کہا، کہ ”آدم زوال پذیر ہُوا تاکہ اِنسان ہوں؛ اور اِنسان ہیں، تاکہ وہ شادمانی پائیں“؟ اور کیا یہ واقعی سچّ ہے، جب ابِینادی نے گواہی دی، یسعیاہ کا حوالہ دیتے ہُوئے، کہ یِسُوع مسِیح ”ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا، اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا؛ ہماری ہی سلامتی کے لِیے اُس کی تادیب ہُوئی؛ اور اُس کے مار کھانے سے ہم نے شِفا پائی ہے“؟
خلاصہ یہ کہ، کیا باپ کا منصُوبہ جو مورمن کی کِتاب میں سِکھایا گیا ہے واقعی اِتنا مہربان ہے؟ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یہ ہے اور یہ کہ مورمن کی کِتاب میں رحم کی اِطمِینان بخش اور اُمِّید افزا تعلیمات دُرست ہیں۔
پِھر بھی، مَیں سوچتا ہُوں کہ بعض لوگ، اپنے بااِیمان مُطالعہ اور دُعاؤں کے باوجُود مرونی کے وعدہ کو سمجھنے میں وسوسہ میں مُبتلا ہو سکتے ہیں کہ آسمانی باپ ”رُوحُ القُدس کی قُدرت کے وسِیلہ سے، تُم پر اِس کی سچّائی کو ظاہر کرے گا۔“ مَیں اِس وسوسہ سے واقِف ہُوں، کیوں کہ مَیں نے برسوں پہلے، اِسے محسُوس کِیا تھا، جب مَیں نے دو بار مورمن کی کِتاب پڑھنے کے باوجُود اپنی دُعاؤں کا فوری اور واضح جواب نہیں پایا تھا۔
اگر آپ تذب ذب کا شِکار ہیں، تو کیا مَیں آپ کو مرونی کی ہدایت پر عمل کرنے کی دعوت دے سکتا ہُوں کہ مرونی کی کِتاب کے بُہت سے طریقوں پر غَور کریں جو مورمن کی کِتاب سِکھاتی ہے کہ ”خُداوند بنی آدم [پر] کس قدر مہربان رہا ہے“؟ اپنے تجُربہ کی بِنا پر، مَیں اُمِّید کرتا ہُوں کہ، جب آپ اَیسا کرتے ہیں، تو رُوحُ القُدس کا اِطمِینان آپ کے دِل میں داخل ہو سکتا ہے اور آپ جان سکتے ہیں، یقِین کر سکتے ہیں، اور محسُوس کر سکتے ہیں کہ مورمن کی کِتاب اور رحم کا منصُوبہ جِس کی یہ تعلِیم دیتی ہے بَرحق ہیں۔
مَیں باپ کے رحم کے پُرفضل منصُوبہ کے لِیے اور نجات دہندہ کی رضامندی کے لِیے اپنی شُکرگُزاری کا اِظہار کرتا ہُوں۔ مَیں جانتا ہُوں کہ اگر ہم اُس کے مُشتاق ہوں گے تو وہ اپنی مُقدّس ہَیکل میں اور ہماری زِندگی کے ہر شُعبے میں اپنے آپ کو رحم میں ظاہر کرے گا۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔